١۔ آیہ نجویٰ وصدقہ پرعمل کرنے والا تنہا شخص

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
اکثر شیعہ اوراہل سُنّت مفسّرین نے لکھاہے کہ اکیلاوہ شخص جس نے اس آ یت پرعمل کیاوہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام تھے جیساکہ طبرسی ایک روایت میں خود آنجناب سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:
(ایة من کتاب اللہ لم یعمل بھا احدقبلی ولا یعمل بھااحد بعدی کان لی دینار فصرفتہ بعشرة دراھم فکنت اذاجئت الی النبی تصد قت بدرھم) ۔
قرآن میں ایک ایسی آ یت ہے جس پر نہ مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیاہے اور نہ کوئی میرے بعد عمل کرے گا۔میرے پاس ایک دینار تھا ۔ میں نے اُسیدس درہموں میں تبدیل کرلیا،جس وقت میںچاہتا کہ رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کروں توایک درہم صدقہ میں دے دیتا(١) ۔
فخررازی نے بھی اس حدیث کوکہ وہ اکیلاشخص ، جس نے مندرجہ بالا آ یت پر عمل کیا، حضرت علی علیہ السلام تھے ،محدّثین کی جماعت کے ذ ریعہ ابن ِ عباس سے نقل کیاہے (٢) ۔
فخررازی نے بھی اس حدیث کو کہ وہ اکیلا شخص ، جس نے مندرجہ بالا آ یت پر عمل کیا، حضرت علی علیہ السلام تھے ، محدثین کی جماعت کے ذریعہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ)سے نقل کیاہے(٣) ۔
دُرالمنثور میں بھی متعدد روایات مندرجہ بالا آ یت کے ذیل میں اسی معنی میں آ ئی ہیں (٤ ) ۔
تفسیر رُوح البیان میں عبداللہ ابن عمر بن خطاب سے منقول ہے :
(کان لعلی ثلاث لوکانت لی واحدة منھن کانت احبّ من حمر النعم تزو یجہ فاطمہ واعطائہ الرایة یوم خیبر واٰیة النجویٰ) ۔
حضرت علی علیہ السلام کی تین ایسی فضیلتیں ہیں کہ اگر ا ن میںسے ایک بھی مجھے حاصل ہوجاتی توسُرخ بالوں والے اُونٹوں سے بہتر تھی (یہ تعبیر عربوں میں گراں بہامال کی طرف اشارہ کے لیے استعمال ہوتی ہے اوراسے ضرب المثل کے طورپر کسی چیز کے بہت ہی نفیس ہونے کے بیان کے وقت اِستعمال کرتے ہیں)پہلی فضیلت یہ کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاحضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کی شادی سے ان سے کرنا،دوسرے خیبر کے دن علم ان کوعطا کرنااورتیسری آیة نجویٰ(٥) ۔
١۔طبرسی ،جلد ٢٨ ،صفحہ ١٥۔
٢۔تفسیر البیان فی تفسیر القرآن،جلد ١،صفحہ ٣٧٥ سید قطب نے بھی یہی روایت فی ظلال القرآن ،جلد ٨،صفحہ ٢١ پرنقل کی ہے ۔ 
٣۔تفسیر فخررازی ،جلد ٢٩ صفحہ ٢٧١۔  
٤۔درالمنثور ،جلد ٦ ،صفحہ ١٨٥               ۔٥۔تفسیررُوح البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٤٠٦(اس حدیث کوطبرسی نے مجمع البیان میں، زمخشری نے کشاف میں اور قرطبی نے تفسیر جامع میں زیربحث آ یات کے ذیل میں نقل کیاہے ۔
حضرت علی علیہ السلام کے لیے اس عظیم فضیلت کا ثابت ہونا اکثر کتب تفسیر وحدیث میں آ یاہے اور اس طرح مشہور معروف ہے کہ مزید تشریح کی ضرورت نہیں ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma