نیکو کاروں اور بد کاروں کا انجام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

یہ آ یات اس سُور ہ کی ابتدائی اورآخری آ یات کاایک قسم کاامتزاج ہیں، یہ آیتیں جب انسان موت کے آستانے پر ہوتواس کی حالت کے تغیّر کی تصویر کشی کرتی ہیں کہ کس طرح بعض لوگ انہتائی آرام وسکون اور راحت وخوشی کے ساتھ دُنیا سے رُخصت ہوتے ہیں ۔ اورایک وہ گروہ ہے جو جہنم کی آگ کے دُورسے نظر آنے والے نظار ے کی وجہ سے انتہائی اضطراب ووحشت کے عالم میںجان دیتے ہیں۔پہلے فرماتاہے: جس شخص پر جاں کنی کاعالم طاری ہوتاہے اگروہ مقربین میں سے ہو(فَأَمَّا ِنْ کانَ مِنَ الْمُقَرَّبین) ۔تووہ انتہائی راحت وآرام میں ہے اُسے نعمتوں سے لبریز جنّت میں جگہ مل جائے گی ۔(فَرَوْح وَ رَیْحان وَ جَنَّةُ نَعیم) ۔ روح بروزن قول جیساکہ علمائے لغت نے کہاہے کہ اصل میں تنفس کے معنوں میں ہے اور ریحان خوشبودارگھاس یاکسی خوشبودار چیزکوکہتے ہیں۔ اس کے بعد یہ لفظ ہر اس چیزکے لیے بولا گیاہے جوسبب ِ حیات وراحت ہو۔ جیساکہ ریحان ہرقسم کی نعمت اور فرحت بخش روزی کے لیے بولاجاتاہے ۔اِس بناپر روح وریحان انسان کے آرام کے تمام وسائل اور خدائی نعمت وبرکت پرمحیط ہیں ۔دوسرے لفظوں میں کہاجاسکتاہے کہ رُوح ان تمام امور کی طرف ا شارہ ہے جوانسان کوتکالیف سے رہائی بخشیں تاکہ وہ سُکھ کاسانس لے سکے۔باقی رہا ریحان تووہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جوتکالیف سے رہائی کے بعدانسان کوحاصل ہوتی ہیں،اسلامی مفسّرین نے ان ہردوالفاظ کے لیے متعدد تفسیریں تجویزکی ہیں جوغالباً دس تفسیروں سے زیادہ ہیں ۔ کبھی انہوں نے کہاہے کہ رُوح کے معنی رحمت اورریحان ہرشرافت وفضیلت کوکہتے ہیں ۔اورکبھی کہاہے کہ روح جہنم کی آگ سے نجات کواور ریحان جنّت میں داخلہ کوکہتے ہیں اورکبھی روح سے مراد کشف الکروب (بے آرامیوں کابرطرف ہونا) لیاہے اور ریحان کی تفسیر (غفران الذنوب)کی ہے ۔ کبھی روح کو ( انظرالی وجہ اللہ )اور ریحان کواستماع کلام اللہ شمارکیاہے اوراس قسم کی بہت سی تفسیریں کی گئی ہیں لیکن جیساکہ ہم نے کہاہے یہ سب اس جامع مفہوم کے مصداق ہیں ، جن کاذکرآ یت کی تفسیر میں ہوا ، قابلِ توجہ یہ ہے کہ روح اور ریحان کے ذکر کے بعد جنّت نعیم کی گفتگو درمیان میںلائی گئی ہے ،جوممکن ہے اس طرف اشارہ ہوکہ روح وریحان موت کے وقت اورقبروبر زخ اور بہشت میں مومن کوحاصل ہوں گے ۔جیساکہ ایک حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس آ یت کی تفسیر میں فرمایا:فاماان کان من المقربین فروح وریحان یعنی فی قبرہ وجنّة نعیم یعنی فی الاٰخرة۔
لیکن اگر مقرّبین میں سے ہو تواس کے لیے قبر میں روح وریحان ہے اوراس کے لیے آخرت میں پُر نعمت بہشت ہے (١)(٢) ۔
اس کے بعد پروردگار ِ عالم فرماتاہے : لیکن اگر دوسرے گروہ یعنی اصحاب یمین میں سے ہے ( وہی نیک اورصالح مرد اورعورتیں جن کے نامہ ٔ اعمال کامیابی اورقبولیت کی نشانی کے طورپر ان کے دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے (وَ أَمَّا ِنْ کانَ مِنْ أَصْحابِ الْیَمینِ ) ۔تواس سے کہاجائے گا تجھ کوتیرے ان دوستوں کی طرف سے سلام جو اصحاب ِ یمین میں سے ہیں (فَسَلام لَکَ مِنْ أَصْحابِ الْیَمینِ ) ۔اس طرح رُوح قبض کرنے والے فرشتے انتقام کے وقت اس کے دوستوں کاسلام پہنچائیں گے جیسا کہ اس سورہ واقعہ کی آ یت ٢٦ میں اہل بہشت کی تعریف وتوصیف میں ہم نے پڑھاہے (ِلاَّ قیلاً سَلاماً سَلاما) اس آ یت کی تفسیرمیں ایک اوراحتمال بھی موجود ہے ، اوروہ یہ کہ یہ سلام فرشتوں کی طرف سے ہو جواس سے کہیں گے تجھ پرسلام ہوا ے وہ شخص جواصحاب ِ یمین میں سے ہے ، یعنی تیرے اعزاز وافتخار وتعریف وتوصیف کے لیے یہی کافی ہے کہ توان کی صف میں قرار پایاہے (٣) ۔
دوسری قرآنی آیات میں بھی مومنین کوموت کے موقع پرفرشتوں کاسلام آ یا ہے مثلاً سورہ نحل کی آ یت ٣٢ جس میں پروردگار ِ عالم فرماتاہے: (الَّذینَ تَتَوَفَّاہُمُ الْمَلائِکَةُ طَیِّبینَ یَقُولُونَ سَلام عَلَیْکُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِما کُنْتُمْ تَعْمَلُون) وہ لوگ کہ فرشتے جن کی رُوحوں کوقبض کرتے ہیں ، درآنحالیکہ وہ پاک وپاکیزہ ہیں۔وہ ان سے کہتے ہیں تم پر سلام ہو، جنّت میں داخل ہوجاؤ ان اعمال کی بنیاد پرجنہیں تم انجام دیتے تھے ۔
یہ سلام کی تعبیر بہت پُرمعنی ہے چاہے وہ سلام فرشتوں کی طرف سے ہوچاہے اصحاب یمین کی طرف سے ۔وہ سلام جو روح و ریحان اورہرقسم کی سلامتی وسکون وآرام ہے اورنعمت کی نشانی ہے (٤) ۔
یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اصحاب الیمین (وہ لوگ جن کے نامۂ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے )کی تعبیر اس بناپر ہے کہ عام طورپر انسان اپنے اہم اورماہرانہ کام دائیں ہاتھ سے انجام دیتا ہے لہٰذا دایاں ہاتھ مہارت ،توانائی اورکامیابی کی علامت ہے ۔
ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس آ یت کے ذیل میں فرمایا:
(ھم شیعتنا ومحبونا) اصحاب یمین ہمارے شیعہ اورہمارے دوست ہیں (٥) ۔
اس کے بعد ہم تیسرے گروہ کوعنوانِ کلام بناتے ہیں جنہیں سُورہ کے اوائل میں اصحاب ِ شمال کے نام سے یاد کیاگیاہے ،پروردگار ِ عالم فرماتاہے: لیکن اگروہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہو (وَ أَمَّا ِنْ کانَ مِنَ الْمُکَذِّبینَ الضَّالِّین) تواس کی دوزخ کے کھولتے ہوئے زہر یلے پانی سے ضیافت وپذیرائی ہوگی (فَنُزُل مِنْ حَمیمٍ )(٦) ۔
اوراس کے بعد اس کی قسمت یہ ہے کہ اس کاجہنم میں ورود ہوگا(وتصلیۃ جحیم) جی ہاں موت کی آمد پرخدا کی طرف سے نازل ہونے والے ابتدائی عذاب وہ چکھیں گے اورقبروبرزخ میں قیامت کے عذابوں کے تلخ ذائقہ ،ان کے حصّہ میں آ ئیں گے اورچونکہ گفتگو محتضر کے بارے میں ہے مناسب یہ ہے کہ فنزل حمیم کاجملہ برزخ کے عذاب کے بارے میں ہے اور وَ تَصْلِیَةُ جَحیمٍ قیامت کے عذاب کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ معنی متعدد روایات میں آ ئمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول ہیں( ٧) ۔
قابل ِ توجہ یہ ہے کہ مکذبین اورضالین کاذکرایک جگہ ہواہے جن میںسے پہلے کاتعلق قیامت ،خداوند یکتا اورنبوّت ِ پیغمبر کی تکذیب سے ہے اورآ یت میں اسی طرف اشارہ بھی ہوسکتی ہے کہ گمراہوں کے درمیان ایسے مستضعف وجاہل اورقاصر افراد بھی ہیں جوحق سے عناد نہیں رکھتے ، نہ ہٹ دھرمی کاشکار ہیں تواس بات کاامکان ہے کہ ان کے حال پر اللہ کالُطف وکرم ہو، لیکن ایسے تکذیب کرنے والے جوحق سے عناد رکھتے ہوں اورہٹ دھرم ہوں ،اُن کانصیب وہی ہوگا جواُوپر بیان ہو چکا ہے ۔ حمیم کھولتے ہوئے پانی یاگرم اور زہریلی ہواؤں کے معنی میں ہے اور تصلیہ کامادّہ صلی ( بروزن سعی )ہے اس کے معنی جلنا اور آگ میں داخل ہوناہے ۔ باقی متعدی رہاوہ تصلیہ جومتعدی کے معنی میںرکھتاہے ،وہ صرف جلانے کے معنی میں آتاہے ۔اس گفتگو کے آخر میں مزید فرماتاہے: یہ وہی حق ویقین ہے (ِنَّ ہذا لَہُوَ حَقُّ الْیَقینِ) ۔ اَب جب کہ معاملہ اس طرح ہے تواپنے عظیم پر وردگار کے نام کی تسبیح کراوراُسے منزّ ہ شمار کر (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظیمِ ) مفسّرین کے درمیان یہ مشہور ہے کہ ( حق الیقین ) اضافت ِبیانیہ کے قبیل میں سے ہے ۔یعنی جوکچھ مقربین ،اصحاب ِیمین اورتکذیب کر نے والے تین گروہوں کے بارے میں کہاگیاہے وہ عین واقعیت و حق ویقین ہے ،یہ احتمال بھی ہے کہ چونکہ یقین کے کئی مدارج ہیں اس کاعلیٰ درجہ حق الیقین ہے ۔واقعی یقین جومکمّل ہواورہرقسم کے شک وشبہ سے پاک ہو( ٨) ۔
جو کچھ ہم نے کہاہے اس سے ضمنی طورپر معلوم ہوگیاہے کہ اس آ یت میں لفظ ھٰذاتین گرو ہوں کے حالات کی طرف اشارہ ہے جن کاپہلے ذکر ہوچکاہے ۔بعض نے یہ احتمال تجویز کیاہے کہ سورہ واقعہ کے سارے موضوعات ومضامین کی طرف اشارہ ہے یاسارے قرآن کی طرف اشارہ ہے لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے ۔ یہ نکتہ بھی قابل ِ توجہ ہے کہ فسبّح ( پس تسبیح کر)کی تعبیر فاتفریع کے ساتھ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جوکچھ ان تین گروہوں کے بارے میں کہاگیاہے وہ عین عدالت ہے ، لہٰذا اس بناپر اپنے خدا کوہرقسم کے ظلم اور بے انصافی سے پاک ومنزّہ شمار کریا یہ کہ اگرتوچاہتاہے کہ تیسرے گروہ کی حالت ِ زار سے دوچار نہ ہوتوخدا کوہرقسم کے شرک و ناانصافی سے، جو انکار ِقیامت کالازمہ ہیں، پاک و منزّہ سمجھ ، بہت سے مفسّرین نے آخر ی آ یت کے ذیل میں تحریر کیاہے کہ اس کے نزول کے بعد پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: اجعلوھا فی رکو عکم اس کواپنے رکوع میں قرار دو ۔ ( اور سبحان ربی العظیم کہو)اور جس وقت سبّح اسم ربک الاعلیٰ ناز ل ہوا توفرمایا:اجعلوھافی سجود کم اسے اپنے سجدے میں قرار دو ( سبحان ربی الاعلیٰ کہو)(٩) ۔
اسی سورہ کی آ یت ٧٤ کی تفسیر میں بھی ہم نے اس روایت سے مشابہ روایتیں مفسّرین کی جانب سے نقل کی ہیں ۔
١۔ تفسیرنورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٢٨ ۔حدیث ١٠٣ ،١٠٤۔
٢۔ "" روح "" ہوسکتاہے مبتدائے محذوف کی خبرہو اورتقدیرعبارت یہ ہو ( فجزائہ روح ) اوریا مبتدائے خبر محذوف ہے اور تقدیر عبارت (فلہ روح) ہے اورپُورا جملہ فروح ... امّا کی جزاہے اوراِن شرطیہ اس جز اکے ہوتے ہوئے دوسری جزاسے مستغنی ہے (غووفرمایئے ) ۔
٣۔اس بناپر آ یت میں دو تقدیر یں ہیں ، اس شکل میں ( یقال لہ سلام انک اصحاب الیمین )لیکن پہلی تفسیرکی بناپرصرف ایک ہی تقدیر ہے (یقال لہ ) ۔
٤۔ان سلاموں کے بارے میں جنّتیوں پرنثار ہوں گے جلد ١٨ صفحہ ٤٢٠ سورہ یٰسین کی آ یت ٥٨ کے ذیل میں تفصیلی بحث گزرچکی ہے ۔
٥۔تفسیر برہان ،جلد ٤ ،صفحہ ٢٨٥۔
٦۔نزول مبتدائے محذوف کی خبرہے اورتقدیر عبارت یوں ہے (فجزائہ نزل من حمیم )یامبتداہے محذوف خبرہےکااورتقدیر عبارت یوں ہے(فلہ نزل من حمیم)۔
۷۔نورالثقلین ،جلد۵صفحہ ۲۲۹۔
٨۔اس تفسیر کے مطابق حق کی اضافت یقین کی طرف اختصاص وتھئید کے لیے ہے۔ بعض نے اسے موصوف کی صفت کی طرف اضافت کے قبیل میں سے سمجھاہے اورکہاہے کہ (الیقین الحق )وہ یقین جوحق ہے یہ ان معنوں میں ہے ۔
٩۔تفسیر ابو الفتورازی ، روح المعانی ،روح البیان ،قرطبی ، درالمنثور اور تفسیر مراغی درذیل آ یت زیربحث ۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma