٣۔ جوکچھ آگے بھیجنا چاہیئے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
مندرجہ بالا آیات میں اس مسئلہ پرزور دیاگیا تھاکہ انسان کودیکھناچاہیئے کہ اس نے قیامت کے لیے کون ساذخیرہ اعمال جمع کیاہے ۔
(وَ لْتَنْظُرْ نَفْس ما قَدَّمَتْ لِغَد) ۔در حقیقت میدانِ قیامت میں انسان کاسر مایۂ اصلی وہ اعمال و افعال ہیں جواس نے آگے بھیجے ہیں ۔ دوسرا کوئی شخص اس فکر میں نہیں ہے کہ اس کے لیے اس کی موت کے بعد کوئی چیز بھیجے اوراگربھیجے بھی تواس کی زیادہ قدر وقیمت نہیں ہے ۔
ایک حدیث میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ سلم) کی ہمارے سامنے آتی ہے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:
راہِ خدامیں انفاق کرو چاہے تین سیر کھجوریں ہوں، یااس سے بھی کم ، یامُٹھی بھر ہوں، یااس سے بھی کم ، یہاں تک کہ کہ آدھا خرماہی کیوں نہ ہوں اوراگرکسی کویہ بھی نہ مل سکے ،توپھروہ پاکیزہ باتوں سے دلوں کوخوش کرے ، اس لیے ک قیامت میں جب انسان بار گاہِ خدامیں پیش ہوگاتوخُدا پُوچھے گاکیامیں نے تیرے متعلق ایسااورایسا نہیں کیا؟ کیاکان اورآنکھ تیرے اختیار میں نہیں دیے؟ کیا مال اور اولاد تجھ کو نہیں بخشے تھے ؟ بندہ عرض کرے گاہاں ،تواس وقت خداوند متعال کہے گاتوپھر دیکھ کہ تونے اپنے آگے کے لیے کیا بھیجاہے ۔
(فینظر قدامہ وخلفہ وعن یمینہ وعن شمالہ فلایجد شیئا یقی بہ وجھہ من النّاس) ۔
وہ اپنے آگے پیچھے اور دائیں دیکھے گااسے کوئی چیزنہیں ملے گی جس کے ذریعے وہ اپنے چہرہ جہنم کی آگ سے محفوظ رکھ سکے (٨) ۔
ایک اورحدیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بعض اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ قبیلہ مضر کاایک گروہ وارد ہواجن کی کمرور ں تلوار لٹکی ہوئی تھی ( وہ راہِ خدامیں جہاد کے لیے آمادہ تھے )لیکن ان کے کپڑے اچھے نہیں تھے ،جس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے حاجت مندی اور بھوک کے آثار ان کے چہروں پردیکھے توآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرۂ مبارک کارنگ متغیّر ہوگیا،آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مسجد میں آ ئے ، منبر پرتشریف لے گئے اورخدا کی حمد وثنا بجالانے کے بعد ارشاد فر مایا:
خدا نے یہ آ یت قرآن مجید میں نازل فرمائی ہے :( یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْس ما قَدَّمَتْ لِغَد...)
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا:
راہ ِ خدامیں انفاق کرو اس سے پہلے کہ قوّت وقدرت تم سے سلب ہوجائے اورراہِ خدا میں صدقہ دوقبل اس کے کہ اس میں کوئی مانع پیدا ہوجائے ۔جن کے پاس دینار ہے وہ دیناسے ،جن کے پاس درہم ہے وہ درہم سے اورجوگندم وجَو رکھتے ہیں وہ گندم وجو سے انفاق کریں اور کسی چیزکوکم ترخیال نہ کریں خواہ خرمہ کا آدھا دانہ ہی کیوں نہ ہو۔
انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوگیا اوراس نے ایک تھیلی پیغمبرخدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کودی توآثار سرور وانبساط آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے چہر ہ مبارک پرہویدا ہو ئے ،فرمانے لگے :
جوشخص شُنّت حسنہ کی بُنیاد رکھے اورلوگ اس پر عمل کریں تو اس کااجر اوران تمام لوگوں کااَجر جواس پر عمل کرتے ہیں اس ابتداکرنے والے شخص کونصیب ہوگا بغیر اس کے کہ لوگوں کے اَجر میں کوئی کمی واقعی ہو اورجوشخص بُری رسم کوجاری کرے اس کاگناہ اوران تمام لوگوں کاگناہ جواس پر عمل کرتے ہیں اس رسم ِ قبیح جاری کرنے والے کے ذمّہ ہوگا بغیر اس کے کہ دوسرے لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی ہو ۔
لوگ کھڑے ہوگئے جس کے پاس دینار تھاوہ دینارلے آ یا ۔ جس کے پاس درہم تھاوہ درہم لے آیا ۔جس شخص کے پاس جوچیز تھی وہ خدمت ِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے آیا، اس طرح سے معقول قسم کی مدد ، نقد اور بصورت اشیاء ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جمع ہوگئیں جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان حاجت مندوں میں تقسیم کردیا(٩) ۔
یہی مفاہیم قرآن کی دوسری آ یات میں بارہاآئے ہیں اوران کی تاکید کی گئی ہے ۔سُورئہ بقرہ کی آ یت ١١٠ میں ہم پڑھتے ہیں :
(وَ أَقیمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّکاةَ وَ ما تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِکُمْ مِنْ خَیْرٍ تَجِدُوہُ عِنْدَ اللَّہِ ِنَّ اللَّہَ بِما تَعْمَلُونَ بَصیر) ۔ نماز قائم کرو،زکوٰة ادا کرو اور جس کارِ خیر کواپنے لیے تم آگے بھیجتے ہواسے خداکے ہاں پاؤ گے خدا تمہارے اعمال کودیکھتاہے
 (٨)نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٩٢۔
 ٩۔تفسیر درالمنثور ،جلد ٦،صفحہ ٢٠١۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma