ایک نکتہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
یہاں ضروری ہے کہ مندرجہ بالاآ یات سے متعلق ہم پیغمبر ِاسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اورامیر المومنین علیہ السلام کی چند حدیثیں پیش کریں۔
١۔تفسیر رُوح المعانی میں ایک حدیث حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک رات نماز کے بعد سُورہ واقعہ کوپڑھتے ہوئے جب آپ (أَ فَرَأَیْتُمْ ما تُمْنُونَ،أَ أَنْتُمْ تَخْلُقُونَہُ أَمْ نَحْنُ الْخالِقُونَ)پرپہنچے توآپ نے تین مرتبہ عرض کیا( بل انت یاربّ) بلکہ توہی (انسان کاخالق ہے )اے پروردگار اورجس وقت أَ أَنْتُمْ تَزْرَعُونَہُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ پر آئے تو پھر تین مرتبہ عرض کیا (بل انت یاربّ) بلکہ زراع حقیقی اے پروردگار تو ہی ہے اس کے بعد جس وقت (أَ أَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوہُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ)پرآ ئے توپھر تین مرتبہ عرض کیا(بل انت یاربّ) اے پروردگار توہی ہے (جوبادلوں سے مینہ برساتاہے ) اس کے بعد ( أَ أَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَہا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ)کی تلاوت فرمائی توپھرتین مرتبہ عرض کیا(بل انت یاربّ) توہی ہے (جس نے آگ پیدا کرنے والے درختوں کوپیداکیا)(1) ۔
اِس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ مناسب یہ ہے کہ انسان ان جملوں کااقتضائے حال کے مطابق جواب دے، اس طرح جیسے خُدا اُس سے باتیں کررہاہے ،اس کے بعد اس حقیقت کواپنی رُوح میں جاگزیں کرے اورصرف غوروفکر سے عاری بے جان تلاوت پرقناعت نہ کرے ۔
٢۔ایک دُوسری حدیث میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:لاتمنعوا عباداللہ فضل الماء ولا کلاء ولا ناراًفان اللہ تعالیٰ جعلھامتاعاً للمقوین وقوةللمستضعفین تمہارے پاس جوفالتو پانی ہواسے بند ِ گان خدا کواستعمال کرنے سے کبھی نہ روکنا، اسی طرح اُس اضافی چراگاہ اورآگ کامعاملہ ہے جوتمہارے اختیار میں ہو ،لوگوں کواُس کے استعمال سے نہ روکنا ، خدانے انہیں مسافروں کی زندگی کاذ ریعہ اورحاجت مندوں کی قوّت کاسبب قراردیاہے ( 2) ۔
٣۔ ایک اورحدیث میں ہمیں ملتاہے کہ جس وقت فسح باسم ربک العظیم کی آ یت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پرنازل ہوئی تو آ پ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:اجعلوھافی رکوعکم اے اپنا ذکر رکوع قرار دو (اپنے رکوع میں سُبحان ربی العظیم وبحمدہ کہاکرو) (3) ۔
1۔تفسیر روح المعانی ،جلد ٢٧ ،صفحہ ١٣٠۔
2۔تفسیر درالمنثور ،جلد ٦ ،صفحہ ١٦١۔
3۔اس حدیث کومرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں ایک صحیح حدیث کے عنوان کے ماتحت درج کیاہے ( جلد ٩ صفحہ ٢٢٤) اور یہ حدیث کتاب"" من لایحضرہ الفقیہ "" میں بھی ہے (مطابق تفسیر نورالثقلین،جلد ٥ ،صفحہ ٢٢٥ ) اوراسی طرح تفسیر درالمنثور جلد ٦ ،صفحہ ١٦٨ پربھی درج ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma