١۔ جبّارین کی ناتوانی کا لمحہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

حقیقت میں ان آ یات کامقصودِ کلام یہ ہے کہ موت وحیات کے مسئلہ پرخدا کے اختیار کوبیان کیاجائے تاکہ اس سے مسئلہ معاد تک ایک پُل بنایا جاسکے ، اس موقع پر موت اورجاں کنی کا انتخاب انسان کی مکمّل ناتوانی اوراس کے ضعف کے ظہور کی وجہ سے ہے ، باوجود اس تمام اختیار کے جس کو وہ اپنے لیے خیال کرتاہے ، یہ امر معیوب نہیں کہ بعض ایسے جبّار لوگوں کی طرف ہم توجہ کریں جن کے اوج ِقدرت واختیار میں ان کی موت کالمحہ آ یا ہے تاکہ ان آیتوں کی گہرائی زیادہ آشکار ہو، مسعود ی نے مروج الذہب میں مامومن اوراس کی فوج کی روم سے جنگ کے بارے میں ایک داستان بیان کی ہے جس کاخلاصہ کچھ اس طرح ہے ،مامون جس وقت میدان ِ جنگ سے لوٹ رہاتھاتووہ بدیدوںنامی چشمے پرپہنچا جوقشیرہ کے علاقہ میں مشہور ہے ۔آرام کرنے کی غرض سے اس نے وہاں پڑاؤ کیا، اس چشمے کے پانی کی صفائی ، ٹھنڈک اور چمک نے اسے بہت مسُرور کیااوراس طرح وہ اس علاقہ کی شادابی ، تازگی اوربشاشت سے سے بہت خوش ہوا۔ اس نے حکم دیاکہ درختوں کو کاٹ کرچشمہ پرایک پُل بنادیں اوراس پرلکڑیوں اورپتوںسے ایک چھت بنادیں ،وہ وہاں ارام کرنے لگا اس حالت میں کہ پانی اس کے پاؤں کے نیچے سے گُزررہاتھا ،پانی اس قدر صاف وشفاف تھا کہ اس نے ایک درہم پانی کے اندرپھینکا جوپانی کہ تہہ میں پہنچ گیالیکن اس پر جوتحریر کندہ تھی وہ صاف پڑھی جارہی تھی ۔ پانی اس قدر ٹھنڈاتھاکہ کوئی اس میں ہاتھ نہیں ڈال سکتاتھا۔اسی اثنا میں ایک مچھلی جوخاصی بڑی تھی ، تقریباً ایک ہاتھ کے برابر ہوگی ،وہ ظاہر ہوئی مچھلی بالکل ایک چاندی کے ٹکڑے کی طرح تھی ،مامون نے کہاجوشخص اس کوپکڑکرلائے گامیں اس کوتلوار انعام میںدوں گا ۔ایک خدمت گار نے پیش قدمی کی اوراس کوپکڑلیا ،جس وقت اس مچھلی کووہ مامون کی خدمت میں لایاتومچھلی نے ہلنا شروع کردیا اوروہ خدمت گار کے ہاتھ سے نکل کرباہر گرپڑی اورایک پتھر کے ٹکڑے کی طرح پانی میں گِرگئی ۔اس کے گرنے سے تھوڑاساپانی مامون کے گلے سینے اور شانوں پرپڑا اوراس کالباس خاص بھیگ گیا، خدمت گار دوبارہ پانی میں اُترگیا اوراس نے مچھلی کوپکڑلیا اوراس کوایک رومال میں لپیٹ کرمامون کے سامنے رکھ دیا اس حالت میں کہ وہ مچھلی حرکت کررہی تھی ۔ مامون نے کہاابھی ابھی اسے بھون کرسُرخ کرو، اسی اثنا میں مامو ن اچانک سردی کی وجہ سے کانپنے لگا اورحالت یہ ہوئی کہ وہ دوقدم چل نہیں سکتاتھا ،اُسے کئی لحاف اوڑھائے گئے مگروہ پھر بھی کپکپا تا رہا، وہ چلّا رہاتھا سردی سردی ۔اس کے لیے آگ جلائی گئی پھر بھی اسے افاقہ نہ ہوا۔اسی اثنامیں مچھلی سُرخ کرکے اس کے لیے لیے آئے لیکن وہ اس کوچکھ بھی نہ سکا جب اس کی حالت زیادہ خراب ہوگئی تو بختیشوو اورابن ماسویہ جودونوں شاہی طبیب تھے ،طلب کیے گئے اس وقت مامون نزع کے عالم میں تھا، بختیشوع نے اس کا ایک ہاتھ اورابن ِ ماسوریہ نے دُوسراہاتھ پکڑکر اسکی نبض دیکھی جومکمّل طورپر غیر معتدی تھی اور اس کی موت کی خبردے رہی تھی۔اس حالت میں اُسے ایک خاص قسم کاپسینہ آرہاتھا جوتیل کی طرح چپکنے والاتھا، یہ دونوں طبیب اسکی تشخیص میں منہمک تھے ،ان دونوں نے اقرار کیا کہ انہوں نے ایسی کسِی مرض کی تعلیم حاصل نہیں کی ، بہرحال جوصورت ِ حال ہے وہ اس کی موت کی خبردیتی ہے مامون کی حالت اورزیادہ خراب ہوگئی توکہنے لگامجھے کسی اُونچی جگہ لے چلوجہاں سے میں اپنے لشکر کودیکھ سکوں ، اس وقت شام ہوچکی تھی ۔اے اُونچی جگہ پر لے جایا گیاہے ۔ وہاں سے جب اس نے اپنے لشکریوں کے خیموں اوراس بہت سی آگ کودیکھا جو لشکرنے اپنے پڑاؤ میں روشن کررکھی تھی تاس نے کہا:یامن لایزول ملکہ ارحم من قدزال ملکہ ۔اے وہ خداجس کی حکومت کوکبھی زوال نہیں ہے اس پررحم کرجس کی حکومت روبہ زوال ہے ۔اس کے بعداُسے اُٹھا کرلائے اور بستر پرلٹا دیاگیااورایک شخص کواس کے پاس بٹھایا جواسے شہادتین کی تلقین کرے ،چونکہ مامون کہ سماعت کمزور ہوچی تھی ، اس شخص نے اپنی آواز بلند کی توابن ما سویہ نے کہا فریاد نہ کراور اُونچی آواز نہ نکال ،خداکی قسم وہ اس وقت خدااور مانی کے درمیان فرق نہیں کرسکتا۔ اس وقت مامون نے آنکھیں کھول دیں ۔اس کی آنکھوں کے ڈھیلے اتنے سُرخ ہوچکے تھے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے ۔ وہ چاہتاتھا کہ اپنے ہاتھ سے ابن ماسویہ کی خبرلے لیکن اس پر اُسے قدرت نہ تھی ،بس اسی لمحہ اس کی جان نکل گئی ( 1) ۔
ہوسکتا ہے کہ اس کی بیماری پہلے سے ہویابعض مؤرخین کے بقول جوشخص اُس چشمے کاپانی پیتاتھا بیمار ہوجاتاتھا، وہ مچھلی زہریلے اثرات رکھتی تھی ،جوکچھ بھی تھا اس کی حکومت وقدرت چند لمحوںمیں ختم ہوگئی اور بڑے بڑے جنگ کے میدانوں کاقیر مان وسپہ سالا ر موت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہوگیا۔اس لمحے کس میں قدرت نہ تھی کہ وہ اس کے لیے کوئی قد م اُٹھائے یاکم از کم اسے اس کی اصل منزل یعنی اس کے گھرتک لے جائے ، تاریخ کے دامن میں اس قسم کی بہت سی عبرت انگیز داستانیں ہیں ۔
 1۔مروج الذھب ،مطابق نقل سفینة ،البحار جلد ١ صفحہ ٤٤۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma