۱۰۔ کیا خداوندعالم کو دیکھا جاسکتا ہے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۱۱۔ عرش خدا کیا ہے؟ ۹ ۔ اسم اعظم کیا ہے؟

۱۰۔ کیا خداوندعالم کو دیکھا جاسکتا ہے؟
عقلی دلائل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ خداوندعالم کو ہرگز آنکھوں کے ذریعہ نہیں دےکھاجا سکتا، کیونکہ آنکھ تو کسی چیز کے جسم یا صحیح الفاظ میں چیزوں کی کیفیتوں کو دیکھ سکتی ہیں، اور جس چیز کا کوئی جسم نہ ہو بلکہ اس میں جسم کی کوئی کیفیت بھی نہ ہو تو اس چیز کو آنکھ کے ذریعہ نہیں دیکھا جاسکتا، دوسرے الفاظ میں یوں سمجھئے کہ آنکھ اس چیز کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس میں مکان، جہت اور مادہ ہو ، حالانکہ خداوندعالم ان تمام چیزوں سے پاک و پاکیزہ ہے اور اس کا وجود لامحدود ہے اسی وجہ سے وہ ہمارے اس مادی جہان سے بالاتر ہے، کیونکہ مادی جہان میں سب چیزیں محدود ہیں۔
قرآن مجید کی بہت سی آیات ،منجملہ بنی اسرائیل سے متعلق آیات جن میں خداوندعالم کے دیدار کی درخواست کی گئی ہے، ان میں مکمل وضاحت کے ساتھ خداوندعالم کے دید ار کے امکان کی نفی کی گئی ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بہت سے اہل سنت علمایہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر خداوندعالم اس دنیا میں نہیں دکھائی دے سکتا تو روز قیامت ضرور دکھائی دے گا!! جیسا کہ مشہور و معروف اہل سنت عالم، صاحب تفسیر المنار کہتے ہیں:”ھَذا مَذْھبُ اٴہل السُّنة والعِلم بالحدیثِ“ (یہ عقیدہ اہل سنت اور علمائے اہل حدیث کا ہے) (1)
اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ عصر حا ضر کے علمائے اہل سنت جو اپنے کو روشن فکر بھی سمجھتے ہیں وہ بھی اسی عقیدہ کا اظہارکرتے ہیں اور کبھی کبھی تو اس سلسلہ میں بہت زیادہ ہٹ دھرمی کرتے ہیں!
حالانکہ اس عقیدہ کا باطل ہونا اس قدر واضح ہے کہ بحث و گفتگو کی بھی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس سلسلہ میں (جسمانی معاد کے پیش نظر) دنیا و آخرت میں کوئی فرق نہیں ہے ، کیو نکہ جب خداوندعالم کی ذات اقدس مادی نہیں ہے وہ مادہ سے پاک و منزہ ہے، تو کیا وہ روز قیامت ایک مادی وجود میں تبدیل ہوجائے گا، اور اپنی لامحدود ذات سے محدود بن جائے گا، کیا اس دن خدا جسم یا عوارض جسم میں تبدیل ہوجائے گا؟ کیا خداوندعالم کے عدم دیدار کے عقلی دلائل دنیا و آخرت میں کوئی فرق کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں، کیونکہ عقلی حکم کوئی استثنا نہیں ہوتا ۔
اسی طرح بعض لوگوں کا یہ غلط توجیہ کرنا کہ ممکن ہے انسان کو روز قیامت دوسری آنکھیں مل جائیں یا انسان کو ایک دوسرا ادراک مل جائے جس سے وہ خداوندعالم کا دیدار کرسکے، تو یہ بالکل بے بنیاد ہیں، کیونکہ اگر اس دید اور آنکھ سے یہی عقلانی اور فکری دید مراد ہے تو یہ تو اس دنیا میں بھی موجود ہے اور ہم اپنے دل اور عقل کی آنکھوں سے خدا کے جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں، اور اگر اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو آنکھوں سے دیکھا جائے گا تو اس طرح کی چیز خداوندعالم کے بارے میں محال اور ناممکن ہے، چاہے وہ اس دنیا سے متعلق ہو یا اُس دنیا سے،لہٰذا کسی کا یہ کہنا کہ انسان اس دنیا میں خدا کو نہیں دیکھ سکتا مگر مومنین روز قیامت خداوندعالم کا دیدار کریں گے، یہ بات غیر منطقی اور ناقابل قبول ہے۔
یہ لوگ اپنی معتبر کتابوں میں موجود بعض احادیث کی بنا پر اس عقیدہ کا دفاع کرتے ہیں جن احادیث میں روز قیامت خدا کے دیدار کی بات کہی گئی ہے،لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ان روایات کے باطل ہونے کو عقل کے ذریعہ پرکھیں اور ان روایات کو جعلی اور جن کتابوں میں یہ روایات بیان ہوئی ہیں ان کو بے بنیاد مانیں، مگر یہ کہ ان روایات کو دل کی آنکھوں سے مشاہدہ کے معنی میں تفسیر کریں، کیا یہ صحیح ہے کہ اس طرح کی روایات کی بناپر اپنی عقل کو الوداع کہہ دیں ، اور اگر قرآن کریم کی بعض آیات میں اس طرح کے الفاظ موجود ہیں جن کے ذریعہ پہلی نظر میں دیدار خدا کا مسئلہ سمجھ میں اتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
< وُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ # إِلَی رَبِّہَا نَاظِرَةٌ (2)
”اس دن بعض چہرے شاداب ہوں گے۔اپنے پروردگار( کی نعمتوں) پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے“۔
مذکورہ آیت درج ذیل آیت کی طرح ہے:
< یَدُ اللهِ فَوْقَ اٴَیْدِیہِمْ
(3)
”اور ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ ہی کا ہاتھ ہے“۔
جس میں کنایةً قدرت پروردگار کی بات کی گئی ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید کی کوئی بھی آیت اپنے حکم کے برخلاف حکم نہیں دے گی۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول روایات میں اس باطل عقیدہ کی شدت سے نفی اور مخالفت کی گئی ہے، اور ایسا عقیدہ رکھنے والوں پر مختلف انداز میں تنقید کی گئی ہے، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام کے مشہور و معروف صحابی جناب ہشام کہتے ہیں:
میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھاکہ امام علیہ السلام کے ایک دوسرے صحابی معاویہ بن وہب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے فرزند رسول! آپ اس روایت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس میں بیان ہوا ہے کہ حضرت رسول خدا (ص) نے خدا کا
دیدارکیا ہے؟(اے فرزند رسول آپ بتائیے کہ ) آنحضرت (ص) نے کس طرح خدا کو دیکھا ہے؟ اور اسی طرح آنحضرت (ص) سے منقول روایت جس میں بیان ہوا ہے کہ مومنین جنت میں خدا کا دیدار کریں گے، تو یہ دیدار کس طرح ہوگا؟!
اس موقع پر امام صادق علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا: اے معاویہ بن وہب! کتنی بری بات ہے کہ انسان ۷۰ ، ۸۰ سال کی عمر پائے ، خدا کے ملک میں زندگی گزارے اس کی نعمتوں سے فیضیاب ہو، لیکن اس کو صحیح طریقہ سے نہ پہچان سکے، اے معاویہ! پیغمبر اکرم (ص) نے ان آنکھوں سے خدا کا دیدار نہیں کیا ہے، دیدار اور مشاہدہ کی دو قسمیں ہوتی ہیں: دل کی آنکھوں سے دیدار ، اور سر کی آنکھوں سے دیدار، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے دل کی آنکھوں سے خدا کا دیدار کیا ہے تو صحیح ہے لیکن اگر کوئی کہے کہ ان ظاہری آنکھوں سے خدا کا دیدار کیا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور خدا اور اس کی آیات کاانکار کرتا ہے، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: جو شخص خداوندعالم کو مخلوق کی شبیہ اور مانند قرار دے تو وہ کافر ہے۔(4)
اسی طرح ایک دوسری روایت جو ”کتاب توحید “شیخ صدوقۺ میں اسماعیل بن فضل سے نقل ہوئی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا روز قیامت خداوندعالم کا دیدار ہوسکتا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوندعالم اس چیز سے پاک و پاکیزہ ہے اور بہت ہی پاک و پاکیزہ ہے:
” إنَّ الاٴَبصَار لا تُدرک إلاَّ ما لَہ لون والکیفیة والله خالق الاٴلوان والکیفیات“(5)
”آنکھیں صرف ان چیزوں کو دیکھ سکتی ہیں جن میں رنگ اور کیفیت ہو جبکہ خداوندعالم رنگ اور کیفیت کا خالق ہے“۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث میں لفظ ”لَون“ (یعنی رنگ) پر خاص توجہ دی گئی ہے اور آج کل ہم پر یہ بات واضح و روشن ہے کہ ہم خود جسم کو نہیں دیکھ سکتے بلکہ کسی چیز کے جسم کا رنگ دیکھا جاتا ہے، اور اگر کسی جسم کا کوئی رنگ نہ ہو تو وہ ہرگز دکھائی نہیں دے سکتا۔(6)
جناب موسیٰ (ع) نے دیدارخدا کی درخواست کیوں کی؟
سورہ اعراف آیت نمبر ۱۴۳/ میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی زبانی نقل ہوا کہ انھوں نے عرض کی: <ربِّ اٴرنی اٴنظرُ إلیکَ (پالنے والے! مجھے اپنا دیدار کرادے) ، اس آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جناب موسیٰ جیسا بزرگ اور اولو العزم نبی یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ خداوندعالم نہ جسم رکھتا ہے اور نہ مکان اور نہ ہی قابل دیدار ہے، تو پھر انھوں نے ایسی درخواست کیوں کی جو کہ ایک عام آدمی سے بھی بعید ہے؟
اگر چہ مفسرین نے اس سلسلہ میں مختلف جواب پیش کئے ہیں لیکن سب سے واضح جواب یہ ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے یہ درخواست اپنی قوم کی طرف سے کی تھی، کیونکہ بنی اسرائیل کے بہت سے جاہل لوگ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ خدا پر ایمان لانے کے لئے پہلے اس کودیکھیں گے، (سورہ نساء کی آیت نمبر ۱۵۳/ اس بات کی شاہد ہے) جناب موسیٰ علیہ السلام کو خدا کی طرف سے حکم ملا کہ اس درخواست کو بیان کریں، تاکہ سب لوگ واضح جواب سن سکیں، چنا نچہ کتاب عیون اخبار الرضا علیہ السلام میں امام علی بن موسیٰ الرضا سے مروی حدیث بھی اسی مطلب کی وضاحت کرتی ہے۔(7)
انھیں معنی کو روشن کرنے والے قرائن میں سے ایک قرینہ یہ ہے کہ اسی سورہ کی آیت نمبر ۵۵ میں جناب موسی علیہ السلام اس واقعہ کے بعد عرض کرتے ہیں: ”اٴتھلُکنا بِما فَعَلَ السُّفَھاء مِنَّا“ ( کیا اس کام کی وجہ سے ہمیں ہلاک کردے گا؟ جس کو ہمارے بعض کم عقل لوگوں نے انجام دیا ہے؟)
اس جملہ سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے نہ صرف اس طرح کی درخواست نہیں کی تھی بلکہ شاید وہ ۷۰/ افراد جو آپ کے ساتھ کوہِ طور پر گئے تھے ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں تھا، وہ صرف بنی اسرائیل کے دانشور اورلوگوں کی طرف سے نمائندے تھے، تاکہ ان جاہل لوگوں کے سامنے اپنی آنکھوں دیکھی کہانی کو بیان کریں جو خدا کے دیدار کے لئے اصرار کررہے تھے۔


(1) تفسیر المنار ، جلد ۷، صفحہ ۶۵۳
(2) سورہٴ قیامت ، آیت۲۳ ۔۲۴.
(3)سورہٴ فتح ،آیت۱۰.
(4) معانی الاخبار بنا بر نقل تفسیر المیزان ، جلد ۸، صفحہ ۲۶۸
(5) نور الثقلین ، جلد اول، صفحہ ۷۵۳.
(6) تفسیر نمونہ ، جلد ۵، صفحہ ۳۸۱ (۲) تفسیر نور الثقلین ، جلد ۲، صفحہ ۶۵
(7) تفسیر نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۳۵۶
 
۱۱۔ عرش خدا کیا ہے؟ ۹ ۔ اسم اعظم کیا ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma