۳۶۔ بعض آیات و احادیث میں غیر خدا سے علم غیب کی نفی اور بعض میں ثابت ہے، اس اختلاف کا حل کیا ہے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۳۷۔کیا انبیاء میں بھول چوک کا امکان ان کی عصمت سے ہم آہنگ ہے؟ ۳۵۔ کیا معجزہٴ”شق القمر“ سائنس کے لحاظ سے ممکن ہے؟

اس اختلاف کو حل کرنے کے لئے چند راہ حل ہیں:
۱۔ اس اختلاف کے حل کا مشہور و معروف طریقہ یہ ہے کہ جن آیات و روایات میں علم غیب کو خداوندعالم سے مخصوص کیا گیا ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ علم غیب ذاتی طور پر خداوندعالم سے مخصوص ہے، لہٰذا دوسرے افراد مستقل طور پر علم غیب نہیں رکھتے، جو کچھ بھی وہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں وہ خداوندعالم کی طرف سے اس کی عنایت سے ہوتی ہیں ،چنا نچہ اس راہ حل کے لئے قرآن مجید کی آیت بھی شاہد اورگواہ ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے:
<عَالِمُ الْغَیْبِ فَلایُظْہِرُ عَلَی غَیْبِہِ اٴَحَدًا ، إِلاَّ مَنْ ارْتَضَیٰ مِن رَسُول(1)
” وہ عالم غیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے مگر جس رسول کو پسند کرے“۔
اسی چیز کی طرف نہج البلاغہ میں اشارہ ہوا ہے : جس وقت حضرت علی علیہ السلام آئندہ کے واقعات کو بیا ن کررہے تھے (اور اسلامی ممالک پر مغلوں کے حملہ کی خبر دے رہے تھے) تو آپ
کے ایک صحابی نے عرض کیا: یا امیر المومنین! کیا آپ کو غیب کا علم ہے؟ تو حضرت مسکرائے اور فرمایا: ”لَیسَ ھُوَ بِعلمِ غَیبٍ ،وَإنَّماھو تَعلّم مِن ذِی عِلم“(2)
”یہ علم غیب نہیں ہے، یہ ایک علم ہے جس کوصاحب علم (یعنی پیغمبر اکرم (ص)) سے حاصل کیا ہے“۔
۲۔ غیب کی باتیں دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو خداوندعالم سے مخصوص ہیں، اور اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا، جیسے قیامت، میزان وغیرہ اور غیب کی دوسری قسم وہ ہے جس کو خداوند عالم اپنے انبیاء اور اولیاء کو تعلیم دیتا ہے، جیسا کہ نہج البلاغہ کے اسی مذکورہ خطبہ کے ذیل میں ارشاد ہوتا ہے:
”علم غیب صرف قیامت کا اور ان چیزوں کا علم ہے جن کو خدا نے قرآن مجید میں شمار کردیا ہے کہ جہاں ارشاد ہوتا ہے: قیامت کے دن کا علم خداسے مخصوص ہے، اور وہی باران رحمت نازل کرتا ہے، اور جو کچھ شکم مادر میں ہوتا ہے اس کو جانتا ہے، کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ کل کیا کام انجام دے گا اور کس سر زمین پر موت آئے گی“۔
اس کے بعد امام علی علیہ السلام نے اس چیز کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: خداوندعالم جانتا ہے کہ رحم کا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی؟ حسَین ہے یا قبیح؟ سخی ہے یا بخیل؟ شقی ہے یا سعید؟ اہل دوزخ ہے یا اہل بہشت؟ یہ غیبی علوم ہیں جن کو خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، اور اس کے علاوہ دوسرے علوم خداوندعالم نے اپنے پیغمبر کو تعلیم دئے ہیں اور انھوں نے مجھے تعلیم دئے ہیں“۔(3)
ممکن ہے کہ بعض ماہر افراد بچے یا بارش وغیرہ کے بارے میں علمِ اجمالی حاصل کرلیں لیکن اس کا تفصیلی علم اور اس کی جزئیات صرف خداوندعالم ہی کو معلوم ہے،جیسا کہ قیامت کے بارے میں
ہمیں علم اجمالی ہے لیکن اس کی جزئیات اور خصوصیات سے بے خبر ہیں، اگربعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) یا ائمہ علیہم السلام نے بعض بچوں کے بارے میں یا بعض لوگوں کی موت کے بارے میں خبر دی کہ فلاں شخص کی موت کیسے آئے گی تو یہ اسی علم اجمالی سے متعلق ہے۔
۳۔ ان مختلف آیات و روایات کا ایک راہ حل یہ ہے کہ غیب کی باتیں دو مقام پر لکھی ہوئی ہیں: ایک ”لوح محفوظ“ (یعنی خداوندعالم کے علم کا مخصوص خزانہ ) میں جس میں کسی بھی طرح کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا، اور کوئی بھی اس سے باخبر نہیں ہے، دوسرے ”لوح محو واثبات“ جس میں صرف مقتضی کا علم ہوتا ہے اور علت تامہ کا علم نہیں ہوتا، اسی وجہ سے اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے اور جو کچھ دوسرے حضرات جانتے ہیں اسی حصہ سے متعلق ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول حدیث میں پڑھتے ہیں: خداوندعالم کے پاس ایک ایسا علم ہے جو کسی دوسرے کے پاس نہیں ہے، اور دوسراعلم وہ ہے جس کو اس نے ملائکہ، انبیاء اور مرسلین کو عطا کیا ہے، اور جو کچھ ملائکہ ، انبیاء اور مرسلین کو عطا ہوا ہے وہ ہم بھی جانتے ہیں۔(4)
اس سلسلہ میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے ایک اہم روایت نقل ہوئی ہے، جس میں امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اگر قرآن مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں ماضی اور روز قیامت تک پیش آنے والے تمام واقعات بتادیتا ، کسی نے عرض کیا کہ وہ کون سی آیت ہے؟ تو امام علیہ السلام نے درج ذیل آیہٴ شریفہ کی تلاوت فرمائی: < یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ(5) ”اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے یا برقرار رکھتا ہے، اور ام الکتاب (لوح محفوظ) اس کے پاس ہے۔(6)
اس راہ کے لحاظ سے علوم کی تقسیم بندی ”حتمی ہونے“ اور حتمی نہ ہونے کے لحاظ سے ہے اور گزشتہ راہ حل معلومات کی مقدار کے لحاظ سے ہیں۔ (غور کیجئے )
۴۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خداوندعالم تمام اسرار ِغیب کو بالفعل (ابھی) جانتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ انبیاء اور اولیاء الٰہی ،علم غیب کی بہت سی باتوں کو نہ جانتے ہوں ہاں جس وقت وہ ارادہ کرتے ہیں تو خداوندعالم ان کو تعلیم دے دیتا ہے، البتہ یہ ارادہ بھی خداوندعالم کی اجازت سے ہوتا ہے۔
اس راہ حل کی بنا پر وہ آیات و روایات جو کہتی ہیں کہ غیب کی باتوں کو خدا کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جانتا تو ان کا مقصد یہ ہے کہ کسی دوسرے کو بالفعل علم نہیںہے اوریہ آیات وروایات فعلی طور پر نہ جاننے کے بارے میں ہیں، اور جو کہتی ہیں کہ دوسرے جانتے ہیں وہ امکان کی صورت کو بیان کرتی ہیںیعنی دو سروں کے لئے ممکن ہے ۔
یہ بالکل اس شخص کی طرح ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کو ایک خط دے تاکہ فلاں شخص تک پہنچادے، تو یہاں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ خط کے مضمون سے آگاہ نہیں ہے، حالانکہ وہ خط کھول کر اس کے مضمون سے باخبر ہوسکتا ہے، لیکن کبھی صاحب خط کی طرف سے خط پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے تو وہ اس صورت میں خط کے مضمون سے آگاہ ہوسکتا ہے اور کبھی کبھی خط کے کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
اس راہ حل کے لئے بہت سی احادیث گواہ ہیں جو (عظیم الشان) کتاب اصول کافی باب”إنَّ الاٴَئمَّةَ إذَا شَاوٴا اٴن یَعلَموا عَلِمُوا“ (ائمہ جب کوئی چیز جاننا چاہتے ہیں تو ان کو تعلیم ہوجاتا ہے) میں بیان ہوئی ہیں، ان میں سے ایک حدیث حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے:
”إذَا اٴرادَ الإمامُ اٴن یَعلَمَ شیئًا اٴعلمہُ الله بِذلکَ“(7)
” جب امام کسی چیز کے بارے میں علم حاصل کرنا چاہے تو خداوندعالم تعلیم کردیتا ہے“۔
یہی راہ حل پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ علیہم السلام کے علم کے سلسلہ میں بہت سی مشکلات کو حل کردیتا ہے، مثال کے طور پر:کس طرح ائمہ علیہم السلام زہر آلود کھا ناکھالیتے ہیں جبکہ ایک عام انسان کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ نقصان دینے والے کام کو انجام دے اس طرح کے مواقع پر پیغمبر اکرم (ص) یا ائمہ علیہم السلام کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ ارادہ کریں تاکہ غیب کے اسرار ان کے لئے کشف ہوجائیں۔
اسی طرح کبھی کبھی مصلحت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) یا ائمہ علیہم السلام کو کسی بات کا علم نہ ہو، یا اس کے ذریعہ ان کا امتحان ہوتا ہے تاکہ ان کے کمال اور فضیلت میں مزید اضافہ ہوسکے، جیسا کہ شب ہجرت کے واقعہ میں بیان ہوا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اکرم کے بستر پر لیٹ گئے ، حالانکہ خود حضرت کی زبانی نقل ہوا ہے کہ میں نہیں جانتا تھا کہ پیغمبر اکرم کے بستر پر جب مشرکین قریش حملہ کریں تو میں شہیدہوجاؤں گا یا جان بچ جائے گی؟
اس موقع پر مصلحت یہی ہے کہ امام علیہ السلام اس کام کے انجام سے آگاہ نہ ہوں تاکہ خدا امتحان لے سکے اور اگر امام علیہ السلام کو یہ معلوم ہوتا کہ میری جان کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے تو یہ کوئی افتخار اور فضیلت کی بات نہیں تھی، اس بنا پر قرآن اور احادیث میں اس قربانی کے فضائل و مناقب بیان ہوتے ہیں وہ قابل توجہ نہ رہتے۔
جی ہاں ! علم ارادی کا مسئلہ اس طرح کے تمام اعتراضات کے لئے بہترین جواب ہے۔
۵۔ علم غیب کے بارے میں بیان ہوئی مختلف روایات کے اختلاف کا ایک حل یہ ہے
(اگرچہ یہ راہ حل بعض روایات پر صادق ہے) کہ ان روایات کے سننے والے مختلف سطح کے لوگ تھے، جو لوگ ائمہ علیہم السلام کے بارے میں علم غیب کو قبول کرنے کی استعداد اور صلاحیت رکھتے تھے ،ان کے سامنے حق مطلب بیان کیا گیا، لیکن مخالف یا کم استعداد لوگوں کے سامنے ان کی سمجھ ہی کے اعتبار سے بیان ہوا ہے۔
مثال کے طور پر ایک حدیث میں بیان ہوا کہ ابو بصیر اورامام صادق علیہ السلام کے چند اصحاب ایک مقام پر بیٹھے ہوئے تھے امام علیہ السلام حالتغضب میں وارد مجلس ہوئے اور جب امام علیہ السلام تشریف فرماہوئے تو فرمایا: عجیب بات ہے کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ ہم علم غیب جانتے ہیں، جبکہ خدا کے علاوہ کوئی بھی علم غیب نہیں رکھتا، میں چاہتا تھا کہ اپنی کنیز کو تنبیہ کروں، لیکن بھاگ گئی اور نہ معلوم گھر کے کس کمرہ میں چھپ گئی!!“۔(8)
راوی کہتا ہے: جس وقت امام علیہ السلام وہاں سے تشریف لے گئے ،میں اور بعض دوسرے اصحاب اندرون خانہ وارد ہوئے تو امام علیہ السلام سے عرض کی: ہم آپ پر قربان! آپ نے اپنی کنیز کے بارے میں ایسی بات کہی،، جبکہ ہمیں معلوم ہے آپ بہت سے علوم جانتے ہیں اور ہم علم غیب کا نام تک نہیں لیتے؟ امام علیہ السلام نے اس سلسلہ میں وضاحت فرمائی کہ ہمارا مقصد اسرار غیب کا علم تھا۔
یہ بات واضح رہے کہ اس مقام پر ایسے بھی لوگ بیٹھے تھے جن کے یہاں امام کی معرفت اور علم غیب کے معنی کو سمجھنے کی استعداد نہیں پائی جاتی تھی۔
(قارئین کرام!) توجہ فرمائیں کہ یہ پانچ راہ حل آپس میں کوئی تضاد اور تنا قض نہیں رکھتی اور سبھی صحیح ہوسکتی ہیں۔ (غور کیجئے )
۲۔ ائمہ علیہم السلام کے لئے علم غیب ثابت کرنے کے دیگر طریقے
یہاں پر اس حقیقت کو ثابت کرنے کے دو طریقے اور بھی ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام اجمالاً غیب کے اسرار سے واقف تھے۔
۱۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ان کی نبوت یا امامت کا دائرہ کسی زمان و مکان سے مخصوص نہیں تھا، بلکہ پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت اور ائمہ علیہم السلام کی امامت عالمی اور جاویدانی ہے، لہٰذا یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ کوئی اس قدر وسیع ذمہ داری رکھتا ہو، حالانکہ اس کو اپنے زمانہ اور محدود دائرہ کے علاوہ کسی چیز کی خبر نہ ہو؟ مثال کے طور پر اگر کسی کو کسی بڑے صوبہ کی امارت یا کلکٹری دی جائے اور اسے اس کے بارے میں آگاہی نہ ہو، تو کیا وہ اپنی ذمہ داری کو خوب نبھاسکتا ہے؟!
دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ علیہم السلام اپنی (ظاہری) زندگی میں اس طرح احکام الٰہی کو بیان اور نافذ کریں تاکہ ہر زمانہ اور ہر جگہ کے تمام انسانوں کی ضرورتوں کو مد نظر رکھیں، اور یہ ممکن نہیں ہے مگر اسی صورت میں کہ اسرار غیب کے کم از کم ایک حصہ کو جانتے ہوں۔
۲۔ اس کے علاوہ قرآن مجید میں تین آیات ایسی موجود ہیں کہ اگر ان کو ایک جگہ جمع کردیں تو پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے علم غیب کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے، پہلی آیت میں ارشاد ہو تا ہے کہ ایک شخص (آصف بن بر خیا ) نے تخت بلقیس چشم زدن میں جناب سلیمان کے پاس حا ضر کردیا،ارشاد ہوتا ہے:
< قَالَ الَّذِی عِنْدَہُ عِلْمٌ مِنْ الْکِتَابِ اٴَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ اٴَنْ یَرْتَدَّ إِلَیْکَ طَرْفُکَ فَلَمَّا رَآہُ مُسْتَقَرًّا عِنْدَہُ قَالَ ہَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّی(9)
”ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کے ایک حصہ کاعلم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی
لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے، اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے: یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے “۔
دوسری آیت میں بیان ہوتا ہے:
<قُلْ کَفَی بِاللهِ شَہِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتَابِ (10)
”(اے رسول آپ ) کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے “۔
سنی و شیعہ معتبر کتابوں میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں بیان ہوا ہے کہ ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے رسول خدا (ص) سے ”الذی عندہ علم من الکتاب“ کے بارے میں سوال کیا ، تو آنحضرت نے فرمایا: وہ میرے بھائی جناب سلیمان بن داؤد کے وصی تھے، میں نے پھر دوبارہ یہ سوال کیا کہ ”من عندہ علم الکتاب“ سے کون مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”ذاک اٴخِی علیّ بن اٴبی طالب“! ( اس سے مراد میرے بھائی علی بن ابی طالب ہیں)(11)
اور آیت ” علم من الکتاب“ کے پیش نظر جو کہ آصف بن برخیا کے بارے میں ہے ”جزئی علم“ کو بیان کرتی ہے، اور ”علم الکتاب“ جو کہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ہے ”کلی علم“ کو بیان کرتی ہے ، لہٰذا اس آیت سے آصف بن برخیا اور حضرت علی علیہ السلام کا علمی مقام واضح ہوجاتا ہے۔
تیسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:
< وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ(12)
”اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شئے کی وضاحت موجود ہے“۔
یہ بات واضح ہے کہ ایسی کتاب کے اسرار کا علم رکھنے والا ، اسرار غیب بھی جانتا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) یا امام علیہ السلام حکمِ خدا کے ذریعہ اسرارِ غیب سے آگاہ ہوں۔(13)


(1) سورہ جن ، آیت ۲۶ 
 (.3.2) -- نہج البلاغہ ، خطبہ   12۸
(4) بحار الانوار ، جلد ۲۶، صفحہ ۱۶۰ (حدیث۵)
(5) سورہ رعد ، آیت ۳۹
(6) ”نور الثقلین ، جلد ۲، صفحہ ۵۱۲ ، (حدیث۱۶۰)
(7) ” اصول کافی“ باب ”ان الائمة اذا شاوٴا ان یعلموا علموا“ (حدیث ۳)اور اسی مضمون کی دوسری روایتیں بھی اسی باب میں نقل ہوئی ہیں
(8) اصول کافی ، جلد اول، باب نادر فیہ ذکر الغیب حدیث   ۳
 (9)سورہٴ نمل ، آیت۴۰
(10) سورہٴ رعد ، آیت۴۳
(11) ”احقا ق الحق“ ، جلد ۳،صفحہ۲۸۰۔ ۲۸۱، اور ”نور الثقلین “ ، جلد ۲، صفحہ ۵۲۳ پر رجو ع کریں
(12)سورہ نحل ، آیت ۸۹
(13) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۵، صفحہ ۱۴۶
 
۳۷۔کیا انبیاء میں بھول چوک کا امکان ان کی عصمت سے ہم آہنگ ہے؟ ۳۵۔ کیا معجزہٴ”شق القمر“ سائنس کے لحاظ سے ممکن ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma