٢۔ قرآن وطہار ت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

مندرجہ بالاآ یت میں ہم نے پڑھاہے کہ قرآن کوپاک لوگوں کے علاوہ کوئی مَس نہیں کرتا اور ہم نے بتایاہے کہ اس آ یت کی مس ظاہری سے بھی تفسیر ہوئی ہے مس معنوی سے بھی اور دونوں تفسیریں آپس میں تضاد بھی نہیں رکھتیں ، اور آ یت کے مفہوم کلی میں موجود ہیں ۔ پہلے حصّہ میں روایت ِ اہل بیت میں حضرت ابوالحسن امام علی ابن ِ موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے :
المصحف لاتمسہ علی غیر طھر ولا جنبا ولاتمس خطہ ولا تعلقہ ان اللہ تعالیٰ یقول:لایمسہ الّا المطھرون۔
قرآن کووضو کے بغیر مُس نہ کر اورجنابت کی حالت میں بھی مَس نہ کر اوراس حالت میں اس کی تحریر کومَت چھُواوراسے حمائل نہ کرکیونکہ خداوند تعالی نے فر مایا ہے سوائے پاکیزہ لوگوں کے اسے کوئی مَس نہیں کرتا ( 1) ۔
یہی معنی ایک اورحدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مختصر فرق کے ساتھ منقول ہے (2) ۔
منابع اہل سُنّت میں بھی آ یا ہے اورمختلف طرق سے بھی نقل ہواہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:
لایمس القراٰن الّاطاھر ۔
قرآن کوپاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی مَس نہ کرے ( 3) ۔
مِس معنوی کے بارے میں ابن ِ عباس کے ذ ریعے پیغمبرگرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون قال : عنداللہ فی صحف مطھرة لایمسہ الّا المطھرون قال: المقربون ۔
یہ قرآن کریم ہے جوپوشیدہ (لوح محفوظ)کتاب میں ہے ، خدا کے پاس پاکیزہ صفحات میں ہے اور سوائے پاکیزہ لوگوں کے اسے کوئی مَس نہیں کرتا ،پاک لوگوں سے مراد مقربین ہیں ( 4) ۔
یہ مطلب ازرُوئے عقل بھی مدلل ہے کیونکہ قرآن مجید اگرچہ سب لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ بہت سے ایسے لوگ تھے جوقرآن کوپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے لب ہائے مبارک سے سُنتے تھے اوراس آب زلالِ حقیقت کوسرچشمہ وحی میں دیکھتے تھے لیکن چونکہ تعصّب ،عناد اورہٹ دھرمی کاشکارتھے انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا یا لیکن جن لوگوں نے تھوڑا سااپنے آپ کوپاک کیااورحق کے جذبے اورتحقیق کی رُوح کے ساتھ اس کی طرف آ ئے وہ ہدایت پاگئے ،اس بناپر جس شخص میں جس قدرانسانی پاکیز گی زیادہ ہوگی اورتقویٰ زیادہ ہوگاوہ قرآن مجید سے زیادہ عمیق مفاہیم حاصل کرسکے گا ،لہٰذا یہ آ یت اس طرح جسمانی اوررُوحانی دونوں جہتوںسے منطبق ہوتی ہے ، بغیر کہے یہ امرواضح ہے کہ ذات ِپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ایٔمہ معصومین اورملائکہ مقربین اس کے زیادہ واضح مصداق ہیں اور وہ حقائق قرآن کاسب سے بہتر ادراک کرتے ہیں ۔
1۔وسائل الشیعہ جلد ١ ،صفحہ ٢٦٩۔حدیث ٣ ۔اس حدیث کے مطابق اوپر والی آ یت میں نفی نہی سے کنایہ ہے ۔
2۔وسائل الشیعہ ،جلد ١ ،صفحہ ٢٧٠ ۔حدیث ٥۔
3۔یہ حدیث دراالمنثور میں عبداللہ ابن عمر ، معاذ ابن جبل اورابنِ جزم کے واسطے سے پیغمبر سے منقول ہے جلد ٦ ،صفحہ ١٦٢ ۔
4۔درالمنثور ،جلد ٦ ،صفحہ ١٦٢۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma