۳۹۔ کیا قرآن مجید میں تحریف ہوئی ہے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۴۰۔ قرآن کریم کس طرح معجزہ ہے؟ ۳۸۔ پیغمبر اکرم (ص) کی متعدد بیویوں کا فلسفہ کیا ہے؟

شیعہ وسنی علماکے یہاں مشہور و معروف یہی ہے کہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے، اور مو جودہ قرآن کریم وہی قرآن ہے جو پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہوا ، اوراس میں ایک لفظ بھی کم و زیاد نہیں ہوا ہے۔
قدما اور متاخرین میں جن شیعہ علمانے اس حقیقت کی وضاحت کی ہے ان کے اسما درج ذیل ہیں:
۱۔ مرحوم شیخ طوسیۺ جو ”شیخ الطائفہ“ کے نام سے مشہور ہیں، موصوف نے اپنی مشہور و معروف کتاب ”تبیان“ میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
۲۔ سید مرتضیٰ ۺ ، جو چوتھی صدی کے عظیم الشان عالم ہیں۔
۳۔ رئیس المحدثین مرحوم شیخ صدوق محمد بن علی بن بابویہ ۺ ، موصوف شیعہ عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں کسی طرح کی کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے“۔
۴۔ جلیل القدر مفسرقرآن مرحوم علامہ طبرسی، جنھوں نے اپنی تفسیر (مجمع البیان) کے مقدمہ میں اس سلسلہ میں ایک واضح اور مفصل بحث کی ہے۔
۵۔ مرحوم کاشف الغطاء جو علمائے متاخرین میں عظیم مرتبہ رکھتے ہیں۔
۶۔ مرحوم محقق یزدیۺ نے اپنی کتاب عروة الوثقیٰ میں قرآن میں تحریف نہ ہونے کے اقوال کو اکثر شیعہ مجتہدین سے نقل کیا ہے ۔
۷۔ نیز بہت سے جید علماجیسے ”شیخ مفیدۺ“ ، ”شیخ بہائی“، قاضی نور اللہ“ اور دوسرے شیعہ محققین نے اسی بات کو نقل کیا ہے کہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے۔
اہل سنت کے علمااور محققین کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ قرآن کریم میں تحریف نہیں ہوئی ہے۔
اگرچہ بعض شیعہ اور سنی محدثین جو قرآن کریم کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے تھے، اس بات کے قائل ہوئے ہیں کہ قرآن کریم میں تحریف ہوئی ہے، لیکن دونوں مذہب کے عظیم علماکی روشن فکری کی بنا پر یہ عقیدہ باطل قرار دیا گیا اور اس کو بھُلادیا گیا ہے۔
یہاں تک کہ مرحوم سید مرتضیٰ ”المسائل الطرابلسیات“ کے جواب میں کہتے ہیں: ”قرآن کریم کی نقلِ صحت اتنی واضح اور روشن ہے جیسے دنیا کے مشہور و معروف شہروں کے بارے میں ہمیں اطلاع ہے، یا تاریخ کے مشہور و معروف واقعات معلوم ہیں“۔
مثال کے طور پر کیا کوئی مکہ اور مدینہ یا لندن اور پیرس جیسے مشہور و معروف شہروں کے وجود میں شک کرسکتا ہے؟ اگرچہ کسی انسان نے ان شہروں کو نزدیک سے نہ دیکھا ہو، یا انسان ایران پر مغلوں کے حملے ، یا فرانس کے عظیم انقلاب یا پہلی اور دوسری عالمی جنگ کا انکار کرسکتا ہے؟!
پس جیسے ان کا انکار اس لئے نہیں کر سکتے کہ یہ تمام واقعات تواتر کے ساتھ ہم نے سنے ہیں، توقرآن کریم کی آیات بھی اسی طرح ہیں ، جس کی تشریح ہم بعد میں بیان کریں گے۔
لہٰذا جو لو گ اپنے تعصب کے تحت شیعہ اہل سنت کے درمیان اختلاف پیدھا کرنے کے لئے تحریف قرآن کی نسبت شیعوں کی طرف دیتے ہیں تو وہ اس نظریہ کو باطل کرنے والے دلائل کیوں بیان نہیں کرتے جو خود شیعہ علماکی کتابوں میں موجود ہیں ؟!
کیا یہ بات جائے تعجب نہیں ہے کہ ”فخر الدین رازی“ جیسا شخص (جو ”شیعوں“ کی نسبت بہت زیادہ متعصب ہے) سورہ حجر کی آیت نمبر ۹ کے ذیل میں کہتا ہے کہ یہ :آیہ ٴ شریفہ <إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ شیعوں کے عقیدہ کو باطل کرنے کے لئے کافی ہے ،جو قرآن مجید میں تحریف ( کمی یا زیادتی) کے قائل ہیں۔
تو ہم فخر رازی کے جواب میں کہتے ہیں: اگر ان کی مراد بزرگ شیعہ محققین ہیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسا عقیدہ نہیں رکھتا ہے، اور اگران کی مرادبعض علما ء کا ضعیف قول ہے تو اس طرح کا نظریہ تو اہل سنت کے یہاں بھی پایا جاتا ہے، جس پر نہ اہل سنت توجہ کرتے ہیں اور نہ ہی شیعہ علماتوجہ کرتے ہیں۔
چنا نچہ مشہور و معروف محقق ”کاشف الغطاء“ اپنی کتاب ”کشف الغطاء“ میں فرماتے ہیں:
”لارَیبَ اٴنَّہُ (اٴی القرآن) محفوظٌ مِنَ النُّقْصَانِ بحفظِ الملک الدَّیان کما دَلَّ علَیہِ صَریحُ القُرآنِ وَإجمَاع العلماء فِی کُلِّ زمان ولا عبرة بنادر“(1)
”اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن مجید میں کسی بھی طرح کی کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے، کیونکہ خداوندعالم اس کا محافظ ہے، جیسا کہ قرآن کریم اور ہر زمانہ کے علماکا اجماع اس بات کی وضاحت کرتا ہے اور شاذو نادر قول پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی“۔
تاریخ اسلام میں ایسی بہت سی غلط نسبتیں موجود ہیں جو صرف تعصب کی وجہ سے دی گئی ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بہت سی نسبتوں کی علت اور وجہ صرف اور صرف دشمنی تھی، اور بعض لوگ اس طرح کی چیزوں کو بہانہ بنا کر کوشش کرتے تھے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کر ڈالیں۔
اورنوبت یہاں تک پہنچی کہ حجاز کا مشہور و معروف موٴلف ”عبد اللہ علی قصیمی “ اپنی کتاب ”الصراع“ میں شیعوں کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے:
”شیعہ ہمیشہ سے مسجد کے دشمن رہے ہیں! اور یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شیعہ علاقے میں شمال
سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک دیکھے تو بہت ہی کم مسجدیں ملتی ہیں“ !!(2)
ذرا دیکھے تو سہی ! کہ شیعہ علاقوں میں کس قدر مساجد موجود ہیں، شہر کی سڑکوں پر، گلیوں میں اوربازاروں میں بہت زیادہ مسجدیں ملتی ہیں، کہیں کہیں تو مسجدوں کی تعداد اتنی ہوتی ہے کہ بعض لوگ اعتراض کرنے لگتے ہیں کہ کافی ہے، ہمارے کانوں میں چاروں طرف سے اذانوں کی آوازیں آتی ہیں جن سے ہم پریشان ہیں، لیکن اس کے باوجود مذکورہ موٴلف اتنی وضاحت کے ساتھ یہ بات کہہ رہے ہیں جس پرہمیں ہنسی آتی ہے چونکہ ہم شیعہ علاقوں میں رہ رہے ہیں، لہٰذا فخر الدین رازی جیسے افراد مذکورہ نسبت دینے لگیں تو ہمیں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے۔(3)


(1)تفسیر آلاء الرحمن صفحہ ۳۵
2) موصوف کی عربی عبارت یہ ہے: ”والشّیعة ھم اٴبداً اٴعدَاء المساجد ولھذا یقل اٴَن یشاھد الضارب فی طول بلادھم و عرضھا مسجداً (الصراع ، جلد ۲، صفحہ ۲۳، علامہ امینی ۺ کی نقل کے مطابق الغدیر ، جلد ۳، صفحہ ۳۰۰)
(3) تفسیر نمونہ ، جلد۱۱، صفحہ ۱۸
 
۴۰۔ قرآن کریم کس طرح معجزہ ہے؟ ۳۸۔ پیغمبر اکرم (ص) کی متعدد بیویوں کا فلسفہ کیا ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma