ان اموال غنیمت کے بارے میں حکم جوجنگ کے بغیر ہاتھ لگیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
یہ آ یتیں جیساکہ ہم نے کہاہے ، بنونظیر کے اموال غنیمت کے بارے میں جوحکم ہے اسے پیش کرتی ہیں اوراس کے اتھ ساتھ ان تمام اموال ِ غنیمت کے سلسلہ میں ایک قانون ِ کلّی کوبھی واضح کرتی ہیں ،جومال بغیرکسی زحمت ومشقت کے اسلامی معاشرہ کوملے اسے فقہ اسلامی میں فے کہتے ہیں خداوند ِ عالم فرماتاہے:
جوکچھ خدانے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ان سے پلٹا یاوہ ایسی چیزہے جس کے حصول کے لیے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں اورنہ اونٹ ( وَ ما أَفاء َ اللَّہُ عَلی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَما أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَ لا رِکاب)(١)
افائ فی کے مادّہ سے اصل میں رجوع وبازگشت کے معنی میں ہے اوریہ جواموال ِ غنیمت پراس کااطلاق ہواہے شاید اسی بنا پر ہے کہ خدانے اس جہان کی تمام نعمتیں اصل میں مومنین کے لیے اور سب سے پہلے اپنے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے لیے پیدا کی ہیں جواشرف کائنات وفخرِ موجودات ہیں اورغیر مومن وگنہگار افراد حقیقت میں ان اموال کے غاصب ہیں(اگر چہ وہ حسب ِقوانین شرعی وعرفی مالک شمار ہوں ) ۔ جس وقت یہ اموال حقیقی مالکوں کی طرف لوٹیں توفیء ان کے لیے بہترین عنوان ہے اوجفتم ایجاف کے مادّہ سے تیزی سے ہانکنے کے معنی میں ہے جس کاعام طورپر جنگوں میں اتفاق ہوتاہے ۔خیل کے معنی گھوڑ ے ہیں ۔( یہ ایسی جمع ہے جس کامفرد خُود اس کی جنس میں سے نہیں ہے )(٢) ۔
اورچونکہ انسان جب گھوڑے پرسوار ہوتاتو عام طورپرایک قسم کاغرور محسوس کرتا ہے لہٰذا لفظ خیل کا گھوڑے پراطلاق ہواہے ۔ قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ خیل گھوڑوں اور سواروںدونوں کے لیے بولا جاتاہے ۔
رکاب رکوبکے مادّہ سے عام طورپرسواری کے اُونٹوں کے لیے آتا ہے ۔ پورے جملہ سے مقصود یہ ہے کہ وہ تمام مواقع جن میں مالِ غنیمت حاصل کرنے کے سلسلے میں کوئی جنگ واقع نہ ہووہاں مال ِغنیمت جنگجوافراد میں تقسیم نہیں ہوگا اوروہ مکمل طورپر رئیسِ مسلمین کے اختیار میں ہوگا اوروہ اپنی صوابدید کے مطابق بعد والی آ یت میں بیان شدہ مصارف میں سے کسِی مَصرف میں صَرف کرے گا ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے :
اس طرح نہیں کہ کامیابیاں ہمیشہ تمہاری جنگوں کا نتیجہ ہوں لیکن خدااپنے رسولوں کوجس پرچاہے تسلّط عطا کردیتاہے اورخدا ہرچیزپرقادر ہے (ٍ وَ لکِنَّ اللَّہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہُ عَلی مَنْ یَشاء ُ وَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر)جی ہاں!یہودِ بنی نظیرجیسے قوی دشمن پرکامیابی خدا کی مدد کے نتیجے میں ممکن ہوئی تاکہ تم جان لو خداہر چیز پرقادر ہے اورچشمِ زدن میں ایک طاقتور قوم کو زبوں حال بناسکتاہے اورایک گروہ کوان پر مسلّط کرسکتاہے اورپہلے گروہ کے تمام امکانات ووسائل دوسرے گروہ کومنتقل کرسکتاہے ، یہ وہ منزل ہے کہ مسلمان اس قسم کے میدانوںمیں اللہ کی معرفت کادرس بھی لے سکتے ہیں اورپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی حقانیّت کی نشانیاں بھی دیکھ سکتے ہیں اورذاتِ پاک خدا سے خلوص اوراسی پرانحصارکومشعل ِراہ بنا سکتے ہیں ۔یہاں ایک سوال پیداہوتاہے کہ یہود بنی نظیر کے اموال غنیمت ِ جنگ کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ میںنہیں آ ئے بلکہ انہوںنے لشکرکشی کی اور یہود یوں کے قلعوں کامحاصرہ کیا، یہاں تک کہاجاتاہے کہ کسی حد تک تلوار بھی چلی جواب میں ہم کہتے ہیں کہ بنونظیر کے قلعے ،جیسا کہ مؤرخین نے کہاہے ،مدینہ سے کچھ زیادہ فاصلہ پرنہیں تھے (بعض مفسرّین نے یہ فاصلہ دومیل یاتین کلومیٹر سے کم بیان کیاہے ) مسلمان پیادہ قلعوں کی طرف آئے اس وجہ سے انہوںنے کوئی مشقّت برداشت نہیں کی ،باقی رہی تلواروں کی جنگ تووہ تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے محاصرہ نے بھی زیادہ طول نہیں کھینچا ،اس بناپر کہاجاسکتاہے ،حقیقت میں وہ چیز جسے جنگ کانام دیا جاسکے ، واقع نہیں ہوئی اور کوئی قطرہ خون زمین پرنہیں گرا ۔ بعد والی آ یت وضاحت کے ساتھ فے کامَصرف بتاتی ہے جوگزشتہ آیت میں آ یاتھا ۔خدا وند ِ عالم ایک قاعدہ کلّی کے طورپر فرماتاہے:
جوکچھ خدانے ان آبادیوں والے لوگوں سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف پلٹا یاہے وہ خدا، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)،اس کے ذوی القربیٰ ، یتیموں مسکینوں اور راستوں میں درماندہ لوگوں کے لیے ہے (ما أَفاء َ اللَّہُ عَلی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُری فَلِلَّہِ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِی الْقُرْبی وَ الْیَتامی وَ الْمَساکینِ وَ ابْنِ السَّبیلِ) ۔
یعنی مسلّح جنگ کے اموال غنیمت کی مانند نہیں جن کاصرف پانچواں حصّہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور دوسرے حاجت مندوں کے اختیار میں ہے ،باقی چار حصّہ جنگجوافراد کے لیے ہیں ۔ نیز اگرگزشتہ آ یت میں کہاگیاہے کہ وہ تمام کاتمام رسول ِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق ہے تو اس کامفہوم یہ نہیں ہے کہ وہ سارے کا سارا اپنے شخصی اورذاتی مصارف میں صَرف کریں بلکہ اس لیے کہ وہ اسلامی حکومت کے سربراہ ہیں اورخصوصاًحاجت مندوں کے حقوق کے محافظ ہیں لہٰذا وہ اس کازیادہ حصّہ ان پرخرچ کریں گے ۔
اس آ یت میں کّلی طورپر فے کے لیے چھ مَصرف بیان ہوئے ہیں :
١۔ سہم خدا: واضح ہے کہ خداہر چیز کامالک ہے اوراس کے ساتھ ساتھ کسی چیز کامحتاج نہیں ہے ، یہ ایک قسم کی نسبت تشر یعی واعزاز ی ہے تاکہ دوسرے گروہ جو اس کے بعد بیان ہوئے ہیں کسی قسم کی حقارت محسوس نہ کریں اوراپنا حصّہ خدا کے حصّہ کاسلسلہ خیال کریں ۔
اس طرح ان کی شخصیّت عام افراد کے ذہنوں میں کسی نقص کاشکارنہ ہو ۔
٢۔ سہم پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):جس سے فطری طورپر ان کی ذاتی ضرورتیں ،اس کے بعد مقامی حاجتیں اوروہ توقعات جولوگ ان سے رکھتے ہیں وہ سب اِ س سے پوری ہوں ۔
٣۔ سہم ذوی القربیٰ:اس میں شک نہیں کہ اس سے یہاں مراد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ذوی القربیٰ ہیں اور بنی ہاشم ہیں جوزکوٰة کے لینے سے محروم ہیں جوعام مسلمانوں کے اموال کاجز ہے (٣) ۔
اصولی طورپر اس کے کوئی معنی نہیں کہ اس سے مراد عام لوگوں کے ذوی القربیٰ ہوں کیونکہ اس صُورت میں تمام مسلمانوں کوبغیر کسی استثناء کے شامل کرناپڑے گا کیونکہ تمام لوگ ایک دوسرے کے عزیز واقرباہیں ،اَب رہایہ کہ ذوی القربیٰ میں احتیاج وفقر شرط ہے یا نہیں اس پرمفسّرین کے درمیان اختلاف ہے ،اگرچہ وہ قرائن جواس آ یت کے آخر میں اور بعد والی آ یت میں ہیں اس کاشرط ہونا زیادہ صحیح نظر نہیں آتا ۔
٤، ٥، ٦، یتیموں مسکینوں اور سفر میںدرماندہ افرادکاحصّہ ہے یہ کہ یہ تینوں گروہ بنی ہاشم میں سے ہونے چاہئیں یاعام یتیموں ،مسکینوںاور مسافروں کااس میں حصّہ ہے مفسّرین کے رمیان اس میں اختلاف ہے ۔زیادہ ترفقہائے اہل سُنّت اوران کے مفسّرین کانظر یہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ عمومیت رکھتاہے جب کہ وہ روایتیں جوطرقِ اہلبیت سے ہم تک پہنچی ہیں وہ اس سلسلہ میں مختلف ہیں ۔بعض سے معلوم ہوتاہے کہ یہ حصّہ بنی ہاشم کے یتیموں ،مسکینوں اورمسافروں کے لیے مخصوص ہے لیکن بعض روایات میں تصریح ہوئی ہے کہ یہ حکم عمومیت رکھتاہے ، امام محمد باقر علیہ السلام سے اس طرح مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
(کان ابی یقول لناسھم رسول اللہ وسھم ذی القربیٰ ونحن شرکاء النّاس فیما بقی)
ہمارے لیے رسول ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اورذوی القربیٰ کاحصّہ ہے اورہم ان باقی ماندہ حصّوں میں لوگوں کے ساتھ شریک ہیں(٤) ۔
اس سُورہ کی آ یت ٨،٩ جواس آ یت کی وضاحت کرتی ہیں اور گواہی دیتی ہیں کہ یہ حصّہ بنی ہاشم کے لیے مخصوص نہیں ہے کہ کیونکہ ان میں عام فقراء مہاجرین وانصار کے بارے میں گفتگو ہے ۔علاوہ ازیں مفسّرین نے نقل کیاہے کہ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بنو نظیر کے واقعہ کے بعدان اموال کو جووہ چھوڑ گئے تھے مہاجرین میں جو عام طورپر مدینہ میں سخت حالات میں زندگی گزاررہے تھے ،اورانصار کے تین گروہوں میں جوبہت زیادہ حاجت مند تھے ،تقسیم کردیے اور یہ امر آ یت کے مفہوم کی عمومیّت کی دلیل ہے ،اَب اگر بعض روایات اس کی تائید نہ کرتی ہوں تو ظاہر قرآن کو ترجیح دینی چاہیئے ( ٥) ۔
اس کے بعد اس حساب شدہ تقسیم کے فلسفہ کوپیش کرتے ہوئے مزید فرماتاہے ۔
یہ اس بناپر ہے کہ یہ عظیم اموال تمہارے امیر لوگوں کے درمیان دست بدست گردش نہ کرتے رہیں اور حاجت مند اُن محرم نہ ہوں( کَیْ لا یَکُونَ دُولَةبَیْنَ الْأَغْنِیاء ِ مِنْکُمْ )(٦) ۔
مفسرین نے اس جُملہ کے لیے خُصوصیّت کے ساتھ ایک شان ِ نزول بیان کی ہے جس کی طرف پہلے بھی اجمالاً اشارہ ہوچکاہے اوروہ یہ کہ رؤسا ء مسلمین کی ایک جماعت واقعہ بنی نظیر کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آ ئی اور عرض کیا جس کو آپ خود منتخب کریں وہ اوران اموال غنیمت کاچوتھا حصّہ آپ لیجئے اور بقایا ہمارے اختیار میں دے دیجئے تاکہ ہم اپنے درمیان تقسیم کرلیں جیساکہ اسلام سے پہلے زمانہ ٔ جاہلیّت میں تھا ۔
تو مندرجہ بالاآ یت نازل ہوئی اورانہیں متنبہ کیاکہ یہ اموال اغنیاء میں دست بدست گردش نہ کرنے پائیں ۔ یہ آ یت اقتصاد اسلامی کے ایک بنیادی اصول کوبیان کرتی ہے اوروہ یہ کہ اسلام کے اقتصادی نظام کا مزاج ، ہے کہ باوجود شخصی اورخصوصی مالکیّت کے احترام کے سلسلہ کا رایسارکھاجائے کہ مال ودولت ایک مخصوص گروہ میں محدُود ہو کر نہ رہ جائیں ۔ اور ایسانہ ہوکہ صرف انہیں کے درمیان گردش کریں ۔ البتہ اس آ یت کے یہ معنی نہیں ہیں ہم اپنی طرف سے قوانین وضع کرلیں اورمال ودولت ایک گروہ سے لے کر دوسرے گروہ کے حوالے کردیں ۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ اگردولت کے حصول کے سلسلہ میںاسلام کے مقرر ہے کیے ہوئے اصول سرکاری مالیات مثلاً خمس زکوٰة اوراخراج وغیرہ کے احکام اور بیتُ المال وانفال کے احکام ٹھیک طرح سے عملی جامہ پہن لیں توخود بخود یہ نتیجہ نکل آ ئے گاکہ باوجود انفرادی کوششوں کے احترام کے اجتماعی مصلحتیں بھی پُوری ہوجائیں گی ۔ اور معاشرہ میں نہ بہت امیر طبقہ رہے گا نہ بہت غریب ، بلکہ دولت کی معتدل تقسیم بروئے کار آ ئے گی ۔خدا وند تعالیٰ آ یت کے آخر میں فرماتاہے : جوکچھ خداکا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تمہارے لیے لایا ہے اُسے لے لو اور جس سے اس نے تمہیں منع کیاہے اس سے باز رہو اور تقویٰ اختیار کرو ، اس لیے کہ خداشدید العقاب ہے (وَ ما آتاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَ ما نَہاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا وَ اتَّقُوا اللَّہَ ِنَّ اللَّہَ شَدیدُ الْعِقاب) ۔ کا یہ جملہ اگرچہ بنونظیر کے اموال ِ غنیمت کے بارے میں نازل ہواہے لیکن یہ مسلمانوں کے تمام کارو بار ِ زندگی میں ایک حکم ِعمومی کی حیثیت رکھتاہے اوریہ چیزسنت ِپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے حجت ہونے کی ایک واضح دلیل ہے ۔ اس اصول ِ اساسی کے پیش ِنظر تمام مسلمانوں کی ذمّہ داری ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوامرونواہی کوگوشِ دل سے سُنیں اوران کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ، خواہ وہ حکومت ِاسلامی سے تعلق رکھنے والے مسائل کے بارے میںہوں یااقتصادی مسائل سے متعلق ہوں یاحقوقِ بندگان ِ کے بارے میں ہوں یاان سے علیٰحدہ ہوں ۔ یہ حقیقت خصوصیّت کے ساتھ پیش ِ نظر رکھنی چاہیئے کہ جولوگب مخالفت کریں گے ان کوشدید عذاب کی وعید سنائی گئی ہے
 ٢۔راغب مفردات میں کہتاہے کہ خیل اصل میں خیال کے مادّہ سے خیالات اورذہنی تصوّرات کے معنی میں ہے اور"" خیلا"" تکبّر اوراپنے آپ کوبڑاسمجھنے کے معنی میں ہے ،اس لیے کہ ایک قسم کاتخیل فضیلت سے پیداہوتاہے اورچونکہ انسان جب گھوڑے پرسوار ہوتاتو عام طورپرایک قسم کاغرور محسوس کرتا ہے لہٰذا لفظ خیل کا گھوڑے پراطلاق ہواہے ۔ قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ خیل گھوڑوں اور سواروںدونوں کے لیے بولا جاتاہے ۔
 ٣۔یہ تفسیر نہ صرف شیعہ مفسّرین نے بلکہ بہت سے اہل سنّت مفسّرین نے بھی تحریر کی ہے ،مثلاً فخررازی نے اپنی تفسیر کبیر میں ، برسوئی نے رُوح البیان میں ، سید قطب نے فی ظلال میں، مراغی نے اپنی تفسیر میں اورآلوسی نے رُوح المعانی میں ۔
 ٤۔مجمع البیان جلد ٩ ،صفحہ ٢٦١ ،وسائل الشیعہ ،جلد ٦ ،صفحہ ٣٦٨(حدیث ١٢ باب ١ ابواب انفال ) ۔
 ٥۔وسائل الشیعہ ،جلد ٦ ،صفحہ ٣٥٦(حدیث ٤ ،باب١ ابواب انفال ) ۔
 ٦۔""دولة "" (دال کے زبراور پیش کے ساتھ )ایک ہی معنی میں ہے ۔ اگر چہ بعض مفسّرین نے ان کے درمیان فرق کیاہے کہ پہلے اموال کے ساتھ مخصوص اور دوسرے کو جنگ کے ساتھ اورمقام کے ساتھ مربوط جاناہے یاپہلے کواسم مصدر اوردوسرے کومصدر شمار کیاہے ۔ بہرحال تداول کے مادّہ سے دست بدست کرنے کے معنی میں دونوں ایک ہی ہیں ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma