دانوں کو اُگانے والا خُدا ہے یا تم ہو ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

اِس سُورہ میں جو سات دلیلیںمعاد کے بارے میں بیان ہوئی ہیں ان میں سے ہم نے اَب تک چار دلیلیں پڑھی ہیں ۔
زیربحث آیت اور آنے والی آ یات میں تین اور دلیلیں پیش کی گئی ہیں جن میں سے ہرایک انسانی زندگی میںخُدا کی قُدرت ِ بے پایاں کانمونہ ہے ۔ان دلیلوںمیں سے ایک غذا کے دانوں کی خلقت سے تعلق رکھتی ہے ۔دوسری پانی سے اورتیسری آگ سے متعلق ہے ۔
اِنسانی زندگی کے تین بنیادی ارکان کویہی چیزیں توتشکیل دیتی ہیں۔نبا تات کے دانے اِنسانی غذا کااہم ترین جُز شمار ہوتے ہیں ۔ پانی اہم ترین مشروب ہے اورآگ غذائی مواد اور دیگرامور ِ زندگی کی اصطلاح کااہم ترین وسیلہ ہے ۔ پروردگار ِ عالم فرماتاہے : کیا اس میں جسے تم کاشت کرتے ہوکبھی غور کیا ہے (أَ فَرَأَیْتُمْ ما تَحْرُثُونَ) ۔کیاتم اُسے اُگاتے ہو یاہم اُگا تے ہیں (أَ أَنْتُمْ تَزْرَعُونَہُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُون) ۔جاذبِ توجہ یہ کہ پہلی آ یت میں تحرثونہے ،جس کا حرث (بروزن درس)ہے جو کا شت کرنے کے معنی میں ہے (بکھیرنااورانہیں نشو ونماکے لیے آمادہ کرنا) دوسری آ یت میں تزر عون کالفظ استعمال کرتاہے ،جس کامادّہ زراعت ہے جواُگانے کے معنی میںہے ۔واضح رہے کہ انسان کاکام صرف کاشت کرناہے اُسے اُگانا خداکا کام ہے ،اسی لیے ایک حدیث میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہے : لایقولن احد کم زرعت ولیقل حرثت (فان الزارع ھواللہ ) تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے زراعت کی بلکہ یہ کہے کہ میں کاشت کی کیونکہ زراع حقیقی خدا ہے (١) ۔
اس دلیل کی تشریح اس طرح ہے کہ انسان جوکام زراعت کے سلسلہ میں کرتاہے وہ بچّے کے تولد کے سلسلہ میں جواس کاکام ہے اس کچھ زیادہ غیر مشابہ نہیں ہے ۔ یہ زمین میں صرف دانہ ڈالتا ہے پھرا لگ ہوجاتاہے ۔ یہ خدا ہے جس نے دانہ کے اند رایک بہت ہی چھوٹا سازندہ سیل پیدا کیاہے جومساعد ماحول میں قرار پاتاہے توابتدامیں خود دانہ میں موجود مواد غذائی سے استفادہ کرتاہے کو نپل نکالتاہے اور جڑ کو مضبوط کرتاہے ۔ پھر عجیب وغریب تیزی کے ساتھ زمین کے موادِ غذائی سے مدد حاصل کرتاہے اور اس گھاس میں عجیب قسم کی مشینری حرکت میں ا جاتی ہے جس سے وہ ایک حشر بپا کرتاہے ،تنے شاخ اورخوشہ بناتاہے اورکبھی تو ایک بیج میں سے کئی سو یاکئی ہزار دانے نکلتے ہیں(٢) ۔
ماہرین کہتے ہیں کہ وہ ترتیبیں جوایک گھاس کی ساخت اوراس کے ڈھانچے میں نظر آتی ہیں ، ایک ایسے عظیم صنعتی شہر کی ترتیبوں کی طرح ہیں جس میں متعدد کار خانے ہوں اور یہ ترتیبیں بہ نسبت اس صنعتی شہر کی ترتیبوں کے زیادہ تعجب انگیز اورپیچیدہ ہیں یاوہ ہستی جواس قسم کی قدرت رکھتی ہے مُردوں کوزندہ کرنے سے عاجز ہے ؟ اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ ، نبا تات کی نشو ونماکے سلسلہ میں انسان سوائے دانوں کوزمین میں ڈالنے کے کوئی اور کام نہیں کرتا، بعد والی آ یت مزید کہتی ہے : اگرہم چاہیں تواس زراعت کومٹھی بھرخشک وکو بیدہ گھاس میں اس طرح تبدیل کردیں کہ تم حیران رہ جاؤ ( لَوْ نَشاء ُ لَجَعَلْناہُ حُطاماً فَظَلْتُمْ تَفَکَّہُون) ۔ جی ہاں ہم تیز زہریلی آندھی بھیج سکتے ہیں جواسے دانوں کے لگنے سے پہلے ہی خشک کرکے درہم وبرہم کردے یاپھر کوئی اور آفت ومصیبت اس پرمسلّط کردیں جوحاصل ہونے والے سرمایہ کوختم کردے ۔ ٹڈ ی دَل کاسیلاب اس کی طرف بھیج سکتے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ ایک عظیم بجلی کاایک گوشہ اس پرمسلّط کردیں اس طرح کہ سوائے مٹھی بھرخشک روندی ہوئی گھاس کے اور کوئی چیزباقی نہ رہے اورتم اس منظر کے مشاہدہ سے حیرت وندامت میں غرق ہوجاؤ ۔
اگرحقیقی زراع تم لوگ خود ہوتے توکیایہ امور ممکن تھے ؟ توپھر جان لو کہ یہ سب برکتیں کسی اور جانب سے ہیں حطام کا مادّہ حطم ہے جو (بروزن ختم )ہے ۔ اس کے معنی میں کسی چیز کے ٹوٹنے کے ہیں ، زیادہ ترخشک چیزوں ، مثال کے طورپر ، بوسیدہ ہڈی یاگھاس کے خشک تِنکوں پر اس کااطلاق ہوتاہے ، یہاںمراد وہی گھاس ، یہ احتمال بھی تجویز کیاگیاہے کہ حطام سے مراد یہاںزمین کے نیچے بوسیدہ اورنہ اُگنے والا بیج ہے ( ٣) ۔
تفکھون فاکھة کے مادّہ سے پھل کے معنی میں ہے ۔اس کے بعد فکاھت مزاح،خوش طبعی اورایسی لطیفہ گوئی کے لیے استعمال ہوتاہے جومحافل محبت کی جان ہوتی ہے ۔ لیکن کبھی یہ مادّہ حیرت اورتعجب کے معنوں میں بھی آ یاہے اور زیربحث آ یت میں اسی قبیل سے ہے، یہ احتمال بھی ہے جیساکہ انسان کبھی غصّہ کی حالت میں بھی ہنستاہے جسے غصّہ کاہنسنا کہتے ہیں،وہ سخت اوربڑی مصیبت کے وقت بھی مزاح سے کام لیتا ہے ۔ اس بناپر اس سے یہاں مراد وہ مزاح اورخوش طبعی ہے جومصیبت کے وقت ہو۔ جی ہاں تعجب کرتے ہوا اورحیرت میں ڈوب کرکہتے ہیں ۔ سچ مچ ہم نے نقصان اُٹھایا ہے اور ہم سرمایہ کھو بیٹھے ہیں اور ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آ یا (ِنَّا لَمُغْرَمُونَ)(٤)(٥) ۔
بلکہ ہم توکلّی طورپر بے چار ے اورمحروم ہیں ( بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ۔ )اگر حقیقی زراع تم ہی ہوتے توکیااس قسم کی صُورت حال ممکن تھی؟یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ یہ سب آوازیں اور صدائیں اُسی طرف سے ہیں اوروہی ہے جوایک ناچیز دانہ سے کبھی سرسبز گھاس اور کبھی سینکڑوں یاہزاروں دانے پیداکرتاہے ۔ وہ گھاس اوروہ نباتات جن کے دانے انسانوں کی غذا ہیں اوران کے شاخ وبرگ جانوروں کی غذا ہیں اور کبھی ان کی جڑیں اور باقی اجزا انواع واقسام کی بیماریوں کی دوائیں ہیں ۔
١۔اس حدیث کاپہلا حصّہ تفسیر مجمع البیان میں ا یات زیربحث کے ذیل میں ا یاہے جب کہ دوسراحصہ رُوح البیان میں نقل ہواہے۔
٢۔اگرچہ عام طورپر گندم کی بالی میں کئی سودانے بہت کم نظر آتے ہیں لیکن جیساکہ اس تفسیر کی پہلی جلد میں مطبوعات کی صریح گواہی کے مطابق جنوبی ایران کے ایک شہر میں بعض کھیتوں میں گندم کے بوٹے بہت بلند اورپُر خوشہ دیکھے گئے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات ایک بوٹے میں چار ہزار دانے موجود تھے ۔
٣۔تفسیر ابو الفتوح رازی در ذیل آیات زیربحث ۔
٤۔اس جملہ میں کچھ محذوف ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے ( وتقو لون انّا لمغرمون )"" مغرمون"" غرامت کے مادّہ سے ہے ،زیادہ نقصان کرنے اور وقت وسرمایہ ضائع کرنے کے معنوں میں ہے ۔
٥۔اس جملہ میں کچھ محذوف ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے ( وتقو لون انّا لمغرمون )"" مغرمون"" غرامت کے مادّہ سے ہے ،زیادہ نقصان کرنے اور وقت وسرمایہ ضائع کرنے کے معنوں میں ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma