٤۔ انجیل یااناجیل

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

انجیل اصل میں ایک یونانی لفظ ہے ،اس کے معنی ہیں بشارت یاجدید تعلیم اوریہ اس کتاب کانام ہے جوحضرت عیسیٰ علیہ السلام پرنازل ہوئی ، یہ لفظ بارہ مرتبہ قرآن مجید میں اسی معنی میں استعمال ہواہے اورہرجگہ مفرد کی شکل میں ہے لیکن قابل ِتوجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو چیز انجیل کے نام سے مشہورہے وہ بہت سی کتابوں کامجموعہ ہے جنہیں اناجیل سے تعبیر کیاجاتاہے ۔ان میں سے مشہور چار انجیل ہیں ، لوقا مرقس متی یوحنا۔
عیسائیوں کانظر یہ ہے کہ چارانجیلیں اصحابِ مسیح یاان اصحاب کے شاگردوں میں سے چار افراد کے زریعہ تحریر کی گئی ہیں ۔ان کی تالیف کی تاریخ حضرت مسیح علیہ السلام کے ٣٨ سال بعد سے لے کرتقریباًایک صدی بعد تک پہنچتی ہے ۔اس بناپر مسیح علیہ السلام کی اصل کتاب ایک آسمانی کتاب کی حیثیت سے مستقل طورپر پردہ خفا میں چلی گئی ہے ۔صِرف اس کے بعض حصّے جوان چاروں افراد کے حافظے میں رہ گئے تھے ان کے اپنے افکار کی آمیزش کے ساتھ ان چاروں انجیلوں میں تحریر ہوئے ہیں، اِس عنوان پرزیادہ تفصیلی بحث ہم سورہ آل عمران کی آیت ٣میں پیش کرچکے ہیں ( ۱) ۔
 ۱۔ تفسیر نمونہ ،جلد ٢ ، صفحہ ٢٤١ سے آگے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma