جنّت کی وہ نعمتیں جو مقربین کی منتظر ہیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

یہ آیتیں انواع واقسام کی نعمتوں کوجوتیسرے گروہ یعنی مقربین کانصیب ہوں گی ، بیان کرتی ہیں ،وہ نعمتیں جن میں سے ہرایک دُوسری سے زیادہ شوق انگیز ورُوح پرور ہے وہ نعمتیں جنہیں سات حصّوں میں تقسیم کیا کیاجاسکتاہے ۔
پہلے فرماتاہے : وہ صف کشیدہ اورایک ودوسرے سے پیوستہ پلنگوں پربیٹھے ہوں گے (عَلی سُرُرٍ مَوْضُونَة) ۔ان پر تکیہ لگائے ایک دوسرے کے رُو برو محبت اورخوشی سے پُر (مُتَّکِئینَ عَلَیْہا مُتَقابِلین) سررجمع ہے سریر کی جس کامادّہ سرور ہے ۔اس کے معنی ایسے پلنگ اورتخت ہیں کہ جن پرصاحبان ِ نعمت مسرّت میں بیٹھے ہوں گے ( ١) ۔
موضون کامادّہ وضن ہے (بروزن وزن ) اِس کے معنی زرہ بُننے کے ہیں ،اس کے بعد اس کاہر اس بُنی ہوئی چیز پر اطلاق ہواہے جس کے تارو پُو ومحکم ہوں یہاں اس سے مُراد پلنگ اورتخت ہیں جوایک دوسرے کے قریب اورآپس میں مِلے ہوئے ہوں یاپھر یہ کہ یہ پلنگ ایک خاص قسم کی بافت رکھتے ہوں گے اور لولؤ و یاقوت وغیرہ سے بنے ہوئے ہوں گے جیساکہ مفسّرین کی ایک جماعت نے کہاہے ،بہرحال اِن پلنگوں کی ساخت، ان کے بچھائے جانے کی جگہ اوروہ مجلس انس وہاں تشکیل پائے گے اور سُرور وشادمانی کی لہر جواس میں موجزن ہوگی ، ہرقسم کی تعریف وتوصیف سے بالا ہے ،قرآن مجید میں بارہا جنّت کے پلنگوں کی اوراہل بہشت کی اجتماعی محفلوں کی نہایت عُمدہ تعریف ہوئی ہے ،جوبتاتی ہے کہ ان لذّتوں میں سے ایک لذّت یہی محافل اُنس ومحبت ہیں ،رہایہ کہ وہاں موضوع ِ سُخن کیاہوگا اسے کوئی نہیں بتاسکتا ۔ کیاوہ اسرارِ آفرینش کے بارے میں گفتگو کریں گے اورخدا کی تخلیق کے عجائبات کوموضوع سُخن بنائیں گے یااصولِ معرفت اوراسمائے حُسنیٰ کے بارے میں گفتگو ہوگی ، یاوہ حوادث جواس دنیامیں رُو نما ہوئے عنوانِ کلام ہوں گے یاوہ جانکاتِ مصائب ،جن کے سبب سے انہیں راحت وآسُود گی مِلی ، یاکچھ اورہوں گے جن کے ادراک کی ہم اس دنیامیں طاقت نہیں رکھتے ، کوئی کچھ نہیں بتاسکتا۔
اس کے بعداس کی دُوسری نعمت کے سلسلہ میں فرماتاہے : ایسے نوجوان جوہمیشہ جوانی کے بانکین اوراس کی تازگی سے بہرہ ور رہتے ہیں ان کے گرد وپیش مصروفِ خدمت ہوں گے (یَطُوفُ عَلَیْہِمْ وِلْدان مُخَلَّدُون) یطوف کامادّہ طواف ہے اس سے ان کی مُستقل خدمت کی طرف اشارہ ہے مخلدون کی تعبیر اس صورت میں کہ تمام اہل بہشت جاودانی ہیں ،ان کے نشاطِ جوانی تازگی اورخوبصورتی کی طرف اشارہ کرتی ہے ، یہ با ت کہ یہ نوجوان کون ہیں ،اس کے بارے میں مختلف تفسیریں ہیں، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اہل دُنیا کے وہ فرزند ہیں جوبلوغ سے پہلے راہی ملک ِ عدم ہو گئے اور چونکہ انہوں نے کوئی نیکی یابُرائی نہیں کی اس لیے اللہ کے کرم کے نتیجے میں انہیں یہ منصب ملا ہے ۔وہ اپنے اس کام میں بہت لذّت محسوس کرتے ہیں کہ وہ مقربین بارگاہِ الہٰی کی خدمت میں مصروف ہیں یہ بات ایک حدیث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ ،سے منقول ہے لیکن ایک تفسیرمیں ملتاہے کہ وہ مشرکین کے بچّے ہیں جوبے گناہ ہونے کی بناپر اس مرتبہ پرفائز ہوئے ہیں کیونکہ مومنین کے بچّے تواپنے ماں باپ کے پاس ہوں گے ۔تیسری تفسیر یہ بتاتی ہے کہ وہ جنّت کے خدمت گار ہیں جنہیں خدانے اس مقصد کے لیے پیداکیا ہے ۔ یہ خوبصورت نوجوان ،شرابِ طہورسے لبریز ،ایسے پیالے ،کُوزے اور جام لیے ہوئے ہوں گے جوجنّت کی نہروں کے مشروبات سے بھرے ہوں گے ۔یہ اہل بہشت کے گروپھر یں گے اورانہیں سیراب کریں گے (بِأَکْوابٍ وَ أَباریقَ وَ کَأْسٍ مِنْ مَعینٍ )(٢) ۔
لیکن یہ شراب نہ ہوگی جوہوش اُڑا دے اورمَست کردے، جس وقت جنّت میں رہنے والے اسے پئیں گے توانہیں نہ دردِ سر لاحق ہوگانہ وہ مَست وبے ہوش ہوں گے (لا یُصَدَّعُونَ عَنْہا وَ لا یُنْزِفُون)(٣) ۔
ان پرصرف ایک ایسے رُوحانی نشہ کی کیفیّت طاری ہوگی جو تعریف وتوصیف سے ما ورا ء ہے ،یہ ان کے وجود کو بے مثل لذّت سے ہمکنار کرے گی ۔
اس کے بعد بہشت میں حاصل ہونے والی مادّی نعمتوں کے چوتھے اورپانچویں حصّہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے : بہشتی نوجوان ہرقسم کے وہ پھل جن کی طرف اہل بہشت مائل ہوں گے ان کی خدمت میں پیش کریں گے (وَ فاکِہَةٍ مِمَّا یَتَخَیَّرُونَ)(٤) ۔
اور ہرقسم کے پرندے کاگوشت جسے وہ چاہیں گے (وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِمَّا یَشْتَہُونَ )پھل کوگوشت پرمقدم رکھنا اس وجہ سے ہے کہ غذائیت کے اعتبار سے وہ بہتر اورقیمتی ہے ۔علاوہ ازیں کھانے سے قبل پھل کھاناایک کیفیّت ِ خاص رکھتاہے ۔البتہ قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتاہے کہ جنّت کے درختوں کی شاخیں مکمل طورپر اہل بہشت کی دسترس میں ہوں گی ، اس طرح کہ وہ ہرقسم کاپھل بہ آسانی حاصل کرکے تناول کریں گے ۔ یہ معنی دوسری بہشتی غذاؤں پربھی صادق آتے ہیں لیکن اِس میں شک نہیں کہ جس وقت خدمت گار یہ نعمتیں لے کران کے سامنے آئیں گے تواس کالُطف کچھ اورہی ہوگا، دوسرے لفظوں میں یہ بہشت میں رہنے والے افراد کاایک قِسم کااحترام ہے اوران کی محافل ِانس کی رونق میں اضافہ کاباعث ہے ۔خُود اس دنیا کی تمام محفلوں میں بھی ایساہوتاہے کہ باوجود یکہ پھل اوردیگر ماکولات مہمانوں کی دسترس میں ہوتے ہیں پھر بھی میز بان خُود ان اشیاء کاتعارف کراتاہے ، اور یہ ایک قسم کااحترام شمارہوتاہے ۔ گوشت کی اقسام میں سے پرندوں کاگوشت چونکہ بہترہو تاہے لہٰذا صرف اسی پر انحصار کیاگیاہے ، یہ نکتہ بھی قابل ِذکر ہے کہ پھل کے بارے میں یتخیّرون اِنتخاب کریں گے اور گوشت کے بارے میں یشتھون اشہارکھتے ہیں کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔بعض مفسّرین اِن دونوں تعبیروں کے درمیان فرق محسوس کرتے ہیں لیکن معلوم یہی ہوتاہے کہ دونوں ہم معنی ہیں ،مُراد یہ ہے کہ اہل جنّت جس قسم کی غذا پسند کریں گے وہ ان کے خدمت گاروں کے اختیار میں دے دی جائے گی ۔اس کے بعد چھٹی نعمت یعنی پاک وپاکیزہ بیویوں کی طرف اشارہ کرکے فر ماتاہے : اورحورالعین میں سے بیویاںرکھتے ہیں (وَ حُور عین )( ٥) ۔
مثل صدف میں پنہاں مروارید (کَأَمْثالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُون)حورجیساکہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے حوراء کی جمع ہے اور احور اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کی آنکھ کی پُتلی مکمل طورپر سیاہ ہو اور باقی حصّہ کی سفیدی بالکل صاف وشفاف ہو اور عین عیناء اور اعین جس کی جمع ہے موٹی آنکھ کے معنی میں ہے اور چونکہ اِنسان کی خوبصورتی زیادہ تراس کی آنکھوں کی وجہ سے ہوتی ہے لہٰذا اس بات پرخصوصیّت کے ساتھ انحصار کیاگیاہے ،بعض مفسّرین نے یہ کہاہے کہ حور کا مادّہ حیرت ہے یعنی وہ اتنی خوبصورت ہیں کہ جنہیں دیکھ کر آنکھیں حیران رہ جائیں گی ( ٦) ۔
مکنون کے معنی پوشیدہ کے ہیں یہاں مُراد صدف میں پوشیدہ ہوناہے کیونکہ مرواریدجب تک صدف میں ہوں انہیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا اوروہ سدا خوبصُورت اورصاف وشفّاف رہتاہے ۔اس کے علاوہ ممکن ہے کہ اس معنی کی طرف اشارہ ہو کہ دوسروں کی آنکھوں سے مکمل طورپر مستور ہوں یہ انہیں کسی کا ہاتھ لگاہے اور نہ ان پرکسی کی نظر پڑی ہے ،ان چھ مادّی نعمتوں کے بیان کرنے کے بعد فر ماتاہے یہ سب کچھ جزا ہے ان اچھے اعمال کی جواُنہوں نے انجام دیے ہیں (جَزاء ً بِما کانُوا یَعْمَلُون) ۔تاکہ یہ تصوّر نہ ہو کہ یہ تمام نعمتیں اہل بہشت کو کسِی حساب وکتاب کے بغیر دی جائیں گی ، یایہ کہ صرف ایمان وعمل صالح کادعویٰ کرناان کے حصُول کے لیے کافی ہے ایسانہیں ہے بلکہ مسلسل خالص عمل کی ضرورت ہے تاکہ خدا کی یہ مہر بانیاں انسان کو نصیب ہوسکیں (توجہ فرمایئے ، یعملون فعل مضارع ہے اور استمرار کے معنی رکھتاہے ) ۔
ساتویں اورآخری نعمت جومعنوی پہلورکھتی ہے یہ ہے کہ وہ جنّت کے باغات میں لغو، بے ہودہ اورگناہ آلودہ باتیں نہیں سُنیں گے (لا یَسْمَعُونَ فیہا لَغْواً وَ لا تَأْثیما) ۔ نہ و ہاں جھوٹ تہمت اورافتراء کاوجُود ہے ،نہ غیب ہے ، تمسخر ، نہ تکلیف وہ گفتگو نہ تلخ کلمات اورنہ لغو و بے ہُودہ اور بے بُنیاد باتیں ہیں ، وہاں جوکچھ ہے وہ لُطف وکرم ہے ،خوبصورتی ہے ،متانت واَدب اورپاکیز گی ہے ۔کیا ہی عُمدہ ہوگا وہ ماحول کہ جس میں بُری باتیں نہ ہوں، اگرہم ٹھیک طرح غور کریں توہماری اس دُنیا وی زندگی کی زیادہ تر ناراضی وپریشانی کاسبب یہی لغو بے ہُودہ تکلیف وہ اور گناہ آلود باتیں ہیں جودلوں کودُکھاتی ہیں اورارن پر زخم لگاتی ہیں ، اس کے بعد مز ید فرماتاہے : واحد بات جووہاںوہ سُنیں گے وہ سلام ہی سلام ہے (ِلاَّ قیلاً سَلاماً سَلاماً)( ٧) ۔
یہ سلام خداکی طرف سے ہے ، یافرشتوں کی طرف سے ہے ، یاخُود اہل بہشت کی طرف سے ہے ،یاایک دوسرے کے لیے ، یا یہ سب صُورتیں مُراد ہیں ۔ مناسب ترین تفسیر آخری تفسیر ہے ۔جیسا کہ دوسری آ یات ِ قرآنی میں خدا اوراہل بہشت کے ایک دوسرے کوسلام کرنے کی طرف اشارہ ہوا ہے ( ٨) ۔
جی ہاں وہ سلام کے علاوہ اور کچھ نہیں سُنیں گے ،خدا اوراس کے مقرب فرشتوں کاسلام ودرُود اورایک دوسرے کوخُودان کا سلام ودرُود اوران پاکیزہ محفلوں میں جو دوستی اورمحبت سے معمور ہیں ان کاماحول سلامتی سے پُر ہے اور یہی معنی ان کے پُور ے وجُود پرحاوی ہیں ، جوکچھ وہ کہتے ہیں وہ اسی محور کے گِرد گھومتاہے اوران کی عام گفتگو اورتکلّم کانتیجہ سلام وصلح وصفا پرمنتھی ہوتا ہے ۔اصولی طورپر بہشت دارالسلام ہے اور سلامتی وامن کاگھرہے جیساکہ سُورہ انعام کی آ یت ١٢٧ میں ہم پڑھتے ہیں ۔ (لَہُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّہِم)(٩) ۔
١۔ مفردات ِ راغب مادہ "" سر"" ۔
٢۔"" اکواب"" "" کوب"" کی جمع ہے اس کے معنی پیالہ یادستہ دار ظرف ہے "" اباریق"" "" ابریق"" کی جمع ہے "" آ ب ریز"" فارسی سے لیاگیاہے ،یہ ایسے برتنوں کے معنی میں ہے ،جن میں دستہ اورٹونٹی ہوتی ہے ،کأ س لبریزجام کوکہا جاتاہے "" معین"" کامادہ معن ( بروزن صحن) ہے جس کے معنی جاری ہیں ۔
٣۔"" یصدعون""""صداع"" (بروزن حباب)کے مادّہ سے ہے اس کے معنی دردِ سر کے ہیں ، یہ لفظ اصل میں "" صدع"" یعنی چیر نے کے معنی میں ہے ، اِنسان جب شدید درد سے دوچار ہو تو دردِ سر کی وجہ سے یہ محسوس ہوتاہے کہ سرپھٹ جائے گا اس لیے یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہواہے "" ینزفون"" "" نزف"" کے مادّہ سے ہے اس کے معنی ہیں کنویں کاتمام پانی آہستہ آہستہ نکال لینام، یہ مَستی اورعقل کی گم شد گی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے ۔
٤۔"" فاکھة "" اور"" لحم"" دونوں اکواب پرمعطوف ہیں اوراس طرح وہ ایسی چیزوں میں سے ہیں کہ ( ولدان مخلدون)کے ذ ریعے مقربین کے لیے ہدیہ بنیں گے ۔
٥۔اگرچہ بعض نے یہ خیال کیاہے کہ "" حورعین"" "" غلمان ومخلدون"" پر عطف ہے اس لیے وہ بھی جنتّیوں کے گرد گھومتے رہتے ہیں لیکن اس کے پیش نظرکہ یہ معنی اہل بہشت کی محفلوں سے مناسبت نہیں رکھتے معلوم یہ ہوتاہے کہ یہ مبتدائے محذوف کی خبرہے اورتقدیر عبارت اس طرح ہے (ولھم حورعین) اوران کے لیے حورالعین ہیں ۔
٦۔ابو الفتوح رازی جلد ١١ آ یہ زیر بحث کے ذیل میں ۔
٧۔"" سلاماً "" مفعول بہ ہے قیلاً کے لیے جومصدر ہے قول کی طرح ، یعنی ان کی گفتگو وہاں سلام ہے ۔یہ احتمال بھی پیش کیاگیاہے کہ "" سلاماً "" قیلاً کے لیے صفت ہویامفعول بہ (یامفعول مطلق ) ہے فعل محذوف کے لیے اورتقدیر عبارت میں "" یسلمون سلاماً "" ہے لیکن پہلے معنی سب سے بہتر ہیں ،دوسرا سلاماً تاکید کے لیے ہے ۔
٨۔یٰسین آ یت ٥٨ ،رعد ۔ ٢٤، یونس ١٠۔
٩۔آپ کی توجہ ہونی چاہیئے کہ"" ِلاَّ قیلاً سَلاماً سَلاماً"" میں استثناء استثنائے منقطع ہے اور تاکید کافائدہ دیتاہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma