١۔ اِسلام اور رہبانیت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
جیساکہ ہم نے کہاہے رہبانیت رہبہ کے مادّہ سے خوف کے معنوں میں ہے اور یہاں مُراد خوف ِ خداہے مرادت میں راغب کے بقول اس سے ایساخوف مُراد ہے جس میں پرہیز اضطراب کی آمیزش ہواور ترھب یعنی تعبد اورعباد ت کرنے کے معنی میں ہے لہٰذا رہبانیت کے معنی میںشدید تعبد ہیں۔مذکورہ بالا آ یات کی ہم جس طرح بھی تفسیر کریں اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ عیسائیوں میں ایک طرح کی رہبانیت موجود تھی اگرچہ دین ِ مسیح میں اس طرح کالازم حکم نہیں دیاگیاتھا لیکن مسیح کے پیروکاروں نے اس رہبانیت کے سلسلہ میں اس کی حدُود سے تجاوزکیااور وہ اسے دین سے برگشتگی کی طرف لے گئے ۔اس وجہ سے اسلام نے اس کی شِدّت سے مذّمّت کی اور یہ مشہور حدیث ( لارھبانیة فی الاسلام ) اِسلام میں رہبانیت نہیں ہے بہت سے منابع اِسلامی میں نظر آ تی ہے (۱) ۔
عیسائیوں کی رہبانیت کے سلسلہ میں دُوسری قبیح بدعتوں کے علاوہ ایک بدعت یہ تھی کہ تارک الدنیا مردوں اورعورتوں نے ازدواج کواپنے اُوپر حرام کرلیاتھا اوردوسری چیزیہ تھی کہ اجتماعی گوشہ نشینی کوجائز سمجھ لیاگیاتھا ۔اس طرح معاشرتی ذمّہ داریوں کوٹھو کرمار کرعبادت کرنے کے ارادہ سے دور دراز کے گرجاؤں کومنتخب کرنا اور معاشرتی ماحول سے دُور زندگی بسرکرنادین کاجُز وسمجھاجانے لگاتھا ۔اس طرح گرجاؤں اوررہبانیت کے قائل لوگوں کی زندگی کے مرکز وں سے بہت سے مفاسد وابستہ ہوگئے تھے جن کے ایک گوشہ کے بارے میں اِنشاء اللہ اس مبحث کی تکمیل کے وقت ہم ایک بحث پیش کریں گے ۔
یہ ٹھیک ہے ک ہے تارک الدنیا عورتوں اورمردوں(راہبین وراہبات )نے بہت سی مثبت خدمات انجام دی ہیں ،مثال کے طورپر ناقابل ِعلاج بیماریوں کی تیمارداری کافرض انجام دینا( جذام اورکوڑھ کے مریض )اور دُور دراز علاقوں میں جا کروحشی اقوام میں تبلیغ کافرض انجام دینا اوراسی طرح کے دیگر مطالعاتی اور تحقیقی پروگراموں کوبرو ئے کارلانا ،لیکن یہ تمام اموران پروگراموں سے متلق مفاسد کے مقابلہ میںبہت کم ہیں اورمفاسد کئی گنازیادہ ہیں ۔
اصولی طورپر انسان ایک ایساموجود ہے جو معاشرتی طورپر زندگی گزار نے کے لیے پیدکیاگیاہے اوراُس کی مادّی ومعنوی ترقی بھی اسی میں مضمر ہے کہ وہ تمدّنی اور اجتماعی زندگی بسر کرے ۔اسی لیے کسی آسمانی مذہب نے انسان کے بارے میں اس اجتماعی زندگی کے خلاف کوئی راہ ِ عمل تجویز نہیں کی بلکہ اس کی بنیادوں کومستحکم کیاہے ۔ خدانے انسان میں اس کی حفاظت نسل ِ کے لیے عزیزہ جنسی پیداکیاہے ،لہٰذا ہروہ چیز جواِس حفاظت نسل کی مطلق طورپر مخفی کرے وہ یقیناباطل ہے ۔اسلامی زُہد ایک مختلف چیزہے ۔اس کے معنی ہیں سادہ طورپرزندگی بسرکرنا ،عیش وعشرت کوترک کرنااورمال ومقام کے چُنگل میں نہ پھنسنااس زہدکا عیسائیت کی رہبانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔رہبانیت کے معنی ہیں معاشرتی اوراجتماعی زندگی سے فرار اختیار کرناجب کہ زُہد کے معنی ہیں اجتماعی زندگی کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا،مشہور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ عثمان بن مظعون ،کابیٹا مرگیاتھاتووہ بہت غمگین ہوئے یہاں تک کہ اُنہوں نے گھرکومسجد بنالیا اورعبادت میں مشغول ِ ہوگئے اورباقی تمام کام چھوڑدیے ،یہ خبررسول ِ خُدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تک پہنچی توآپ نے عثمان کوبلایا اورفرمایا:
(یاعثمان ان اللہ تبارک وتعالیٰ لم یکتب علینا الرھبانیة انما رھبا نیة امتی الجھاد فی سبیل اللہ ) اے عثمان خُدا نے میری اُمّت کے لیے رہبانیت کوتجویز نہیں کیا ہے ۔میری اُمّت کی رہبانیّت تو یہ ہے کہ راہ ِ خدا میں جہاد کیاجائے (۲) ۔
اس کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تو چاہتاہے کہ مادّی زندگی سے رُوگردانی ہوجائے تواس عمل کومنفی شکل میں انجام نہ دے اوراجتماعی گوشہ نشینی کی راہ اختیار نہ کر بلکہ اسے ایک مثبت طریق عمل میں تلاش کر اور وہ مثبت طریقِ عمل راہ ِ خدامیں جہاد ہے ، اس کے بعد پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ان کے لیے ایک تفصیلی بحث نماز باجماعت کی فضیلت کے مسئلہ میں بیان کرتے ہیںجوگوشہ نشینی اور رہبانیت کی نفی کی تائید میں ہے ۔ایک اورحدیث میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ کے بھائی علی علیہ السلام ابن ِ جعفر علیہ السلام نے آپ سے سوال کیا:الرجل المسلم ھل یصلح ان یسیح فی الارض او یترھب فی بیت لا یخرج منہ ؟قال لا۔
کیامرد مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ وہ سیاحت کرے یارہبانیت اختیار کرے اوراپنے گھر میں بیٹھ رہے اورباہر نکلے توامام نے فرمایا نہیں (۳) ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ وہ سیاحت جس کی اس روایت میں ممانعت ہوئی ہے رہبانیت ہی کی قسم کی ایک چیزہے یعنی وہ ایک طرح کی سیر کرنے والی رہبانیت ہے اوروہ یُوںہے کہ بعض افراد بغیر اس کے کہ ان کاکوئی گھربار یا کاروبار ہوجہاںگردی کی شکل میں سامان ِ سفر کے بغیر ہمیشہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف جاتے تھے اورلوگوں سے مدد حاصل کرکے اور گدائی کرکے زندگی بسر کرتے تھے اوراسے ایک قسم کازُہد اورترک ِ دُنیا خیال کرتے تھے ،لیکن اسلام اس کی ہی نہیں بلکہ مقیم رہبانیت کی بھی نفی کرتاہے ۔جی ہاں تعلیمات اسلامی کی نظرمیں اہم یہ ہے کہ انسان اجتماعی زندگی اختیار کرتے ہوئے زہد اختیار کرے نہ یہ کہ معاشرتی زندگی کوخیر بادکہہ کرزاہد بنے ۔
۱۔مجمع البحرین میں مادّہ "" رھب"" میں یہ حدیث آ ئی ہے اور نھا یہ ابن ِ اثیر میں بھی بیان ہوئی ہے ۔
۲۔بحارالانوار ،جلد ٧٠ ،صفحہ ١١٤( باب نہی از رہبانیت حدیث ١) ۔
۳۔بحارالا نوار ،جلد ٧٠ ،صفحہ ١١٩ حدیث ١٠۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma