مجالس میں پہلے آنے ولوں کااحترام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
اس حکم کے بعد جوگزشتہ آ یات میں مجالس میں سرگوشی ترک کرنے اوراسے مخصوص مواقع تک محدُود کرنے کے سلسلہ میں آ یاتھا اس آ یت میں ایک اورمجلسی آدب کوبیان کرتے ہوئے فر ماتاہے:
اے ایمان لانے والو!جس وقت تم نے کہا جائے کہ مجلس کووسعت دو اورانئے آنے لواں کوجگہ دوتواس کی اطاعت کرو(یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا قیلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوا فِی الْمَجالِسِ فَافْسَحُوا) (١) ۔
١۔ تفسحوا اور فافسحواکی دو تعبیروں کافرق جن میں سے ایک باب تفعل سے ہے اوردُوسری باب ثلاثی مجرد سے ہے شاید اس وجہ سے ہوکہ پہلی ایک قسم کے تکلّف کی حامل ہے اور دوسری اس سے خالی ہے یعنی جب کہنے والا زحمت کرتے ہوئے کہے کہ نوداروکوجگہ دوتووہ زحمت کااحساس کئے بغیر جگہ دیں(غورکیجئے) ۔
اگرایسا کروگے توخدا تمہاری جگہ کو جنّت میں وسعت بخشے گا اوراس جہان میں بھی تمہارے دل وجان اوررزق میں وسعت دے گا ، ( یَفْسَحِ اللَّہُ لَکُم) ۔ تفسحوافسح(بروزن قفل)کے مادّہ سے ہے اوروسیع مکان کے معنی میں ہے ۔ اس بناپر تفسہ وسعت دینے کے معنی میں ہے اوراسے آدابِ مجلس میں شامل سمجھنا چاہیئے ۔ جس وقت کوئی نیاشخص مجلس میں وارد ہوتوحاضرین قریب قریب ہوجائیں اوراس کوجگہ دے دیں تاکہ وہ پریشان اورنادم نہ ہو ۔ یہ موضوع محبت اور دوستی کے رشتوں کومحکم کرنے کے وسائل میں سے ہے کہ قرآن مجید ، جوعظیم آسمانی کتاب ہے اورمسلمانوںکے بنیادی قانون ن کی حیثیت رکھتاہے،اس نے اخلاقی مسائل اورمسلمانوںکی اجتماعی زندگی کی بہت سی جزئیات کوبھی نظر انداز نہیں کیا۔ اس نے اہم اور بُنیادی قوانین کے ذیل میں بھی ان جزئیات کی طرف اشارہ کیاہے تاکہ مسلمان یہ تصوّر نہ کریں کہ ان کے لیے صرف کُلّی اصولوں کاپابند ہوناہی کافی ہے (یفسح اللہ لکم) خدا تمہیں وسعت بخشے گا کے جملے کی مفسّرین کی ایک جماعت نے یہ تفسیر کی ہے کہ جنّت کی مجالس کوسعت دی جائے گی ۔یہ وہ اَجر ہے جوخدا ان افراد کودے گا جواس جہان میں آداب ِمجلس کوپیش نظر رکھتے ہیں ۔چونکہ آ یت مطلق ہے اوراس میں کوئی قید وشرط نہیں ہے لہٰذا اس کامفہوم وسیع اورخدا کی طرف سے ہرقسم کی وسعت بخشنے پرحاوی ہے اوروہ وسعت جنت میں ہو یادنیامیں ، رُوح وفکر میں ہو یاعمر اورزندگی میں ،مال متال میں ہو یا رزق میں ، یہ سب کااحاطہ کیے ہوئے ہے ،فضل ِ خدا سے یہ بعید نہیں ہے کہ اس قسم کے چھوٹے سے کام کے صلہ میں وہ اس طرح کاعظیم اَجر عطاکردے ۔
کیونکہ اَجر کی مقدار اس کے گرم پر منحصر ہے نہ کہ ہمارے اعمال پر اور چونکہ کبھی مجلس کی یہ کیفیّت ہوتی ہے کہ کچھ افراد کے اُٹھے بغیر دوسروں کے لیے جگہ نہیں بنتی ، یااگر ہوتوان کی ضرورت کے مطابق نہیں ہوئی لہٰذا آیت کوجاری رکھتے ہوئے مزید فرماتاہے:
جس وقت تم سے کہاجائے کہ اُٹھ کھڑے ہو، تو اُٹھ کھڑے ہو( وَ ِاذا قیلَ انْشُزُوا فَانْشُزُوا) (٢) ۔
٢۔ انشزوا نشز(بروزن نصر)کے مادّہ سے ہے جس کے معنی بلند زمین کے ہیں ۔ اس لیے یہ لفظ اُٹھنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ناشزہ اس عورت کوکہتے ہیں جواپنے آپ کواس عورت سے بہتر سمجھتی ہوجواپنے شوہر کی اطاعت کرے ۔ یہ الفاظ کبھی زندہ کرنے کے معنی میں بھی آ تاہے کیونکہ یہ چیز کسی کے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہونے کا سبب بنتی ہے ۔
نہ تو بہانے بناؤاورنہ جس وقت اُٹھواس وقت پریشان ہو ۔کیونکہ بعض اوقات نووارد افراد بیٹھنے کے تم سے زیادہ حقدار ہوتے ہیں، زیادہ تھکن کی وجہ سے یاضعیفی کی وجہ سے یاخاص احترام کی بناپر یا اورکسی ایسے ہی سبب کی بناء پر حاضرین کوچاہیئے کہ وہ ایثار سے کام لیں اوراس اسلامی اَدب پرعمل پیراہوں جیساکہ ہم نے شان ِ نزول میں پڑھاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ایک جماعت کو ،جوآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے قریب بیٹھی ہوئی تھی حکم دیا کہ اپنی جگہ ان نو واردوں کودے دوجومجاہدین بدر میں سے ہیں اور علم وفضل کے لحاظ سے دوسروں پر برتری رکھتے ہیں ۔بعض مفسّرین نے اس بناپر کہ انشزوا(اُٹھ کھڑے ہو)یہاں مطلق ہے اس کی زیادہ وسیع معانی پرمبنی تفسیر کی ہے جس میں مجلس سے اُٹھنابھی شامل ہے ۔ اوریہ جہاد کے لیے اُٹھ کھڑے ہونے اور نماز اور دوسرے امورِ خیر کے لیے مستعد ہونے کے معانی پر بھی حاوی ہے ۔لیکن اس سے پہلے جُملے کی طرف توجہ سے ،جس میں فی المجالس کی قید ہے، یہ ظاہر ہوتاہے کہ یہ جملہ بھی اسی شرط کا پابند ہے جس کی تکرار سے ،قرینہ کے موجود ہونے کی بناپر ، پرہیزکیاگیاہے ۔ اس کے بعداس حکم کے اَجر کوبیان کرتے ہوئے مزید فرماتاہے ۔
اگر ایساکرو گے توخداان لوگوںکوجوتم میں سے ایمان لائے ہیں اورعلم سے بہرہ ور ہیں، عظیم درجات بخشے گا (ْ یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ الَّذینَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجاتٍ ) (٣) ۔
٣۔ مندرجہ بالا آ یت میں یرفع اس صیغہ امر کی وجہ سے ہے جواس سے پہلے اورحقیقت میں مفہوم شرط رکھتاہے اوریرفع اس کی جزا کے طورپر ہے ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان قوانین کی اطاعت ایمان وعلم کی دلیل ہے ،نیزاس طرف اشارہ ہے کہ اگر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بعض افراد کو حکم دیاہے کہ اپنی جگہ سے کھڑ ے ہوجاؤ اور نودارو افراد کوجگہ دے دو تو یہ ایک ایسامقدّم مقصود ہے جس کاحکم خداکی طرف سے ہے اور یہ ایمان وعلم میں سبقت کرنے والوں کے احترام کی بناپر ہے ۔ درجات کی تعبیر (نکرہ کی شکل میںاور صیغہ ٔ جمع کے ساتھ )عظیم اوربلند مراتب کی طرف اشارہ ہے جوخدااس قسم کے افراد کوعطاکرتاہے جوعلم وایمان دونوں کے حامل ہوں ۔حقیقت میں وہ لوگ جو نودارو افراد کواپنے پاس جگہ دیتے ہیں ایک درجہ پر فائز ہوتے ہیں اور جوایثار سے کام لیں اوراپنی جگہ ان کودے دیں اورو ہ علم ومعرفت سے بھی بہرہ ور ہوں ،تو ان کے لیے بہت سے درجات ہیں ،اورچونکہ ایک گروہ ان آداب کوخلوصِ دل سے بروئے کار لاتاہے لہٰذا آیت کے آخر میں مزید فرماتاہے : خدااس سے جسے تم انجام دیتے ہوآگاہ ہے (وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیر) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma