سورہ حدید کے مضامین اور فضیلت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
یہ سُور ہ مدینہ میں نازل ہوا
اِس میں ٢٩ آیتیں ہیں

سورئہ حدید کے مشمولات

یہ سورہ ان سُورتوں میں سے ہے جومدینہ میں نازل ہوئی ہیں ،اس کے مدنی ہونے پر مفسّرین کا اجماع ہے ،مدنی سُورتوں کی خصُوصیات کے طورپر اعتقادی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے علاوہ اس سورہ نے کئی اجتماعی ،حکومتی اورعملی احکام پیش کیے ہیں جن کے نمونے اِنشاء اللہ ہم آیت ١٠، ١١ اور٢٥ میںدیکھیں گے ۔
١۔ اس سُورہ کی ابتدائی آ یات میں توحید اور صفات ِ خدا کے بارے میں نہایت مدلّل اوردلچسپ بحث ہے ،خدا کی تقریباً بیس ایسی صفتیں ان میں مذکور ہیں جن کا ادراک انسان کومعرفت ِ خداکی ایک بلند منزل پرفائز کرتاہے ۔
٢۔ دوسرحصّہ قرآن سے متعلق ہے اوراس نورِ الہٰی کے بارے میں گفتگو کرتاہے جوشِرک کی تاریکیوں میں چمکا۔
٣۔ تیسرا حصّہ قیامت میں مومنین اورمنافقین کی جوکیفیّت ہوگی اس پرمشتمل ہے ۔اس میں بتایاگیاہے کہ پہلا گروہ نورِ ایمان کے سائے میں باغ ِ فردوس کی طرف گامزن ہوجاتاہے اوروہ دوسرا گروہ شِرک کی ظلمتوں میں محصُور رہ جاتاہے ،اس سورہ میں یہ دونوں مباحث ہیں۔اس طرح سُورہ میں اسلام کے تین بُنیاد ی اصولِ توحید، نبوّت اورقیامت ،نہایت خُوبی سے بیان ہوئے ہیں ۔
٤۔ ایک اورحصّہ میں قبولِ ایمان کی دعوت دی گئی ہے اور شِرک سے دستبردار ہونے کی تلقین کی گئی ہے ۔اس حصّہ میں گزشتہ کافر قوموں میں سے ایک قوم کااحوال بھی پیش کیاگیا ہے ۔
٥۔ سُورہ کااہم حصّہ یہ ہے کہ اس میں راہ ِ خدا میں انفاق پرزوردیاگیاہے،جہاد فی سبیل اللہ کی اہمیّت کوواضح کیاگیاہے اورمال ِ دنیا کے بے قدر وقیمت ہونے پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔
٦۔ یہ مختصر ساحصّہ ہے لیکن نہایت مدلّل ہے ۔اس میںعدالت ِ اجتماعی پرگفتگو ہوئی ہے جوانبیاء کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے ۔
٧۔ آخری حصّہ میں رہبا نیت اوراجتماعی طورپر گوشہ نشینی اختیار کرنے کے مسئلہ پربحث کے ساتھ اس کی مذمّت کی گئی ہے اوراسلامی نقطۂ نظر کا اس سے اختلاف واضح کیاگیاہے ۔
اِن مباحث کے درمیان کچھ اور نکات بھی بڑے مناسبت کے ساتھ زیربحث آ ئے ہیں اورآخرمیں ایک خواب ِ غفلت سے بیدار کرنے والا اورہدایت بہم پہنچا نے والا مجموعہ احکام تشکیل پاتاہے ۔
اس سورہ کانام جوحدید رکھاگیاہے وہ اس تعبیر کی بناپر ہے جوآیہ ٢٥ میں آئی ہے ۔

سُورئہ حدید کی تلاوت کی فضیلت

روایات ِ اسلامی میں اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلہ میں قابلِ ذکرباتیں سامنے آ ئی ہیں ،تلاوت محض تلاوت نہیں بلکہ ایسی تلاوت جس میں غور وفکراورتدبّر وتفکر کاعنصر شامل ہو اورجوتحریک عمل کو اپنے ہمزاہ لیے ہوئے ہو ، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث میں منقول ہے کہ ( من قرأ سورة الحدید کتب من الذین اٰمنو اباللہ ورسولہ ) جوسورہ حدید پڑھے گاوہ ان لوگوں کے زمرہ میں شمار ہوگا جوخدااوراس کے پیغمبر پرایمان رکھتے ہیں ( ١) ۔
ایک اورحدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سونے سے پہلے مسبّحا ت وہ سُورتیں جو سبّح اللہ یا یسبح للہ سے شروع ہوتی ہیں اوروہ پانچ سُورتیں ہیں ۔سورئہ حدید ، حشر، صف، جمعہ اور تغابن ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فر مایاکرتے تھے ( انّ فیھن اٰیة افضل من الف اٰیة )ان میں ایک ایسی آ یت ہے جوہزار آیتوں سے افضل وبرتر ہے ( ٢) ۔
البتہ آپ نے اس آ یت کومعیّن نہیں فرمایالیکن بعض مفسّرین نے یہ خیال ظاہر کیاہے کہ اس سے مراد سُورہ حشرکی آ خری آ یت سے اگرچہ اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی واضح دلیل پیش نہیں کی ( ٣) ۔
ایک اورحدیث میں امام محمدباقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ : من قرأ المسبحات کلھا قبل ان ینام لم یمت حتّٰی یدرک القائم وان مات کان فی جوار رسو ل اللہ ۔
جوشخص مسبّحا ت کی تلاوت کرے تووہ اس وقت تک دُنیا سے نہیں اُٹھے گا جب تک حضرت مہدی علیہ السلام کاظہور نہ ہوجائے اوراگراس سے پہلے وہ دُنیا سے اُٹھ گیا تودوسرے جہان میں رسُول ِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہمسایہ ہوگا ۔
١۔ "" مجمع البیان "" آغازسورہ حدید۔
٢۔ مجمع البیان آغاز سورہ حدید ودرالمنثور ،جلد ٦ ،صفحہ ١٧٠۔
٣۔ مجمع البیان آغاز سورہ حدید ۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma