٢۔ رہبانیت کاتاریخی سرچشمہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
مسیحیت کی موجود ہ تاریخیں بتاتی ہیں کہ وہ رہبانیت جو موجود ہ شکل میں ہے یہ مسیحیت کے قرونِ اولیٰ میں موجود نہیں تھی وہ اس کی ابتداتیسری صدی میلادی کے بعد امپرا طورروم ریسوس کے ظہوراورمسیح کے پیروکاروں سے اس کی شدید لڑائی کے بعد سے بتاتی ہیں ۔عیسائیوں نے اس امپر اطور(خونخوار )سے شکست کھانے کے بعدپہاڑوں اوربیابانوں میں پناہ لی تھی ( ۱) ۔
اِسلامی روایات میں بھی یہی معانی دقیق شکل میں پیغمبرگرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہیں کہ ایک دن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن ِ مسعود سے فرمایا:
تم جانتے ہو کہ رہبانیت کب پیداہوئی ؟انہوں نے عرض کیا کہ خدا اوراس کاپیغمبربہتر جانتے ہیں ،آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جبّار بن کی ایک جماعت کاظہور ہوااور مؤ منین نے تین مرتبہ ان سے جنگ کی اور شکست کھائی لہٰذا بیابانوں میں جاچُھپے اورموعودعیسٰے علیہ السلام (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور کے انتظار میں پہاڑوں کے غاروں میںعبادت میں مشغول ہوگئے ، ان میں سے بعض اپنے دین پرباقی رہے اور بعض نے کفر کی راہ اختیار کی ،اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:
جانتے ہو میری اُمّت کی رہبانیت کیاہے ؟ عرض کیاخدااور اس کارسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)بہتر جانتے ہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا: الھجرة والجھاد والصّلوٰة والصوم والحج والعمرة میری اُمّت کی رہبا نیت ، ہجرت ،جہاد ،نماز ، روزہ ،حج اورعمرہ ہے (۲) ۔
مشہور عیسائی مؤرّخ ویل دورانت اپنی مشہور تاریخ کی جلد ١٣ میں ایک تفصیلی بحث راہبوں کے بارے میںدرج کر تاہے اس کانظر یہ ہے کہ راہبوں کے ساتھ راہبوں کامیل جول چوتھی میلادی سے شروع ہوااو ر رہنانیت کامعاملہ روزبروز بڑھتا گیایہاں تک کہ دسویں صدی میلادی میں اپنی انتہا کوپہنچ گیا (۳) ۔
اِس میں شک نہیں کہ اس اجتماعی طورپر ظہور میں آنے والے معاملے کے دُوسرے معاملات کی طرح تاریخی اسباب کے علاوہ نفسیاتی اسباب بھی ہیں ۔ منجملہ ان تمام کے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا جاسکتاہے کہ اصولی طورپر متفرق افراد واقوام کاشکستوں اورناکامیوں کے مقابلہ میں جوردِّ عمل ہے وہ مختلف ہوتاہے ۔بعض گوشہ نشینی اختیار کرلیتے ہیں اور باطن کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اوراپنے آپ کواجتماعی مصروفیتوں سے بے تعلق کرلیتے ہیں ، جب کہ دوسراگروہ شکست سے استقامت کادرس لیتاہے اوراپنے اندرزیادہ صلابت اورثابت قدمی پیدا کرلیتاہے ۔پہلا گروہ رہبانیت یااسی قسم کی کسِی صُورت ِ حال کواختیار کرلیتاہے اوردوسراگروہ زیادہ اجتماعی ردّ ِ عمل پیش کرتاہے ۔
۱۔دائرة المعارف قرن بیتم مادہ "" رھب""
۲۔تفسیر "" مجمع البیان "" جلد ٩،صفحہ ٢٤٣ (تھوڑے سے خلاصہ کے ساتھ ) تفسیر درالمنثور میں اس کے مقابل ایک اورحدیث نقل ہوئی ہے (جلد ٦ ،صفحہ ١٧٧) ۔
۳۔ تاریخ "" ویل دورانت "" جلد ١٣ ،صفحہ ٢٤٣۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma