شانِ نزول

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
مفسرین ومحدثین واربابِ تاریخ نے ان آیات کے بارے میں ایک مفصّل شان ِ نزول بیان کی ہے ،جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے ۔مدینہ میں یہودیوں کے تین قبیلے رہتے تھے ،بنی نظیر، بنوقریظہ اوربنو قینقاع، کہاجاتاہے کہ وہ اصلاً اہل حجاز نہ تھے لیکن چونکہ اپنی مذہبی کتب میں انہوںنے پڑھاتھاکہ ایک پیغمبر مدینہ میں ظہور کرے گا ،لہٰذا انہوںنے اس سرزمین کی طرف کوچ کیااوروہ اس عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے انتظار میں تھے اس وقت رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی توآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وآلہ وسلم)نے ان کے ساتھ عد مِ تعرض کاعہد باندھا ،لیکن ان کو جب بھی موقع ملاانہوںنے یہ عہد توا ۔ دوسری عہد شکنیوں کے علاوہ یہ کہ جنگ ِ اُحدکے بعد (جنگ اُجدہجرت کے تیسرے سال واقع ہوئی )کعب ابن اشرف چالیس سواروں کے ساتھ پہنچا ۔ وہ اوراس کے ساتھی سب قریش کے پاس گئے اوران سے عہد کیاکہ سب مل کرمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے خلاف جنگ کریں :اس کے بعد ابوسفیان چالیس مکّی افراد کے ساتھ اور کعب بن اشرف چالیس یہودیوں کے ساتھ مسجد الحرام میں وارد ہوئے اورانہوںنے خانہ کعبہ کے پاس اپنے عہدو پیمان کومستحکم کیا ۔ یہ خبر بذریعہ وحی پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کومل گئی دوسرے یہ کہ ایک روز پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اپنے چند بزرگ اصحاب کے ساتھ قبیلہ بنی نضیر کے پاس آ ئے ۔ یہ لوگ مدینہ کے قریب رہتے تھے ، پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی آمد کامقصد یہ تھا کہ بنی عامر کے دو مقتدیوں کی دیت اداکرنے کے سلسلہ میں، جو عمر بن اُمیہ (ایک صحابی )کے ہاتھوں قتل ہوگئے تھے ،ان سے مدد قرض لین غالباپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اورآپ کے صحابہ کامقصدِحقیقی یہ تھاکہ آپ اس طرح بنونظیر کے حالات قریب سے دیکھنا چاہتے تھے اس لیے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ مسلمان غفلت کاشکار ہو کر دشمنوں کے ہاتھوں مارے جائیں ، پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)یہود کے قلعہ کے باہر تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے کعب بن اشرف سے اس سلسلہ میں بات کی ، اسی دوران یہودیوں کے درمیان سازش ہونے لگی ۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ایساعُمدہ واقع اس شخص کے سلسلہ میں دوبارہ ہاتھ نہیں آ ئے گا ،اَب جب کہ یہ تمہاری دیوار کے پاس بیٹھاہے ایک آدمی چھت پرجائے اور ایک بہت بڑا پھتر اس پرپھینک دے اور ہمیں اس سے نجات دلادے ، ایک یہودی، جس کانام عمر بن حجاش تھا ، نے آمادگی ظاہر کی وہ چھت پر ۔رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)بذر یعہ وحی باخبر ہوئے اور وہاں سے اُٹھ کرمدینہ آگئے ۔ اپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنے اصحاب سے کوئی بات نہیں کی ان کاخیال تھا کہ پیغمبرلوٹ کر نہیں جائیں گے ۔ ان کومعلوم ہواکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مدینہ پہنچ گئے ،چنانچہ وہ بھی مدینہ پلٹ آئے ۔ یہ وہ منزل تھی کہ جہاں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پریہودیوں کی بت شکنی واضح وثابت ہوگئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مسلمانوں کوجنگ کے لیے تیارہوجانے کاحکم دیا ۔ بعض روایات میں یہ بھی آ یاہے کہ بنی نظیر کے ایک شاعر نے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ہجوم کہی اورآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بارے میںبدگوئی بھی کی ۔ ان کی پیمان شکسنی کی یہ ایک اور دلیل تھی ۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس وجہ سے کہ ان پرپہلے سے ایک کاری ضرب لگائیں ، محمد بن مسلمہ کو جو کعب بن اشرف رائیس یہودی سے آشنا ئی رکھتاتھا ،حکم دیا کہ وہ کعب کو قتل کردے ،اس نے کعب کوقتل کردیا، کعب بن اشرف کے قتل ہوجانے نے یہودیوں کو متزلزل کردیا ۔ اس کے ساتھ ہی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے حکم دیاکہ ہران اس عہد شکن قوم سے جنگ کرنے کے لیے چل پڑے ، جس وقت وہ اس حال سے باخبر ہوئے تو انہوںنے اپنے مضبوط و مستحکم قلعوں میںاوردرواز ے بند کرلیے ۔ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے حکم دیاکہ وہ چند کھجور وں کے درخت جوقلعوں کے قریب ہیں کاٹ دیئے جائیں ۔ یہ کام غالباً اس مقصد کے پیش نظر ہوا کہ یہودی اپنے مال واسباب سے بہت محبت رکھتے تھے ۔وہ اس نقصان کی وجہ سے قلعوں میں باہر نکل کرآمنے سامنے جنگ کریں گے ،مفسرین کی طرف سے یہ احتمال بھی تجویز کیاگیاہے کہ کاٹے جانے والے کھجوروں کے یہ درخت مسلمانوں کی نقل وحرکت میں رکاوٹ ڈالتے تھے ۔لہٰذا انہیں کاٹ دیا جاناچاہیئے تھا ،بہرحال اس پر یہودیوں نے فریاد کی ۔ انہوںنے کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)توہمیشہ اس قسم کے کاموں سے منع کرتے تھے ۔ یہ کیا سلسلہ ہے تواس سُورہ کی مندرجہ بالاآ یات میں سے پانچویں آ یت نازل ہوئی انہیں جواب دیا کہ یہ ایک مخصوص حکم ِ الہٰی تھا ۔ محاصرہ نے کچھ دن طول کھینچا اور پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے خوں ریزی سے پرہیز کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ مدینہ کوخیر باد کہہ دیں اورکہیں دوسری جگہ چلے جائیں ،انہوںنے اس بات کوقبول کرلیا ، کچھ سامان اپنالے لیا اورکچھ جھوڑ دیا ۔
جماعت اذرعات شام کی طرف اورایک مختصر سی تعداد خیبر کی طرف چلی گئی ۔ ایک گروہ حیرہ کی طرف چلاگیا ۔ ان کے چھوڑے ہوئے اموال ، زمینیں،باغات اورگھر مسلمانوں کے ہاتھ لگے ، چلتے وقت جتنا ان سے ہوسکا انہوںنے اپنے گھر توڑ پھوڑدیے ۔ یہ واقعہ جنگِ اُحد کے چھ ماہ بعد اورایک گروہ کے نظر یہ کے مطابق جنگ بدر کے چھ ماہ بعد ہوا (١) ۔
 ١۔ مجمع البیان ،تفسیر علی بن ابراہیم ،تفسیر قرطبی ، نورالثقلین اورذیل آیات زیر بحث (تلخیص کے ساتھ ) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma