٣۔ کیایہ فضیلت تھی ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
س میں شک نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اصحابِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں دولت مندوں کے زمرہ میں داخل نہیں ہے،آپ علیہ السلام کی زندگی سادہ اورزاہدانہ تھی ۔ اس کے باوجود اس حکم ِ الہٰی کے احترام میں اس مختصر سی مدّت میں آپ علیہ السلام نے چند مرتبہ صدقہ دیااور ضروری مسائل نجویٰ کے ذریعہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے رکھے ،اور جیسا کہ ہم نے کہاہے یہ مسئلہ مفسّرین اور ارباب ِ حدیث کے درمیان طے شدہ اورمسلّم ہے لیکن بعض لوگ اس حقیقت کوقبول کرنے کے باوجود اس پراصرار کرتے ہیں کہ اس کے افضل ، ہونے کاانکار کریں ۔وہ منجملہ دیگر باتوں کے یہ کہتے ہیں کہ اگر بزرگانِ صحابہ نے یہ اقدام نہیں کیاتواس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی ،یاان کے پاس کافی وقت نہیں تھا یاوہ خیال کرتے تھے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ فقراء کی تکلیف وپریشانی اوراغنیاء کی وحشت کاسبب نے اس بناپر حضرت علی کرم اللہ وجہ، کے لیے یہ اقدام کسِی فضیلت اور دوسروں سے سلب ِ فضیلت کاسبب نہیں ہے ) (١) ۔
لیکن انہوں نے دوسری آ یت کے متن پرغور نہیں کیاجس میں خداسر زنش کے عنوان سے فر ماتاہے :(أَ أَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقات) کیاتم فقر وفاقہ سے ڈر گئے ہواور تم بُخل کیاہے جونجویٰ کے لیے صدقہ نہیں دیا ۔یہاں تک کہ آ یت کے ذیل میں توبہ کاذکر آ تاہے جوواضح طورپر ان معانی پردلالت کرتاہے کہ صدقہ دے کرپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کااقدام کرناایک پسندیدہ کام تھاور نہ تو بہ اور سرزنش کی ضرورت نہ ہوتی ۔ اس میں شک نہیں کہ اصحابِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں سے جانے پہنچانے افراد کی ایک جماعت اس واقعہ سے پہلے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرتی تھی (کیونکہ عام اور دُور افتادہ افراد یہ اقدام بتہ کم کرتے تھے )لیکن انہی مشہور صحابہ نے صدقہ کے حکم کے بعد نجویٰ کرناچھوڑ دیا ۔وہ تنہا شخص جس نے اس کااحترام کیااوراسے عملی جامہ پہنایاوہ حضرت علی کرم اللہ وجہ ،تھے ۔ اس میں کون سی قباحت ہوگی کہ ہم واضح آ یات اور روایات کے پیش نظر جوجاس سلسلہ میںمختلف اسلامی کتب میں مندرج ہیں انہیں قبول کرلیں اور کمزور وبے بنیاد واحتمالات کی بناء پر ایک حقیقت کونظر انداز نہ کریں اور عبداللہ ابن ِ عمر کے ہمنوابن جائیں ،جواس فضیلت کوحضرت فاطمہ علیہاالسلام کے ساتھ تزویج اور فتح خیبر کے دن کی عمل داری سے مربوط اورحمر النعم ر(سُرخ رنگ کے اُونٹ ) سے افضل وبرتر سمجھتے ہیں ۔
1۔ تفسیرفخررازی، "" رُوح البیان "" آیات زیربحث کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma