عقیدہ معاد پر سات دلیلیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

گزشتہ آیتوں میں قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے ضمن میں گفتگوتھی ۔ بنیاد ی طورپر اس سُورہ میں مسئلہ معاد کی پیش ِ نظر رکھاگیاہے اوران آیتوں میں معاد سے متعلق دلیلوں کوبروئے کار لایاگیاہے ، قرآن مجید اس اہم عقیدہ کے ثبوت میں مجموعی طورپر سات دلیلیں پیش کرتاہے ۔جوایمان کی بنیادوں کوقوی کرتی ہیں اورانسان کے د ل کوخدا کی طرف سے کیے گئے ان وعدوں کے بارے میں پُختہ یقین دلاتی ہیں جوگزشتہ آیتوںمیں اصحابِ یمین اوراصحاب شمال کے بارے میں مذکور ہوئے ،پہلے مرحلہ میں پر وردگار ِ عالم فرماتاہے: ہم نے تمہیں خلق کیاہے تونئی خلقت کی تصدیق کیوں نہیں کرتے ( نَحْنُ خَلَقْناکُمْ فَلَوْ لا تُصَدِّقُونَ)(١) ۔
تم قبروں سے اُٹھنے پر اوربدن کے خاک ہوجانے کے بعد معاد جسمانی پرکیوں تعجّب کرتے ہو، کیااس نے پہلی مرتبہ تمہیں مٹی سے پیدانہیں کیا؟کیاامثال ونظائر کاحکم ایک نہیں ہوتا؟ یہ استد لال حقیقت میں اس چیز کے مشابہ ہے جوسُورہ یٰسین کی آ یت ٧٨ ، ٧٩ میں آیاہے جہاں قرآن ایک مشرک کے جواب میں ، جس نے ایک بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں لے رکھی تھی اور کہتاتھا کہ کون اِن ہڈ یوں کوزندہ کرے گا ،کہتا ہے(وَ ضَرَبَ لَنا مَثَلاً وَ نَسِیَ خَلْقَہُ قالَ مَنْ یُحْیِ الْعِظامَ وَ ہِیَ رَمیم،قُلْ یُحْییہَا الَّذی أَنْشَأَہا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَ ہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلیم ) اس نے ہمارے لیے مثال پیش کی اوراپنی تمام پہلی خلقت کوبھُول گیااوراُس نے کہاکون ان بوسیدہ ہڈ یوں کودوبارہ زندہ کرے گا کہہ دے وہی جس نے انہیں ابتداء میںخلق کیاتھا وہ اپنی تمام خلوق سے آگاہ ہے ،پروردگارِ عالم بعد والی آ یت میں دُوسری دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے: کیااس نطفہ سے جسے تم رحم میں ڈالتے ہو، تم باخبر ہو ۔(أَ فَرَأَیْتُمْ ما تُمْنُون)(٢)کیا جنینی مراحل کے طول میںتم اسے بار بار کی خلقت دیتے ہو یا اس کے خالق ہم ہیں (أَ أَنْتُمْ تَخْلُقُونَہُ أَمْ نَحْنُ الْخالِقُون) ۔کون ہے کہ جواس بے قیمت نطفہ کوہر روزایک نئی شکل دیتاہے اور خلقت کے بعد نئی خلقت سے نوازتاہے ۔
حقیقتاً یہ تدریجی تبدیلیاں جونہایت تعجّب انگیز ہیں اورجنہو ں نے تمام فکر ودانش کوحیرت زدہ کردیاہے ، کیاتمہاری طرف سے ہیں، یاخدا کی طرف سے ۔ کیاوہ ذات جواُن بار بار کی خلقتوں پرقدرت رکھتی ہے قیامت میں مُردوں کوزندہ کرنے سے قاصر ہے ۔ یہ آ یت حقیقت میں سُورئہ حج کی آ یت ٥ سے مشابہت رکھتی ہے جہاں پروردگار عالم فرماتاہے:(یا أَیُّہَا النَّاسُ ِنْ کُنْتُمْ فی رَیْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَِنَّا خَلَقْناکُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَیِّنَ لَکُمْ وَ نُقِرُّ فِی الْأَرْحامِ ما نَشاء ُ ِلی أَجَلٍ مُسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلاً) ۔ اے لوگوں!تم قیامت کے بارے میں شک رکھتے ہو تواس نکتہ کی طرف توجہ کرو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیداکیا، پھرنطفہ سے ، پھر بستہ شدہ خون سے ،پھر مضغہ سے (چبائے ہوئے گوشت کی شکل کی ایک چیز) جن میں سے بعض کی شکل وصُورت ہے اوربعض شکل وصُورت کے بغیر ہیں ۔ مقصود کلام یہ ہے کہ ہم تم پرواضح کریں کہ ہم ہرچیز پرقادر ہیں اور جن شکم مادر والے بچوں کو ہم چاہیں مدّت معیّن تک شکم ِ مادر میں رکھتے ہیں ۔(اور جسے چاہیں اسے ساقط کردیتے ہیں )پھرتمہیں بچّہ کی شکل میں باہر بھیجتے ہیں ۔ان سب سے قطع نظر اگر اس چیزکو جسے موجودہ زمانے کے ماہرین نے اس بظاہر ناچیزپانی کے قطرہ کے بارے میں دریافت کیاہے ،پیش ِ نظررکھیں تومطلب زیادہ واضح ہوجاتاہے ،کیونکہ ان کاقول ہے کہ وہ چیز جوانسان کے نطفہ کی تولید کاباعث بنتی ہے وہ مرد کے نطفہ ، سپرم اور عورت کے نطفہ ادول کامرکب ہے اور اسپرم یعنی مرد کانطفہ بہت ہی چھوٹا خوردبین سے نظرآ نے والا کیڑا ہے ۔ مرد کے ایک مرتبہ کے انزال میں دوسوسے لے کرپانچ سوملین اسپرمموجود ہوتے ہیں۔ (یعنی دُنیا کے کئی ممالک کی آبادی کے برابر)(٣) ۔ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ بہت ہی چھوٹا وجودعورت کے نُطفہ کے ساتھ مِل کرنشو ونماپاتاہے اورحیرت انگیز اضافہ کے ساتھ اِنسانی بدن کے سیل بناتاہے اور باوجوداس کے کہ تمام سیل ( cell)ایک دوسرے سے مشابہ ہیں اور بہت جلد ایک دوسرے سے جُداہو جاتے ہیں ،ان میں کاایک گروہ انسان کے دل کی تشکیل کرتاہے ۔دوسرا ہاتھ پاؤں کی اورایک اورگروہ کان اورآنکھ کی ، اورہرایک ٹھیک اپنی جگہ قرار پا تاہے ، نہ دل کے سیل گُروہ کی جگہ جاتے ہیں نہ گُروہ کے دل کی جگہ ،کان کے لیے ظاہر ہونے والے سیل آنکھ کے لیے ظاہرہونے والوں کی جگہ قرار نہیں پاتے اور نہ اس کے برعکس ہوتاہے ۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ نطفہ اپنے جنینی دَور میں کئی پُر شورجہانوں کوطے کرتاہے حتّٰی کہ ایک بچّے کی صُورت میں ظہور پذیر ہوتاہے اور یہ سب خداکی دوام دکھنے والی صفت ِ خالقیت کے زیرسایہ ہے۔جب کہ اس خلقت کے سلسلہ میں اِنسان کاایک معمولی سانقش ایک ہی لمحے میں مکمّل ہوجاتاہے ۔(اوروہ رحم میں نطفہ ڈالنے کالمحہ ہے اور بس تو کیایہ عقیدہ معاد پر ایک زندہ دلیل نہیںہے کہ اس قسم کاقادر نہیں مُطلق مُردوں کے زندہ کرنے پرقدرت رکھتاہے(4) ۔
اِس کے بعد تیسری دلیل کوپیش کرتے ہوئے فرماتاہے : ہم نے تمہارے درمیان موت کومقدّر کیا اور کسی نے ہم پرسبقت نہیں کی ،(نَحْنُ قَدَّرْنا بَیْنَکُمُ الْمَوْتَ وَ ما نَحْنُ بِمَسْبُوقین) جی ہاں ہم کبھی مغلوب نہیںہوں گے ۔ اور اگرموت کوہم نے مقدرکیاہے تواس بناپر نہیں کہ ہم عمرِجاودانی نہیں دے سکتے بلکہ مقصد یہ تھاکہ تم میں سے ایک گروہ کوہم اُٹھا لیں اوراس کی جگہ دوسرا گروہ لے آئیں اورانجام کارتمہیں ایسے جہان میں کہ جسے تم نہیں جانتے نئی خلقت بخشیں (عَلی أَنْ نُبَدِّلَ أَمْثالَکُمْ وَ نُنْشِئَکُمْ فی ما لا تَعْلَمُون) ۔ اِن دوآیتوں کی تفسیر میں اس نظر یہ کے علاوہ جوہم نے اُوپربیان کیا ایک اور نظر یہ موجود ہے ، اوروہ یہ کہ دوسری آ یت پہلی آ یت کے مقصودکابیان نہیں ہے بلکہ اس کاجزوِآخرہے ۔ پروردگار ِ عالم فرماتاہے : ہم ہرگز عاجز ومغلوب نہیں ہیں اس سے کہ ایک گروہ کو لے جائیں اور دوسرے گروہ کواس کاجانشین بنادیں( ٥) ۔
۔
عَلی أَنْ نُبَدِّلَ أَمْثالَکُمْکہ جملہ کے بارے میں بھی دوتفسیریں موجود ہیں، ایک وہی تفسیر جوہم نے اُوپر بیان کی ہے جومفسّرین کے درمیان مشہور ہے ۔اِس تفسیر کے مطابق اس آ یت میں گفتگو اس دنیا میں اقوام کی تبدیلی کے بارے میں ہے ،دوسری تفسیر کہتی ہے ،کہ امثال سے مراد خودانسان ہیں جو قیامت میں دوبار ہ پلٹ آ ئیں گے اور مثل کالفظ اس لیے آ یاہے کہ انسان اپنی تمام خصوصیات کے ہمراہ واپس نہیں آ ئے گا بلکہ ایک اور ہی زمانہ میں ہوگا اورجسم ورُوح کے اعتبار سے نئی خصوصیات کاحامل ہوگا ،لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے، بہرحال مقصودِکلام یہ ہے کہ موت سے قیامت پر استد لال پیش کیاجائے ، اس استد لال کی اس طرح وضاحت کی جاسکتی ہے ۔
خدا وندحکیم جس نے انسانوں کوپیدا کیاہے اور با قاعدہ ایک گروہ انتقال کرتاہے اوردوسرا اس کی جگہ لے لیتاہے ،اس کایہ عمل کوئی نہ کوئی مقصد اپنے اندرکھتاہے ۔اگرصرف دنیاوی زندگی ہی یہ مقصد ہوتی توپھر مناسب تھا کہ انسانی زندگی جاودانی ہوتی ، نہ اس قدرمختصر اورہزار ہاتکا لیف سے لبریز کہ انسان کی آمدو رفت کی قیمت بھی نہیں رکھتی ۔اس بناپر موت کاقانون بڑی عمدگی سے یہ گواہی دیتاہے کہ دنیا ایک گزر گاہ ہے ۔منزل نہیںہے ۔ایک پل ہے نہ کہ ایک مقصد ، اگرمنزل ہوتی اور مقصد ہوتاتوپھر یہ دوام رکھتی وننشئکم فی ما لاتعلمون تمہیں ہم پیدا کرتے ہیں ایسی صورت میں جسے تم نہیں جانتے ظاہر ہے یہ قیامت میں انسان کی خلقت کی طرف اشارہ ہے جوممکن ہے اس دنیا کی موت وحیات کا مقصود ہو، یہ واضح ہے کہ چونکہ کسی شخص نے دارِآخرت کونہیں دیکھا لہٰذا وہ ان اصولوں اورنظاموںسے باخبر ہے جووہاں رائج ہیں، یہاں تک کہ وہاں کی حقیقت کابیان ہمارے الفاظ میں بھی نہیں سماسکتا ہم دُورسے اس کاایک ہیولا دیکھتے ہیں ۔
ضمنی طورپراُوپروالی آ یت اس حقیقت کوبیان کرتی ہے کہ ہم تمہیں ایک نئے جہان میں نئی شکل وصُورت ،نئے حالات اورنئی کیفیات میں پیدا کریں گے جس کی تمہیں خبرنہیں ہے ۔
آخری آیت میں معاد کی چوتھی دلیل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتاہے: تم نشاة ِ اُولیٰ(اس جہان) کوجان چکے ہوتو کِس طرح قائل نہیں ہوتے کہ دوسراجہان اس کے بعد ہے (وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی فَلَوْ لا تَذَکَّرُونَ) ۔اس دلیل کو دو طرح سے بیان کیاجاسکتاہے ۔ پہلی یہ کے ،مثال کے طورپر ،اگرہم ایک بیان سے گزریں اوراس میں ایسا محل دیکھیں جوبہت آراستہ و پیراستہ ہو، اس کی عمارت میں عظمت وشکوہ ہو، وہ بہت مضبُوط ہو، اس میں نہایت عمدہ سہولتیں موجود ہوں اور وہ بہت وسیع وعریض ہو بعد میںلوگ ہم سے کہیں کہ یہ عظیم عمارت اس مقصد کے لیے ہے ۔کیونکہ اس قسم کے مقصد کے لیے مناسب یہ تھا کہ چند چھوٹے چھوٹے خیمے نصب کردیے جاتے ۔اسی طرح یہ دنیا اتنی عظمت کے ساتھ ، یہ تمام کُرّے،سُورج ،چاند اورانواع واقسام کی زمین میں بسنے والی مخلو قات ، یہ تمام چیزیں صرف ایک چھوٹے سے مقصد یعنی انسان کوچند روزہ زندگی کے لیے نہیں بنائی جاسکتیں۔ ورنہ اس جہان کی خلقت فضول اور لاحاصل ہوتی ،یہ عظیم مقامات انسان جیسے صاحب ِشرف وجود کے لیے بنائے گئے ہیں تاکہ ان کودیکھ کروہ خدائے عظیم کی معرفت حاصل کرے ،ایسی معرفت جودوسری زندگی کے لیے اس کا سرمایہ ثابت ہو۔یہ بیان حقیقت میں اس کے مشابہ ہے جوسورة ص کی آ یت ٢٧ میں قیامت کے بارے میں پیش کی گئی ہے :(وَ ما خَلَقْنَا السَّماء َ وَ الْأَرْضَ وَ ما بَیْنَہُما باطِلاً ذلِکَ ظَنُّ الَّذینَ کَفَرُوا)ہم نے آسمان اور زمین کواور جوکچھ ان کے درمیان ہے فضول نہیں پیداکیا ، یہ کافروں کاگمان ہے ۔
دُوسری بات ، یہ کہ معاد کے منظر تم اس دنیاکے ہرگوشہ میں اپنی آنکھ سے دیکھتے ہو ، ہرسال نباتات کی دُنیامیں قیامت کے منظر کی تکرار ہوتی ہے ۔پروردگار ِ عالم مُردہ زمینوں کوبارش کے زندگی بخش قطروں کے نزول سے زندہ کرتاہے جیساکہ سورہ حم سجدہ کی آ یت ٣٩ میں فرماتاہے : ان الذی احیاھالمحی الموتیٰ وہ جوان مُردہ زمینوں کوزندہ کرتاہے وہی ہے جومُردوں کوزندہ کرے گا سورہ حج کی آیت ٦ میں بھی ان معانی کی طرف اشارہ ہواہے ۔
١۔"" لولا"" اصطلاح کے مطابق تخفیض اور کسی کام کی انجام دہی کی تحریک کے لیے ہے اوربعض کے قول کے مطابق اصل میں یہ لم اورلا سے مرکب تھا، جوسوال اورنفی کے معنی میں ہیں اس کے بعد میم واؤ کے ساتھ تبدیل ہوگیا۔ یہ لفظ ایسی جگہ استعمال ہوتاہے جہاں کوئی فرد یاکچھ افراد کسی کام کے کرنے میںتساہل کریں توان سے کہا جاتاہے کہ کیوں اِ س طرح اوراُس طرح نہیں کرتے۔
٢۔"" ر ء یتم "" یہاں رویت سے علم کے معنوں میںہے نہ کہ آنکھ سے دیکھنے کے معنوں میں ۔
٣۔ اولین دانش گاہ ، جلد ١ (بحث جنین شناسی)صفحہ ٢٤١۔
٤۔اس سلسلہ کی مزید وضاحتیںجلد ٧ ،سورہ حج کی آ یت ٥ کے ذیل میں ہم نے جمع کردی ہیں ۔
٥۔پہلی تفسیر کے مطابق "" علیٰ ان نبدل "" کاجار ومجرور"" قدرنا"" سے متعلق ہے جوگزشتہ آ یت میں آ یاہے اوردوسری تفسیر کے مطابق "" مسبوقین "" سے متعلق ہے (غور کیجئے )
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma