ایک عظیم معنوی مقابلہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

دُنیا اوراس کی لذّتوں کی ناپائیداری کے بیان کے بعد اوراس بیان کے بعدکہ لوگ اس دُنیا میں بے قیمت سرمائے کے سلسلہ میں ایک دُوسرے سے تفاخر وتکاثر کرتے ہیں لوگوں کو ،زیربحث آ یات میں ، ان چیزوں کے طریقۂ کسب کے لیے جو پائیدار اور ہرقِسم کی سعی وکوشش کے لائق ہیں ،دعوت ِ فکر دیتے ہوئے فرماتاہے اپنے پروردگارکی بخشش ،مغفرت اوراس جنّت کے حصُول کے لیے جس کی وسعت آسمان وزمین کی وسعت کے مانند ہے اورجوایسے لوگوں کے لیے تیّار کی گئی ہے جوخدا اوراس کے بھیجے ہُوئے رسُولوںپرایمان لائے ہیں، ایک دُوسرے پرسبقت کرو ۔(سابِقُوا ِلی مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُہا کَعَرْضِ السَّماء ِ وَ الْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہِ) ۔حقیقت میں پروردگار کی طرف سے عطا کی ہوئی مغفرت ، کلید ِ جنّت ہے وہ جنّت جوزمین ، وآسمان کی وسعتوں کوگھیر ے ہوئے ہے اور ابھی سے مؤ منین کی پذیرائی کے لیے آمادہ ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ جنّت اُدھار سے دل نہیں لگانا چاہیئے ۔ جنّت اگرچہ اُدھارفرض کی گئی ہے لیکن وہ ہرنقد سے زیادہ شمار کی جاتی ہے کیونکہ اس کاوعدہ اس خدا کی طرف سے کیاگیاہے جوہر چیز پرقادر ہے ۔ چہ جائیکہ وہ پُورے طورپر نقد ہے اوراَب بھی موجود ہے ۔اِن معانی سے مشابہت رکھتی ہوئی گفتگو سُورئہ آل عمران کی آ یت ١٣٣ میں آ ئی ہے اس فرق کے ساتھ کہ یہاں سابقوا مسابقہکے مادّہ سے اور دہانی سارعوا مسارعہ کے مادّہ سے ہے اورایسے افراد کے لیے ایک دوسرے کے مقابلہ میں تیزی وسُرعت کرنے کے معنی میں آ یاہے جوایک دوسرے کے مقابل ہوں (باب مفاعلہ کے مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو دوافراد کے ایک دوسرے پرغلبہ کی کوشش کومجسّم کرتاہے)دوسرافرق یہ ہے کہ وہاں کَعَرْضھاِ السَّماواتِ وَ الْأَرْض ہے اور یہاں کَعَرْضِ السَّماء ِ وَ الْأَرْض تھوڑے سے غور وفکرسے واضح ہوجاتاہے کہ یہ دونوں تعبیریں ایک ہی حقیقت کوبیان کرتی ہیں ۔وہاںفرماتاہے: پرہیزگاروں کے لیے تیار ہے اوریہاں فر ماتاہے: مومنین کے لیے ۔چونکہ پرہیزگاری شجرِ ایمان کا ثمر ہے لہٰذا یہ دونوں تعبیر یں ایک ہی حقیقت کی ترجمان ہیں ۔ یہ صُورت ِ حال بتاتی ہے کہ دونوں آیتیں دومختلف بیانات کے ساتھ ایک ہی حقیقت کوپیش کرتی ہیں۔ اِسی بناپر ،جیساکہ بعض مفسّرین کانقطہ ٔ نظر ہے کہ اُنہوں نے سُورئہ آل ِ عمران کی آ یت کومقربین کی جنّت کی طرف اشارہ سمجھاہے اور زیربحث آ یت میں مؤ منین کی بہشت کی طرف اشارہ قرار دیاہے ، تویہ دونوں سُورئہ آل ِ عمران کی آ یت کومقربیّن کی جنت کی طرف اشارہ سمجھا ہے اورزیربحث آ یت میں مؤ منین کی بہشت کی طرف اشارہ قراردیاہے ،تویہ دونوں باتیں صحیح ہیں ،یہاں عرض کالفظ طول کے مقابلہ میں نہیں ہے ، جیساکہ بعض مفسّرین نے لکھاہے ،اوراس کے بعد وہ ایسے طویل وعریض جنّت کی تلاش میں ہیں جس کاعرض آسمان وزمین کے برابر ہواوراس کا وش کی وجہ سے وہ زحمت اُٹھارہے ہیں۔ایسے موقع پر عرض کے معنی میں وسعت کے ہوتے ہیںجیساکہ ہم فارسی میں کہتے ہیں پہنۂ دشت جس کے معنی ہیں وسعت ِ صحرامغفرت کی تعبیر جو جنّت کی بشارت سے پہلے دونوں آ یات میں آ ئی ہے وہ اس حقیقت کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ جب تک اِنسان گناہ سے پاک نہ ہو وہ جنّت اورجوار ِ پروردگار میں ورود کے قابل نہیں ہوگا۔ یہ نکتہ بھی لائق ِ توجہ ہے کہ پروردگار کی مغفرت کی طرف سبقت کرنے کے معنی یہ ہیں کہ حصول ِ مغفرت کے اسباب کی طرف توجہ کی جائے جیسے توبہ کاراستہ اختیار کرنا، وہ اطاعتیںجونظر انداز ہوگئی ہیں ان کی تلافی کرنااور اصولی طورپر اطاعت ِ پروردگار گناہوں اورمعاصی سے پرہیز ہی کانام ہے ۔اور اگر بعض احادیث و روایات میں واجبات ومستحبات پرانحصار کیاگیاہے ،مثال کے طورپر جماعت کی صف ِ اوّل کی طرف بڑھنا ،جہاد کی پہلی صف میں جگہ لینا، امام ِ جماعت کے ساتھ تکبیر ة الحرام کہنا، اول وقت مں نماز پڑھنا، تو یہ مثالوں کے ذکرکے طورپر ہے یا واضح اورروشن مصداق کابیان ہے اورآ یت کے مفہوم کی وسعت میں کمی نہیں کرتا، آ یت کے آخر میں مزید فرماتاہے : یہ اللہ کافضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتاہے اورخدا صاحبِ فضل ِ عظیم ہے (ذلِکَ فَضْلُ اللَّہِ یُؤْتیہِ مَنْ یَشاء ُ وَ اللَّہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظیم) ۔
یقینااس قسم کی وسیع جنّت میں اتنی عظیم نعمتیں ہوں وہ ایسی چیز نہیںہوتی جو ناچیز اعمال کے زریعہ انسان کوحاصل ہوجائے ۔ یہ صرف اللہ کافضل وکرم ہے جوقلیل اعمال کے بدلے اتنا بڑااَجر دینے والے کے کرم کے مطابق ہوتاہے ،بہرحال یہ تعبیر اچھی طرح بتاتی ہے کہ ثواباورجزا ء عمل کی مز دوری نہیں ہیں بلکہ یہ ایک طرح کافضل وکرم ہے ۔اس کے بعد دُنیاسے عدم دل بستگی اس کے حصول پر خوش نہ ہونے اور اس کے منہ موڑنے پرغمگین نہ ہونے کے بارے میں تاکید مزید کے لیے فرماتاہے : کوئی مصیبت زمین میںواقع نہیں ہوتی مگر یہ کہ وہ تمہاری اور زمین کی خلقت سے پہلے سے کتاب (لوح محفوظ )میں ثبت ہے اور یہ امر خدا کے لیے آسان ہے (ما أَصابَ مِنْ مُصیبَةٍ فِی الْأَرْضِ وَ لا فی أَنْفُسِکُمْ ِلاَّ فی کِتابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَہا ِنَّ ذلِکَ عَلَی اللَّہِ یَسیر)(١) ۔
جی ہاں وہ مصیبتںجوزمین میں پیش آ تی ہیں مثلاً زلزلے ،طوفان ، سیلاب اورانواع واقسام کے درد ناک حوادث جن سے انسان دوچار ہوتاہے ، وہ سب پہلے سے طے شدہ ہیں، اورلوح ِ محفوظ میں ثبت ہیں ،لیکن توجہ کرنی چاہیئے کہ وہ مصیبتیںجن کی طرف اس آ یت میں اشارہ ہواہے ، صرف اسی نوعیّت کی ہیں جن سے کسِی طرح نہیں بچاجاسکتا اوروہ انسانوں کے اپنے اعمال کانتیجہ ہیں ( بالفاظِ دیگر یہاںحصر حصرِاجافی ہے )اس امر اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ سورئہ شوریٰ کی آ یت ٣٠ ہمیں بتاتی ہے کہ : (وَ ما أَصابَکُمْ مِنْ مُصیبَةٍ فَبِما کَسَبَتْ أَیْدیکُمْ وَ یَعْفُوا عَنْ کَثیر) جومصیبت بھی تمہیں پہنچے وہ ان اعمال کی وجہ سے ہے جنہیں تم انجام دیتے ہو اور بہت سے گناہوں کووہ معاف کردیتاہے ۔اس حقیقت کے پیش نظر کہ آیتیں ایک دُوسرے کی تفسیر کرتی ہیں ، جس وقت یہ آیتیں ایک دوسرے کے مقابل ہوں ، تو بتاتی ہیں کہ وہ مصیبتیںبے شمار ہیں ظلم وستم ، بے انصافیاں، خیانتیں ،وعدہ خلافیاں وغیرہ اورنہ معلوم کتنے کام اورایسی چیزیں جوہمارے خودکردہ مصائب کاشرچشمہ ہیں ۔ لیکن مصائب کاایک حصّہ ایساہے جس میں ہم کسی قسم کادخل نہیں رکھتے ، ا،س حصّہ کے مصائب اسی لیے بہت سے انبیاء ،اولیاء اورصلحاء اس قسم کی مصیبتوں کاشکار ہو تے تھے ، اِن مصائب کاایک دقیق فلسفہ ہے کہ جس کی طرف ہم خدا شناسی اورعدل الہٰی کے مباحث ہیں اوریہ مسئلہ آفات وبلّیات کے ماتحت اشارہ کرچکے ہیں ۔
ایک حدیث میں ہماری نظر سے گزری ہے کہ جس وقت امام زین العابدین علیہ السلام کویزیدکی مجلس میں ایسی حالت میں لے جایاگیاکہ آپ زنجیروں میں جکڑ ے ہوئے تھے تویزید نے امام کی طرف رُخ کرکے سُورئہ شوریٰ کی آ یت پڑھی وَ ما أَصابَکُمْ مِنْ مُصیبَةٍ فَبِما کَسَبَتْ أَیْدیکُم ۔اس کامقصدیہ تھا کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ خاندان ِ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مصائب خُودان کے اعمال کانتیجہ ہیں ۔اس طرح وہ دِل امام علیہ السلام پرزبان کازخم لگانا چاہتاتھا ۔لیکن امام علیہ السلام نے فوراً اس کے کلام کی تردیدی کی اور فرمایا:
(کلّا مانزلت ھذہ فینا انما نزلت فینا مااصاب من مصیبة فی الارض ولافی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان ینبرأھا)
ایسانہیں ہے یہ آ یت ہمارے بارے میں نازل ہوئی بلکہ ہمارے بارے میں ایک اور آ یت نازل ہوئی ہے جویہ ہے کہ :جومصیبت بھی تمہارے وجود میں یازمین پربڑتی ہے تمہاری خلقت سے پہلے سے لوح محفوظ میںثبت ہے ۔(اور اس کاایک فلسفہ ہ اورحکمت ہے)(٢) ۔
اِس سلسلہ میں تفصیلی بحث ہم سُورئہ شوریٰ کی آ یت ٣٠ کے ذیل میں جلد ١١ میں کرچکے ہیں (٣) ۔
مکتب ِ اہل بیت علیہم السلام کے شاگردوں نے یہی معنی سمجھے ہیں جیساکہ وہ کہتے ہیں جس وقت سعید ابن ِ جبیر کوحجاج کے پاس لے گئے اوراس نے آپ کے قتل کامصمّم ارادہ کر لیاتوحاضرین میں ایک شخص رون لگاتوسعید نے کہا: کیوں رورہے ہو اس نے کہا: اس مصیبت کی بناء پر جو آپ کوپیش آ ئی ہے توانہوں نے کہا گریہ نہ کرو یہ علم خدا میں تھا کہ اس طرح ہو۔ کیاتم نے نہیں سُنا کہ خدا فرماتاہے ؟(ما أَصابَ مِنْ مُصیبَةٍ فِی الْأَرْضِ وَ لا فی أَنْفُسِکُمْ ِلاَّ فی کِتابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَہا)(٤) ۔
البتہ تمام حوادث جوعالم میں رُونماہوتے ہیں لوح ِمحفوظ میں ثبت ہیں اورخدا کے علم بے پایاں میں ہیں ، اگریہاں صرف زمین اور نفوسِ انسانی میں رُونما ہونے والے مصائب کی طرف اشارہ ہواہے تواس کی وجہ یہ ہے کہ موضوعِ سُخن یہی تھا جیساکہ ہم دیکھیں گے کہ بعد والی آیت میں اس کانتیجہ پیش کیاگیاہے :(ِانَّ ذلِکَ عَلَی اللَّہِ یَسیر) کاجملہ اس طرف اشارہ ہے کہ لوح ِمحفوظ میں تمام حالات کاثبت ہوناحوادث کی کثرت کے باوجود خداکے لیے دُشوار نہیں ہے اورلوح ِ محفوظ میں ان مصائب کی تقدیر اورپھر قرآن میں اس حقیقت کابیان دراصل کیاچیزہے ۔بعدوالی آ یت اس اہم راز کے چہرے سے پردہ اُٹھا تی ہے اورکہتی ہے : یہ اس بناپر ہے کہ جوکچھ تم نے گنوایاہے اس پرغمگین نہ ہونا اورجوکچھ خدانے تمہیں دیاہے اس پرخوش نہ ہونا (لِکَیْلا تَأْسَوْا عَلی ما فاتَکُمْ وَ لا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ) یہ دوجملے حقیقت میں فلسفۂ آفرینش کے ایک پیچیدہ مسئلہ کوحل کرتے ہیں اس لیے کہ انسان عالم ِ ہستی میں ہمیشہ مشکلات اورحوادث سے دوچار رہتاہے اوراکثر اوقات اپنے آپ سے سوال کرتاہے کہ ، اس کے باوجود کہ خدامہربان وکریم ہے یہ دردناک حوادث کِس وجہ سے ہیں ، قرآن کہتاہے کہ مقصد یہ تھا کہ تم اس جہان میں سے خوش اوراس چمک دمک کے اسیر نہ بن جانا ،اِس گزرگاہ اوراس پُل کی حیثیت کوجس کانام دُنیا ہے اوراپنی حیثیت کوفراموش نہ کردینا اوراس کے دال وشیدانہ بن جانا اوراس کوابدی اورجاودانی نہ سمجھنا کیونکہ یہ حد سے زیادہ وابستگی تمہاری سعادت کی بہت بڑی دشمن ہے ۔وہ تمہیں یاد ِ خدا سے غافل کرتی ہے اورترقی کے راستے سے منحرف کرتی ہے ۔ یہ مصیبتیں غافلوں کے لیے ہوشیار رہوکی آواز ہیں اورسوئی ہوئی ارواح کے لیے اس جہان کی ناپائیداری کی ایک رمز ہیں ،اوراس زندگی کے مختصر ہونے کی طرف ایک اشارہ ہیں،حقیقت یہ ہے کہ اس دارالغرور کے فریب دینے والے مظاہر انسان کوبہت جلدا پنی طرف کھینچ کریادِ خدا سے غافل کردیتے ہیں ۔ جب وہ اچانک باخبرہوتاہے اوردیکھتاہے کہ قافلہ چلاگیا اوروہ محوِ خواب ہے جب کہ سامنے ایک وسیع بیاباں ہے ۔ یہ حوادث جوہمیشہ زندگی میں تھے اورہمیشہ رہیں گے یہاں تک کہ علم ودانش عظیم ترقی بھی زلزلوں ، طوفانوں ، سیلابوں ، بیماریوں اوراس قسم کے دردناک حوادث سے پناہ نہیں دلاسکتے اورنہیں دلاسکیں گے ۔ یہ زمانہ کی بے مہر ی کے بارے میں ایک درس ہے جوانسان کوپُکارپُکار کر بتاتاہے ۔
این دشت خواب گاہ شہیدا ن است فرصت شمار وقت تماشارا
اس کایہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انسان اس دنیامیں خداکی دی ہوئی نعمتوں کوٹھکرادے یاان سے فائدہ نہ اُٹھا ئے ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کاقیدی نہ بن جائے اوران کو مقصد ِ حیات نہ بنالے اورمحض اسی کو اپنی زندگی کاحصّہ شمارنہ کرے ۔قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ جوکچھ انسان گنوادے اُسے (فاتکم)(جوکچھ تم سے فوت ہوجائے ) سے تعبیر کررہاہے لیکن ہاتھ آنے والی نعمتوں کواپنی طرف نسبت دیتاہے (بما اٰتاکم)کیونکہ فناہوناخُود اشیاء کی ذات میںپوشیدہ ہے اور وجود کاسرچشمہ وجودِ خداوندی ہے جی ہاں یہ مصیبتیںہیں جو غرور کوشکستہ کرتی ہیں اسی لیے آ یت کے آخر میں کہتاہے : خدا کسی متکبّرفخر کرنے والے کودوست نہیں رکھتا ( وَ اللَّہُ لا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتالٍ فَخُورٍ) مختال خیال کے مادّہ سے لیاگیاہے اورمتکبرکے معنوں میں استعمال ہواہے ۔اس لیے کہ تکبّر فضیلت کے خیال اور دوسروں کے مقابلہ میں برتری کے تصوّر سے پیدا ہوتاہے ، فخور مبالغہ کاصیغہ ہے اس کامادّہ فخر ہے ۔فجور کے معنی ہیں وہ شخص جودوسروں کے مقابلہ میں بہت زیادہ فخر کرے ۔اِن حالات کاصِرف وہی شخص شکار ہوتاہے جونازونعمت میں کھو جائے ،لیکن مصیبتیں اورآفتیں ان لوگوں کو مدہوشی سے محفوظ رکھتی ہیں جوبیدای کی حالت میں ہوں اور ہدایت پانے کے قابل ہوں ۔
صاحب ِ ایمان افراد ،مذ کورہ بالااصل کی طرف توجہ کرتے ہوئے ، جس وقت خداکی جانب سے کوئی نعمت پائیں تووہ خود کواس نعمت کاامانت دار سمجھتے ہیں ۔وہ نہ اس کے چلے جانے سے غمگین ہوتے ہیں نہ اس کی موجود گی سے مغرور ہوتے ہیں ، درحقیقت وہ اپنے آپ کوبَیتُ المال کے نگراں اورجواب دہ فرد کی حیثیت دیتے ہیں جوایک دن بہت زیادہ مال حاصل کرتے ہیں اوردوسرے دن ہزاروں کی تعداد میں واپس دے دیتے ہیں ، انہیں نہ اس مال کے حاصل ہونے سے خوشی ہوتی ہے نہ اس کے چلے جانے کارنج ہوتاہے ۔
امیرالمؤ منین حضرت علی علیہ السلام اس آ یت کے بارے میں کتنی عُمدہ تعبیر پیش کرتے ہیں :(الذھد کلہ بین کلمتین من القراٰن قال اللہ تعالیٰ لکیلاتأ سواعلیٰ مافاتکم ولاتفرحوابمااٰتاکم ومن لم یأس علی الماضی ولم یفرح بالاتی فقد اخذ الزھد بطرفیہ ) ۔
سارا زہد قرآن کے دوجملوں کے درمیان میں ہے جہاں خداوند متعال فرماتاہے: یہ اس لیے ہے کہ جو چیزہاتھ سے جاتی رہے اس کے لیے غمگین نہ ہونا اور جوکچھ خدانے تمہیںدیاہے اس پرغرور نہ کرنا لہٰذا جوشخص گزشتہ پرتاسف نہ کرے اورجوکچھ اس کے قبضہ میں ہواس پر مغرور نہ ہوتواس نے زہد کودونوں طرف سے قبضہ میں کر رکھاہے ( ٥) ۔
دُوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس حقیقت کی طرف توجہ کرناکہ ،ناکامیاں انسان کی زندگی کے ساتھ ابتداء سے رکھ گئی ہیں اور سُنّتِ حکیمانہ کے مطابق مقرر ہوئی ہیں اور دنیا ہمیشہ نشیب وفراز رکھتی ہے ، انسان کومصیبتوں کی برداشت کے ضمن میں بہادر اورحوادث کے مقابلہ میں صابر اور ثابت قدم بنادیتاہے ۔وہ انسان کوسکون ِ قلب عطاکرتاہے اور بے تابیوں اور رونے دھونے سے محفوظ رکھتاہے ۔لیکن ہم پھر تا کید کرتے ہیں کہ یہ چیز صرف ان مصائب کے بارے میں ہے جن سے بچناممکن نہیں ہے اور نہ وہ مصیبتیں اورناکامیاں جوخُود انسان کے گناہوں اوراس کی سہل انگاری کانتیجہ ہوتی ہیں وہ اس بحث سے خارج ہیں ۔زندگی کے نظام اولاقات میں ان سے مقابلہ کرناایک صحیح راہ ِ عمل ہے اس بحث کوہم ایک سرگزشت پرختم کرتے ہیں جوبعض مفسرین نے بیان کی ہے ۔ قتیبہ بن سعید(٦)کہتاہے میں ایک عرب قبیلہ میں گیاجو صحرامیں تھاوہ صحرااُونٹوں سے پُرتھا جوسب مرچکے تھے اور لاتعداد تھے ،وہاں ایک بُڑ ھیا عورت تھی میں نے اس سے پُوچھا کہ یہ اُونٹ کس کے تھے ۔اس نے کہااس بوڑھے شخص کے تھے جوٹیلے پرتو دیکھ رہاہے کہ اُون بُن رہاہے ۔میں اس کے پاس گیا اورپُوچھا کہ یہ سب اُونٹ تیرے تھے اُس نے کہاکہ میرے نام سے تھے ،میں نے کہا کہ کیاوجہ ہوئی جوان کایہ حال ہوا، اس نے جواب میں (بغیران کے کہ ان کی موت کاسبب بیان کرے ) کہاکہ جس نے دیے تھے اس نے واپس لے لیے میں نے کہاتجھے کوئی پریشانی نہیں ہے اورتُونے اس سلسلہ میں کیاکیا ہے ۔اس نے کہامیں نے یہ دوشعر کہے ہیں :
لاوالّذی اناعبدمن خلائقہ والمرء فی الدھر نصب الرزء والمحن
ماسرنی ان ابلی فی مبارک کھا وما جری من قضاء اللہ لم یکن!
قسم ہے اُس کی جس کی مخلوق میں سے میں بھی ایک بندہ ہوں کہ انسان دنیامیں محنتوں اورمصیبتوں کاہدف ہے ۔ میرے اُونٹ اگراپنے بیٹھنے اور سونے کی جگہ پرہوتے ہیں اوریہ قضا ئے الہٰی جوآ ئی ہے نہ آتی تومیں خوش نہ ہوتا ( میں توصرف اس کی رضاپر راضی ہوں اورجو کچھ اس نے چاہاہے اسی کو پسند کرتاہوں ( ٧) ۔
آخری زیربحث آ یت اس چیز کی توضیح وتفسیر ہے جوگزشتہ آ یت میں آ ئی ہے ۔وہ حقیقت میں مختار فخور کاتعارف کراتی ہے ۔
پروردگار ِ عالم فرماتاہے: وہ ایسے افراد ہیںجوبُخل کرتے ہیں اورلوگوں کوبُخل کی دعوت دیتے ہیں (الَّذینَ یَبْخَلُونَ وَ یَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ) (٨) ۔
جی ہاں دنیا کی نعمتوں سے بہت زیادہ دل لگانے کانتیجہ تکبّر وغرور ہے اورتکبّر وغرور کالازمہ بُخل کرنااوردُوسروں کوبُخل کی دعوت دیناہے بُخل کرنا تواس بناپر ہے کہ وہ ان اموال ہی کواپنا سرمایہ حیات سمجھتے ہیں جوانہیں حاصل ہے اورکبھی نہیں چاہتے کہ وہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے ۔دوسروں کوبُخل کی دعوت دینااس بناپر ہے کہ اگرکوئی دُوسرا سخاوت کرے تو یہ ذلیل ہوں گے ۔دوسرے یہ کہ چونکہ بُخل کو دوست رکھتے ہیںلہٰذا ایسی چیز کے مبلّغ ہیں جسے دوست رکھتے ہیں ۔اوراس بناپر کہ کہیں یہ تصوّر نہ پیدا ہوجائے کہ خدا کاانفاق کے مسئلہ پراصرار کرنا اوربُخل کوترک کرنے کی تاکید کرنا حتّٰی کہ بندوں سے قرض لینے کی بات کرنا ،جیساکہ گزشتہ آیات میں آیاہے ، اس کی کسِی احتیاج اورضرورت کی وجہ سے ہے لہٰذا آخر میں فرماتاہے : جوشخص اس حکم سے منہ پھیر ے تووہ خُدا کونقصان نہیں پہنچاتااس لیے کہ خدا بے نیاز اورلائق ِ ستائش ہے ( وَ مَنْ یَتَوَلَّ فَانَّ اللَّہَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمید) ۔سب اس کے محتاج ونیاز مند ہیں وہ کسی کامحتاج نہیں ہے وہ سب سے بے نیاز ہے کیونکہ تمام چیزوں کے خزانے اور منابع اس کے قبضہ میں ہیں اور چونکہ وہ تمام صفات کمال کاجامع ہے اس لیے ہرحمد وستائش کے قابل ہے ۔اگرچہ مذکورہ بالا آ یت میں لفظ بخل صرف انفاقِ مال میں بُخل کرنے سے تعلق رکھتاہے ،پھر بھی اس لفظ کاایک وسیع مفہوم ہے جوعلم میں بُخل کرنے اورحقوق وغیرہ کی ادائیگی میں بُخل کرنے سے بھی تعلق رکھتاہے ۔
 ١۔یہ کہ "" نبرأھا"" مرجع ضمیر کیا چیزہے اس میں کئی احتمال ہیں، بعض اس کامرجع زمین اورانفس کوسمجھتے ہیں بعض مصیبت کواوربعض سب کو لیکن آ یت کے لب ولہجے پرتوجہ کرتے ہوئے پہلے معنی مناسب ہیں کیونکہ یہ کہنا چاہتاہے کہ زمین وآسمان اورتمہاری خلقت سے پہلے ان مصائب کی پیش بینی ہوئی ہے ۔
٢۔ تفسیر علی بن ابراہیم نقل نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٤٧۔
٣۔جلد ٢ صفحہ ٥١٥سے آگے اور سُورہ نساء کی آ یت ٧٨ ،٧٩ کے ذیل میں بھی ایک اور بحث تھی ،جوزیربحث آ یات کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے ۔
٤۔رُوح البیان ،جلد ٩،صفحہ ٣٧٥۔
٥۔ نہج البلاغہ کلمات قصار کلمہ ٤٣٩۔
٦۔"" قتیبہ بن سعید"" ایک محدّث ہے جومالک ابن انس سے روایت کرتاہے (منتہی الادب)
٧۔تفسیر ابوالفتوح رازی ،جلد ١١ صفحہ ٥٣۔ انہی معانی کی مثال تفسیررُوح البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٣٦٧ پرنقل کی گئی ہے ۔
٨۔ (الَّذینَ یَبْخَلُونَ...)بدل ہے کل مختارفخور ( تفسیر کشاف درذیل آیات زیربحث ) ضمناً توجہ کرنی چاہیئے کہ بدل اورمبدل منہ میں معرفہ اورنکرہ کاتطابق شرط نہیں ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma