ایک جاذبِ توجہ امتحان

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
گزشتہ آ یات کے ایک حصّہ میں نجویٰ کے بارے میں گفتگو تھی ،زیربحث آیات اسی مفہوم کوجاری وساری رکھتی ہیں اور اس کی تکمیل کرتی ہیں پہلے فرماتاہے:
اے ایمان لانے والو! تم جب چاہو کہ رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرو تواس سے پہلے راہ ِ خدا میں مصدقہ دے دو (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا ناجَیْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقَةً) ۔جیساکہ شان ِ نزول میں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ حکم اس لیے تھا کہ لوگوں کاایک گروہ خصوصاً اغنیاء پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرتے اوران کومصروف رکھتے ، یہ ایسا کام تھا جودوسروں کے لیے غم واندوہ کاباعث بنتا تھا اور نجویٰ کرنے والوں کے لیے سبب ِامتیاز ہوتاتھا۔علاوہ ازیں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے قیمتی وقت کے ضائع ہونے کاسبب بھی بنتا تھا تو مندرجہ بالا حکم نازل ہوا۔ یہ حکم ان کے لیے ایک آزمائش ،حاجت مندوں کے لیے مدد کاباعث اورمذ کورہ زحمتوںکے کم کرنے کاایک مؤ ثر ذریعہ تھا ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے:
یہ تمہارے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے ( ذلِکَ خَیْر لَکُمْ وَ أَطْہَر) ۔صدقہ کااغنیاء کے لیے خیر ہونااس وجہ سے ہے کہ یہ موجب ِثواب تھا اور حاجت مندوں کے واسطے اس لیے کہ ان کی مدد کاذ ریعہ تھا باقی رہااطہر ہونا تو وہ اس وجہ سے تھاکہ وہ اغنیاء کے دلوں سے مال کی محبت کودھوتاتھا اور حاجت مندوں کے دلوں سے کینے اورپریشانی کودُور کرتاتھا ،نجویٰ جب مُفت نہ ہوسکتا اور صدقہ کی ادائیگی کے ساتھ مشروط ہوتا توخُودبخود کم ہوجاتا ،جیساکہ کم ہو الہٰذا یہ چیزمسلمانوں کے فکری اوراجتماعی ماحول کے لیے ایک قسم کی پاکیزہ گی بن گئی ،لیکن اگرنجویٰ سے پہلے صدقہ کاوجوب عمومیت رکھتا توپھر فقراء اہم مسائل یااپنی ضرور تیں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی بارگاہ میں پیش کرنے سے قا صررہ جاتے لہٰذا آ یت کے ذیل میں صدقہ کاحکم اس گروہ سے واپس لیتے ہوئے فرماتاہے:
اور اگراستطاعت نہ رکھتے ہوں توخداغفورالرحیم ہے (ُ فَانْ لَمْ تَجِدُوا فانَّ اللَّہَ غَفُور رَحیم)اس طرح جولوگ مالی اعتبار سے مضبُوط تھے ان کے لیے نجویٰ سے پہلے صدقہ دینا واجب تھا اور جن کی مالی حالت اچھی نہ تھی وہ صدقہ کے بغیر نجویٰ کرسکتے تھے ،قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا حکم نے ایک عجیب تاثیر پیدا کی اورایک عُمدہ آزمائش پیش کی ،ایک شخص کے علاوہ سب نے صدقہ دینے اور نجویٰ کرنے سے پہلوتہی کی اور وہ ایک شخص حضرت علی علیہ السلام تھے یہ وہ مقام تھاکہ جہاں جس چیز کے علاوہ سب نے صدقہ دینے اور نجویٰ کرنے سے پہلو تہی کی اور وہ ایک شخص حضرت علی علیہ السلام تھے ، یہ وہ مقام تھاکہ جہاں جس چیز کی وضاحت اوراس کے نمایاں ہونے کی ضرورت تھی وہ واضح ہوگئی اور جوکچھ مسلمانوں کواس حکم سے سمجھنا چاہیئے تھا اور درس لیناچاہیئے تھا اس کوانہوں نے سمجھا اور درس لیا،لہٰذا بعد والی آ یت نازل ہوئی اوراس حکم کومنسُوخ کردیا اور یہ حکم پیش کیا:
کیاتم ڈرگئے کہ فقیر ہوجاؤ گے جس کی وجہ سے نجویٰ سے پہلے صدقہ دینے سے تم نے احتراز کیا۔(أَ أَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقات)معلوم ہوتا ہے کہ مال کی محبت تمہارے دل میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرنے کے لگاؤسے زیادہ پرکشش اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان سرگوشیوں میں عام طورپر زندگی کے مسائل موضوعِ گفتگو نہیں ہوئے تھے ور نہ کیامانع تھاجولوگ نجویٰ کرنے سے پہلے صدقہ دے دیتے اور پھر نجویٰ کرتے خصوصاً جب کہ صدقہ کے لیے کوئی مقدار بھی مقرر نہیں تھی اور وہ تھوڑی سی رقم سے اس مشکل کوحل کرسکتے تھے پھر مزید فرماتاہے ۔
اَب جب کہ تم نے یہ کام نہیں کیااور خُودتم اپنی کوتاہی کوبھانپ چکے ہو اور خدانے بھی تمہیں معاف کردیاہے اور تمہاری توبہ قبول کرلی ہے ،تو نماز قائم کرو، زکوٰة ادا کر و اورخدااور اس کے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اطاعت کرو اورجان لوکہ جوکچھ تم انجام دیتے ہو خدااس سے باخبر ہے ۔
فَاذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَ تابَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ فَأَقیمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّکاةَ وَ أَطیعُوا اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ اللَّہُ خَبیر بِما تَعْمَلُون) ۔توبہ کی تعبیر بتاتی ہے کہ وہ گزشتہ نجووںمیں گناہ کے مرتکب ہوتے تھے ، خواہ ریاکا ری کی بناپر یاپیغمبر کوتکلیف پہنچا نے کی وجہ سے ،یافقیر مؤ منین کواذیّت دے کر، اگرچہ اس آ یت میں صراحت کے ساتھ گفتگو نجویٰ کے جوازمیں نہیں ہوئی لیکن اس آ یت کی تعبیر یہ بتاتی ہے کہ پہلا حکم اُٹھا لیاگیا۔جہاں تک نماز قائم کرنے ،زکوٰة اداکرنے اورخدا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اطاعت کرنے کا معاملہ ہے تووہ ان امور کی اہمیّت کی بناپر ہے ۔نیزاس طرف اشارہ ہے کہ اگر اس کے بعد گوشی کرو تووہ ان عظیم مقاصد کے حصول کے لیے ہو اورخدا ورسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اطاعت کی راہ میں ہو ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma