چند نکات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
اگرچہ یہ آ یت ایک خاص موقف کو لے کرنازل ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود اس کا ایک عام مفہوم بھی ہے ۔ یہ بتاتی ہے کہ جوچیزیں اِنسان کے رُتبہ کوخدا کی بارگاہ میں بلند کرتی ہیں وہ دو ہیں، ایک ایمان اور دُوسرے علم ، ہمیں معلوم ہے کہ شہید کااسلام میں بلند ترین مقام ہے لیکن اس کے باوجود ایک حدیث پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے :
(فضل العالم علی الشھید درجة وفضل الشھید علی العابد درجة ...وفضل العالم علیٰ سائر النّاس کفضلی علیٰ اداناھم) ۔
عالم شہید سے ایک درجہ بلند ہے اور شہید عابد سے ایک درجہ بلند ہے اورعالم کی فضیلت باقی لوگوں پران میں سے پست ترین کے مقابلے میں میری فضیلت ہے جیسی ہے (٤) ۔
٤۔ مجمع البیان جلد ٩ ،صفحہ ٢٥٣۔
ایک اورحدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے :
(من جائتہ منیتہ وھو یطلب العلم فبیّنہ وبین الانبیاء درجة )
جس کوطالب علمی کے زمانہ میں موت آ جائے اس کے اورانبیاء کے درمیان صرف ایک درجہ کا فاصلہ ہے (٥) ۔
٥۔ مجمع البیان جلد ٩ ،صفحہ ٢٥٣۔
ہمیں معلوم ہے کہ چاندنی راتوں میں خصوصاً مہینے کی چودھویں رات کوجب چاند بالکل مکّمل ہوتاہے ستارے چاند کے نور میں مدھم ہوجاتے ہیں اورلُطف کی بات یہ ہے کہ عالم وعابد کے موازنہ میں ایک اورحدیث میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ :(فضل العالم علی لعابد کفضل القمر لیلة البدر علی سائر الکواکب)
عالم کی عابد پر فضیلت و برتری چوھویں رات کے باقی تمام ستاروں پربرتری کے مانند ہے (٦) ۔
٦۔جوامع الجامع ،مطابق نقل نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٦٤ ۔ قرطبی جلد ٩ صفحہ ٧٤٧٥۔
قابل ِ توجہ یہ بات ہے کہ عابد عبادت انجام دیتاہے جومقصدِ خلقت ِ انسانی ہے لیکن رُوح عبادت معرفت ِ الہٰی ہے ۔لہٰذا عالم ِ عابد پرحد سے زیادہ برتری رکھتاہے ۔چونکہ مندرجہ بالا روایات میں عالم کی عابد کے مقابلہ میں فضیلت وبرتری کے بارے میں آ یاہے اس سے مُراد ان دونوں کے درمیان ایک عظیم فاصلہ ہے اس لیے ایک دوسری حدیث میں ان دونوں کے فرق کے سلسلہ میں ایک درجہ کی بجائے سود رجہ کافرق بیان ہواہے جس میں ہردرجہ کافاصلہ دوسرے درجہ سے تیز رفتار گھوڑ ے کے ستّر سال تک دَوڑ نے کی مقدار کے برابر ہے (٧) ۔
٧۔جوامع الجامع ،مطابق نقل نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٦٤ ۔ قرطبی جلد ٩ صفحہ ٧٤٧٥۔
یہ بھی واضح ہے کہ قیامت میں شفاعت ہرشخص کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ مقربان بارگاہ ِ خداکا مقام ہے لیکن ہمیں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ایک حدیظ ملتی ہے ۔
(یشفع یوم القیامة ثلاثة الانبیاء ثم العلماء ثم الشھدائ) (٨) ۔
قیامت میں تین گروہ شفاعت کریں گے انبیاء ان کے بعد علما اور پھر شہدائ۔
٨۔رُوح المعانی ،جلد ٢٨ ،صفحہ ٢٦ ،قرطبی جلد ٩ ،صفحہ ٦٤٧٠۔
حقیقت میں راہِ خُدا پرچلنا،خوشنودی خُدا کاحاصل کرنا اوراس کے قرب کی توفیق کاحصول دوعوامل کامر ہون ِ منت ہے ایک تو ایمان وعمل ، دوسرے آگاہی وتقویٰ جس میں سے کوئی بھی دُوسرے کے بغیر ہدایت و کامیابی حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے ۔
٢۔ آدابِ مجلس
قرآنِ کریم میں بار ہا اہم مسائل کے ساتھ ساتھ مجالس کے اسلامی آداب کی طرف اشارے ہوئے ہیں ۔ مثال کے طورپر سلام کرنے کے آداب ،دعوتِ طعام کے آداب ،پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ساتھ گفتگو کرنے کے آدابِ ،نو واردو کومجلس میں جگہ دینے کے آداب ،علی الخصوص فضیلت کے حامل افراد اورایمان کی طرف سبقت کرنے والے افراد کومجلس میں جگہ دینے کے آداب(٩) ۔
٩۔یہ احکام ترتیب کے ساتھ درج ذیل آ یات میں آ ئے ہیں ۔سلام کرنے کے آداب سورئہ نساء آ یت ٨٦ ۔دعوت ِ طعام کے آداب سُورہ احزاب ٥٣ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفتگو کرین کے آداب حجرات آ یت ٢ اورمجلس میں جگہ دینے کے آداب زیربحث آیت ہیں ۔
اِس بات سے بخوبی معلوم ہوتاہے کہ قرآن ہرموضوع کے لیے اس کے مقام کے اعتبار سے اس کی اہمیّت کاقائل ہے ۔ اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ انسانی معاشرت کے آداب کچھ افراد کی بے اعتنائی کہ وجہ سے پامال کردیئے جائیں ۔ کتب احادیث میں سینکڑوں روایات پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور آئمہ معصومین سے دوسروں کے ساتھ معاشرت کے آداب کے بارے میںوارد ہوئی ہیں اورمرحوم شیخ حرعاملی نے انہیں کتاب وسائل کی جلد آٹھ بات ١٦٦ میں جمع کردیاہے اورجو جزئیات ان روایات میں ہیں وہ بتاتی ہیںکہ اسلام اس سلسلہ میں کِس حد تک باریک بین اور سخت گیرہے ۔ ان روایات میں بیٹھنے ، بات کرنے ،مسکرانے ،مذاق کرنے ،کھانا کھلانے ،خط لکھنے حتّی کہ دوستوں کی طرف نگاہ کرنے کے بارے میں بھی ہدایت مل جاتی ہیں اور جواحکام ہرموضوع پردیے گئے ہیں ان کا نقل کرناہمیں تفسیر ی بحث کے دائرہ سے خارج کردے گا ۔ہم حضرت علی علیہ السلام کی ایک حدیث پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔
(لیجتمع فی قلبک الا فتقار الی الناس والا ستفناء عنھم یکون افتقارک الیھم فی لین کلامک وحسن سیرتک ویکون استغنائک عنھم نزاھة عرضک وبقاء عزک) ۔
تیرے دل میں لوگوں کے لیے نیاز مندی وحاجت مندی اور بے نیازی وبے احتیاجی دونوںموجود ہونے چاہئیں ۔تیری نیاز مندی وحاجت مندی گفتگو کی نرمی اورحُسنِ سلوک کے ذ ریعہ ظاہرہو اور تیری بے نیازی وبے احتیاجی حِفظِ آبرو اورعزّتِ نفس کے ذریعہ جلوہ گر ہو(١٠) ۔
١٠۔ وسائل الشیعہ ،جلد٨ ،صفحہ ٤٠١۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma