ایمان و انفاق نجات وخوش بختی کے لیے ہے دوعظیم سرمائے ہیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

عالم ِ ہستی میں خدا کی عظمت کے کچھ دلائل ، اوراس کے ایسے اوصافِ جلال وجمال جورجوع الی اللہ کاسبب بنتے ہیں ،ان کے بیان کے بعد، ان آیات میں، نتیجہ اخذ کرتے ہوئے سب کوایمان وعمل کی دعوت دیتاہے ۔ پہلے فرماتاہے :خدا اوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )پرایمان لے آؤ (آمِنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ ) ۔ یہ دعوت ِ فکرایک عام دعوت ِفکرہے جس میں تمام انسان شامل ہیں۔ مومنین کوزیادہ کامل الایمان اورراسخ الایمان ہونے کی طرف اورغیر مومنین کواصل ایمان کی طرف متوجہ کرتی ہے ۔یہ ایسی دعوت ِ فکر ہے جومدلّل ہے اوراس کے ثبوت ِتوحید کے بیان پرمشتمل گزشتہ آ یات میں گزرچکے ہیں ۔اس کے بعدایمان کے ایک اہم اثریعنی انفاق فی سبیل اللہ کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے فرمایاہے: جس میں خدا نے تمہیں دوسروں کاجانشین قرار دیاہے اس میں انفا ق کرو (وَ أَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُسْتَخْلَفینَ فیہِ) ۔ یہ دعوت ِفکر قربانی وفداکار ی کاتقاضا کرتی ہے اوران نعمتوں کے مارے میں جوانسان کے اختیار میں ہیں ایک ایسے رویّہ کوانگیخت دیتی ہے جوسخاوت پرمبنی ہواوراس دعوت ِفکر کواس نکتہ پرمرکوز کرتاہے کہ یہ نہ بھولو کہ اصل میں ہرشے کامالک خداہے اور یہ دولت اور یہ سر مایہ جوتمہیں عطاکیاگیاہے ،یہ امانت کے طورپر ہے اور چند روز ہ کیونکہ یہ اس سے پہلے دوسر ی قوموں کے اختیار میں تھا ،حقیقت ِ واقعہ یہی ہے ۔
گزشتہ آیتوں میں ہم نے پڑھاہے کہ سارے جہان کامالک حقیقی خدا ہے ۔اس حقیقت پرایمان رکھنااس امر کو ظاہرکرتاہے کہ ہم اس کے امانت دار ہیں ،کِس طرح ممکن ہے کہ ایک امانت دار امانت رکھوانے والے کے حکم کی پرواہ نہ کرے ۔اِس حقیقت کاشعور انسان کوسخاوت وایثار کی رُوح عطاکرتاہے اوراس کے دل اورہاتھ کوانفاق فی سبیل اللہ کے عزم سے نوازتاہے مستخلفین ( جانشین ) کی تعبیر ہوسکتاہے اس طرف اشارہ ہو کہ انسان زمین پر اس کی نعمتوں کے تصرف کے سلسلہ میں خداکی نمائندگی کرتاہے ، یااس سے گزشتہ اقوام کی جانشینی مُراد ہو یادونوں مراد ہوں ۔اور مما (ان چیزوں میں سے جو)کی تعبیر ایک عام تعبیر ہے اورمحض مال ودولت ہی نہیں بلک اس میں خداکی عطاکی ہوئی تمام نعمتیںشامل ہیں، جیساکہ پہلے بھی ہم نے کہاہے کہ انفاق کاایک وسیع مفہوم ہے جوصرف مال ودولت تک محدُود نہیں ہے اس میں عالم اور ہدایت بھی شامل ہے اوروہ عزّت بھی جوکسی کومعاشرہ میں حاصل ہو۔ اس کے علاوہ دیگر مادّی ومعنوی سرمائے بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔اس کے بعد مزید تشویق کے لیے فر ماتاہے: وہ لوگ جوتم میں سے ایمان لے آئیں اورانفاق کریں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے ( فَالَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ أَنْفَقُوا لَہُمْ أَجْر کَبیر) ۔
اجر کے ساتھ جولفظ کبیراستعمال ہواہے وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی عظمت اوران کی بے عیب ابدیت کی طرف اشارہ ہے ۔ نہ صرف آخرت میں بلکہ اس دُنیا میں بھی اجرِ کبیر کاایک حصّہ انہیں ملے گا،ایمان وانفاق کے حکم کے بعدان دونوں میں سے ہرایک کے بارے میں ایک تشریح پیش کرتاہے جواستد لال کی حیثیّت رکھتی ہے ۔سب سے پہلے ایک ایسے استفہام کے انداز میں جوتنبیہ کاپہلو لیے ہوئے ہے ایمان باللہ کے عنوان پرپیغمبرکی طرف سے دی ہوئی دعوت ِ اسلام کوقبول نہ کرنے کاسبب تلاش کرتے ہوئے فر ماتاہے : کیاسبب ہواکہ تم خداپرایمان نہیں لائے حالانکہ اس کارسول تمہیں تمہارے پروردگار پرایمان لانے کی دعوت دیتاہے اورجب کہ اس نے تم سے عہد لیاہے اگرتم ایمان کے لیے آمادہ ہو (وَ ما لَکُمْ لا تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ الرَّسُولُ یَدْعُوکُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّکُمْ وَ قَدْ أَخَذَ میثاقَکُمْ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنین)یعنی واقعی اگرتم قبول ِ حق کے لیے آ مادہ ہوتے تو اس کے دلائل ،فطرت وعقل کے تقاضوں کے مطابق بھی اور دلیل نقلی کے اعتبار سے بھی بالکل واضح اورروشن ہیں، ایک توخداکاپیغمبرواضح دلیلیں اورروشن آیات اورکُھلے معجزے لے کرتمہارے پاس آ یاہے ۔دوسرے خُدانے عالم ِ ہستی میں اورخُود تمہارے وجود کے اندر اپنے آثار دکھاکرایک قسم کاعہد تکوینی تم سے لے لیاہے کہ خدا پرایمان لے آؤ ۔لیکن تم نہ اپنی فطرت وعقل کی پرواہ کرتے ہواور نہ وحی الہٰی کی طرف تمہاری وجہ ہوتی ہے ۔تم ایمان لانے کے لیے بالکل آمادہ نہیں ہو۔ اورتمہاری فکرپرجہالت وتعصّب غالب ہے اورتم اندھی تقلید کاشکارہو۔ جوکچھ ہم نے کہا اس سے واضح ہواکہ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنین کے جملہ سے یہ مُراد ہے کہ اگرتم کسی چیز پرایمان لانے اور کسِی دلیل کوقبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتویہ ایساہی موقع ہے ۔کیونکہ اُس کے دلائل ہرلحاظ سے واضح ہیں، قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ وہ خُود پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کودیکھتے تھے اورآپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی دعوت ِ اسلام کوبغیر کسی واسطے اوروسیلہ کے سنتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے معجزات کامشاہدہ کرتے تھے ،اَب کونسا عُذرتھاجوایمان لانے میں مانع ہو۔اس سلسلہ میںہمیں ایک حدیث ملتی ہے کہ ایک روز رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
(ای المؤ منین اعجب الیکم ایماناً قالوا:الملائکة ! قال ومالھم لا یؤ منون وھم عند ربھم ؟قالو : فالا نبیاء ! قا ل فمالھم لا یؤ منون والوحی ینزل علیھم؟قالوا!فنحن قال :ومالکملاتؤ منون وانابین اظھرکم ! ولکن اعجب المؤ منین ،ایماناقوم یجیؤن بعد کم یجدون صحفاً یؤ منون بما فیھا) ۔
مومنین میں سے کسی کا ایمان لانا تمہارے نزدیک تعجب انگیز ہے ۔انہوں نے کہا فرشتےفرمایا کونسی تعجب کی بات ہے کہ وہ ایمان لے آئیں وہ توجوارِ خدامیں ہیں۔ انہوں نے عرض کیا انبیاء فرمایا: اس صورت میں کہ وحی ان پرنازل ہوتی ہے وہ کِس طرح ایمان نہ لائیں۔انہوں نے عرض کیااس سے خُود ہم مُراد ہیں فرمایا:کونسی تعجب کی بات ہے کہ تم ایمان لے آئے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔( یہ وہ مقام تھاکہ جہاں سب خاموش ہوگئے )پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: سب سے زیادہ تعجب اس قوم پر ہے جوتمہارے بعد آ ئے گی وہ صرف اوراق اپنے سامنے دیکھے گی اورجوکچھ ان میں تحریر ہے اس پرایمان لے آ ئے گی (١) ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ لوگ جورحلت ِ پیغمبرکے سالہاسال بعددنیامیں آئیں گے اورصِرف کتابوں میں پیغمبر کے آثار دیکھیں گے اورآپ کے دین کی حقانیت کی تہہ تک پہنچ جائیںگے، و ہ دوسروں کے مقابلہ میں امتیاز ِخاص کے مالک ہیں۔ میثاق ( وہ عہد جس میں تاکید کاعنصر شامل ہو) کی تعبیر ہوسکتاہے کہ فطرت توحیدی کی طرف اشارہ ہویااُن دلائل عقلی کی طرف جومشاہدہ فطرت سے انسان پرآشکار ہوتے ہیں اور بربکم (تمہارا پروردگار )کی تعبیر مذکور ہ حقیقت پرشاہد ہے ۔بعض مفسرین میثاق کویہاں عالم ِ ذر کے عہدوپیمان کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں لیکن یہ معنی بعید از فہم نظرآتے ہیں سوائے اس تفسیر کے جوعالمِ ذر کے لیے ہم نے پہلے بیان کی ( ٢) ۔
بعد والی آ یت اِنہی معانی کی توضیح کے سلسلے میں کہتی ہے : وہی ہے جس نے واضح آ یات اپنے بندہ پرنازل کی تاکہ وہ تمہیںشِرک وجہالت اورنادانی کی تاریکیوں سے نکال کرایمان ، توحیداورعلم کی روشنی کی طرف لے آئے اورخدا تم پررؤف ومہربان ہے (ہُوَ الَّذی یُنَزِّلُ عَلی عَبْدِہِ آیاتٍ بَیِّناتٍ لِیُخْرِجَکُمْ مِنَ الظُّلُماتِ ِلَی النُّورِ وَ ِنَّ اللَّہَ بِکُمْ لَرَؤُف رَحیم ) ۔ایک گروہ نے یہاں آ یات ِ بیّنات کامفہوم معجزات بتایاہے اوردوسرے گروہ نے قرآن جوظلمت وکفر اورضلالت ونادانی کے پردے چاک کرتاہے اورجس کی وجہ سے اِنسان کے باطن میں آفتاب ِ ایمان وآگہی طلوع ہوتاہے ۔رَؤُف رَحیم کے الفاظ اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہیں کہ خداکی طرف سے یہ دعوت ِ ایمان وانفاق ،جوتم سب کے سامنے پیش کی گئی ہے ،رحمت ِ الہٰیہ کے مظاہر میں سے ایک مظہرہے ، اس دعوت ِ ایمان کی تمام برکتیں اس دنیا میںبھی اوراُس دنیامیں بھی تمہیں کوحاصل ہوں گی ۔
اِس بات کے بارے میں رئوف اوررحیم کے درمیان کوئی فرق ہے یانہیں،اوراگرہے توکِس قسم کافرق ہے ،مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے ۔مناسب ترین رُخ کلام یہی ہے کہ رؤف جومحبت کاپہلو ہے اس سے خدا کی وہ محبت مراد ہے جواُسے اپنے اطاعت گزاروں سے ہے اوررحیم میں جورحمت کاپہلو ہے اس سے مراد وہ رحمت ہے جو نافرمان افراد کے شاملِ حال ہے ۔ بعض مفسّرین نے یہ بھی کہاہے کہ رافت کالفظ اس کے ظہور سے پہلے بھی بولاجاتاہے لیکن رحمت اسی وقت بولاجاتاہے جب وہ ظہور میں آچکی ہو۔اس کے بعد انفاق کے مسئلہ کوپیش کرتے ہوئے فرماتاہے: تم راہ ِ خدامیں انفاق کیوں نہ کرو حالانکہ زمین اورآسمانوں کی میراث اسی کے لیے ہے (وَ ما لَکُمْ أَلاَّ تُنْفِقُوا فی سَبیلِ اللَّہِ وَ لِلَّہِ میراثُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ) ۔ یعنی آخر کار تم اس جہان اوراس کی نعمتوں سے محروم ہوجاؤ گے اور سب کچھ چھوڑ کرچلے جاؤ گے ۔لہٰذااَب جب کہ تمہارے اختیار میں ہے ، تواپناحصّہ کیوں نہیں حاصل کرتے ۔ میراث اصل میں جیساکہ راغب مفردات میں کہتاہے ،اس مال کے معنی میں ہے جوبغیر کسِی معاہدہ کے انسان کے ہاتھ لگتاہے اورجوکچھ میّت کی طرف سے پس ماندگان کوملتاہے وہ اس کاایک مصداق ہے ۔ کثرت ِ استعمال کی وجہ سے اس لفظ کے بیان کے وقت یہی معنی سُننے والے کے ذہن میں اتے ہیں:(لِلَّہِ میراثُ السَّماواتِ وَ الْأَرْض)کی تعبیر اس لحاظ سے ہے کہ نہ صرف اموال اور رُوئے زمین کی دیگر ثروتیں بلکہ جوکچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے ،اسی کی ذات ِ پاک کی طرف لوٹتاہے ،تمام مخلوق فناہوجائے گی اورخداان سب کاوارث ہوگا۔ چونکہ انفاق فی سبیل اللہ مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف قدروقیمت کاحامل ہوتاہے اس لیے بعدوالے جملے میں مزید فرماتاہے:جنہوں نے فتح کے بعد انفاق کیاہے وہ ان کے برابر نہیں ہیں، جنہوں نے فتح سے پہلے انفاق کیاتھااور جنگ کی ہے ( لا یَسْتَوی مِنْکُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قاتَلَ)(٣) ۔
اِس فتح سے مراد کون سی فتح ہے اس کے بارے میں مفسّرین میں اختلاف ہے بعض اس سے فتح مکّہ مراد لیتے ہیں جوہجرت کے آٹھویں سال واقع ہوئی اور بعض اس سے فتح حدیبیہ مراد لیتے ہیں جو چھٹے سال ہجری میں ہوئی ۔البتہ اس بات کے پیشِ نظر کہ لفظ فتح سورہ ( انّافتحنا لک فتحاً مبینا)کی تفسیر فتح حدیبیہ سے کی گئی ہے لہٰذا مناسب یہ ہے کہ یہاں بھی فتح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہو۔ لیکن قاتل جنگ کرنے کی تعبیر فتح مکّہ سے مناسبت رکھتی ہے کیونکہ حدیبیہ میں توجنگ ہوئی ہی نہیں ہاں البتہ فتح مکّہ کے سلسلہ میں مختصر سی تیزجنگ ہوئی تھی جوطول نہ پکڑسکی ، یہ احتمال بھی ہے کہ اس آ یت میں الفتح سے مراد خود جنس فتح اوراِسلامی جنگوں میں سے ہرجنگ میں مسلمانوں کی فتح مراد ہو ۔ یعنی وہ لوگ جوبحران کے مواقع پرجان ومال کے خرچ کرنے سے گریز کرتے تھے ، ان افراد سے جو طوفانوں اورآندھیوں کے رُکنے کے بعدآگے بڑھے ہیں، افضل وبرتر ہیں ۔اسی لیے تاکید مزید کے لیے فرماتاہے: اس گروہ کا مقام برترہے ان لوگوں سے جنہوں نے فتح کے بعد انفاق وجہاد کیاہے۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ مفسّرین کی ایک جماعت جوآ یت کوفتح مکّہ یافتح حدیبیہ سے منسُوب کرتی ہے اس نے آ یت میں انفاق کرنے والے کامصداق حضرت ابوبکر صدیق کوسمجھا ہے حالانکہ اس میں شک نہیں کہ زمانہ ٔ ہجرت سے لے کراس وقت تک ، جوچھ یاآٹھ سال کاطویل عرصہ ہے، اس میں بہت سی جنگیں ہوئیں اورہزاروں افرادنے راہِ خدامیں انفاق بھی کیا اورجہاد بھی کیا کیونکہ فتح مکّہ میں تاریخ کے مطابق دس ہزارافراد نے شرک کی اوریقینااِس گروہ میں سے کافی افراد نے جنگ سے متعلق اخراجات کے لیے مالی امداد بھی کی ہوگی اورانفاق فی سبیل اللہ بھی کیاہوگا اور یہ طے شدہ ہے کہ قبل کی تعبیر کے معنی اس فتح کے موقع سے متعلق ہیں نہ کہ آغازِاسلام جواکیس سال پہلے کی بات ہے ۔
اس نکتہ کابیان کرنابھی ضروری ہے کہ بعض مفسّرین اس پر اصرار کرتے ہیں کہ انفاق جہاد سے افضل ہے تاکہ ان کے پہلے کیے ہوئے فیضان کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اور شاید اُوپر والی آ یت میں جہاد سے پہلے انفاق کے ذکر کواسی مفہوم کاگواہ سمجھتے ہوں۔حالانکہ واضح ہے کہ انفاق مالی کومقدم اس بناپر ہے کہ جنگ کے وسائل ، اس کے متعلقات ،ساز وسامان اورآلاتِ حرب وغیرہ اس انفاق کے ذ ریعے ہی فراہم ہوتے ہیں ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جان دینااورشہادت کے لیے آمادہ ہونا انفاقِ مال سے کہیں بہتر وبرترہے ۔بہرحال چونکہ دونوںگروہ درجات کے فرق کے ساتھ عنایت ِ پروردگار کے مستحق ہیں اس لیے آ یت کے آخر میں فرماتاہے: خدانے دونوں گروہوں سے اچھا وعدہ کیاہے ( وَ کُلاًّ وَعَدَ اللَّہُ الْحُسْنی )یہ ان تمام لوگوں کی ایک طرح کی قدردانی ہے جنہوں نے اس راہ میں قدم اُٹھایاہےحسنیٰ کایہاں ایک وسیع مفہوم ہے جس سے مراد دُنیا وآخرت کی بھلائیاں ہیں ۔چونکہ عمل کی قدر وقیمت خلوص پرمبنی ہوتی ہے لہٰذا آ یت کے آخر میںفرماتاہے: خدااُس سے جسے تم انجام دیتے ہو آگاہ ہے (وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیر) ۔خدا تمہارے اعمال کی کمیت وکیفیّت سے باخبرہے اورتمہاری نیّتوں اورمعیار خلوص سے بھی آگاہ ہے ۔آخری زیربحث آ یت میں انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں شوق دلانے کے لیے پھرایک جاذب ِنظر اورعُمدہ تعبیر کے ذ ریعے فرماتاہے:کون ہے جوخدا کواچھاقرض دے اوران اموال میں سے جواس نے اُسے بخشے ہیں انفاق کرے تاکہ خدا اس کے لیے اس میں بہت سااضافہ کردے اوربہت سااَجر قرار دے(مَنْ ذَا الَّذی یُقْرِضُ اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً فَیُضاعِفَہُ لَہُ وَ لَہُ أَجْر کَریم) ۔حقیقتاًیہ تعبیر عجیب ہے کہ وہ خدا جوتمام نعمتوں کابخشنے والاہے اورہمارے وجود کے تمام اجزا جس کے فیض بے پایاں کے سمندرسے بہرہ مند ہوتے ہیں ،اوروُہ ان سب لامالک ہے ، وہ خود ہمیں صاحب ِمال شمار کرکے ہم سے قرض کاخواہاںہے اورپھر ،عام قرضوں کے خلاف جن میں اتنا ہی مال واپس کیاجاتاہے جنتا قرض دیاجائے ،بہت زیادہ اضافہ کردے گا کبھی سینکڑوں کی تعداد میں کبھی ہزاروں کی تعداد میں ۔اجرِ عظیم کاوعدہ اس کے علاوہ کیاہے جوایک عظیم صلہ ہے جسے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
١۔صحیح بخاری مطابق نقل "" مراغی "" ""تفسیرفی ظلال القرآن "" زیربحث آ یت کے ذیل میں ۔
٢۔تفسیرنمونہ ،جلد ٤ ،صفحہ درذیل آ یت ١٧٢ ازسورہ صفحہ ٣٣١ سے رجوع فرمائیں۔
٣۔اس آ یت میں کچھ محذوف ہے جس کامذ کور سے استفادہ ہوتاہے اورتقدیرعبارت اس طرح ہے ( لا یَسْتَوی مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قاتَلَ والّذین انفقوابعد الفتح وقاتلوا) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma