قیامت میں مُجرموں کابے مقصد مددکرنا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
چونکہ بہت سے لوگ عرصہ محشر میں آنے کے وقت اسی نظام سے جووہاں روئج ہے ،ناآشنا ہیں لہٰذا وہ یہ سمجھتے ہوئے ہیں کہ وہاں بھی دنیا وی نظام رائج ہیں ۔لہٰذا اُن سے فائدہ اُٹھا ئیں گے ۔لیکن وہ بہت جلد جائیں گے کہ وہ ایک عظیم غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں ، کبھی مُجرم مومنین سے مددطلب کریں گے اورکہیں گے ۔(انظر ونا نقتبس من نورکم )ہم پرایک نگاہ ڈالوتاکہ ہم تمہارے ایمان اور عمل ِ صالح کی روشنی سے کچھ نورحاصل کریں۔( آ یات زیربحث)لیکن انہیں بہت جلد انکار سے دوچار ہوناپڑے گااوروہ سُنیں گے کہ منبع، نوریہاں نہیں ہے بلکہ وہاں دنیامیں تھاجہاں سے تم بے خبری کی حالت میں گزرآ ئے ہو۔ کبھی مجرم ایک دوسرے سے مدد طلب کریں گے ۔(پیروکار اپنے رہبروں سے)اورکہیں گے :( فَہَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذابِ اللَّہِ مِنْ شَیْء ) کیاتم ہمارے بدلے عذابِ الہٰی کاایک حصّہ قبول کرتے ہو؟(ابراہیم ۔ ٢١) ۔
انہیں یہاں بھی انکار سے دوچار ہوناپڑے گا حتّی کہ وہ خاز نین ِ جہنّم سے ملتجی ہو کر کہیں گے (ادْعُوا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْماً مِنَ الْعَذاب)اپنے پروردگار سے استد عاکرو کہ ایک دن کے لیے ہم پر سے عذاب ہٹالے (مومن ۔ ٤٩) کبھی اس سے بھی آگے بڑھ کرخدا سے مدد طلب کریں گے اورعرض کریں گے :(رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْہا فَhنْ عُدْنا فَانَّا ظالِمُون) پروردگار ہمیں اس جلانے والی آگ سے باہر لے ، آ اگرہم دوبارہ لوٹ آئے توہم ظالم ہیں (مومنون ۔١٠٧) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma