ظہار زمانہ ٔ جاہلیّت کاایک قبیح عمل

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
جوکچھ شانِ نزول کے سلسلہ میں عرض کیاگیاہے اسے اور آ یات زیرِ بحث کے نفسِ مضمون کوپیش ِ نظر رکھتے ہوئے اس سورہ کی ابتدائی آیات کی تفسیر واضح ہوگئی ہے ۔پروردگار ِ عالم فرماتاہے:
خدا نے اس عورت کاقول سُنا جس نے اپنے شوہر کے بارے میں تجھ سے رجوع کیاتھا اوربحث وتکرار کرتی تھی ،اس کی التجا کوقبول کیا (قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتی تُجادِلُکَ فی زَوْجِہا ) تجادل کے مادہ سے ہے جس کے اصلی معنی رسی بٹنے کے ہیں ۔چونکہ طرفین اصرار آمیز گفتگو کے موقع پریہ چاہتے ہیں کہ دوسرے کوخاموش کردیں لہٰذا اس پر مجادلہ کااطلاق ہواہے اس کے بعد مزید فرماتاہے وہ عورت ،اس کے علاوہ کہ تجھ سے مجادلہ کرتی تھی ،اس نے خدا کی بارگاہ میں شکایت بھی کی اورحل مشکل کی استدعا بھی کی (وَ تَشْتَکی ِلَی اللَّہِ)یہ اس حالت میں تھاکہ جب خداتمہاری گفتگو اوراس عورت کے اصرار کوسُن رہاتھا( وَ اللَّہُ یَسْمَعُ تَحاوُرَکُما) ۔ اورخداسُننے اور دیکھنے والاہے ( ِانَّ اللَّہَ سَمیع بَصیر) ۔جی ہاں!خداتمام مسموعات ومبصرات سے ، بغیر اس کے کہ بینائی وسماعت کے اعضاء کامحتاج ہو، آگاہ ہے ہے ،وہ ہرجگہ حاضر وناظر ہے اورہر چیز کودیکھتاہیاورہر بات کوسُنتاہے ۔ اس کے بعد ظہار کے حکم کی طرف رجوع ہے اورتمہید کلام کے طورپر اس بے ہودہ نظر یہ کوجڑ سے اُکھاڑ بھینکنے کے لیے مختصر مگر قاطع جُملے ارشاد فر ماتاہے: تم میں سے وہ لوگ جواپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان سے کہتے ہیں : (انت علیّ کظھرامّی ) تو میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہے وہ ہرگز ان کی مائیں نہیں ہیں ۔ ان کی مائیں توصرف وہی ہیں جنوں نے انہیں جنا ہے (الَّذینَ یُظاہِرُونَ مِنْکُمْ مِنْ نِسائِہِمْ ما ہُنَّ أُمَّہاتِہِمْ ِنْ أُمَّہاتُہُمْ ِلاَّ اللاَّئی وَلَدْنَہُم) ماں اور بیٹا ہوناایسا نہیں ہے جوصِرف الفاظ سے درست ہوجائے وہ تو ایک ظاہر ہونے والی حقیقت ِ واقعی ہے جوکسِی صُورت میں بھی الفاظ کے ساتھ کھیلنے سے حاصل نہیں ہوتی ،اِس بناء پر اگرکوئی انسان سومرتبہ بھی اپنی بیوی سے کہے کہ تُو میری ماں کی طرح ہے تووہ ماں کی حیثیت اختیار نہیں کرسکتی ۔ یہ محض ایک فضول بات ہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے، وہ ایک بُری اورقبیح بات کہتے ہیں ۔ اوران کاقول باطل وبے بُنیاد ہے (ْ وَ ِنَّہُمْ لَیَقُولُونَ مُنْکَراً مِنَ الْقَوْلِ وَ زُورا) (١) ۔
١۔ زور اصل میں سینے کے اُوپروالے حصّہ کاٹیڑھا اورجُھکا ہوہوناہے ۔ یہ منحرف ہونے کے معنی میں بھی آ یا ہے اور چونکہ جھوٹی بات اور باطل گفتگو حق سے انحراف رکھتی ہے لہٰذا اسے زور کہتے ہیں ۔ اسی بناپر یہ لفظ بت کے لیے بھی بولاجاتاہے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ اس بات کاکہنے والاقصدِ اخبار نہیں رکھتا بلکہ اس کامقصود انشاء ہے وہ چاہتاہے کہ اس جملے کوصیغہ طلاق کادرجہ دے لیکن اس جملہ کانفسِ مضمون ٹھیک منہ بولنے بیٹے جیسی خرافات کی طرح بے بنیاد ہے ،جوزمانہ ٔ جاہلیّت کی ایک رسم تھی کہ کسِی بچّے کواپنا بیٹا کہہ دیتے تھے اور پھر اس پراحکام ِ پسر جاری کرتے تھے ، جس کی قرآن نے مذمّت کی ہے اوراسے باطل و بے بنیاد بات قرار دیاہے:(ذلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِأَفْواہِکُمْ) یہ ایسی بات ہے جسے تم صرف اپنے منہ سے کہتے ہو ۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے (احزاب، ٤)اس آ یت کے مطابق ظہار ایک منکر اورحرام عمل ہے لیکن چونکہ تکلیف ِ شرعی گزشتہ اعمال سے تعلق نہیں رکھتی اوراس کااطلاق نزول کے وقت سے ہوتاہے لہٰذاآ یت کے آخری میں فرماتاہے : خدامعاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے ( وَ ِانَّ اللَّہَ لَعَفُوّ غَفُور)بناء پر اگرکوئی مسلمان ان آ یات کے نزول سے پہلے اس عمل کامرتکب ہواہے تواسے پریشان نہیں ہونا چاہیئے ،خدااسے بخش دے گا،بعض فقہا اورمفسّرین کانظر یہ یہ ہے کہ اب بھی ظہار ایک گناہ ہے ،گناہانِ صغیرہ کے مانند ہے بخشاہوا ،خُدا نے جس کے بارے میں گناہان ِ کبیرہ کے ترک کی صُورت میںعفو کاوعدہ کیا ہے (٢) ۔
٢۔ کنزالعرفان جلد ٢ ،صفحہ ٢٩٠ ۔ المیزان میں بھی انہی معانی کی طرف اشارہ ہے ۔
لیکن اس مفہوم پرکوئی دلیل موجودنہیں ہے اوراُوپر والا جُملہ اس امر پر گواہ نہیں بن سکتا ۔بہرحال کفار ے کامسئلہ اپنی پُوری قوّت کے ساتھ باقی ہے ۔حقیقت میں یہ تعبیر اس کے مشابہ ہے جوسُورہ احزاب کی آ یت ٥ میں آ یاہے جہاں منہ بو لے بیٹے کے مسئلہ کی نفی کرنے کے بعد مزید فرماتاہے:(وَ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُناح فیما أَخْطَأْتُمْ بِہِ وَ لکِنْ ما تَعَمَّدَتْ قُلُوبُکُمْ وَ کانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحیماً )اس غلطی کاتم پر کوئی گناہ نہیں ہے جواس موضوع پر تم سے سرزد ہوئی ہے لیکن جو کچھ تم عمداً کہو تو خدااس پر مواخذہ کرتاہے اورخدا غفو روحیم ہے (گزشتہ بے راہ روی کے بارے میں ) عفور گناہ کی پردہ پوشی کی طرف ، کیونکہ ہوسکتاہے کہ کوئی کسی کے گناہ کوتو بخش دے لیکن اس کوچھپائے ہرگز نہیں ،لیکن خدا بخشتا بھی ہے اور چھپاتابھی ہے ۔بعض مفسرین نے غفران کے معنی یہ لیے ہیں کہ کسِی شخص کوعذاب سے چُھپالیا جائے جس کامفہوم عفوسے مختلف ہے اگرچہ نتیجہ ایک ہی ہے ۔چونکہ یہ قبیح اورتکلیف وہ گفتگو کوئی ایسی چیز نہیں تھی کہ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کی کوئی پرواہ نہ کی جائے لہٰذا اس کا کفّار ہ نسبتا سنگین قرار دیاگیاہے تاکہ اس کی تکرار کاسِدّ باب کیاجائے ۔فرماتاہے: وہ لوگ جواپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں اورپھروہ اپنی کہی ہوئی بات سے پلٹتے ہیں توانہیں چاہیئے کہ مباشرت سے پہلے ایک غلام آزاد کردیں(وَ الَّذینَ یُظاہِرُونَ مِنْ نِسائِہِمْ ثُمَّ یَعُودُونَ لِما قالُوا فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا )پھر اپنے کہے سے( ثُمَّ یَعُودُونَ لِما قالُوا)پلٹتے ہیں کہ جملے کے بارے میں کئی احتمال پیش کیے گئے ہیں فاضل مقدار نے کنزالعرفان میںاس کی چھ تفسیر یں نقل کی ہیں ،لیکن اس کاظاہر (خصوصاً مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا پرتوجہ کرتے ہوئے ) یہ ہے کہ وہ اپنے کلام پر نادم ہوتے ہیں اور گھر یلوزندگی اورجنسی آمیزش کی طرف پلٹنے کاارادہ رکھتے ہیں ۔ روایات آئمہ اہل بیت علیہم السلام میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ ہے ( ٣) ۔
٣۔ مجمع البیان در ذیل آ یات ِ محل ِبحث ۔
اس جملہ کی اورتفسیر یں بھی کی گئی ہیں لیکن وہ آ یت کے معانی کے ساتھ چنداں مناسبت نہیں رکھتیں ۔مثلا یہ کہ عود سے مراد ظہار کی تکرار ہے ۔ یا یہ کہ عود سے مراد ایسے مواقع پرزمانہ ٔ جاہلیت کے طریقوںپر عمل کرناہے ، یایہ کہ عود اس عمل کے تدارک اورتلافی کے معنوں میں ہے اوراسی قسم کے دیگر احتمالات ( ٤) رقبہ اصل میں گردن کے معنوں میں ہے لیکن یہاں انسان کاکنایہ اس بناپر ہے کہ گردن دیگر اعضائے بدن کے مقابلہ میں زیادہ حسّاس سمجھی جاتی ہے کبھی لفظ راس بھی کہا جاتاہے اوراس سے مُراد انسان ہوتاہے مثلاً پانچ افراد کی جگہ پانچ راس کہاجاتاہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے : یہ ایک دستور ہے جس کا تمہیں وعظ کیاگیاہے (ذلِکُمْ تُوعَظُونَ بِہِ)یہ گمان نہ کرنا کہ ظہار کے سلسلہ میں اس قسم کاکفّار ہ غیر معتدل ہے ۔کیونکہ یہ پندر نصیحت ،بیداری اورتمہارے نفوس کی تربیّت کاسبب ہے تاکہ اس قسم کے حرام کاموں کے سلسلہ میں تم اپنے نفوس کوقابو میں رکھ سکو ۔ اصولی طورپر تمام کفّارے تربیّتی پہلو رکھتے ہیں ۔ اکثر اوقات وہ کفّارے جومالی حیثیت رکھتے ہیں ان کی تاثیر تعزیرات کے مقابلہ میں جوبدنی حیثیت رکھتی ہیں ، کہیں زیادہ ہوتی ہے ۔ اور چونکہ اس بات کاامکان تھا کہ بعض افراد مختلف بہانوں سے کفّار ے سے جان چھڑا ئیں گے اور ظہار کے بعد بغیر کفّارہ اداکیے اپنی بیوی سے جنسی آمیزش رکھیں گے آیت کے آخر میں فر ماتاہے : خدااس سے جو تم انجام دیتے ہوآگا ہ ہے ( وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیر) ۔ظہار سے بھی آگاہ ہے اور کفّار ہ نہ دینے سے بھی اورتمہاری نیّتوںسے بھی ۔ اورچونکہ ایک غلام کاآزاد کرناتمام افراد کے لیے ممکن نہیں جیساکہ ہم نے آ یت کی شان ِ نزول میں دیکھاہے ، اوس بن صامت جس کے بارے میں آ یت نازل ہوئی ہیں اس نے پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خد مت میں عرض کیاکہ میں کفّارہ اداکرنے سے قاصر ہوں اور اگرایساکروں گا توتمام پونجی کوگنوادوں گا ،یہ بھی ممکن ہے کہ انسان مالی اعتبارسے توغلام کے آزاد کرنے کی قدرت رکھتا ہولیکن اسے کوئی غلام دستیاب نہ ہو جیساکہ ہمارے زمانہ میں ہے ۔ اس لیے اسلام کے دین ِ جاودانی ہونے کاتقاضا یہ ہے کہ بعد کے مرحلہ میں غلاموں کے آزاد کرنے کاکوئی نعم البدل مذکورہ ،ہواس لیے بعدوالی آ یت میں فر ماتاہے : جوشخص غلام آزاد کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہوتو جنسی آمیزش سے پہلے دوماہ مسلسل روزے رکھے (فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیامُ شَہْرَیْنِ مُتَتابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا) ۔ اس قبیح عمل کوروکنے کے لیے یہ کفّارہ بھی ایک گہرااثر رکھتاہے ۔علاوہ ازیں چونکہ روزہ رُوح کی صفحائی اور تہذیبِ نفس کاباعث ہے لہٰذا اس قسم کے اعمال کے اعادہ کاسدِّ باب کرسکتاہے ۔ البتہ ظاہر آ یت تو یہ ہے کہ روزے ساٹھ دن تک مسلسل رکھے جائیں ۔ بہت سے فقہائے اہل سُنت نے بھی اسی کے مطابق فتویٰ دیاہے لیکن آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی روایتوں میں آ یاہے کہ اگر دوسرے مہینے میں سے کچھ دن حتّی کہ ایک دن بھی پہلے مہینے کے تسلسل کے ساتھ روزہ رکھ لے توشہرین متتابعین یعنی مسلسل دوماہ کاتقاضا پورا ہوجائے گا اور یہ تصریح ظہورِ آ یت پر حاکم ہے ( ٥)
٤۔ کنز العرفان جلد ٦ ،صفحہ ٢٩٠ ومجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٤٧ کی طرف رجوع کیاجائے ۔
٥۔ وسائل اشیعہ جلد ٧ صفحہ ٢٧١ سے رجوع فرمائیں (باب ٣ ازابواب بقیة الصوم الواجب) ۔
یہ چیز بتاتی ہے کہ مذکورہ بالا آ یت میں اور سورئہ نساء کی آ یت ٩٢ میں (کفار ہ قتل خطا) تتابع سے مُراد فی الجُملہ پے درپے ہوناہے ۔ البتہ اس قسم کی تفسیر صرف امام معصوم سے سننے میں آ ئی ہے جوعلوم ِ پیغمبر، کاوارث ہے اوراس قسم کے روزے رکھنا مکلفین کے لیے آسانی کا باعث ہیں( اس موضوع کے بارے میں مزید تفصیل کتاب الصوم اورابواب ظہار وکفارہ قتل خطامیں ملاحظہ کی جاسکتی ہے (فمن لم یجد)کے جملے سے مراد یہ ہے کہ وہ ضروریات ِزندگی سے زائد کوئی چیز نہ رکھتا ہوجس سے غلام خرید کرآزاد کرسکے ، اور چونکہ بعض لوگ دوسرے کفّار ے یعنی مسلسل دوماہ روز ے رکھنے پر بھی قادر نہیں ہیں لہٰذا ایک اور متبادل کاذکرکرتے ہوئے فر ماتاہے: جب کوئی دوماہ تک مسلسل روزے نہ رکھ سکتاہو تو ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے( فَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَِطْعامُ سِتِّینَ مِسْکیناً ) ۔ اطعام کے معنی یہ ہیں کہ ایک مرتبہ اتنی غذا دے کہ کھانے والا سیرہوجائے لیکن اسلامی روایات میں ایک مدطعام (ایرانی من کا چوتھا حصّہ یاتقریبا٧٥٠گرام معین ہواہے)جب کہ بعض فقہانے اسے دو مد(ڈیڑ ھ کلو) قرار دیاہے(٦) ۔
٦۔ہمارے فقہا کے درمیان ،جیساکہ ہم نے کہا ہے ،مشہور وہی ایک مد ہے اوراس کی دلیل بہت سی روایات ہیں جو شاید حدِ تواتر میں ہوں جن میں سے بعض قتل خطا کے کفارے کے بارے میں اور بعض قسم کے کفارے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور بعض ماہِ مبارک رمضان کے کفّارے کے بارے میں ، اِس ضمیمہ کے ساتھ کہ فقہا میں سے کسی نے کفاروں کی اقسام میں فرق نہیں رکھا لیکن مرحوم شی طوسی سے خلاف ، مبسوط ، نھایة اور تبّیان میں منقول ہے کہ اس کی مقدار دومد ہے اوراس سلسلہ میں ابوبصیر کی روایت سے استد لال کیاہے جوکفّارِۂ ظہار کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہے اوراس کی مقدار دو مد معین کرتی ہے لیکن یہ روایت یاتو کفّارِ ظہار سے مخصوص ہونی چاہیئے یااگر ہم قبول کرلیں کہ فقہا کفاروں کے درمیان فرق کے قائل نہیں ہوئے جیساکہ واقعی ایساہے توپھر اسے استحباب پر محمول کرناچاہیئے ۔
اس کے بعد آ یت کے آخرمیں ایک مرتبہ پھر اس قسم کے کفاروں کے اصل مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فر ماتاہے: یہ اس لیے ہے کہ تم خدااوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پریمان لے آؤ (ذلِکَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ ) ۔ جی ہاں !کفّاروں کے ذ ریعہ گناہوں کی تلافی ایمان کے ستونوں اور اس کی بنیاد وں کو مضبوط کرتی ہے اورانسان کو مقدرات ِ الہٰی کا علماء پابند کرتی ہے آ یت کے آخر میں اس کے پیش ِ نظر کہ تمام مسلمان اس مسئلہ کوایک پُختہ امر کے طورپر قبول کریں ، فر ماتاہے: یہ احکام ِ خداکی حدود ہیں جوخدا کی مخالفت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں اور کافر ہوجائیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے (وَ تِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ وَ لِلْکافِرینَ عَذاب أَلیم) ۔ یہ بات پیش نظررکھنی چاہیئے کہ لفظ کفر کے مختلف معانی ہیں جن میں سے ایک کفر عملی ہے یعنی معصیت وگناہ ہے اور زیربحث آ یت میں یہی معنی مُراد ہیں جیساکہ سورہ آل ِ عمران کی آ یت ٩٧ میں ان لوگوں کے بارے میں جوفریضۂ حج بجالاتے ہیں فرماتاہے:(وَ لِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطاعَ ِلَیْہِ سَبیلاً وَ مَنْ کَفَرَ فَانَّ اللَّہَ غَنِیّ عَنِ الْعالَمین)لوگوں پر لازم ہیکہ جواستطاعت رکھتے ہیں وہ خدا کے لیے اس کے گھر کاارادہ کریں اور جوشخص کفر کرے (اورحج کوچھوڑدے)اس نے اپنے اُوپر ظلم کیاہے اوراللہ عالمین سے بے نیاز ہے حد اس چیز کے معنوں میں ہے جو دوچیزوں کے درمیان مانع ہے ۔ اسی لیے مختلف ملکوں کی سرحدوں کوحدُود کہاجاتاہے، احکام ِ الہٰی کواس لیے حدود کہتے ہیں کہ ان کوعبور کرناجائز نہیں ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید تشریح پہلی جلد سُورہ بقرہ آ یت ١٨٧ کے ذیل میں ہم پیش کرچکے ہیں ۔
null
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma