اگر قرآن پہاڑوں پرنازل ہوتاتُو وُہ ریز ہ ریزہ ہوجاتے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
گزشتہ آیتوں کے بعد جومختلف طریقوں سے انسانوں کے دلوں میں نفوذ کرنے کی صلاحیّت رکھتی تھیں اورجنہوںنے ان کے تقدیر ساز مسائل زندہ مشکل میں پیش کیے ، ان آیات میں ،جوسُورہ حشر کی آخر ی آ یات ہیں اور عام آ یات قرآنی پرروشنی ڈالتی ہیں، اس حقیقت کومنکشف کیاگیاہے کہ قرآن کانفوذ اس قدر گہراہے کہ اگریہ پہا ڑوں پرنازل ہوتاتوانہیں ہلا کر رکھ دیتا ۔لیکن تعجب ہے اس سنگ دل انسان پرکہ وہ اسے سُنتا توہے مگر اس پر لرزہ بھی طاری نہیں ہوتا ۔ اور خداوند ِ عالم پہلے فرماتاہے:
اگر قرآن کوہم پہا ڑ پرنازل کرتے توتُو مشاہدہ کرتاکہ وہ اس کے سامنے خشوع کررہاہے اورخوف ِ خدا سے اس میں شگاف پڑگئے ہیں (لَوْ أَنْزَلْنا ہذَا الْقُرْآنَ عَلی جَبَلٍ لَرَأَیْتَہُ خاشِعاً مُتَصَدِّعاً مِنْ خَشْیَةِ اللَّہِ)اور یہ ضرب الامثال جوہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں وہ اس لیے ہیں کہ لوگ ان میںغور وفکر کریں (وَ تِلْکَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُہا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ)بہت سے مفسّرین نے اس آ یت کی تشبیہ کی شکل میں تفسیر کی ہے اور کہاہے کہ یہ پہاڑ باوجود اس سختی کے جوان میں ہے اگرعقل واحساس بھی رکھتے اور یہ آیات اِنسانوں کی بجائے ان پرنازل ہوتیں تووہ اس طرح لرزہ براندام ہوجاتے کہ ان میں شگاف پڑجاتے ہیں لیکن سخت دل انسانوں کاایک گروہ اسے سنتا ہے اور بالکل متاثر نہیں ہوتا ، اوراس جملہ کو (وَ تِلْکَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُہا لِلنَّاس)مذکورہ تفسیر پردلیل قرار دیاہے ۔بعض مفسرین نے اسے اس کے ظاہر پرمحمول کیاہے اور کہاہے کہ اس جہان کے تمام موجودات جن میں پہاڑ بھی شامل ہیں ، اپنے اندرایک قسم کاادراک وشعور رکھتے ہیں اوراگر یہ آیات پہاڑوں پرنازل ہوتیں تووہ یقیناریزہ ریزہ ہوجاتے ۔ ان معانی پر سُورہ بقرہ کی آ یت ٧٤کو گواہ قرار دیتے ہیں ۔(ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِکَ فَہِیَ کَالْحِجارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَ ِنَّ مِنَ الْحِجارَةِ لَما یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْأَنْہارُ وَ ِنَّ مِنْہا لَما یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْماء ُ وَ ِنَّ مِنْہا لَما یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللَّہِ ) پھر تمہارے دل اس واقعہ کے بعد پتھر کی طرح سخت ہوگئے یااس سے بھی زیادہ سخت ، کیونکہ پتھر ایسے ہیں جن میں شگاف پڑجاتے ہیں اوران میں سے نہریں جاری ہو جاتی ہیں ۔کچھ ایسے ہیں جن میں شگاف پڑجاتے ہیں اوران میں سے پانی ٹپکنے لگتاہے اور بعض خوف ِ خدا کے باعث نیچے گرجاتے ہیں ۔
مثل کی تعبیر ہوسکتاہے کہ توصیف کے معنی میں ہوجیساکہ یہ لفظ قرآن مجید میں بار ہا اس معنی میں آیاہے اِس بناپر مذکورہ تعبیر اس تفسیر سے نہیں ٹکراتی ۔قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ پہلے فرماتاہے کہ پہاڑ قرآن کے سامنے خاشع و خاضع ہوجاتے ہیں ،پھرمزید فرماتاہے کہ ان میں شگاف پڑجاتے ہیں جواس طرف اشارہ ہے کہ قرآ ن ان میں بتدریج نفوذ کرتااورہر زمانے میں قرآن کی تاثیر کے نئے آثار ان میں نمایا ں ہوتے ہیں یہاں تک کہ ان کی قوّت جواب دے دیتی ہے اور یہ عاشق ِ بے قرار کی طرح دالہ شیدا ہوجاتے ہیں اور پھر شگافتہ ہوجاتے (١) ۔
١۔ متصدع صدع کے مادّہ سے سخت ومحکم چیزوں میں شیعہ اورپتھر کی طرح شگاف پڑنے کے معنی میں ہے اوراگر دردِ سر کوصداع کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گویاانسان کاسرپھٹ رہاہے ۔
لیکن بعد میںآنے والی آ یات میں خدا کے اوصافِ جلال و جمال میں سے ایک اہم حصّہ کاتذکرہ ہے جس کی طرف توجہ کرنا تربیّت ِ ہوس اور تہذیب قلوب کے لیے بڑا پُر تاثیر ہے ۔ پروردگار ِ عالم ان آیتوں میں سے تین آیات میں پندرہ صفتیں اور دوسرے الفاظ میں اٹھارہ اوصاف اپنی صفاتِ عظیمہ میں سے بیان کرتاہے اور ہر آ یات توحیدِ الہٰی اوراللہ کے مقدّس نام کے بیان سے شروع ہوتی ہے اور انسان کی حق تعالیٰ کے اسماء وصفات کے نورانی عالم کی طرف رہنمائی کرتی ہے فرماتاہے:
خداوہی ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ،جوغیب وشہود سے آگاہ ہے اوررحمن ورحیم ہے (ہُوَ اللَّہُ الَّذی لا ِلہَ ِلاَّ ہُوَ عالِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّہادَةِ ہُوَ الرَّحْمنُ الرَّحیمُ ) ۔ یہاں ہرچیز سے پہلے مسئلہ توحید جوتمام اوصاف ِ جلال وجمال کی رُوح ہے ، اس کی معرفت کواس پر مبنی قرار دیتاہے اورغیب وشہود کے بارے میں خدا کے علم ودانش پرانحصار کرتاہےشہادت وشہودجیسا کہ راغب مفردات میں کہتاہے : مشاہدہ کے ساتھ مشروط ہے چاہے دل کی آنکھ سے ہوجاہے ظاہری آنکھ سے ۔ اسی بناپران کا ایسی اورعلمی دائرہ کارجو ہے وہ عالم ِ شہود اورجوکچھ اس دائرہ سے باہر ہے وہ عالم ِ غیب شمار ہوتاہے ۔لیکن یہ سب علم خدا کے لیے یکساں ہے اس لیے کہ اُس کاوجود بے پایاں ہے اورہر جگہ حاضر وناظر ہے اورکوئی جگہ بھی اس کے علم وحضور کی قلم رد سے باہر نہیں ہے ،اسی لیے سورہ انعام کی آ یت ٥٩ میں ہمیں ملتاہے (وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الّا ھو) غیب کی چابیاں صرف اس کے پاس ہیں اوراس کے علاوہ کوئی شخص انہیں نہیں جانتا ۔ اس شان کے خداکے نام کی طرف توجہ کاسبب بنتی ہے کہ انسان اسے ہرجگہ حاضر وناظر سمجھے اورتقویٰ اختیار کرے ،اس کے بعد اُس کی رحمت ِ عام پر ، جوتمام مخلوقات کے شامل ِ حال ہے لفظِ رحمن کے حوالے سے اوراس کی رحمت ِخاص پرجومومنین کے لیے مخصوص ہے ،لفظ رحیم کے حوالہ سے انحصار ہواہے تاکہ وہ انسان کواُمید دلائے اوراسے معرفت ِ خدااِس طولانی راستے میں مدد دے جواِس کودرپیش ہے ۔ اس مرحلہ کاطے کرناپروردگار کے لُطف وکرم کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ۔وہ راستہ ایک طرح کاظلمات سے اور اس میں گمراہی کاخطرہ ہے ۔ اس طرح صفت ِ توحید کے علاوہ اس کی عظیم صفتوں میں سے اس آ یت میں تین عظیم صفتیں بیان کی ہیں ۔فرماتاہے: خدا وہی ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں (ہُوَ اللَّہُ الَّذی لا ِلہَ ِلاَّ ہُو) حاکم ومالک اصلی وہی ہے (الملک) ۔ ہرعیب سے پاک ومنزّہ ہے (القدوس) کسی پرکسی قسم کا ظلم وستم روانہیں رکھتااوراس کی طرف سے سب سلامتی میں ہیں (السلام )(٢) ۔
٢۔بعض مفسرین نے سلام کویہاں ہر قسم کے عیب ونقص وآفت سے سلامتی کے معنی میں لیاہے لیکن اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ معنی لفظ قدوس میں موجود ہیں،جوپہلے آچکاہے،اس کے علاوہ سلام عام طورپر قرآن مجید میں دوسروں کو سلامتی بخشنے کے مسئلہ میں آیاہے اور اصولی طورپر لفظ سلام جو ایک دوسرے سے ملا قات کے وقت کہاجاتاہے ۔وہ اظہار دوستی اورمدّ مقابل سے روابط کی سلامتی کے بیان کے لیے ہے لہٰذا جوکچھ ہم نے اُوپر بیان کیاہے وہ مناسب نظر آتاہے ۔
اصولی طورپراس کی دعوت ِ فکر ِ سلامتی کی طرف لے جاتی ہے (واللہ یدعوالی دار اسلام ) (یونس ٢٥) اوراُس کی ہدایت بھی سلامتی ہی کی طرف متوجہ ہے (یھد بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السّلام )(مائدہ ١٦) اورجوقرار گاہ مومنین کے لیے ہے وہ سلامتی کاگھر ہے ۔(لھم دارالسلام عند ربّھم) جنّتیوں کادرود وتحیّہ بھی سلام کے علاوہ اور کچھ نہیں (الّا قیلاً سلاماً سلاماً )(واقعہ ٢٦ ) اس کے بعد مزید فرماتاہے :
وہ اپنے دوستوں کو تحفظّ بخشتاہے اورایمان عطا فرماتاہے(المؤ من )(٣) ۔
٣۔بعض مفسّرین نے یہاں مومن کی صاحب ِ ایمان کے معنی میں تفسیر کی ہے جواس طرف اشارہ ہے کہ وہ پہلاہے جوخدا کی پاک ذات اوراس کے رسُولوں پرایمان رکھتاہے وہ خود وہی ہے لیکن جوکچھ ہم نے اُوپر بیان کیاہے وہ زیادہ مناسب ہے ۔
ہر چیز کا نگہبان ۔(المھیمن)(٤) ۔
٤۔ اس لفظ کے اصل کے بار ے میں مفسرین اورارباب ِ لغت کے درمیان دوقول موجود ہیں ۔بعض اسے ھیمن کے مادّہ سے جانتے ہیں جس کے معنی نگہبان کے ہیں اور ، بعض ایمان کے مادّہ سے ، کہ اس کاہمزہ ،ھا میں بدل گیا ہے اورسکون واطمینان دینے کے معنی میں ہے ۔یہ لفظ دومرتبہ قرآن مجید میں آیاہے ۔ ایک دفعہ خُود قرآن کے بارے میں ( مائدہ ٤٨) اورایک دفعہ خداکی تعریف وتوصیف میں زیر بحث آیت میں استعمال ہواہے ۔ اور دونوں موارد میں وہی پہلے معنی مناسب ہیں (لسان العرب ،تفسیر فخر رازی ،رُوح المعانی ) ابوالفتوح رازی زیربحث آ یت کے ذیل میں ابو عبیدہ سے نقل کرتاہے کہ کلام ِ عرب میںصرف پانچ نام ہیں جواس وزن پر آ ئے ہیں مھیمن مسیطر مبیطر(طبیب کاجانور) مبیقر وہ شخص جواپنا راستہ کھولتا ہو اور آگے بڑھتا ہو مخیمر ایک پہاڑ کانام ہے ۔
وہ ایساصاحب ِ قدرت ہے جوکبھی مغلوب نہیں ہوگا (الغزیز) و ہ اپنے نفوذ والے ارادہ کے ساتھ ہرچیز کی اصلاح کرتاہے (الجبّار ) یہ لفظ جومادّہ جبرسے لیاگیاہے کبھی قہر وغلبہ اورنفوذِ ارادہ کے معنوں میں آتاہے اورکبھی اصلاح کے منعوں میں، راغب دونوں ، معنوں کوآپس میں ملاکرکہتاہے ،جبرکی اصل کسی چیز کی غلبہ اور قوّت سے اصلاح کرناہے ، یہ لفظ جب خداکے لیے استعمال ہوتواس کی ایک عظیم صفت کوبیان کرتاہے یعنی وہ ارادہ کے نفوذ کے سات اور کمال ِ قدرت کے ساتھ ہر فساد کی اصلاح کرتاہے ۔لیکن جب یہی لفظ خداکے غیر کے لیے استعمال ہو تو مذمّت کاباعث ہوتاہے اور بقول راغب ایسے شخص کے لیے بولا جاتاہے جواپنی کوتاہیوں کاازالہ ایسے منصب کادعویٰ کرکے کرے جس کاوہ اہل نہ ہو، یہ لفظ قرآن مجید میں دس مواقع پراستعمال ہواہے جس میں سے نو مو قعوں پر ظالم اور گرد نیں کاٹنے والے مفسد افراد کے بارے میں ہے ۔صرف ایک موقع پر قادر مطلق کے لیے استعمال ہواہے اوروہ اسی زیربحث آ یت میں ہے ۔ اس کے بعد مزید فر ماتاہے:
وہ بزرگی اور عظمت کے لائق ہے اور کوئی چیزاس سے برتر وبالا نہیں ہے (المتکبر ) متکبر تکبر کے مادّہ سے دو معانی پردلالت کرتاہے ۔ ایک معنی ممدوح ہیں جوخداکے لیے استعمال ہوئے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ بزرگی ،نیک کاموں اوربہت سی پسندیدہ صفتوں کاحامل ہوتاہے ودوسرے معنی مذ موم ہیں جوغیر خدا کے لیے استعمال ہوتے ہیں اوروہ یہ ہیں کہ چھوٹے اور کم حیثیت افراد بزرگی اور عظمت کادعویٰ کریں اور جن صفات کے وہ حامل نہیں ہیں ان کادعویٰ کریں اورچونکہ بزرگی وعظمت صرف خدا کوزیباہے ،لہٰذا یہ لفظ اپنے ممدوح معنی میں صرف خداکے لیے اِستعمال ہوتاہے اور جب اس کے غیر کے لیے استعمال ہوتومذموم معانی رکھتاہے ۔ آ یت کے آخر میں دوبارہ مسئلہ توحید پر ، جس سے ابتداء ہوئی تھی ،زور دیتے ہوئے فرماتاہے:
خدا اس سے منزّہ ہے جسے اس کاشریک قرار دیتے ہیں (سُبْحانَ اللَّہِ عَمَّا یُشْرِکُون)جو وضاحت کی گئی ہے اس سے ظاہر ہوجاتاہے کہ کوئی موجود ان صفات میں، جو یہاں بیان ہوئی ہیں، اس کاشریک اوراس کی شبیہ ونظیر نہیں ہوسکتا ،آخری زیربحث آ یت میں ان صفات کی تکمل کے لیے چھ اوراوصاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے:
وہ خدا ہے پیداکرنے والا (ہُوَ اللَّہُ الْخالِق) وہ خداجس نے مخلوقات کوبے کم وکاست اوربغیر کسی سابقہ نمونہ کے خلق کیاہے (الباری)(٥) ۔
٥۔ باری بر (بروزن نقل )اصل میں صحت یابی اور ناخوشگوار امور سے رہائی کے معنی میں ہے لہٰذا باری اس شخص کوکہاجاتاہے جوکسِی چیز کوکمی بیشی کے بغیر مکمل اورموزوں طور پر اسیجاد کرے ۔بعض نے اسے بری (بروزن نفی ) کے مادّہ سے لکڑی کوتراشنے کے معنی میں لیاہے جواسے موزوں بنانے کے مقصد کے لیے انجام دیاجاتاہے ۔بعض اہل لغت نے تصریح کی ہے کہ باری وہ شخص ہے جوکسی چیز کو بغیراسابقہ نمونہ کے ایجاد کرے ۔
وہ خالق وآفرید گارجس نے ہرچیز کوایک مخصوص شکل وصُورت بخشی ہے (المصوّر) اورپھرچونکہ خداکے اوصاف لا محدُود ہیں بلکہ وہ اس کی رفعت و بلندی کی طرح لامتناہی ہیں یہ لہٰذا مزید فرماتاہے ۔
اس کے لیے اچھے نام ہیں (لَہُ الْأَسْماء ُ الْحُسْنی) ۔ اسی وجہ سے وہ ہرقسم کے عیب اورنقص سے مبّرہ ومنزہ ہے اور وہ تمام موجودات جوآسمانوں اور زمین میں ہیں اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسے ہرعیب ونقص سے پاک شمار کرتے ہیں ( یُسَبِّحُ لَہُ ما فِی السَّماواتِ وَ الْأَرْض) ۔ اخرکارتاکید مزید کے لیے نظام ِ آفرینش پراس کی صفتوں میں سے دوصفتوں کی طرف ، جن میں سے ایک پہلے آچکی ہے ،اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے:
وہ عزیز وحکیم ہے ( وَ ہُوَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ )پہلی صفت ہرچیز پرکمال ِ قدرت رکھنے اور ہرمانع پرغالب ہونے کی نشانی ہے دوسری نظام ِ آفرینش ،امرِ خلقت اورتدبیر کے معاملہ میں دقیق اور باریک بینی سے منظّم لائحہ عمل کے متعلق علم وآگہی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس طرح ان تینوں آیتوں کے مجموعہ میں مسئلہ توحید کے علاوہ ،جس کی دومرتبہ تکرار ہوئی ہے ، خدا کے اوصاف میں سے سترہ صفتیں آئی ہیں اوران کی ترتیب یہ ہے :
١۔ عالم الغیب والشھادة۔
٢۔ رحمن
٣۔رحیم
٤۔ مالک
٥۔ قدوس
٦۔ سلام
٧۔ مؤ من
٨۔ مھیمن
٩۔ عزیز
١٠۔ جبّار
١١۔ متکبر
١٢۔ خالق
١٣۔ باری
١٤۔ مصوّر
١٥۔ حکیم
١٦۔ اسمائے حسنیٰ کامالک
١٧۔ عالم کے تمام موجودات جس کی تسبیح کرتے ہیں
صفت ِ توحید کے شامل ہونے سے یہ صفات اٹھارہ وہ جاتی ہیں ۔(توجہ کیجئے کہ توحید بھی دومرتبہ اورعزیز بھی دومرتبہ بیان ہواہے ) ۔ ان تین آیات میں اِن تمام اوصاف ذات میں سے بالکل عام صفت علم اوراوصاف فعل میں سے بالکل عام صفت رحمت کاذکر ہے جوتمام افعال کی اصل ہے ۔دوسری آ یت میں اس کی حاکمیت اوراس کے کوائف کے بارے میں گفتگو ہے ۔ اورقدوس وسلام ومومن وجبّار ومتکبّر جیسی صفات کااُن کے اُن معانی کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو ہم نے اُوپر بیان کیے ہیں، ذکر ہے ۔یہ سب خداکی حاکمیّت مطلقہ کی خصوصیات ہیں ۔ اخری آ یت میں مسئلہ خلقت اورجوچیزیں اس سے متعلق ہیں مثلاً تنظیم،تشکیل ،اورقدرت وحکمت کے بارے میںبحث ہے ۔ اس طرح یہ آ یات معرفت ِ خداکی راہ طے کرنے والوں کاہاتھ پکڑ کران کومنزل بہ منزل آغے لے جاتی ہیں ۔ اس کی ذات ِ پاک سے ابتداء کرتی ہیں اورپھر عالم ِ خلقت کی طرف لے آتی ہیں اورپھر اسی سیرابی اللہ میں مخلوق سے خالق کی طرف لے جاتی ہیں ۔دل کو خدا کے سماء وصفات کامظہر اورانوار ربّانی کامرکز قرار دیتے ہوئے ان معارف وانوار کے سلسلہ میں اس کی اصلاح وتربیت کرتی ہیں اورتقویٰ کے شگوفہ اس کی شاخِ وجود پرظاہر کرکے اُسے خدا کے قُرب وجوار کے قابل بتاتی ہیںتاکہ وہ عام ذرّات ِ عالم کے ساتھ ہی آواز ہو کرتسبیح کرتے ہوئے سبوح قدوس کی تغمہ سرائی کرے اِس لیے تعجّب کامقام نہیں کہ روایات ِ اسلامی میں ان آیتوں کوحد سے زیادہ اہمیّت دی گئی ہے جس کی طرف اِنشاء اللہ نکات کی بحث میں اشارہ ہوگا
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma