صِرف پاکیزہ افراد حریم قرآن تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

اِن بہت سے مباحث کے بعد جوگزشتہ آیات میںقیامت کے بارے میں سات دلیلوں کے ساتھ آ ئے اِن آیات میںگفتگو قرآنِ مجید کی اہمیّت کے بارے میں کیونکہ مسئلہ نبوّت اور مسئلہ نزولِ مبداء ومعاد کے مسائل کے بعداہم ترین اعتقادی ارکان کوتشکیل دیتے ہیں ۔علاوہ ازیں قرآن مجید توحید ومعاد جیسے دواصولوں کے پس منظر کے لیے عمیق بحث پیش کرتاہے اورمسئلہ نبوّت ونزول قرآن کے مرتبہ کااستحکام توحید ومعاد کااستحکام شمار ہوتاہے ۔سب سے پہلے ایک بڑاقسم کے ساتھ گفتگو شروع کرتے ہوئے فرماتاہے: قسم ہے ستاروں کی جگہ کی اوران کے محل طلوع وغروب کی (فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ ) ۔ بہت سے مفسّرین کایہ عقیدہ ہے کہ لا یہاں نفی کے معنی میں نہیںہے کہ بلکہ زائدہ ہے اورتاکید کے لیے ہے ، جیساکہ قرآن کی دوسری آ یات میںیہی تعبیر روزِ قیامت ،نفسِ لوّامہ ، مشرقوں اورمغربوں کے پروردگار کاشفق کی قسموں کے سلسلہ میں آئی ہے ، بعض دوسرے مفسّرین لا کویہاں نفی کے معنوں میں لیتے ہیں اوراس طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ موضوع قسم اس سے زیادہ اہمیّت رکھتاہے کہ اس کی قسم کھائی جائے۔ جیساکہ روز مرّہ ہم دیکھتے ہیں کہ میںفلاں چیز کی قسم نہیں کھاتا۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظرآتی ہے کیونکہ قرآن میں خدا کی پاک ذات کی صراحت کے ساتھ قسم کھائی گئی ہے توکیا ستارے خداسے بہتر وبرتر ہیں کہ ان کی قسم نہ کھائی جائے ۔ مفسرین نے مواقع النجوم کے بارے میںمتعدد تفسیریں پیش کی ہیں، پہلی وہی جوہم نے ابھی بیان کی یعنی ستاروں کی جگہ اوران کے مدار وگزر گاہ کی قسم ۔ دوسرے یہ کہ مرادان کامحل طلوع وغروب ہے ۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس سے ستاروں کاقیامت میں گرنامراد ہو، بعض نے اس کی صرف ستاروں کے غروب کے ساتھ تفسیر کی ہے اور بعض نے ،چند روایات کی پیروی کرتے ہوئے ،اسے قرآن کے مختلف حصّوں کے مختلف زمانی فاصلوں کے ساتھ نزول کی طرف اشارہ سمجھاہے (کیونکہ نجوم ،جونجم کی جمع ہے وہ تدریجی کاموں کے بارے میں استعمال ہوتی ہے ،اوران سب معانی کے درمیان منافات بھی نہیں ہے )ہوسکتاہے کہ یہ سب معانی زیربحث آ یت کی تفسیر میں شامل ہوں ، لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔ کیونکہ ان آیات کے نزول کے وقت اکثر لوگ اس قسم کی اہمیّت کونہیں جانتے تھے لیکن اِس زمانہ میں ہم پریہ واضح ہوگیاہے کہ آسمان کے ستارون میںسے ہرایک کی ایک معیّن جگہ ہے اوراس کامدار قانون ِ جاذبہ ودافعہ کے مطابق معیّن ومقرر ہے اور بہت ہی دقیق حساب کے مطابق ہے اور ان میں سے ہرایک کی سُرعت رفتار ایک معیّن پروگرام کے مطابق طے پاتی ہے ،جوکُرّے سے زیادہ دُورواقع ہیں ان کابالکل ٹھیک حساب لگانا اگرچہ ممکن نہیں ہے لیکن نظام ِشمسی ، جوہم سے قریب کے ستاروں کاخاندان تشکیل دیتاہے ،اس میں صحیح مطالعہ بروئے کار لایا جاسکتاہے اس کے مداروں کانظام اس حد تک قطعی اورصحیح حساب ہے کہ انسان کے دماغ کوحیران کردیتاہے ۔ جس وقت ہم اس نکتہ کی طرف توجہ کریں کہ ماہرین کی گواہی کے مطابق صِرف ہماری کہکشاں میں تقریباً ایک ہزارملین ستارے موجود ہیں اورعالم میں اس کے علاوہ اور بہت سی کہکشائیں ہیںجن میں سے ہرایک کی ایک مخصوص سمت ہے ،تو ہمیں قرآن کی اس قسم کااندازہ ہوتاہے اللہ والعلم الحدیثنامی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ ماہرین علم الا فلاک کانظر یہ ہے کہ یہ ستارے جواربوںسے زیادہ تعداد میںہیں ان سے بعض کو،بغیر کسی مددگار آلے کے ،صرف اپنی آنکھ سے دیکھا جاسکتاہے اوران میں سے بہت زیادہ حصّہ کوسوائے ٹیلیسکوپ کی مدد کے نہیں دیکھاجا سکتابلکہ ان ستاروں کاایک حصّہ توٹیلیسکوپ کے ذریعہ بھی نہیں دیکھا جاسکتاہے ۔صرف مخصوص قسم کے وسائل سے ان کی تصویر لی جاسکتی ہے ۔ یہ سب اپنے مخصوص مدار میںتیرتے ہیں اوراس بات کاکوئی بھی احتمال نہیں ہے کہ ان میں سے ایک کسِی دوسرے کے ایسے علاقہ میں، جہاں اس کی کشش کام کررہی ہو ،موجود ہو،یایہ کہ یہ ستارے ایک دوسرے اس جہاز سے جودوسرے بڑے سمندر میںہوٹکراجائے جب کہ دونوںجہازایک ہی سمت میں اورایک ہی رفتار سے چل رہے ہوں۔اس قسم کااحتمال اگرمحال نہیں توبعید ضرور ہے (١) ۔
ستاروں کی کیفیّت اوروضع کے سلسلہ میں ان علمی انکشافات کی طرف توجہ کرتے ہوئے مذ کورہ بالاقسم کی اہمیّت اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے،اسی بناپر بعدوالی آ یت میں پروردگار ِ عالم مزید فرماتاہے : یہ بہت ہی بڑ ی قسم ہے اگرتم جان لو (وَ ِنَّہُ لَقَسَم لَوْ تَعْلَمُونَ عَظیم) لوتعلمون
(اگرتم جان لو)کے الفاظ اچھی طرح گواہی دیتے ہیں کہ انسان کاعلم اوراس کی دانش اُس زمانے میں اس حقیقت کامکمل طورپر ادراک نہیں کرسکتے تھے اور یہ خود قرآن کاایک علمی اعجاز شمارہوتاہے کہ ایسے زمانے میں جب کہ شاید ایک گروہ یہ خیال کرتاتھا کہ ستارے چاندی کی میخیںہیں جوآسمان کی چھت میںٹھونکی گئی ہیں ۔اس قسم کابیان، اوروہ بھی ایسے ماحول میں جو فی الحقیقت جہالت ونادانی سے مملوتھا،ممکن نہیں تھا کہ ایک عام انسان سے صادر ہو۔اَب ہمیںدیکھناہے کہ یہ عظیم قسم کِس مقصد کے لیے بیان ہوئی ہے ،بعدوالی آ یت اس کے رُخ سے پردہ اُٹھاتی ہے اورکہتی ہے :جوکچھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)لے کر آئے ہیں وہ قرآن کریم ہے (ِنَّہُ لَقُرْآن کَریم)اوراس طرح ان کج فہم اورضدی مشرکین کوجن کاہمیشہ یہ اصرار تھا کہ یہ آیتیں ایک قسم کی کہانت ہیں، یانعوذ باللہ جنون آمیز باتیں ہیں ،یا شعراء کے اشعار کی طرح ہیں ، یاپھر شیاطین کی طرف سے ہیں، یہ جواب دیتاہے کہ یہ وحی آسمانی ہے اورایساکام ہے جس کی عظمت کے آثار بالکل نمایاںہیں اور اس کے موضوعات ومضامین اس کے مبداء نزول کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ یہ صورت ِ حال اتنی واضح ہے کہ محتاج ِ بیان نہیںہے ، قرآن کی تعریف لفظ کریم کے ساتھ (اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ کرم جب خدا سے متعلق ہوتواس کے معنی احسان وانعام کے ہیں اورانسان سے متعلق ہو توقابل ِ تعریف اخلاق واعمال کے حامل ہونے کے معنی میں ہے )مجموعی طورپر عظیم اوصاف کی طرف اشارہ ہے (٢) ۔
اورقرآن کے فصیح وبلیغ لفظوں اورجملوں کے اعتبار سے اس کی ظاہر ی خوبصورتیوں اورپُرکشش موضوعات ومضامین کی طرف بھی اشارہ ہے ۔ یہ اس لیے کہ یہ خداکی طرف سے نازل ہوا ہے اوروہ ہرجمال وکمال اورخُوبی و زیبائی وخُوبصورتی کامبداء ومنشاہے ۔ جی ہاں قرآن جس کاکلام ہے وہ بھی کریم ہے اورخود قرآن بھی کریم ہے اوراس کولانے والابھی کریم ہے اوراس کے مقاصد بھی کریم ہیں ، اس کے بعد اس آسمانی کتاب کی دوسری صفت کوپیش کرتے ہوئے فر ماتاہے: یہ آ یات ایک مستور اورپوشیدہ کتاب میں ہیں (فی کِتابٍ مَکْنُون) ۔اس لوح ِ محفوظ (علم ِ خدا)میں جو ہرقسم کی خطا و لغزش اورتغیّر وتبدّل سے مصئون ہے ۔واضح ہے کہ وہ کتاب جس کااس قسم کاسرچشمہ ہے اوراس کااصلی نسخہ وہاں ہے وہ ہرقسم کی تبدیلی، خطا اور شک وشبہ سے محفوظ ہے ۔ تیسری صفت کے سلسلہ میں فرماتاہے : اس کتاب کوپاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی مَس نہیں کرسکتا۔(لا یَمَسُّہُ ِلاَّ الْمُطَہَّرُونَ)(٣) ۔
بہت سے مفسّرین نے ان روایات کی پیروی کرتے ہوئے جوآئمہ معصومین سے منقول ہیں ،اس آ یت کی تفسیر یہ کی ہے کہ غسل ووضوکے بغیر قرآن کی تحریر کوہاتھ نہ لگایاجائے جب کہ دوسراگروہ اس آ یت کوایک ایسااشارہ سمجھتاہے جواُن پاک وپاکیزہ فرشتوں کی طرف ہے جو قرآن سے آگاہی رکھتے ہیںیاوہ قلب پیغمبر پرنزول وحی کاذریعہ تھے ، مشرکین جوکہتے تھے کہ یہ کلمات شیاطین نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پرنازل کیے ہیں ان کے نقطۂ نظر کے مقابل بعض مفسّرین اسے اس طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کے بلند حقائق ومفاہیم کاپاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی ادارک نہیں کرسکتا، جیساکہ سُورہ بقرہ کی آ یت ٢ میں پڑھتے ہیں ۔(ذلِکَ الْکِتابُ لا رَیْبَ فیہِ ہُدیً لِلْمُتَّقین)اس کتاب میں کوئی شک نہیں یہ پرہیزگاروں کے لیے سبب ہدایت ہے دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ پاکیزگی کی کم سے کم حد، جو حقیقت جوئی کہ رُوح ہے ،وہ قرآن کے کمترین ادراک کے لیے لازمی ہے اورجس قدر پاکیزگی اور طہارت زیادہ ہوگی موضوعات ومفاہیم قرآن کاادراک اِنسان کے لیے اتناہی زیادہ ممکن ہوگا ۔اِن تینوںتفسیروں میں کوئی منافات نہیں ہے لہٰذا ممکن ہے مفہوم آیت میں یہ سب شامل ہوں۔
پروردگار ِ عالم قرآن مجید کی چھوتھی اورآخری توصیف کے سلسلہ میں فرماتاہے : قرآن عالمین کے پروردگار کی طرف سے نازل ہواہے (تَنْزیل مِنْ رَبِّ الْعالَمینَ )(٤) ۔
و ہ جو تمام اہل جہاں کامربّی ومالک ہے اُس نے اس قرآن کوانسانوں کی تربیّت کے لیے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاکیزہ دل پر نازل کیاہے اور جس طرح عالم ِ تکوین میں وہی مالک ومربی ہے عالم ِ تشریع میں بھی جوکچھ ہے اسی کی طرف سے ہے ۔اس کے بعدمزید فرماتاہے ۔ : کیااس قرآن کوان اوصاف کے ساتھ جوبتائے گئے ہیں کمزور اور چھوٹا شمار کرتے ہو، آسان ہے تواس کی تکذیب کرتے ہو (أَ فَبِہذَا الْحَدیثِ أَنْتُمْ مُدْہِنُون) ۔جب کہ اس سے صِدق وحقانیت کی نشانیاں اچھی طرح واضح ہوتی ہیں ۔تو چاہیے کہ تم کلام خدا کواتنہائی کاوش کے ساتھ قبول کرو اورایک حقیقت واقعی سمجھ کراس کے سامنے جاؤ ۔ ھٰذاالحدیث یہ بات قرآن کی طرف اشارہ ہے اور مدھنون دھن کے مادّہ سے ہے جس کے معنی روغن اورتیل کے ہیں، چونکہ بدن کی کھال یادوسری چیزوں کونرم کرنے کے لیے روغن ملتے ہیں اس لیے لفظ ادھان نرمی سے پیش آنے کے معنی میں اِستعمال ہوتاہے ۔ کبھی سستی اورمقابلہ نہ کرنے کی کیفیّت کے لیے بھی آتاہے۔چونکہ منافقین اورجھوٹے افراد کی عام طورپر ملائم زبان ہوتی ہے ،اس بناپریہ لفظ کبھی کبھی تکذیب وانکار کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ،مندرجہ بالاآ یت میں ان دونوںمعانی کااحتمال ہے ۔اصولی طورپر انسان جس چیزکوباور کرتاہے اسے پُوری قوّت اور مضبوطی سے پکڑاتاہے اوراگر مضبُوطی سے نہ پکڑے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ا سے باور نہیں کرتا ،زیربحث آیات میں سے آخری آ یت میں فرماتاہے : تم بجائے اس کے کہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں ، خصوصاً قرآن جیسی عظیم نعمت، کاشکر اداکرو تم اس کی تکذیب کرتے ہو (وَ تَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ )(٥) ۔
بعض مفسّرین نے کہاہے کہ قرآن میں سے تمہارا حصّہ صرف یہ ہے کہ تم اس کی تکذیب کرتے رہویاتم تکذیب کواپنا ذریعہ معاش قرار دے دلیاہے (٦) ۔لیکن آخری دوتفسیروںمیں سے پہلی تفسیرگزشتہ آ یات کے ساتھ زیادہ مناسب رکھتی ہے اوراس شان ِ نزول کے ساتھ بھی زیادہ ہم آہنگ ہے جواس آ یت کے لیے بیان ہوئی ہے کیونکہ بہت سے مفسّرین نے ابن ِ عباس سے نقل کیاہے کہ وہ ایک سفر میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے سُنا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ فلاں ستارے کے طلوع کی وجہ سے بارش ہوئی (عرب زمانہ ٔ جاہلیت میں انوائ کاعقیدہ رکھتے تھے اس سے ان کی مراد ایسے ستارے تھے جومختلف فصلوں میں آسمان پرظاہر ہوتے تھے ۔ان کاعقیدہ تھاکہ ان میں سے ہر ستارے کے ظہور کے ساتھ بارش ہوتی ہے اس لیے وہ کہتے ہیں :(مطرنابنو فلاں) یہ بارش فلاں ستارے کے طلوع کی برکت کی وجہ سے ہے اوریہ بھی شرک وبُت پرستی وستارہ پرستی کاایک ادنیٰ مظاہرہ تھا(٧) ۔
قابل ِتوجہ بات یہ ہے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بہت کم آیتوں کی تفسیر کی ہے منجملہ ان چند آیتوں کے جن کی آپ نے تفسیر کی ہے ایک آ یت یہ ہے وَ تَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ۔آپ نے فرمایا : اُس سے مراد یہ ہے کہ اپنی روزی کے شکر کی بجائے تم تکذیب کرتے ہو ( ٨) ۔
١۔اللہ والعلم الحدیث ،صفحہ٣٣۔
٢۔راغب کے مفردات میں مادہ کرم ۔
٣۔"" لایمسّہ "" جملہ خبریہ ہے کہ جونہی یانفی کے معنی میں ہوسکتاہے ۔
٤۔تنزیل یہاں مصدر ہے اسم مفعول کے معنی میں یعنی منزل کے معنی میں اور مبتدائے محذوف کی خبرہے یاخبر کے بعد خبرہے ۔
٥۔اِس تفسیرکے مطابق یہاں شکر کالفظ محذوف ہے اورتقدیر عبارت یوں ہے (""تجعلون""شکررزقکم انکم تکذبون )یاشکر کنایہ ہے شکر رزق کا ۔
٦۔ان دونوں تفسیروں کے مطابق کوئی چیز مقدر نہیںہے ۔
٧۔اس حدیث کوطبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیاہے تفسیر درالمنثور جلد ٦ ،صفحہ ١٦٣ ،قرطبی جلد ٩ صفحہ ٦٣٩٨۔ مراغی جلد ٢٧ ،صفحہ ١٥٢۔ اور رُوح المعانی ،جلد ٢٧ صفحہ ١٣٥ نے بھی مختصر سے فرق کے ساتھ زیربحث آیات کے ذیل میں اسے نقل کیاہے ۔
٨۔ تفسیر درالمنثور ،جلد ٦ ،صفحہ ١٦٣ ۔نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٢٧۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma