تین گروہ ،مہاجرین ،انصار اور تابعین اوران کے نمایاں اوصاف

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
یہ آ یتیں گزشتہ آیتوں کے مباحث کوجاری رکھے ہوئے ہین جومال فی ء کی چھ مصارف کے بارے میں تھیں اورجوحقیقت میں یتیموں، مسکینوں ، اور درماندہ مسافروں کی تفسیر ہیں اور سب سے زیادہ ابن السبیل کی تفسیر ہیں کیونکہ مسلمان مہاجرین کی زیادہ تر تعداد انہی پر مشتمل تھی جواپنے وطن اور شہر میں تومسکین نہیں تھے لیکن ہجرت کی بناپر تہی دست ہوگئے تھے ،خداوند عالم فرماتاہے:
یہ اموال ان مہاجرین کے لیے ہیں جواپنے گھروں سے باہر نکالے گئے ہیں (لِلْفُقَراء ِ الْمُہاجِرینَ الَّذینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیارِہِمْ وَ أَمْوالِہِم)(١) ۔
وہ خدا کے فضل اوراس کی رضاکوطلب کرتے ہیں اور خدا اوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کرتے ہیں اور وہ سچّے ہیں (یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّہِ وَ رِضْواناً وَ یَنْصُرُونَ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ أُولئِکَ ہُمُ الصَّادِقُون) ۔ یہاں مہاجرین کے تین اہم اوصاف بیان کیے گئے ہیں جواخلاص جہاد اورصدق پرمنحصر ہیں ۔ سب سے پہلے ابتغائے فضل خد ا و رضا ئے خدا کوپیش کرتاہے جواس حقیقت کوواضح کرتاہے کہ ان کی ہجرت دنیا اور ہوائے نفس کے لیے نہیں تھی بلکہ پروردگار کی خوشنودی اوراس سے حاصل ہونے والے ثواب کے لیے تھی ۔ اس بناپر فضل یہاں ثواب کے معنی میں ہے اوررضوان خوشنودی پروردگار ِ عالم ہے جوتمنّا ئے ثواب کابلند ترین مرحلہ ہے ،جیساکہ متعدد آیاتِ قرآنی میں بھی یہی معنی آ ئے ہیں ۔منجملہ دیگرآ یات کے سُورہ فتح کی آ یت ٢٩ میں جہاں اصحاب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اس عبارت کے ساتھ توصیف کرتاہے (تَراہُمْ رُکَّعاً سُجَّداً یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّہِ وَ رِضْوانا)تُو ان کوہمیشہ رکوع وسجود میں دیکھے گا جب کہ وہ خدا کے فضل اوراس کی رضا اوراس کوطلب کرتے ہیں فضل کی تعبیر ممکن ہے ، اس نکتہ کی طرف اشارہ ہو کہ وہ اپنے اعمال کواتنا حقیر سمجھتے ہیں کہ اسے مستحقِ ثواب ہی نہیں سمجھتے بلکہ ثواب کووہ ایک انعامِ الہٰی شمارکرتے ہیں ۔ مفسّرین کی ایک جماعت نے فضل کی یہ تفسیر کی ہے کہ اس سے مُراد دُنیاوی رزق ہے ۔کیونکہ بعض دوسری آ یات ِ قرآنی میں یہی معانی آئے ہیں ۔لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ مہاجرین کے اخلاص کے بیان کا مقام ہے ، یہ معنی مناسب نہیں ہیں بلکہ مناسب وہی اجرِ خداوندی ہے ۔ البتہ یہ احتمال بعید نہیں ہے کہ فضل سے جنّت کی جسمانی نعمتوں کی طرف اشارہ ہو اور رضوان معنوی اوررُوحانی نعمتوں کی طرف اوراس راہ میں جہاد کرنے سے ایک لمحہ کے لیے بھی دست بردار نہیں ہوتے ۔(توجہ رکھنی چاہیئے کہ ینصرون کاجملہ فعل مضارع اوراستمرار کی دلیل ہے ) تواس طرح وہ صرف زبانی دعویٰ نہیں کرتے بلکہ انہوںنے اپنے اعمال کومستقل جہاد سے ثابت کیاہے ۔تیسرے مرحلہ میں خداوند ِ عالم ان کی سچّائی کے عنوان کے تحت تعریف کرتاہے جس کے وسیع مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے ان کی صداقت کوہرچیز میں منعکس کرتاہے ۔وہ ایمان کے دعویٰ میں بھی سچّے ہیں ، رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے محبت کے دعویٰ میں بھی اور دین ِ حق کی طرف داری کے سلسلہ میں بھی ۔بغیر اظہار کیے یہ بات واضح ہے کہ یہ صفات اصحابِ پیغمبر میں ان آ یات کے نزول کے زمانے میں تھیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ ان کے اندر کچھ ایسے افراد بھی تھے جنہوںنے راستہ بدل لیا اوراس آ یت کے عظیم اعزازاتوافتخار ات سے اپنے آپ کومحروم کرلیا، ان لوگوں کی طرح جنہوںنے بصرہ میں جنگ ِ جمل کی آ گ اور شام میں صفین کی آگ بھڑکائی اوررسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے اس خلیفہ ٔبرحق کے مقابلہ میں ، جس کی باتفاق مسلمین ،اطاعت واجب تھی ،آمادۂ جدال وقتال ہوئے اوراس طرح انہوںنے ہزاروں مسلمانوں کاخُونِ ناحق بہایا ۔ اورپھر انہی جیسے دوسرے افراد بھی انہی کے زمرہ میں ہیں ۔ بعدوالی آ یت میں ان اموال کے ایک اورمَصرف کوپیش کرنے کے ضمن میں گروہِ انصار کی ایک بہت ہی جاذبِ توجہ ، عُمدہ اوربلیغ توصیف پیش کرتاہے اوروہ بحث جوگزشتہ آ یت میں مہاجرین سے متعلق تھی اس کی تکمیل کرتے ہوئے فرماتاہے:
اور وہ لوگ جودارالہجر ة میں (مدینہ میں )اورایمان کے گھر میں مہاجرین سے پہلے سکونت پذیر تھے (وَ الَّذینَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَ الْیمانَ مِنْ قَبْلِہِم)قابل ِ توجہ یہ امر ہے کہ تبوؤ یوائ(بر وزن دوائ)کے مادّہ سے اصل میں اجزائے مکان کی مسادات کے معنی میں ہے ۔
دوسرے لفظوں میں مکان کوصاف سُتھر اور مرتب رکھنے کے لیے بواء آتاہے یہ تعبیر ایک لطیف کنایہ ہے اس اعتبار سے کہ انصار مدینہ اس سے پہلے کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اورمہاجرین اس شہر میں وارد ہوں ،ہجرت کے لیے راہ ہموار کرچکے تھے اور جیساکہ تاریخ کہتی ہے وہ دومرتبہ عقبہ ( مکّے کے قریب ایک گھائی ہے )میںآ ئے اورپوشیدہ طورپر انہوںنے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اور مبلّغین کی شکل میں مدینہ لَوٹ گئے یہاں تک کہ مکّے کے مسلمانوں میں سے ایک شخص مصعب ابن عمیر کومبلّغ کی حیثیت سے وہ مدینہ اپنے اہمر اہ لے گئے تاکہ عوام کے ذہنوں کوپیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ہجرت کے لیے آمادہ کریں ۔ اس وجہ سے نہ صرف یہ کہ انہوںنے اپنے ظاہر ی گھروں کومہاجرین کی پذ یرائی کے لیے آمادہ کیابلکہ اپنے خانہ ٔ دل کواور شہر کے ماحول کوبھی جتنا ہوسکتاتھا مہاجرین کے استقبال کے لیے سازگار بنایا من قلبھم کی تعبیر بتاتی ہے کہ یہ سب مکّے کے مسلمانوں کی ہجرت سے پہلے ہوچکاتھا اوریہی چیزاہم ہے ۔ اس تفسیر کے مطابق مدینہ کے انصار بھی ان اموال کے مستحقین میں سے تھے ، یہ چیزاس سے تضاد نہیں رکھتی جوپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے گروہ انصار میں سے صِرف ددوباتیں افراد کواموال بنی نظیر میں سے کچھ عنایت فرمایاتھا ،ہوسکتاہے کہ انصارِ مدینہ میں اِن چند کے علاوہ مسکین وفقیرنہ ہوں جب کہ اِن اموال کے استحقاق کی بنیاد ی شرط فقر ہے ۔مہاجر ین کی صورتِ حال اس کے بالکل برعکس تھی اگروہ فقیر کے مصداق نہ بھی ثابت ہوتے توابن السبیل ضرور تھے ۔
اس کے بعد تین اورایسے اوصاف جوانصار کے جذبات واحساسات کوبیان کرتے ہیں ،پیش کرتے ہوئے فرماتاہے:
وہ لوگ اس طرح ہیں جو ہر اس مسلمان کو، جوان کی طرف ہجرت کرکے آئے ،دوست رکھتے ہیں(ْ یُحِبُّونَ مَنْ ہاجَرَ ِلَیْہِمْ )اوراس سلسلہ میں ان کی نظر میں تمام مسلمان برابر ہیں بلکہ ان کے نزدیک ایمان ، وہجرت اہم مسئلہ ہے ،یہ دوست رکھنا ان کی ایک مُستقل خصوصیت ہے دوسرے یہ کہ وہ اپنے سینہ میں،اس کے بارے میں جومہاجرین کودیاگیاہے ،کسِی قسم کی احتیاج محسوس نہیں کرتے (وَ لا یَجِدُونَ فی صُدُورِہِمْ حاجَةً مِمَّا أُوتُوا) ۔ نہ ان اموال غنیمت پران کی آنکھ ہے جوانہیں دیے گئے ہیں اور نہ وہ ان سے حسد کرتے ہین،حتٰی کہ جو چیزیں مہاجرین کو عطا ہوئی ہیں ان کے متعلق اپنے دل میں کوئی احتیاج محسوس نہیں کرتے ، یہ چیز انصار کی انہتائی عظمت اوربلند نظری پردلالت کرتی ہے ۔تیسرے مرحلہ میں مزید فرماتاہے:
وہ مہاجرین کوخُود پرمقدم سمجھتے ہیں اور انہیں ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود بہت زیادہ فقر میں مبتلا ہیں ( وَ یُؤْثِرُونَ عَلی أَنْفُسِہِمْ وَ لَوْ کانَ بِہِمْ خَصاصَة)(١) ۔
١۔خصاصة خصاص کے مادّہ سے (بر وزن اساس ) ان شگافوں کے معنی میں ہے جوگھر کی دیوار میں پڑجاتے ہیں چونکہ فقر وفاقہ انسان کی زندگی میں شگا ف پیدا کردیتاہے ،لہٰذا اسے خصاصہ کہاگیاہے ۔
ہم اپنے اموال اور گھر بھی مہاجرین میںتقسیم کردیتے ہیں اوراموال ِ غنیمت میں سے بھی کچھ نہیں لیتے ، ہم مہاجرین کواپنے اوپرترجیح دیتے ہیں اس پرمندرجہ بالا آ یت نازل ہوئی اوران کے اس اعلیٰ جذبہ کی تعریف کی (٢) ۔
ایک اورحدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ ایک شخص خدمت پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں آ یا اور عرض کیا: میں بُھوکا ہوں ۔
پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا:
میرے گھر سے اس کے لیے کھانا لے آئیں لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے گھر میں کھانانہیں تھا ۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: کون شخص ہے جو آج رات اس شخص کو مہمان رکھے :
انصار میں سے ایک شخص نے آمادگی ظاہر کی ۔وہ اسے اپنے گھر لے گیا ۔ اس کے گھر میں تھوڑی سی غذا کے علاوہ کچھ نہیں تھااور وہ بھی اس کے بچّوں کے لیے تھی ،اُس نے زوجہ سے کہا کہ مہمان کے لیے کھانا لے آئے اور چراغ گل کردے اور جس طرح ممکن ہو بچّوں کوسُلادے اس کے بعد شوہر اور بیوی دونوں دسترخوان پربیٹھ گئے اور بغیر اس کے کہ کھانے میں سے کچھ کھائیں وہ اپنا منہ چلاتے رہے ۔ مہمان نے خیال کیا کہ وہ بھی اس کے ساتھ کھانا کھار ہے ہیں ۔ اس نے سیر ہوکر کھانا کھایا ،وہ دونوںمیاں بیوی اس رات بُھوکے سوئے ۔صبح کوپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آئے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف دیکھ کر مُسکرادیے اور بغیر اس کے کہ وہ کچھ کہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مندرجہ بالاآ یت کی تلاوت فرمائی اوران کے ایثار کی تعریف کی ۔ ان رویات میں جوطُرقِ اہل بیت علیہم السلام سے پہنچتی ہیں آ یاہے کہ حضرت علی علیہ السلام اوران کے چھوٹے چھوٹے میزبان تھے اورجس نے بچوں کوبُھوکا سُلادیا وہ بانوئے اسلام حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تھیں(٣) ۔
توجہ کرنی چاہیئے کہ ہوسکتاہے پہلی داستان آ یت کی شان ِ نزول ہو ۔لیکن دوسری صُورت ِ حال پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف سے اس قسم کی تطبیق ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس ایثار پرمبنی مہمانی کے بارے میں آ یت کی تلاوت فرمائی ، اس وجہ سے انصار کے لیے میں آ یات کانزول حضرت علی علیہ السلام کے میزبان ہونے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا ،بعض مفسرین نے یہ بھی لکھاہے کہ یہ آیت اُحدکے جنگ جُو غازیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سے سات افراد بہت زیادہ پیاسے تھے اور زخمی تھے ۔کوئی شخص ایک آدمی کے پیاس بُجھانے کی مقدار کے برابر پانی لے کر آیا ،وہ جس کے پاس لے کر گیااس نے دُوسرے کا حوالہ دیااوراُسے اپنے اُوپر ترجیح دی آخرکار اس نے پیاس کی حالت میں جان دے دی اور خدانے اس کے اس ایثار کی تعریف وتوصیف کی (٤) ۔
لیکن واضح رہے کہ یہ آ یت بنی نظیر کے واقعہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے جب کہ اپنے مفہوم کی عمومیت کی بناء پر یہ آ یت مشابہ موارد پر تطبیق ہے ۔ ا یت کے آخر میں مزید تاکید کے لیے مذکورہ اوصاف کریمہ کی بناپر اور نتیجے کے بیان کے طورپر مزید فرماتاہے:
وہ لوگ جن کوخدانے بُخل اوحِرص سے روکا وہی رست گار ہیں ( وَ مَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ ) جیسا کہ راغب مفردات میں کہتاہے ، ایسے بخل کے معنی میں ہے جس میں حِرص شامل ہو اور جوعادت بن چکا ہو یوق وقایة کے مادّہ سے اگرچہ فعل مجہول کی شکل میں ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس کافاعل یہاں خدا ہے یعنی جس شخص کوخدااس عیب سے محفوظ رکھے وہ کامیاب ہے ایک حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک صحابی سے فرمایا:
(اتدری مالشحیح ) کیا تم جانتے ہو کہ شحیح کون ہے ؟
اُس نے جواب میں عرض کیا: ھو البخیل ۔
توامام علیہ السلام نے فرمایا:
اشح اشد من البخل ، ان البخیل یبخل بمافی یدہ والشحیح یشح بمافی ایدی الناس وعلی مافی یدہ حتٰی لایری فی ایدی النّاش شیئا الّا تمنی ان یکون لہ بالحلال والحرام ولایقنع بمارزقہ اللہ عزّو جل ۔
شح بُخل سے زیادہ سخت ہے ۔بخیل وہ ہے کہ جوکچھ اس کے پاس ہو اس کے متعلق بخل کرے لیکن شحیح وہ ہے جواس کے بارے میں بھی بُخل کرتاہو جولوگوں کے پاس ہو اور جوکچھ اس کے اپنے پاس ہو اس میں بھی ۔یہاں تک کہ جوکچھ لُوگوں کے پاس ہے وہ آرزو کرتاہے کہ اس کے ہاتھ آجائے چاہے حلال طریقہ سے چاہے حرام سے اور جورزق اے خدانے دیاہے اس پرکبھی قناعت نہیں کرتا (٥) ۔
ایک اورحدیث میں ہم پڑھتے ہیں: لا یجتمع والایمان الشح والایمان فی قلب رجل مسلم ولا یجتمع غبار فی سبیل اللہ ودخان جھنم فی جوف رجل مسلم
بخل وحرص وایمان ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے ،جس طرح راہ ِ جہاد کاگرد وغبار اورجہنم کادھواں ایک مرد مُسلمان کے اندر جمع نہیں ہوسکتے۔
مختصر یہ کہ مندرجہ بالا آ یت سے اچھی طرح معلوم ہوتاہے کہ بُخل وحرص ترک کرنا انسان کوفلاح وکامیابی تک پہنچا ہے،جب کہ اس عیب سے آلودگی سعادت ِ انسانی کے فقر کوڈھادیتی ہے اوراسے ویران کردیتی ہے ۔ اخری زیربحث آیت مسلمانوں کے تیسرے گروہ کے بارے میںگفتگو آتی ہے جوقرآن مجید کے الہام وہدایت کی بناپر ہمارے درمیان تابعین کے نام سے معروف ہیں ۔وہ مہاجرین وانصار کے بعد جن کے متعلق گزشتہ آیات میں گفتگو آئی تھی مسلمانوں کے تیسرے عظیم گروہ کوتشکیل دیتے ہیں خداوند ِ عالم فر ماتے ہے :
اور وہ لوگ جوان کے بعد آ ئے ہیں وہ کہتے ہیں پروردگار ا! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کوجنہوںنے ایما ن میں ہم پرسبقت حاصل کی ہے بخش دے اور ہمارے دنوں میں مومنین کی نسبت حسد وکینہ قرار نہ دے ۔
پروردگار ا!تو مہر بان ورحیم ہے (وَ الَّذینَ جاؤُ مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنا وَ لِاخْوانِنَا الَّذینَ سَبَقُونا بِالْیمانِ وَ لا تَجْعَلْ فی قُلُوبِنا غِلاًّ لِلَّذینَ آمَنُوا رَبَّنا ِنَّکَ رَؤُف رَحیم) ۔
اگرچہ بعض مفسّرین نے اِس جملہ کامفہوم ان لوگوں میں محدود کردیا جواسلام کی کامیابی اور فتح مکّہ کے بعد مسلمانوں کے ساتھ آن ملے لیکن اس محدودیّت کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے تمام مسلمان اس میں شامل ہیں (وَ الَّذینَ جاؤُ َ...)کا جملہ بظاہر عطف ہے لِلْفُقَراء ِ الْمُہاجِرینَ پر اوراس حقیقت کوبیان کرتاہے کہ اموال ِ فی ء مہا جرین وانصار کے مساکین کے لیے نہیں ہیں بلکہ قیامت تک آنے والے تمام مسلمان بھی اس میں شامل ہیں ۔ یہ احتمال بھی پیش کیاگیاہے کہ یہ ایک مستقل جملہ ہے ( اس طرح سے والدین جاء و مبتدا کی خبر ہے ) ۔لیکن گزشتہ آ یات سے اس کی ہم آہنگی کوپیش ِ نظر رکھتے ہوئے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ،قابل ِ توجہ یہ ہے کہ یہاں بھی انہی کے تین اوصاف بیان کیے گئے ہیں .پہلی صفت یہ کہ وہ اپنی اصلاح ،طلب آمرزش اور بارگاہِ خدامیں تو بہ کی فکر میں رہتے ہیں ۔دوسری صفت یہ کہ وہ ایمان کی طرف سبقت کرنے والے کوبڑے بھائی کی طرح دیکھتے ہیں جوہرلحاظ سے سے قابل احترام ہوتے ہیں اوران کے لیے بھی بارگاہِ خدا کی بخشش ومغفرت کی استد عاکرتے ہیں ،تیسری صفت یہ کہ ان کی کوشش ہے کہ ہرقسم کاکِینہ ،دشمنی اورحسد اپنے دل سے باہر نکال دیں اور اس راہ میں خداوند ِ روُف ورحیم سے مدد طلب کرتے ہیں ، اس اعتبار سے اپنی شخصیت کی تعمیر ، ایمان کی طرف سبقت کرنے والو ں کااحترام وکینہ وحسد سے دُوری ان کی خصوصیت ہیں غل ( بروزن سل ) جیساکہ پہلے بھی ہم نے عرض کیاہے اصل میں کسی چیز کے پوشیدہ طورپردل میں نفوذ کرتے ہیں ۔ اس لیے اسے غل کہاجاتاہے اس بناء پر غل صرف حسد کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس کاایک وسیع مفہوم ہے جس میں بہت سے عیوب اورقبیح عادات شامل ہیں اخوان (بھائی ) کی تعبیر اور آ یت کے آخر کے معنی میں خداوند رؤف ورحیم سے مدد طلب کرنارُوحِ محبت واخوّت کا ترجمہ ہے جسے سارے اسلامی معاشرہ پرفرماں روا ہوناچاہیئے ،اورجوشخص کسی نیکی کوچاہتاہے وہ صرف اپنے لیے نہ بلکہ تمام کوششیں اجتماعی شکل میں سب کے لیے انجام پانی چاہئیں اورہرقسم کاکینہ ،بُغض ،عداوت ، دُشمنی ،بخل، حِرص اورحسد سینوں سے دھودینا چاہیئے ۔
١۔للفقراء بدل ہے اورابن اسبیل کی تفسیر ہے ۔
٢۔ مجمع البیان ،جلد ٩،صفحہ ٢٦٠۔
٣۔مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٦٠۔
٤۔ مجمع ا لبیان ، جلد ٩ ،صفحہ ٢٦٢۔
٥۔نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٩١حدیث ٦٤۔

12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma