چند اهم نکات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

١۔قرآن مجید میں عظیم پیغمبروں اوران جیسے افراد کی ایک جماعت کی تعریف صدق کے عنوان کے تحت کی گئی ہے ،منجملہ دیگر افراد کے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ( انہ کان صدیقاً نبیّاً )(سورہ مریم آ یت ۔٤١)خداکے عظیم پیغمبر حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں( مریم ۔ ٥٦)حضرت مریم علیہا السلام مادرِ جنابِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میںبھی ہم پڑھتے ہیں :( وامہ صدیقة )(مائدہ۔ ٧٥) ۔
قرآن کی بعض آ یتوں میں صدیقین کاذکر پیغمبروں کے ہمراہ ہواہے جیساکہ سُورئہ نساء کی آ یت ٦٩ میں ہم دیکھتے ہیں :(وَ مَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَ الرَّسُولَ فَأُولئِکَ مَعَ الَّذینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَ الصِّدِّیقینَ وَ الشُّہَداء ِ وَ الصَّالِحینَ وَ حَسُنَ أُولئِکَ رَفیقا)جوشخص خداو پیغمبر کی اطاعت کرے وہ (قیامت میں )ایسے لوگوں کاہم نشین ہوگاجن پرخدانے اپنی نعمت کوتمام کیا ہے ،پیغمبروں ، صدیقین ، شہداء اورصالحین میں سے اوروہ اچھے رفقاء ہیں ،جیساکہ ہم نے کہاہے کہ یہ لفظ مبالغہ کاصیغہ ہے اس کامادّہ صدق ہے اوریہ اس شخص کے لیے بولاجاتاہے جس کے وجودکا صدق وراستی نے احاطہ کرلیاہو اور صداقت اس کی پُوری زندگی پرحاوی ہو ۔ یہ چیزمقام ِصدق کی اہمیّت کوبتاتی ہے ۔ باقی رہے شہداء توجیساکہ ہم نے کہا ہے کبھی تواعمال کے گواہ کے معنوں میں اورکبھی شہیدانِ راہِ خُدا کے معنوں میں اورزیربحث آ یت میں ان دونوں معانی کااجتماع بھی ممکن ہے ۔البتہ شہیداسلامی فرہنگ اورتمدّن کے اعتبار سے صرف انہی افراد میں محدُود نہیں ہے جومیدانِ جہاد میںقتل ہوجائیں اگرچہ وہ اس کے واضح ترین مصداق ہیں ۔حتی کہ وہ تمام افراد جو عقیدۂ حق رکھتے ہیں ،راہ ِ حق میں قدم اُٹھاتے ہیں اوراسی راہ میںدنیاسے چلے جاتے ہیں ،روایات ِ اسلامی کے مطابق سب زمرہ شہداء میں آ تے ہیں ۔
ایک حدیث میں امام محمدباقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ :
) العارف منکم ھٰذاالا مرالمنتظرلہالمحتسب فیہ الخیر کمن جاھدواللہ مع قائم اٰل محمد ۖ بسیفہ ثم قال بل واللہ کمن جاھد مع رسول اللہ بسیفة ،ثم قال الثالثة : بل واللہ کمن استشھد مع رسول اللہ قول اللہ عزّوجل والّذین اٰمنو اباللہ ورسلہ اولٰئک ھم الصدیقون والشھداء عندربّھم ... ثم قال صرتم واللہ صادقین شھداء عندربّکم )
جوشخص تم میں سے مسئلہ دلایت سے آشنا ہواورظہور ِ مہدی علیہ السلام کے انتظار میں زندگی گزارے اور اپنے آپ کوان کی عادل حکومت کے لیے آمادہ رکھے اس شخص کی مانند ہے جومہدی آل ِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں اپنے ہتھیار وں سے جنگ کرے ۔اس کے بعد آپ نے فرمایابلکہ ، خداکی قسم ، اس شخص کے مانند ہے جس نے رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی معیّت میں اپنے ہتھیاروں سے جہادکیاپھر آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا بلکہ خدا کی قسم اس شخص کے مانند ہے جورسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ساتھ رہ کرآپ کے خیمے میں شہید ہواہو ۔پھر فرمایا تمہارے بارے میں قرآن میں آ یت نازل ہوئی ہے راوی نے کہا:آپ پر قُربان جاؤں ،کون سی آیت ؟ فرمایا:خُدا کایہ کلام جس میں فرماتاہے وہ جوخدا اوراس کے بھیجے ہوئے افراد پرایمان لائے ہیں؟وہ اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین اورشہداء ہیں ، پھر آپ نے فرمایا:تواس طرح سے تم خدا کی قسم اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین بھی ہواور شہداء بھی (۱) ۔
اِس گفتگو کوہم حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی ایک گفتگو پر ختم کرتے ہیں جس وقت آپ علیہ السلام کے اصحاب کاایک گروہ جہاد کے وقت کے انتظار میں اور راہِ خدا میں شہادت پانے کے شوق میں بے تاب تھا توآپ علیہ السلام نے یہ جُملہ فرمایا:
(ولا تستعجلوا بمالم یعجلہ اللہ لکم فانہ من مات منکم علی فراشہ وھوعلی معرفة حق ربّہ وحق ورسولہ واھل بیتہ مات شھیداً) ۔
اس چیز میں جس میں خداعجلت روانہیں رکھتا جلدی مت کروکیونکہ تم میں سے جوشخص اپنے بستر پرمرجائے لیکن حقِ پروردگار ،حقِ پیغمبراورحقِ اہل ِ بیت کی معرفت رکھتاہو ،وہ شہید مراہے ( ۲) ۔
دُنیاوی زِندگی ان اسباب وعلل کامجمُوعہ ہے
قرآن کی مختلف آیتوں میں کبھی تودنیاوی زندگی کولہو ولعب کہاگیاہے مثلاً :(و ما الحیاة الدنیا الّا لعب ولھو) دنیاوی زندگی لہو ولعب کے علاوہ کچھ نہیں ہے ( انعام ۔ ٣٢)اورکبھی لہوولعب،زینت ،تفاخر اورتکاثر کے الفاظ آئے ہیں مثلاً (زیربحث آ یات ) اورکبھی اے متاعِ غرور سے تعبیر کیاگیاہے مثلاً (آل ِ عمران ۔ ١٨٥) (اورآ یات زیربحث ) اورکبھی متاع قلیل (نساء ،٧٧) اورکبھی عارضی وظاہری اور جلدگزرجانے والے اَمر سے تعبیر کیاہے (نساء ۔ ٩٤) ان تعبیروں سے اورقرآن کی دوسری تعبیروں کے مجموعہ سے اسلام کامادی زندگی اوراس سے متعلقہ نعمتوں کے بارے میںجونظر یہ ہے وہ بالکل واضح ہوجاتاہے ، اسلام اس زندگی کوبالکل بے قدروقیمت قرار دیتاہے اوراس کی طرف میلان وتوجہ کواس سے وابستگی کوبے مقصد امور( لعب)اورخواہ مخواہ مصروف رکھنے والے مقاصد (لہو)اورتجمل پرستی (زینة) اورحُبّ مقام ومنصب اورریاست اور دوسروں پر برتری کی ہواہش (تفاخر)اورحِرص وا ز اورافزوں طلبی ( تکاثر) شمارکرتاہے ۔ اور دُنیا سے عشق کرنے کوانواع واقسام کے مظالم اورگناہوں کاسرچشمہ قرار دیتاہے لیکن اگر یہ نعمتیں اپنی جہت کوبدل لیں اورمقاصد ِ الہٰی تک پہنچنے کازینہ بن جائیں توایساسرمایہ بن جائیں گی جنہیں خدا مؤ منین سے خرید تاہے اوربہشت ِ جاوداں اور سعادت ِ ابدی انہیں بخشتاہے ۔ انَّ اللَّہَ اشْتَری مِنَ الْمُؤْمِنینَ أَنْفُسَہُمْ وَ أَمْوالَہُمْ بِأَنَّ لَہُمُ الْجَنَّة (توبہ ۔ ١١١) ۔
۱۔تفسیر مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٣٧۔
۲۔نہج البلاغة ،خطبہ ١٩٠۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma