خدا کی صفات میں اضداد کاجمع ہونا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
بہت سی صفات ایسی ہیں جوانسانوں میں اوردوسرے موجودات میں سے کسی ایک وجود میں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں ۔وہ صفات ایک دوسرے سے تضاد رکھتی ہیں ۔مثال کے طورپر آگرمیں ایک گروہ میں اوّلین شخص ہوں تو یقینامیں اخر ی شخص نہیں ہوسکتا۔اگرظاہرہوں توپوشیدہ نہیں ہوسکتا اوراگر پوشیدہ ہوں تو ظا ہرنہیں ہوں گا ۔ یہ سب کچھ اس بناپر ہے کہ ہمارا وجود محدُود ہے اورہر محدود وجود اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا ۔ لیکن جب گفتگو صفات ِ خداتک پہنچتی ہے توپھر اوصاف اپنی شکل بدل لیتے ہیں ۔وہاں ظاہر و باطن آپس میں جمع ہوجاتے ہیں ۔اسی طرح آغاز وانجام کاایک جگہ جمع ہونااس کی ذات کے لامتناہی ہونے کی بناپر کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے ۔وہ احادیث جوخُودپیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی ہیں ان میں اس عنوان پربہت ہی پُر کشش وضاحتیں موجود ہیں اورمذ کورہ موضوعات کی تفسیریںبہت حد تک معاون ہیں ، منجملہ دیگر حدیثوں کے ان میں ایک حدیث ہے جوصحیح مسلم میں درض ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:
(اللّٰھم انت الاول فلیس قبلک شی ء وانت الاٰخرفلیس بعدک شی ء وانت الظاھر فلیس فوقک شی ء وانت الباطن فلیس دونک شی )
خداوندا توایسا اوّل ہے جس سے پہلے کوئی چیز نہیں اورایساآخر ہے جس کے بعد کوئی چیز نہیں ۔ اسی طرح تووہ ظاہر ہے اورغائب ہے کہ تجھ سے برتر کوئی وجود نہیں ۔اسی طرح توباطن وپنہاں ہے کہ تجھ سے ماوراء کسی چیز کاتصوّر نہیں ہوسکتا( 1) ۔
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
لیس لاوّ ولیتہ ابتداء ولا لاز لیتہ انقضاء ھو الا وّل لم یزل والباق بلا اجل ... الظاھرلا یقال مم؟والباطن لایقال فیم؟
اس کے والیت کی ابتدانہیں ہے اوراس کی ازلیت کی کوئی انتہانہیں ہے وہ ایسا پہلاہے جوہمیشہ سے تھااور ایساباقی ہے جس کے ختتام کی کوئی مدّت معیّن نہیں ہے ۔ایساظاہر وآشکار ہے جس کے متعلق کہاجاسکتاہے کہ وہ کِس چیزسے ظاہر ہوا اور ایسانہیں ہے کہ نہیں کہاجاسکتا کس چیز میں پوشیدہ ہے ( 2) ۔
اما م حسن مجتبےٰ علیہ السلام بھی ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں :
(الحمد اللہ الذی لم یکن فیہ اول معلوم ولا اٰخرمتناہ ...فلا تدرک العقول واو ھامھا ولا الفکر وخطراتھا ولا الالباب واذھانھاصفتہ فتقول متیٰ؟ولابدع مما؟ولاظاھرعلی ما؟ولاباطن فیما؟) ۔
حمد ہے اس خدا کے لیے جس کی ابتدا معلوم نہیں اور نہ اس کی انتہامحدُود ہے عقل وفہم اورفکر وخرد کبھی اس کی صفات کاادراک نہیں کرسکتے ۔ کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ کس وقت سے ہے اور کِس سے اس کی ابتداہوئی اور کِس چیز پرظاہر ہوااور کِس میں پنہاں ہے ( 3) ۔
بہ عقل نازی حکیم تاکے بہ عقل این رہ نمی شود طے
بہ کنہ ذاتش خرد برد پے اگررسد خس بہ قعر دریا
اے حکیم ودانا فلسفی تواپنی عقل پرکب تک ناز کرے گا تو عقل کے ذ ریعے اس راہ کوطے نہیں کرسکتا ۔اس کی کنہ ذات تک عقل جب پہنچ سکتی ہے جب خس وخاشاک سمندر کی حقیقت کوسمجھ لیں بلکہ کہاجاسکتاہے کہ :
خرد بہ ذاتش نمی بردپے وگر رسد خس بہ قعر دریا
خس وخاشاک سمندر کی حقیقت کوسمجھ میںلیں تب بھی عقل اس کی کہنہ ذات تک نہیں پہنچ سکتی ۔
1۔تفسیر قرطبی ،جلد ٩ ،صفحہ ٦٤٠٦۔
2۔ نہج البلاغہ خطبہ ١٦٣۔
3۔تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٣٦۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma