١۔حِزبُ اللہ اورحِزب شیطان کی اصل نشانی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
قرآن مجید کی دو آیتوںمیں حزب اللہ کی طرف اشارہ ہواہے (زیر بحث آ یت اور سُورہ مائدہ کی آ یت ٥٦ ) اورایک آیت میں حزب شیطان کی طرف اشارہ ہے ۔ دونوں مواقع جن پر حزب اللہ کے بارے میں گفتگو کرتاہے (حُب فی اللہ اوربُغض فی اللہ )اور اولیائے حق کی ولایت کے مسئلہ پرانحصار کرتاہے ۔سُورہ مائدہ میں مسئلہ ولایت اورخدا ورسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اطاعت کے وجوب کی بات کر تاہے جس میںمذکورہے کہ (علی علیہ السلام )نے حالت ِ رکوع میں زکوٰة دی ہے (وَ مَنْ یَتَوَلَّ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ الَّذینَ آمَنُوا فَِنَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْغالِبُونَ)زیربحث آ یت میں بھی دُشمنان ِخدا کی دوستی سے قطع روابط پرتکیہ کرتاہے ۔ اس پرحزب اللہ کاخط وہی خطِ ولایت ہے اور خدا ،پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اوراس کے اوصیاء کے دُشمنوںسے قطع تعلق کاخط ہے ۔
اس کے مقابلے میںحزب ِ شیطان کے تعارف کے وقت جس کی طرف اس سورہ کی گزشتہ آ یات میں اشارہ ہواہے اس کی جوواضح ترین نشانیاں بتاتاہے وہ نفاق ،حق سے دُشمنی ،یادِ خدا کی فراموشی ،جُھوٹ اور فریب ہیں ۔ قابلِ تو جہ یہ ہے کہ ایک موقع پر کہتاہے : (فَانَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْغالِبُون)اوردُوسری جگہ فر ماتاہے:()اس طرف توجہ کرنے سے کہ فلاح بھی دشمن کے مقابلہ میںکامیابی اور ان پر غلبہ کے ہمراہ ہے یہ پتہ چل جاتاہے کہ دونوں آیتوں کامفہوم ایک مربوط صورت میں اس امر کے ساتھ ظاہر ہے کہ فلاح ورستگاری غلبہ وکامیابی کی نسبت زیادہ گہرا مفہوم رکھتی ہے ،اس لیے کہ وہ مقصد تک پہنچنے کوبھی مشخّص کرتی ہے ۔ اس کے برعکس حزبِ شیطان کاتذکرہ اس کی شکست، اس کے نقصان اورمقاصد میں نا کامی کے حوالے سے کرتاہے ۔ مسئلہ ولایت خاص معانی میں اور حبّ فی اللہ اور بغض فی اللہ عام معانی میں، ایک ایسامسئلہ ہے کہ روایاتِ اِسلامی میں اس کی بات بہت تاکید ملتی ہے ۔ یہاں تک کہ حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ )امیر المومنین علیہ السلام سے عرض کرتے ہیں کہ جب بھی میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں گیاتوانہوں نے میرے شانے پرہاتھ رکھ کر آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
کہ اے سلمان !یہ شخص اوراس کاگروہ کامیاب ہے (یا اباالحسن ما اطلعت علی رسول اللہ الاضرب بین کتفی وقال یاسلمان ھٰذاوحز بہ ھم المفلحون)  (٤)                                          دوسرے مورد میں یعنی ولایت عامہ کے سلسلہ میں ایک حدیث پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ہمیں ملتی ہے ۔
(و د المؤ من اللمؤ من فی اللہ من اعظم شعب الایمان)
ایک مومن کی دُوسرے مومن سے برائے خدا خوشنودی اہم ترین شعبۂ ایمان ہے (٥) ۔ ۔                                                                                                                                 ایک اورحدیث میںآ یاہے کہ خدانے حضرت موسیٰ علیہ السلام پروحی کی کہ کیا کوئی عمل میرے لیے بھی انجام دیاہے ۔عرض کیا : جی ہاںمیں نے تیرے لیے نماز پڑھی ہے ، روزہ رکھاہے انفاق کیاہے اور تجھے یاد کرتارہاہوں فرمایا:
نماز تیرے لیے حق کی نشانی تھی ، روزہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں سپر تھا ،انفاق محشر کے لیے سایہ ہے اور ذکر نور ہے اے موسیٰ میرے لیے تم نے کونساعمل کیاہے ؟
عرض کیاخداوندا!خُود تواِس سلسلہ میں میری رہنمائی فرما۔ فرمایا:
(ھل والیت لی ولیا وھل عادیت لی عدوا قط فعلم موسیٰ ان افضل الا عمال الحبّ فی اللہ والبغض فی اللہ ) ۔
کبھی میرے لیے کسی سے محبت کی ہے اورمیرے خاطر کسی سے دشمنی کی ہے ؟ یہ وہ مقام تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سمجھ گئے کہ افضل ترین عمل حب فی اللہ اور بغض فی اللہ ہے ،(اللہ کے لیے دوستی اوراللہ کے لیے دشمنی (٦) ۔                                                                                                                                                         ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
(لا یمحض رجل الا یمان باللہ حتّی یکون اللہ احب الیہ من نفسہ وابیہ وامہ وولدہ واھلہ ومالہ ومن النّاس کلھم)
کسی شخص کااللہ پر ایمان ِ کامل نہیں ہوتاتاو قتیکہ خد ااس کواس کی جان، اس کے ماں باپ ،اولاد،اہل خانہ اوراس کے مال سے زمادہ محبوب نہ ہو(٧) ۔ اس عنوان کے ماتحت اثبات کی سمت بھی ، یعنی دوستان ِ خداسے دوستی اورنفی کی سمت میں بھی دوستان ِ خُداسے دُشمنی سے روایات بہت زیادہ ہیں، بہتر ہے کہ ہم اس گفتگو کوامام محمد باقر علیہ السلام کی ایک پُرمعنی حدیث پرختم کردیں ۔ اپ علیہ السلام نے فرمایا ہے :
(اذااردت تعلم ان فیک خیر افانظرالی قلبک فان کان یحب اھل طاعة اللہ عزّو جل ویبغض اھل معصیة ففیک خیر واللہ یحبک واناکان یبغض اھل طاعة اللہ و یحب اھل معصیة ،لیس فیک خیرواللہ یبغضک ، والمرء مع من احب ) ۔
اگریہ جانناچاہو کہ تم ایک اچھے انسان ہوتواپنے دل میں جھانک کردیکھو اگروہ اللہ کی اطاعت کرنے والوں کودوست اوراس کے نافر مانوں کودشمن رکھتاہے توجان لوکہ تم اچھے انسان ہواور خدا بھی تمہیں دوست رکھتاہے اوراگر تمہارادل خداکی اطاعت کرنے والوں کودشمن اوراس کی معصیّت کرنے والوں کودوست رکھتاہے توپھرتم میں کوئی خُوبی نہیں اور خدا تم سے دشمنی رکھتاہے اورانسان ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتاہے جسے وہ دوست رکھتاہے ( ٨) ۔
٤۔ یہ حدیث تفسیربرہان میں اہل سنت کی کتب سے نقل ہوئی ہے (برہان ،جلد ٤، صفحہ ٣٢١) ۔
٥۔ اصول کافی ، جلد ٢ باب حب فی اللہ حدیث ٣۔
٦۔سفینة البحار ، جلد ١،صفحہ ٢٠١۔
٧۔سفینة البحار ، جلد ١،صفحہ ٢٠١۔
٨۔۔سفینة البحار ، جلد ١،صفحہ ٢٠١۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma