اصحاب ِ شمال کومِلنے والی سزائیں اوران پرنازل ہونے والے درد ناک عذاب

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

گروہ مقربین واصحاب الیمین کوحاصل ہونے والی عظیم نعمتوں کے تذکرے کے بعد ایک تیسرے گروہ پر نازل ہونے والے دردناک عذاب کاتذکرہ کرتاہے تاکہ تقابل کی صُورت ِ حال کے موجود ہونے کی وجہ سے تینوںگروہوں کی کیفیّت اوران کاحال واضح ہوجائے فرماتاہے ، اصحاب الشمال اور کیاہیں اصحاب الشمال (َ وَ أَصْحابُ الشِّمالِ ما أَصْحابُ الشِّمال) ۔وہی کہ جن کانامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیاجائے گا ،جواس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ گناہ گار ہیں ،ستمگر ہیں اوراہل دوزخ ہیں، اور جس طرح ہم نے مقربین اوراصحاب ِ یمین کے بارے میں کہاہے کہ مااصحاب الیمین کہنے کایہ اندازہ بتاتا ہے کہ یہ کسِی کی انتہائی اچھی یابُری حالت کے بیان کے لیے ہے مثال کے طورپر ہم کہتے ہیں کہ سعادت نے ہماری طرف رُخ کیاہے ۔کیسی سعادت نے یامصیبت نے ہماری طرف رُخ کیا ہے۔ کیسی مصیبت ہے ۔
اس کے بعدان پرنازل ہونے والی تین سزاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فر ماتاہے: وہ زہریلی ہواؤں اورجلانے والے پانی کے درمیان رکھے گئے ہیں (فی سَمُومٍ وَ حَمیمٍ) ۔ اور شدید دُھویں اور آگ کے سایہ میں (وَ ظِلٍّ مِنْ یَحْمُومٍ ) ۔جلانے والی زہریلی ہواایک ،جُھلساکرمارنے والا کھولتا ہواپانی دواور گرم اور گھونٹنے والادُھواں تین ، یہ تینوں چیزیں انہیں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ انہوں نے اُن کی قوّت چھین لی ہے اور اگروہ اِن تینوں مصیبتوں کے علاوہ کوئی اورمصیبت نہ بھی رکھتے ہوں تویہی تین مصیبتیں ان کی شامت ِاعمال کے لیے کافی ہیں ،سموم کامادّہ سم ہے جس کے معنی زہر ہیں ،یہاں زہر سے جلانے والی ہوا مراد ہے جوانسان کے جسم کے مساموں میں داخل ہوکراسے ہلاک کردیتی ہے ۔(اصولی طورپر زہر کو سم اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ بدن کے تمام اجزامیں نفوذ کرجاتاہے) حمیم گرم چیز کے معنی میں ہے اور یہاں گرم اور جلانے والے پانی کے معنی میںہے جس کی طرف قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی اشارہ ہواہے ،مثلاً سورئہ حج کی آ یت ١٩ میں ہے ۔ یصب من فوق رء و سھم الحمیم ۔ ان کے سروں پرگرم اورجلانے والاپانی ڈالا جائے گا محموم بھی اسی مادّہ سے ہے اور یہاں ظل کی مناسبت سے گاڑ ھے ،سیاہ دُھویں کے معنی میں ہے ،اس کے بعد مزید تاکید کے لیے فرماتاہے : وہ سایہ جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہے نہ فائدہ (لا بارِدٍ وَ لا کَریمٍ) ۔
سائبان کبھی انسان کوسُورج کی تمازت سے حفاظت کرتاہے اورکبھی ہوااور بارش سے یاپھر اور دوسری منفعتیںلیے ہوئے ہوتاہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ سائبان ان فائدوں میں سے کوئی فائدہ نہیں رکھتا ۔ کریم کی تعبیر کرامت کے مادّہ سے ہے اور فائدہ کے معنوں میں ہے اس لیے عربوں میںمعمول ہے کہ جس وقت وہ چاہتے ہیں کہ کسِی چیز یاشخص کوغیر مفید بتائیں تووہ کہتے ہیں لا کرامة فیہ۔
یقینی امر ہے کہ وہ سایہ جوسیاہ ہے اور گلا گھونٹنے والے دُھویں سے بناہے ،سوائے برائی اورنقصان کے اُس سے کوئی اور توقع نہیں رکھی جاسکتی۔اگرچہ وہ عذاب جودوزخیوں پرنازل ہوں گے ان کی بہت سی قسمیں ہیں لیکن یہی تین قسمیں اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انسان باقی کا اندازہ خُود لگالے ۔
اس کے بعد والی آ یتوںمیں اصحاب الشمال کی گرفتار ی کے دلائل کاان کی منحوس اوروحشت ناک داستان کے پہلے ہی تین جملوں میںخلاصہ کرتاہے ،پہلا یہ کہ وہ اس سے پہلے دنیامیں نعمت حاصل ہونے پرمَست اورمغرور تھے (ِنَّہُمْ کانُوا قَبْلَ ذلِکَ مُتْرَفین) ۔ مترف جس طرح لسان العرب میں ترف کے مادّہ سے (بروزن سبب)ہے اس کے معنی عیش وعشرت میں وقت گزارنے کے ہیں،مترف اس شخص کو کہتے ہیں جسے نعمتوں کی فراوانی نے مُست ومغرور کردیاہو اورنافرمانی وسرکشی پراُبھاراہو ( ١) ۔
یہ ٹھیک ہے کہ تمام اصحاب شمال مترفین کے زمرہ میں نہیں آتے ،لیکن اس سے قرآن کامقصود ان کے سرکردہ افراد ہیں ،جیساکہ موجودہ زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی معاشروں کافتنہ وفساد مَست ومغرور عیش پرستوں کی وجہ سے ہے جواپنے ساتھ دوسروں کی گمراہی کاسبب بھی ہیں ،تمام لڑائیوں ،خون ریزیوں ، مختلف قسم کے جرائم ،شہوتوں کے مرکز اور باغیانہ سرگرمیوں کی باگ ڈور اِنہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔اِسی بناپر قرآن ہرچیزسے پہلے انہی کی نشان دہی کرتاہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ نعمت کے معانی وسیع ہیں اور یہ صرف مال ودولت تک محدُود نہیںہے ، بلکہ جوانی اور سلامتی عمر بھی خُدا کی نعمتوں میں سے ہیں کہ اگرغرور وغفلت کاباعث نہیں ہے توگناہوں کااصلی سرچشمہ یہی ہیں ۔اوراصحاب شمال ان میں سے ہرایک نعمت سے بہرہ ور تھے ۔
اس کے بعدان کے دوسرے گناہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتاہے : وہ بڑے بڑے گناہوں پراصرار کرتے تھے (وَ کانُوا یُصِرُّونَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظیم) جنت اصل میں ہرقسم کے گناہ کے معنوں میں ہے لیکن بہت سے مواقع پر یہ لفظ عہد شکنی اورقسم کی مخالفت کے معنوں میں آتاہے اس وجہ سے یہ واضح طورپر گناہ کے معنی رکھتاہے ۔اصحاب شمال کی بُرائی یہی نہیں ہے کہ وہ گناہ کرتے تھے بلکہ بڑے بڑے گناہوں پراصرار کرتے تھے ،گناہ ممکن ہے کہ اصحاب یمین سے بھی بعض اوقات سرزد ہولیکن وہ اس پر کبھی اصرار نہیں کرتے اور جس وقت توفیقِ الہٰی شامل حال ہوتی ہے فوراً توبہ کرلیتے ہیں ،مفسّرین کی ایک جماعت نے یہاں حنث العظیم سے مراد شِرک لیاہے کیونکہ اس سے بڑا اورکوئی گناہ نہیں ہے جیساکہ قرآن کہتاہے (ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادُون ذالک لمن یشاء )خداہرقسم کے گناہ کوبخش سکتاہے لیکن وہ شِرک کے گناہ کوکبھی معاف نہیں کرے گا (٢) ۔
بعض مفسّر ین نے اس سے جھوٹ مراد لیاہے جوتمام گناہوں سے بڑ ا ہے اور گناہوں کی کلید ہے خصوصاً جب وہ انبیاء کی تردید اورقیامت کی تکذیب کے لیے استعمال ہوتاہو ۔حقیقت حال یہ ہے کہ مذ کورہ تمام گناہ حِنث عظیم کے ذیل میں آتے ہیں ۔
ان کاتیسراغلط کام یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہاہم مرنے کے بعد جب محض ہماری ہڈیاں رہ جائیں گی اورہم مٹی میںمِل جائیں گے کیا دوبارہ قبروں سے اُٹھا ئے جائیں گے ؟(وَ کانُوا یَقُولُونَ أَ ِذا مِتْنا وَ کُنَّا تُراباً وَ عِظاماً أَ ِنَّا لَمَبْعُوثُونَ) ۔اصحاب شمال کے دوسرے بہت سے گناہوں میں سے ان کاایک بڑاگناہ یہ تھاکہ وہ قیامت کے اِنکار پرمُصر تھے ،یہاں دومطالب قابل ِ توجہ ہیں پہلایہ کہ جس وقت گفتگو مقربین اوراصحاب ِ یمین کے بارے میں تھی تووہاں اُن کے اعمال کی تشریح نہیں کی گئی جواُن کے لیے باعث اَجروثواب تھے (سوائے مختصر سے اشارہ کے جو مقربین کے بارے میں تھا )لیکن جب اصحاب شمال کاذکر آیاتو اس سلسلہ میں پروردگار ِ عالم کافی تشریح سے کام لیتاہے تاکہ اتمام ِ حُجت بھی ہو اور اس حقیقت کا بیان بھی ہوجائے کہ یہ سزائیں جودی جارہی ہیں وہ عدالت ِالہٰی کے عین مطابق ہیں ، دوسرے یہ کہ یہ تین گناہ جن کاتذکرہ مذکورہ تین آیتوں میں ہوا ہے درحقیقت اصحاب شمال کی طرف سے دین کے تین اصولوں کی نفی کی طرف اشارہ ہے ۔ آخری آ یت میں قیامت کی تکذیب تھی اور دوسری آ یت میں توحید کاانکار تھا اور پہلی آ یت میں جہاں مترفین کی بات ہورہی تھی انبیاکی تکذیب کی طرف اشارہ ہے ،کیونکہ جیساکہ ہم نے سُورہ زخرف کی آتی ٢٣ میں پڑھاہے وَ کَذلِکَ ما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِکَ فی قَرْیَةٍ مِنْ نَذیرٍ ِلاَّ قالَ مُتْرَفُوہا ِنَّا وَجَدْنا آباء َنا عَلی أُمَّةٍ وَ ِنَّا عَلی آثارِہِمْ مُقْتَدُون ۔اس طرح ہم نے کسی شہر اور آبادی میں تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ ان کے مترفین نے کہا کہ ہم نے اپنے آباو اجداد کوایک دین پر پایا ہے اور ہم ان کے آثار کے پابند ہیں تُراباً وَ عِظاماً کی تعبیر ممکن ہے کہ اس طرف اشارہ ہوکہ ہمارے گوشت مٹی میں تبدیل ہوجائیں گے اورہماری برہنہ ہڈیاں رہ جائیں گی توایسی صُورت میں نئی خلقت کِس طرح ممکن ہے ،چونکہ مٹی اور نئی زندگی کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے لہٰذا اس کاابتدامیں ذکر ہواہے ۔تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ معاد کے مناظر اس دنیامیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے کہ کس طرح اس دنیا کے بہت سے موجودات گھاس وغیرہ پرانے ہوکرمٹی ہوجاتے ہیں اوراس کے بعد پھر لباس حیات پہن لیتے ہیں ۔اصو لی طورپر جس نے پہلی مرتبہ تخلیق کی ہے اس کے لیے اس کا اعادہ کس طرح مشکل ہے ۔ بہرحال یہی کیفیّت تھی جس میں وہ ہمیشہ معاد کی تکذیب کرتے تھے ( ٣) ۔
انہوں نے صرف اسی پرقیانت نہیں کی بلکہ اظہار تعجب کے لیے مزید کہتے تھے ،کیا ہمارے پہلے آ باواجداد جن کاکوئی نام و نشان باقی نہیں رہا دوبارہ زندہ ہوں گے (أَ وَ آباؤُنَا الْأَوَّلُون)(٤) ۔
وہ جن کی خاک کاہر ذرّہ یاتوکسی گوشہ میں پڑا ہے یاکسی اورجود کا جُز بن چکاہے ،لیکن جیساکہ سُورہ یٰسین کے آخر میں تفصیل سے کہاجاچکاہے کہ ان محکم دلائل کے مقابلے میں جومسئلہ معاد پر دلالت کرتے ہیں ،یہ فقط چند فضول بہانے ہیں ، اس کے بعد قرآن پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوحکم دیتاہے کہ ان کے جواب میں کہہ دے نہ صرف تم اورتمہار ے آباواجداد بلکہ تمام اوّلین وآخرین ...(قُلْ ِنَّ الْأَوَّلینَ وَ الْآخِرین) ۔سب معیّن دن کی وعدہ گاہ میں (قیامت کے دن ) جمع ہوں گے ( لَمَجْمُوعُونَ ِلی میقاتِ یَوْمٍ مَعْلُومٍ)(٥) ۔
میقات کامادّہ وقت ہے اس کے معنی ہیں جوکسی کام یاوعدہ کے لیے معیّن ہواہو ،یہاں میقات سے مُراد قیامت کامقررہ وقت ہے جس میں تمام اِنسان میدان ِ محشر میں اپنے حساب وکتاب کے واسطے جمع ہوں گے ،بعض اوقات بطور کنایہ اس مکان کے لیے بھی جو کسِی کا م کی انجام دہی کے لیے مقرر ہوا ہولفظ میقات استعمال ہوتاہے ،مثلاً حج کے میقات (مواقیت )جوخاص مقامات کے نام ہیں جہاں سے حاجی احرام باندھتے ہیں ،آیت کی مختلف تعبیروں سے ضمنی طورپر استفادہ ہوتاہے قیامت کے بارے میں بہت سی تاکیدوں کا (ان ۔لام ،مجموعون اسم مفعول کی شکل میں اور یوم کی تو صیف معلوم ہونے کے معنوں میں )اس آ یت سے اچھی طرح معلوم ہوتاہے کرتمام لوگوں کاقبروں سے نکل کرمبعوثہوناایک ہی دن انجام پائے گااور یہی معنی قرآن کی دوسری آ یتوں میں بھی آ ئے ہیں( ٦) ۔
یہاں یہ اچھی طرح واضح ہوجاتاہے کہ وہ لوگ جوقیامت کے برپاہونے کوہراُمّت کے اعتبار سے مختلف زمانوں میں خیال کرتے ہیںوہ قرآنی آیات سے مکمل طورپر ناآشناہیں ۔ شاید یاددہانی کی ضرورت نہ ہو کہ قیامت کے معلوم ہونے سے مراد اس کاپروردگار ِ عالم کو معلوم ہونا ہے ورنہ کوئی شخص حتٰی کہ انبیاء ومرسلین اورملائکہ مقربین بھی اس کے برپا ہونے کے وقت سے باخبر نہیں ہیں ۔
١۔ لسان العرب ،جلد ٩،صفحہ ١١٧۔
٢۔ سورہ نساء آ یت ،٤٨۔
٣۔حرف ِ استفہام کی تکرار اوران کی تعبیر تاکید کے لیے ہے ۔
٤۔""أَ وَ آباؤُنَا الْأَوَّلُون"" کا ہمزہ استفہام اوراس کی واو عاطفہ ہے جس پر ہمزہ کومقدم رکھاجاتاہے۔
٥۔الیٰ اس جملہ میں اس لیے استعمال ہواہے کہ قیامت اس جہان کے آخر میں واقع ہوگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں الیٰ لام کے معنوں میں ہو جیساکہ بہت سی آ یات ِ قرآنی میں لمیقات آیاہے ۔
٦۔ھود آیت ١٠٢ ،مریم ٩٥۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma