ہم نے یکے بعد دیگر ے انبیاء بھیجے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
جیساکہ ہم جانتے ہیں قرآن کاشیوہ یہ ہے کہ وہ اپنی تعلیمات کے اصول ِ کلّی کے ایک سِلسلہ کوبیان کرنے کے بعد گزشتہ قوموں کے حالات کی طرف اشارہ کرتاہے وہ اس بیان کے سِلسلہ میں شاہد کاکام دیں اِس مقصد کے لیے یہاں بھی گزشتہ مسائل کے بعدارسال رسل ، بینات وکتاب ومیزان کے ذکر اور مغفرت وسعادت ِجاودانی تک پہنچنے کے لیے ایک دُوسرے کے مقابلہ میں سبقت کرنے کے تذ کرے کے ساتھ گزشتہ اقوام سے شروع کرتاہے جوشیخ الانبیاہیں اورنمایاں رسُو لانِ حق میں سے ہیں اورفرماتاہے:
ہم نے نوح اور ابراہیم کوبھیجا اوران دونوں کی ذریّت میں نبوّت وکتاب آسمانی قراردی (وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا نُوحاً وَ ِبْراہیمَ وَ جَعَلْنا فی ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْکِتاب) لیکن ان لوگوں نے ان عظیم نعمتوں سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا ، ایک گروہ ان کی تعلیم پرایمان لایا اوران میں سے اکثریّت گنہگار وں اور بے ایمان لوگوں کی ہے (َ فَمِنْہُمْ مُہْتَدٍ وَ کَثیر مِنْہُمْ فاسِقُون)جی ہاں وہ نبوّ ت جس کے ساتھ شریعت اور آئین بھی تھے ،حضرت نوح علیہ السلام سے شروع ہوئی اوران کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ، جودُوسرے اولو العزم پیغمبرہیں، اس شریعت کو دوام بخشا اور یہی ان کی ذ ریّت میں برقرار رکھی گئی ۔ لیکن ہمیشہ اس نُور ِ ہدایت سے اقلیّت ہی نے فائدہ اُٹھا یا جب کہ اکثریت نے راہ ِ خطا طے کی، اس کے بعد اجمالی طورپر دُوسرے پیغمبروں کے سلسلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اورپیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے پہلے کے آخری نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے فر ماتاہے:(ثُمَّ قَفَّیْنا عَلی آثارِہِمْ بِرُسُلِنا)جویکے بعد دیگر ے آئے اور اُنہوں نے لوگوں کے راستے میں ہدایت کے چراغ روشن کیے یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے ، ہم اس کے بعد عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کولے آ ئے ( وَ قَفَّیْنا بِعیسَی ابْنِ مَرْیَم) ۔ قفینا قفا کے مادّہ سے ہے جس کے معنی پُشت کے ہیں، قافیہ کواسی لیے قافیہ کہتے ہیں کہ شعر کے آخری حصّے ایک دوسرے کے مشابہ اور عقب میں قرار پاتے ہیں مذکورہ بالا جُملے سے مُراد یہ ہے کہ انبیاء ومُرسلین نے یکساں طریقہ پر ہم آہنگ مقاصد کوپیش ِ نظر رکھ کریکے بعددیگرے عرصہ وجود میں قد م رکھاہے اورایک دوسرے کی تعلیمات کی تائید وتکمیل کی ہے ۔ یہ تعبیر درحقیقت توحید نبوّت کی طرف ایک بہت ہی خوبصُورت اشارہ ہے ۔ اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کی کتاب ِ آسمانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتاہے :
ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں ، جنہوں نے اس کی پیروی کی ،رحمت ورافت قرار دی (وَ آتَیْناہُ الْانْجیلَ وَ جَعَلْنا فی قُلُوبِ الَّذینَ اتَّبَعُوہُ رَأْفَةً وَ رَحْمَة) ۔بعض مفسّرین نے رحمت ورافت دونوں کے ایک ہی معنی تجویز کیے ہیں لیکن مفسّرین کاایک گروہ ان دونوں کے درمیان فرق کاقائل ہے ۔رافت رفع مضرات کی محبت کے لیے ہے اوررحمت حصول منافع کی محبت کے معنوں میں ہے اسی لیے رافت کاذکر عام طورپر رحمت سے پہلے ہوتاہے ۔ اور اسی وجہ سے زنا کاروں کی سزا والی آ یت میں فرماتاہے:(وَ لا تَأْخُذْکُمْ بِہِما رَأْفَة فی دینِ اللَّہِ ) کہیں ایسانہ ہوکہ تم خدا کی مقرر کی ہوئی حد کے جاری کرنے کے سلسلہ میں رافت ومحبت کاشکار ہو جاؤ اورخدا کے حکم کوفراموش کردو (نور ۔٢)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سچّے پیروکار وں کی رحمت ورافت کامسئلہ کوئی ایسی چیزنہیں ہے کہ جس کی طرف صِرف اس آ یت میں اشارہ ہوا ہوبلکہ سُورئہ مائدہ کی آ یت ٨٢ میں بھی ہمیں ملتاہے (وَ لَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَوَدَّةً لِلَّذینَ آمَنُوا الَّذینَ قالُوا ِنَّا نَصاری ذلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیسینَ وَ رُہْباناً وَ أَنَّہُمْ لا یَسْتَکْبِرُون) تومومنین کے قریب ترین اوردوست (غیر مسلموں میں سے )ان لوگوں کوپائے گاجوکہتے ہیں ہم نصاریٰ ہیں ، یہ اس وجہ سے ہے کہ ان میں تارک الدنیا اورصاحب ِعلم افر اد ہیں اوروہ ( حق کے مقابلے میں) تکبّر نہیں کرتے نہیں کرتے ۔اگر چہ یہ آ یت زیادہ ترحبشہ کے عیسائیوں اورنجاشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے مسلمانوں کوپناہ دی تھی اورا ن سے خلوص محبت روارکھاتھا، لیکن کُلّی طورپرسچّے عیسائیوں کی رافت ومحبت کی طرف اشارہ ہے ۔اس سے مُراد وہ خونخواربھیڑ یے اور آدم نمادیو نہیں ہیں جوہمارے زمانے میں اپنے آپ کونصاریٰ کہتے ہیں اورساری دنیامیں غارت گری کرتے ہیں اور لوگوں کوخون میں نہلاتے ۔اس کے بعد مزید فرماتاہے: ان کے دلوں کوہم نے رہبانیت کی طرف لگادیا ہے جوخُود ان کی اختراع ہے اوراسے ہم نے ان کے لیے مقرر نہیں کیاتھا۔ان کا مقصد تھا کہ خوشنودیٔ خُدا حاصل کریں لیکن انہوں نے حق کی رعایت نہیں کی لہٰذا ہم نے ان میں سے ان لوگوں کو جوایمان لائے تھے ،اَجر عطاکیا لیکن ان میں سے بہت سے فاسق وگنہگار ہیں (وَ رَہْبانِیَّةً ابْتَدَعُوہا ما کَتَبْناہا عَلَیْہِمْ ِلاَّ ابْتِغاء َ رِضْوانِ اللَّہِ فَما رَعَوْہا حَقَّ رِعایَتِہا فَآتَیْنَا الَّذینَ آمَنُوا مِنْہُمْ أَجْرَہُمْ وَ کَثیر مِنْہُمْ فاسِقُونَ)(١) ۔
تواس طرح انہوں نے یہ صرف یہ کہ مسیح کے آئین ِ توحید کی رعایت نہیں بلکہ اس رہبانیت کے حق کی بھی رعایت نہیں کی جوخُود ان کی اپنی اختراع تھی اورزہد ورہبا نیت کے نام پر اُنہوں نے مخلوقِ خدا کے راستے میں جال بچھائے ہیں اورگرجاؤں کو مختلف قسم کے فسادات کامرکزبنادیا ہے اورانہوں نے دین مسیح میں بہت سی خرابیاں پیداکردی ہیں ۔اس تفسیر کے مطابق دین مسیح کاجُز نہیں تھی بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو کاروں نے اُن کے بعد اس کی اختراع کی تھی ، ابتدأ میں اس رہبانیت کاایک معتد ل انداز تھا لیکن بعد میں اس میں دین سے بالکل انحراف کی کیفیّت پیدا ہوگئی اوراس کی وجہ سے بہت سے مفاسد رُونما ہوئے ، دُوسری تفسیر کے مطابق دین ِ مسیح میں ایک طرح کازہد موجودتھا لیکن اس کے پیرو کاروں نے جوبد عتیں رہبانیت کے نام پرجاری کیں وہ کچھ اور تھیں جس کا پروردگار ِ عالم نے انہیں کبھی مکلف نہیں بنایاتھا(٢) ۔
پہلی تفسیر مناسب ہی نہیں بلکہ بعض حیثیتوں کے اعتبار سے زیادہ مناسب ہے ۔ بہر کیف مندرجہ بالاآیا ت سے ظاہر ی طورپر معلوم ہوتاہے کہ رہبانیت دین ِ مسیح میں موجود نہیں تھی ۔ان کے پیرو کاروں نے ان کے بعداسے اپنی طرف سے دین ِ مسیح میں شامل کیاہے ۔ابتداء میں ایک قسم کے زہد کیطرف جھکاؤ اچھالگتاتھا،مثال کے طور پربہت سے مراسم اور سنن ِ حسنہ جوابھی تک لوگوں میں رائج ہیں اور کوئی شخص بھی ان کوشرعی احکام کے ماتحت نہیں سمجھتا لیکن یہ سُنّت اوریہ رسم بعد میں دین ِ حق سے انحراف کی شکل اختیار کرگئی حتّٰی کہ آ لودۂ گناہ ہوگئی (فمارعوھا حق رعایتھا) انہوں نے اس کے حق کی رعایت نہیں کی اس جملہ کی قرآنی تعبیراس امر کی دلیل ہے کہ اگراس کے حق کو اداکیاجاتاتو وہ ایک اچھی سُنّت ہوتی اور سُورئہ مائدہ کی آ یت ٨٢ کی تعبیر جورہبانیت اختیار کرنے والوں اور سچّے عیسائی علماکو اچھی نظر سے دیکھتی ہے وہ اس مقصد کی شاہد ہے (غورکیجئے )اوراگر رہبا نیت رأفت ورحمت پرعطف ہے توپھر اس مد عاپرایک اورشاہد پیداہوجائے گاکیونکہ وہ پھررافت ورحمت کاہم ردیف ہوگاجسے خدانے ایک پسندیدہ عنوان کے ماتحت ان کے دلوں میں ڈال دیاہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگرکوئی سُنّتِ حسنہ لوگوں میں رائج ہوجائے (مثلاً زُہد کادستور)جس کے اصول ِ کلّی کاایک مصداق سمجھیں اوراس کاحق اداکریں تواس میں کوئی برُائی نہیںہے ۔ بدبختی وہاں سے شروع ہوتی ہے کہ جب افراط وتفریط کی صورت ِ حال پیدا ہوجائے اوراس سُنّت ِ حسنہ کوسُنّت ِسیۂ میں تبدیل کردے ، جیساکہ موجودہ زمانے میں ہمارے ہاں مراسم سوگواری اور دین کے پیشواؤں کایوم ِ ولادت و وفات منانے کاسِلسلہ جاری ہے ۔ اوراسی طرح شہیدوں اورمرحوم عزیزوں کی یاد منانا، ان کایوم ولادت ِ وشہادت منانا یادسواں اورچالیسواں کرنایہ اسلام کے اصول ِ کُلی کے مطابق ہے اور تعظیم شعائر کے ذیل میں آ تاہے اور دین کے رہبروں اور شہدائے عموم مسلمین کی یاد منانے کا جومعمول ہے اِسی سے ماخوذ ومربوط ہے ۔شہدائے کربلا کی عزاداری اوراس قسم کے ایّام مصائب کی بُنیاد اِسلام کے اصولوں کی رُوح کُلّی کے مطابق ہے ۔ان مراسم کی جزئیات وتفاصیل کسی مخصوص شرعی حکم کے ماتحت نہیں ہے بلکہ یہ دستور اسلامی کی رُوح کلی کے مطابق انجام پاتی ہیں۔توجب تک ان مراسم میں حدُود ِ شریعت سے تجاوز نہیں ہے اور گناہ وخرافات سے آلودہ ہونے کاکوئی امکان نہیں ہے تویقینایہ ابتغاء رضوان اللہ کی مصداق ہیں اور سُنّت ِحسنہ کہلائے جانے کی مستحق ہیں ۔اگر یہ شکل نہ ہوتو پھرمعاملہ مختلف ہے ۔یُوں نظر آتاہے کہ رہبانیت رہبہ کے مادّہ سے لیاگیاہے جس کے معنی خوف ِ خداکے ہیں ۔شروع میں یہ رہبانیت دُنیا سے بے اعتناعی کامصداق تھی لیکن بعد میں اس میں بہت سی تحریفیں داخل انداز ہوگئیں ، اگراب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اس رہبانیت کاشِدّت سے مخالف ہے تواس کی اِس حد سے تجاوزکی ہوئی آخری صُورت کی بناپر ہے چنانچہ نکات کی بحث میں ہم اِنشاء اللہ اِس کی مزید تشریح کریں گے ۔
١۔اس آ یت کی ترکیب اور معنی میں مفسّرین کے درمیان بہت کچھ اختلاف ہے ۔بعض نے اسے رأفت ورحمت پرعطف سمجھاہے اورلفظ""حب""رہبائیت سے پہلے مقدرسمجھاہے کیونکہ رہبانیت کوئی ایسی چیز نہیں جودل میں ہو بلکہ اس کی محبت کاتعلق دل سے ہے اورایک جماعت نے اُسے فعل مضمر سے منصوب سمجھاہے ۔جس کامفسّرابتداعوھاہے اورتقدیر عبارت اس طرح ہے "" ابتداعوا رھبا نیة ابتدعوھا"" (الّاابتغاء رضوان اللہ )میں بھی دونظریے ہیں پہلایہ کہ استثنائے منقطع ہے اوراس کامفہوم یہ ہے کہ(ولکنھم ابتدعوھا ابتغأ رضوان اللہ)دُوسرا یہ کہ استثنائے متصل ہے اوراس کامفہوم یہ ہے کہ ہم نے رہبا نیت کی ایک قسم ان پرمقرر کی تھی جس کا مقصد رضائے الہٰی کوحاصل کرناتھالیکن انہوں نے ہبانیت کی ایک دوسری نوع ایجاد کرلی جوحق تعالیٰ کی رضا کے خلاف تھی یوں نظرآتاہے کہ ددونوں داروں میں پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے ۔
٢۔پہلی تفسیراستثنا کے منقطع ہونے کی صُورت میں ہے اوردُوسری تفسیر اس کے متصل ہونے کے مطابق ہے ۔غورکیجئے یہ نکتہ بھی قابل ِ توجہ ہے کہ اگررہبانیت کاعطف"" رافت ورحمت "" پرہو جیساکہ ہم نے متن میں منتخب کیاہے ، توپھردلوں میں اس کے جعل کرنے سے مُراد ان کااس مسئلہ کی طرف میلانِ قلبی ہے جب کہ "" ماکتبنا ھا"" سے مُراد یہ ہے کہ مسئلہ رہبانیت دین مسیح میں ایک حکم ِ الہٰی کی شکل میں نہیں تھااگرچہ اس سے لگاؤ اوراس کی محبت خدانے ہی ان کے دل میں ڈالی تھی تواس بناپر ابتدعوھاکے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma