بعض احکام ِ ظہار

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
١۔ظہار کی رسم جس طرف قرآن مجید کی دوآیتوں میں (زیربحث آ یت اور سورئہ احزاب آ یت ٤) اشارہ ہواہے ،زمانہ ٔ جاہلیّت کے قبیح کاموں میں سے تھی ۔ جب کوئی مرد اپنی بیوی سے اکتاجاتاتو اس غرض سے کہ عورت کوتنگ کرے یہ کہہ دیتاکہ (انت علیّ کظہرا مّی)تُو میرے لیے میری مان کی طرح ہے (٧) ۔
٧۔ ظھر مندرجہ بالا عبارت میں جیساکہ بعض مفسّرین نے لکھاہے پُشت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کنایہ ہے اس رابط کاجو زوجیت کی وجہ سے حاصل ہوتاہے ۔ اس وجہ سے اس جملہ کے معنی یہ ہوں گے (تجھ سے زوجیت والا رابط اپنی ماں سے رابطے کی طرح ہے ) لسان العرب مادہ ظہر اورتفسیر خوارزمی کی طرف رجوع فرمائیں ۔
اس کے بعد وہ یہ سمجھتا تھاکہ عورت اس پرہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی یہاں تک کہ وہ دوسرا شوہر بھی نہیں کرسکتی تھی ۔ اس طرح وہ عضومعطل ہوکررہ جاتی ۔ اسلام نے اس اقدام کو،جیساکہ ہم نے دیکھا ہے ،غلط قراردیا اوراس کے بارے میں کفّارہ کاحکم صادر کیا۔لہٰذا اگرکوئی مرد اپنی بیوی سے ظہار کرے تو اس کی بیوی حاکم ِ شرعی سے رجوع کرکے اس مرد سے یاتو طلاق حاصل کرسکتی ہے یااسے ازدواجی زندگی کی طرف پلٹ جانے کا پابند بناسکتی ہے ۔لیکن ازدواجی زندگی کوبحال کرنے سے پہلے وہ کفّارہ جومندرجہ بالاآ یات میں ہم نے پڑھاہے اس مرد کواداکرنا ہوگا۔یعنی استطاعت کی صُورت میں غلام آزاد کرے اور اگرایسانہ کرسکے تومسلسل دومہینے تک روزے رکھے اوراگر اس کی بھی مقدرت نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے اس طرح یہ کفّارہ اصلاح وتربیّت کاکام کرتاہے ۔
٢۔ظہار گناہان ِکبیرہ میں سے ہے اور مندرجہ بالا آ یات کالب ولہجہ اس پر گواہ ہے ۔ یہ جوبعض فقہانے اسے صفائرمیں شمارکیاہے اوروہ اسے قابل ِ معافی سمجھتے ہیں یہ درست نہیں ہے ۔
٣۔ اگرکوئی شخص کسی قسم کابھی کفّارہ اداکرنے کی قدرت نہیں رکھتا توکیاصرف توبہ واستغفارپراکتفاکرسکتاہے اور ازدواجی زندگی کی طرف پلٹ سکتاہے ؟ فقہا کے درمیان اس میں اختلاف ہے ۔ ایک جماعت اس حدیث پرانحصار کرتے ہوئے جوامام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے (٨) ۔
٨۔ وسائل الشیعہ جلد ١٥ ،صفحہ ٥٥٤( حدیث ١ باب ٢) ۔
اس نظر یہ کی حامل ہے کہ دُوسرے کفاروں کے سلسلہ میں توعدم استطاعت کی صُورت میں تو بہ کفایت کرسکتی ہے لیکن کفارۂ ظہار میں کفایت نہیں کرتی ،لہٰذا اطلاق کے ذریعہ انہیں ایک دوسرے سے الگ کیاجائے ، ایک دوسری جماعت کانظر یہ یہ ہے کہ یہاں توبہ واستغفار کفّارہ کا بدل ثابت ہوں گے اوروہ اس کی دلیل ایک اورروایت سے پیش کرتے ہیں جوامام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے(٩) ۔
٩۔ وسائل الشیعہ صفحہ ٥٥٥(حدیث ٤) ۔
بعض کایہ بھی نظر یہ ہے کہ بصُورتِ استطاعت اٹھا رہ دن کے روزے کافی ہیں(١٠) ۔
١٠۔کنزالعرفان جلد ٢،صفحہ ٢٩٢۔
مذکورہ روایتوں کوایک جگہ جمع کرنابھی ممکن ہے ،اس طرح سے کہ ہرطرح کے عدمِ استطاعت کی صورت میں ازدواجی زندگی کی طرف پلٹا جاسکتاہے ۔ اگر چہ مستحب ہے کہ ایسی صورت میں طلاق دے کربیوی سے الگ ہوجائے (کیونکہ اس قسم کی جمع دونوں احادیث کے معتبر ہونے کی صُورت میں ایک واضح جمع ہے اور فقہ میں اس کی بہت سی نظائر ہیں) ۔
٤۔بہت سے فقہاکانظر یہ ہے کہ اگرکئی مرتبہ ظہار کرے (یعنی مذکورہ جملے کی شدّتِ قصد کے ساتھ تکرار کرے توپھراسے اتنے ہی کّفارے دینے ہوں گے ،خواہ ایک ہی دفعہ تکرار صُورت پذیر ہومگر یہ کہ تکرار سے اس کا مقصد صرف تاکید ہونہ کہ نیاظہار۔
٥۔ جب کفّارے ادا کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے جنسی اختلاط کرے ،تووہ کفّارے دینے ہوں گے ،ایک کفارہ ظہار کا اور دوسراکفّارہ ظہار کاکفارہ اداکرنے سے پہلے جنسی اختلاط کا، اس حکم پرفقہا کے درمیان اتفاق رائے ہے البتہ مذکورہ آیات اس کے بارے میں خامو ش ہیں لیکن روایات ِ اہلبیت میں اس کی طرف اشارہ ہواہے (١١) ۔
١١۔ وسائل الشیعہ جلد ١٥ ،صفحہ ٥٢٦(حدیظ١،٣،٤،٥،٦) ۔
٦۔ ظہار کے بارے میں اِسلام کاواضح اورقطعی طرزِ عمل اس حقیقت کوپیش کرتاہے کہ اسلام اس امر کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ خود غرض مرد ظالمانہ رسم ورواج سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے عورت کے حقوق کوپامال کریں، بلکہ وہ ہراِس غلط اور بے ہودہ رسم ورواج کوجولوگوں میں رائج ہو،خواہ وہ کتنا ہی مضبُوط مستحکم کیوں نہ ہو ،ختم کرتاہے ۔
٧۔ ایک غلام کوآزاد کرناجوظہار کاپہلا کفّارہ ہے علاوہ اس کے کہ وہ خُود غرض مردوں کے چنگل میںپھنسی ہوئی عورت کی غلامی اور کنیزی کے ساتھ ایک ایک پُرکشش مناسبت رکھتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتاہے کہ اسلام چاہتاہے کہ تمام ممکنہ طریقوں سے غلامی کی رسم کوختم کرے لہٰذا نہ صِرف کفّارۂ ظہار میں بلکہ قتل خطا کے کفّارے میں،اسی طرح ماہ ِ رمضان کے روزے کے کفّارے میں ، (جس نے عمداً روزہ رکھاہو)،اسی طرح قسم کی مخالفت کے کفّارے میںیانذر توڑ نے کے بارے میں یہی آمر وارد ہواہے جو غلاموں کی اصلی آزادی کوعملی حیثیت سے حقیقی بنانے کاخود ایک مؤثر ذریعہ ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma