حزب شیطان

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
یہ آ یات منافقین کی بعض سازشوں کوبے نقاب کرتی ہیں اور ان کی نشانیوںکے ساتھ مسلمانوں سے ان کاتعارف کراتی ہیں ،نجویٰ کی آ یات کے بعد اس چیز کاعنوان ِ کلام بننا شاید اس مناسبت سے ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرنے والوں میں کچھ منافق افراد بھی تھے جو اس چیزکو اپنی سازشوں پر پردہ ڈالنے اورپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے اظہارقربت کے لیے استعمال کرتے تھے اور یہی بات سبب بنی کہ قرآن ایک امر کلّی کی شکل میں اس کوپیش کرتاہے ۔پروردگار ِ عالم پہلے فرماتاہے ۔
کیا تُونے ان افراد کو نہیں دیکھاجوایسی قوم سے دوستی کی طرح ڈالتے ہیں جس پر خدا نے غضب کیاہے (أَ لَمْ تَرَ ِلَی الَّذینَ تَوَلَّوْا قَوْماً غَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ) ۔یہ مغضوب علیھمقوم واضح طورپر یہودتھی جس کا سُور ہ مائدہ آ یت ٦٠میں اسی عنوان سے تعارف ہواہے ۔وہاں یہودیوںکے بارے میںپروردگار ِ عالم فرماتاہے:(قُلْ ہَلْ أُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذلِکَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّہِ مَنْ لَعَنَہُ اللَّہُ وَ غَضِبَ عَلَیْہ۔۔۔)کہہ دے کیاتمہیں ان افراد سے باخبر کروں جن کی وضع وکیفیت اس سے زیادہ بُری ہے وہ ایسے لوگ ہیں جن پر خدانے لعنت کی ہے اور انہیں موردِ غضب قرار دیا ہے ۔
اس کے بعد مزید فرماتاہے: یہ نہ تم میںسے ہیں اور نہ ان میں سے (یھود) ( ما ہُمْ مِنْکُمْ وَ لا مِنْہُم)نہ مشکلات میں اور نہ پریشانیوںمیںتمہارے مددگار ہیں ، نہ ان کے کوئی جگری دوست ہیں بلکہ منافق ہیں جوہر روزرُخ بدل لیتے ہیں اور ہر روز نئی صورت میں ظاہر ہوتے ہیںیہ تعبیر سُور ہِ مائدہ کی آ یت ٥١ کے ساتھ منافات نہیں رکھتی جو کہتی ہے :وَ مَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَانَّہُ مِنْہُمجوشخص تم میں سے ان کے ساتھ دوستی اور محبت کرے وہ انہی میں سے ہے اس لیے کہ وہ تمہارے دشمنوںمیں شمار ہوں گے اگرچہ حقیقتاً ان کاجز شمار نہ ہوںاس گفتگو کوجاری رکھتے ہوئے مزید فرماتاہے : تم سے اپنی وفاداری کوثابت کرنے کے لیے قسم کھا تے ہیں لیکن جھوٹی قسم،جسے وہ خود بھی جانتے ہیں (وَ یَحْلِفُونَ عَلَی الْکَذِبِ وَ ہُمْ یَعْلَمُون)یہ منافقین کے طورپر طریقے ہیں وہ ہمیشہ اپنے قبیح اورقابل ِ نفرت چہرہ کو چھپانے کے لیے جھوٹی قسموںکی پناہ لیتے ہیں جب کہ ان کاعمل ان کابہترین تعارف کراتاہے ۔ اس کے بعدان ہٹ دھرم منافقین پر نازل ہونے والے عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فر ماتاہے:
خدانے ان کے لیے عذابِ شدید تیارکیا ہے (أَعَدَّ اللَّہُ لَہُمْ عَذاباً شَدیداً) ۔ اوراس میں شک نہیں کہ یہ عذاب عاد لانہ ہے کیونکہ وہ بُری اعمال بجالاتے ہیں انَّہُمْ ساء َ ما کانُوا یَعْمَلُونَ)اس کے بعد ان منافقین کی علامتوںکے بارے میںمزید وضاحت کے لیے فرماتاہے ۔
اُنہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنارکھا ہے تاکہ لوگوںکوراہ ِ خدا سے رو کے رکھیں (اتَّخَذُوا أَیْمانَہُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبیلِ اللَّہ) (١)
وہ قسم کھاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور سوائے اصلاحکے ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے حالانکہ اس قسم کے پردہ کے پیچھے وہ انواع واقسام کے فساد ، تخریبی کار وائیوںاور سازشوںمیں مصروف ہیں اور حقیقت میں خدا کامقدّس نام لے کرراہ ِ خداسے رو کنے کافائدہ اُٹھا تے ہیں ۔جی ہاں!جھُوتی قسمیں کھانامنافقین کی نشانی ہے جویہاں کے علاوہ سُورہ منا فقین میں بھی ان کے اوصاف کے بیان پیش ہوئی ہے (سور ئہ منافقین آیت ٢)آیت کے آخر میں مزید فر ماتاہے:
اِس بناپر ان کے لیے خوارکرنے والا عذاب (ِ فَلَہُمْ عَذاب مُہین)وہ چاہتے تھے کہ ان جھوٹی قسموںکے ذ ریعے اپنے لیے سامان ِ عزّت فراہم کریں لیکن خداانہیںذلیل وخوارکرنے والے عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ اس نے پہلے بھی فرمایا : ان کے لیے عذاب شدید ہے (اسی سورہ کی آ یت ١٥)اس لیے کے یہ سچّے مؤ منین کے دلوں کوتکلیف پہنچاتے ہیں ظاہر یہ ہے کہ دونوںعذاب آخرت سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ دومختلف اوصاف کے ساتھ بیان ہو ئے ہیں لہٰذا تکرار بھی نہیں ہے ۔کیونکہ عذاب کی تشریح ان دو صفتوںکے ساتھ قرآن مجید میں عام طورپر آخرت کے عذابوںکے سلسلہ میں آ تی ہے ۔ اگرچہ بعض مفسرین نے یہ احتمال تجویز کیاہے کہ پہلاعذاب دنیا یاقبرسے متعلق ہے اور دُوسرا عذابِ آخرت سے مربوط ہے اور چونکہ منافقین عام طورپر حلِ مشکلا ت کے سلسلہ میںعذابِ الہٰی سے کسی طرح بھی محفوظ نہیں رکھیں گے (لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ أَمْوالُہُمْ وَ لا أَوْلادُہُمْ مِنَ اللَّہِ شَیْئاً) (٢) ۔
بلکہ یہی اموال ان کی گردن میں لعنت کاطوق بن جائیں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب کاسبب بنے گے ،جیساکہ سورہ آل ِ عمران کی آیت١٨٠ میں ہم پڑھتے ہیں :سَیُطَوَّقُونَ ما بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیامَة اوراسی طرح ان کی گمراہ اولاد ان کے عذاب کاباعث خداکی (رحمت) کے علاوہ کوئی پناپ گاہ نہیں ہے اوراس کے علاوہ جوکچھ بھی ہے وہ بیکار ہوجائے گا جیساکہ سورہ بقرہ کی آ یت ١٦٦ میں ہم پڑھتے ہیں ( وَ تَقَطَّعَتْ بِہِمُ الْأَسْباب) ان کاہاتھ ہر قسم کے ذریعے اور اسباب سے منقطع ہوجائے گا اورپھر آ یت کے آخرمیں اس جملہ کے ساتھ تہدید کرتاہے وہ اصحابِ دوزخ ہیں اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (أُولئِکَ أَصْحابُ النَّارِ ہُمْ فیہا خالِدُون)اوراس طرح ان پر نازل ہونے والے عذاب کوکبھی شدید کہہ کر باعث تہدید بناتاہے اور کبھی مھین ذلیل میں کرنے والا کہہ کر اورکبھی اس کاجاودانی ہوناباعث ِتہدید ہوتاہے اوران میں سے ہر ایک منافقین کے اعمال کی وجہ سے بعد والی آ یت میں آ یاہے یاد کرو اس دن کوجس میں خداان سب کومبعوث کرے گا اوران کے اعمال ان کے سامنے پیش اوراپنی دادگاہِ عدل میں ان سے سوال کرے گالیکن وہ خدا کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے جیسی کہ وہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللَّہُ جَمیعاً فَیَحْلِفُونَ لَہُ کَما یَحْلِفُونَ لَکُم) (٣) ۔
قیامت انسان کے اس دنیا کے اعمال اورنیّتوں کی تجلّی گاہ ہے اورچونکہ منافقین یہی احساسات اپنے ساتھ قبر اور برزخ میں لے کر جائیں گے لہٰذا میدانِ قیامت میں بھی آشکار ہوں گے اور باوجود یکہ وہ جانتے ہیں کہ خداعلّام الغیوب ہے اورکوئی چیزاس سے مخفی نہیں ہے لیکن پھر بھی پُرانی عادات کی بناپر چھوٹی قسمیں کھائیں گے ۔ یہ چیز اس دادگاہِ عدلِ الہٰی کے بعض مواقف میں ان کے گناہوں کے اقرار کے ساتھ متصاد م نہیں ہے کیونکہ قیامت کے مختلف منازل ومواقف میں ہرجگہ ایک الگ انضباط اوقات ہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے:
وہ گمان کرتے ہیں کہ ان جھوٹی قسموں سے وہ اپنے لیے کوئی نفع حاصل کرسکتے ہیں یاکسی نقصان کودُور کرسکتے ہیں (ْ وَ یَحْسَبُونَ أَنَّہُمْ عَلی شَیْئ)یہ ایک واہمہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا ۔لیکن چونکہ دنیامیں انہوں نے یہ عادت بنارکھی تھی کہ جھوٹی قسموں کے ذریعہ خطروں اورمضرچیزوں کواپنے سے دُورکریں اورفائدہ حاصل کریں لہٰذا یہ قبیح اورپست وپُختہ عادتیں وہاں بھی اپنااثر دکھائیں گی ۔ اخرکار آ یت کواس جملہ پرختم کرتاہے ۔ جان لوکہ وہ چھوٹے ہیں ( أَلا ِانَّہُمْ ہُمُ الْکاذِبُونَ ) ۔ یہ اعلان ممکن ہے کہ دنیاکے ساتھ تعلق رکھتاہو یاقیامت سے مربوط ہویا دنوں کے ساتھ ربط رکھتا ہو ۔ اس طرح ان کی رسوائی کاڈنکا ہرجگہ بج رہاہے اورہرجگہ منادی ہو رہی ہے ۔ اخری زیربحث آ یت میں ان تاریک دل رکھنے والے منافقین کی حقیقی سرگزشت کواس طرح بیان کرتاہے : شیطان ان پر مسلّط ہوگیاہے اورتیزی کے ساتھ ہانکتاہے اوراس بناپر ان کے دل سے خدا کی یاد نکال کر لے گیاہے (اسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطانُ فَأَنْساہُمْ ذِکْرَ اللَّہ)اسی دلیل کی رُو سے وہ گروہ شیطان ہیں (ِ أُولئِکَ حِزْبُ الشَّیْطانِ) ۔
آگاہ رہو کہ گروہ شیطان ہی گھاٹا اُٹھانے والومیں ہے ( أَلا ِانَّ حِزْبَ الشَّیْطانِ ہُمُ الْخاسِرُون) ۔
استحوذ حوذ (بر وزن موز)کے مادّہ سے ہے اُونٹ کی ران کے پُشت والے حصّہ کے معنی میں ہے اور چونکہ ساربان اُونٹوں کوہنکاتے وقت ان کی رانوں کی پُشت پرضرب لگاتاہے اس لیے یہ لفظ تسلّط حاصل کرنے اور تیزی کے ساتھ ہانکنیکے لیے آتاہے ۔
جی ہاں !جُھوٹے اور مغرور منافقین باوجود مال ودولت اورمقام ومنزلت کے اس کے علاوہ اورکوئی قسمت نہیں رکھتے کہ وہ شیطان کی گرفت اور اس کی خواہشات کے اختیار میں ہوتے ہیں اور وہ خدا کوکُلی طورپر بُھول جاتے ہیں اور نہ صرف خُدا سے منحرف ہوجاتے ہیں ، بلکہ شیطان کے عُمّال ،انصار ، مددگار اور لشکر کے زمرہ میں آکردوسروں کوگمراہ کے آغاز کرنے والے قرار پاتے ہیں ۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فتنوں اوراختلافات کے وقوع کے آغاز کے بارے میں فرماتے ہیں :
(ایھا النّاس انمابدأ وقوع الفتن ا ھواء تتبع واحکام تبتدع یخالف فیھاکتاب اللہ ،یتولی فیھا رجال رجالا، فلوان الباطل خلص لم یخف علی ذی حجی ، ولوان الحق خلص لم یکن اختلاف ، ولکن یؤ خذ من ھذاضغث ومن ھذا ضغث ، فیمزجان فیجیئان معاً فھنائک استحوذ الشیطان علی اولیائہ ونجی الذین سبقت لھم من اللہ الحسنی ) ۔
اے لوگو!فِتنوں کے وقوع کاآغاز باطل آراء ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے اورایسی بدعتیں ہیں جوحکمِ خدا کے خلاف قائم کی جاتی ہیں ۔لوگوں کاایک گروہ دوسرے گروہ کی دوستی میں ان امور میں ان کی پیروی اختیار کرتاہے ۔ اگرباطل اپنی خالص شکل میں خود نمائی کرتاتوکسِی صاحب عقل کی نگاہ سے پنہاں نہ رہتا اوراگرحق باطل کی آمیزش سے پاک وصاف ہوتاتواختلاف پیدا نہ ہوتالیکن کچھ حصّہ اس کالے لیتے ہیں اور کچھ حصّہ اس کا اورانہیں آپس میں مِلا دیتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ ہے کہ شیطان اپنے دوستوں پرغلبہ حاصل کرلیتاہے اوروہ لوگ جن کے توفیقِ الہٰی شامل حال ہے وہ رہائی پاجاتے ہیں 4 (
یہی تفسیر امام حسین علیہ السلام کے کلام میں کربلامیں نظرآتی ہے ۔جس وقت اہل کوفہ کی صفوں کو اندھیری رات اورغل مچاتے ہوئے سیل آب کی طرح اپنے مدِّ مقابل دیکھا توفرمایا:
بہت بُرے لوگل ہوکہ خدا کی اطاعت اورپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرایمان کااظہارکرتے ہولیکن اَب اس لیے آ ئے ہوکہ اولادِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوقتل کرو ۔
(لقد استحوذ علیکم الشیطان فانساکم ذکراللہ العظیم )شیطان نے تم پرغلبہ حاصل کرلیاہے وہ خدائے عظیم کی یاد تمہارے دلوں سے نکال کرلے گیاہے اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا  تم کواورجو کچھ تم چاہتے ہوخدانیست ونابُود کردے انا للہ وانّا الیہ راجعون (٥)
حزب الشیٰطن اورحزب اللہ کے بارے میں انشاء اللہ آئندہ آیات کے ذیل میں ہم تفصیل کریں گے ۔
 ١۔ "" جنة"" اصل میں "" جن "" ( بروزن فن )کے مادّہ سے کسی چیز کے چھپانے کے معنی میںہے اور چونکہ ڈھال انسان کودشمن کی ضربوںکے مقابلہ میں چھپاتی ہے لہٰذااس جنة ،مجن اور مجنہ کہتے ہیں ۔
 ٢۔بعض مفسرین نے یہاں لفظ عذاب کومقدر سمجھاہے اور کہاہے کہ مراد من عذاب اللہ ہے (قرطبی ،رُوح البیان ،کشاف)لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ آیت میں کوئی چیز مقدر نہ ہو اور من اللہ سے مراد یہ ہے کہ وہ خدا کے علاوہ کوئی دوسری پناہ گاہ نہیں پائیں گے ۔
 ٣۔""یوم "" ""ظرف"" ہے اور ""اذکر"" محذوف سے متعلق ہے یااس کے ماقبل یعنی لھم عذاب مھین سے یااولئک اصحاب النّار سے متعلق ہے ،لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے ۔
 ٤۔ اصول کافی مطابق نقل تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٢٦٧۔
 ٥۔ تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٦٦۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma