سورہ حشر کے مضامین

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوا
اس میں ٢٤ آیتیں ہیں
یہ سُورہ زیادہ ترمسلمانوں اور یہود بنی نظیر کی لڑائی سے متعلق بیان نات پرمشتمل ہے اور آخر کار ان کے مدینہ سے اخراج یعنی ان کے وجود سے اس مقدس سرزمین کے پاک ہوجانے پرختم ہوتاہے، اس لیے یہ قرآن مجید کے بیدار کرنے والی اورجھنجوڑنے والی اہم سورتوں میں سے ایک ہے اور یہ گز شتہ سُورہ کی آخری آیات سے بہت زیادہ مشابہت رکھتاہے جن میں حزب اللہ سے کامیابی کاوعدہ کیاگیاہے اور فی الحقیقت یہ کامیابی کاایک واضح نمونہ ہے ۔
اس سُورہ کے مشمولات کوچھ حصّوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے ۔
پہلے حصّہ میں صرف ایک آ یت ہے جو اِس سُورہ کے مختلف مباحث کے لیے د بیاچہ کی حیثیت رکھتی ہے ، اس میں پروردگار علیم وحکیم کی اس تسبیح کے بارے میں گفتگو ہے جو تمام موجودات بجالاتے ہیں ۔دوسرے حصّہ میں دوسے لے کردس تک کل نوآیتیں ہیں وہ مسلمانوں کی مدینہ کے عہد شکن یہودیوں سے لڑائی کے واقعہ کوبیان کرتی ہیں ۔تیسرا حصّہ جو آیات گیارہ سے لے کر سترہ تک محیط ہے ،منافقین کے بارے میں ہے جو اس اقدام میں یہودیوں سے ساز بازر رکھتے تھے ،چوتھا حصّہ جو چند آیتوں سے زیادہ نہیں تمام مسلمانوں کے لیے پندو نصائح کے ایک سلسلہ پر مشتمل ہے اوردرحقیقت مندرجہ بالا واقعہ سے نتیجہ اخذ کرنے کے مترادف ہے ۔ پانچویں حصّہ میں صرف ایک آیت ہے اس میں قرآن کی توصیف بلیغ ہے اورپاکبازی میں رُوح کی تاثیر کابیان ہے چھٹے اورآخری حصّہ میں بائیس سے لے کر چوبیس تک تین آیتیں ہیں اس میں خدا کے اوصافِ جلال وجمال اوراس کے واسمائے حُسنیٰ کے اہم حصّہ کابیان ہے ،یہ حصّہ اللہ کی معرفت کے سلسلہ میں انسان کی نہایت عُمدہ انداز میں مدد کرتاہے ۔
اس سُورہ کانام اس کی دوسری آ یت سے ماخوذ ہے جس میں مدینہ سے یہودیوں کے کُوچ کرنے کے لیے جمع ہونے اور مسلمانوں کے اس امر کے لیے جمع ہونے کاذکر ہے یہودیوں کومدینہ سے نکالاجائے ۔ یہاںسے واضح ہوجاتاہے اس حشر(جمع ہونے ) کا قیامت سے کوئی متعلق نہیں ہے بعض مفسرین نے اس سُورہ کانام سورہ بنی نظیر بتایاہے کیونکہ اس کازیادہ حصّہ انہی کے بارے میں ہے ۔بالاآخر یہ سُورہ بھی مسبحات میں سے ایک ہے یعنی اُن سُورتوں میں سے ایک ہے جوخُدا کی تسبیح سے شروع ہوتی ہیں اوریہ ایک حُسن ِ اتفاق ہے کہ اِس سُورہ کااختتام بھی تسبیح الہٰی پرہواہے ۔
اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت
اس سُورہ کی تلاوت کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے ۔منجملہ دیگر فضیلتوں کے ایک فضیلت کے بارے میں ہم پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث مِلتی ہے :
(من قرأسورة الحشر لم یبق جنة ولا نار ولا عرش ولا کرسی ولاحجاب ولا السمٰوات السبع ولا الارضون السبع والھوام والریاح والطیر والشجرو الدواب والشمس والقمر والملئکة الا صلّواعلیہ واستغفروالہ وان مات من یومہ او لیله مات شھیدا) ۔
جوشخص سُورہ حشر پڑھے توجنّت ودوزخ ،عرش وکُرسی ،حجاب، ساتوںآسمان ، ساتوں زمینیں،حشرات الارض، ہوائیں ،پرندے ،درخت، چلتے پھرتے ہوئے ،جاندار چانداورسُورج اور ملائکہ سب اس کے لیے دُعا ئے مغفرت کریں گے اوروہ اگر اس دن یارات میں فوت ہو جائے تو شہید شمار ہوگا (١) ۔
 
ایک اورحدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے :
(من قرأ اذا امسی الرحمن والحروکل اللہ بدارہ ملکا شاھراً سیفہ حتّی یصح)
جو شخص سُورہ الرحمن اور سُورئہ حشر غروبِ آفتاب کے وقت پڑھے تو خداایک فرشتے کو ننگی تلوار کے ساتھ اس کے گھر کی حفاظت پرمامور کرے گا (٢) ۔

اس میں شک نہیں کہ یہ تمام آثار اس سُورہ کے مضامین میںغوروفکر کرنے سے پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ غور وفکر اس کی قرأت کے نتیجے میں حاصل ہوتاہے ،اورا نسانی زندگی پراپنا عکس ڈالتاہے ۔
١۔ ""مجمع البیان "" جلد ٩،صفحہ ٢٥٥،پہلی حدیث کوقرطبی نے بھی اسی سُورہ کے آغاز میں تحریر کیاہے ۔
٢۔ ""مجمع البیان "" جلد ٩،صفحہ ٢٥٥،پہلی حدیث کوقرطبی نے بھی اسی سُورہ کے آغاز میں تحریر کیاہے ۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma