۴۹۔ امامت کی بحث کب سے شروع ہوئی؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
50۔ اولوا الامر سے مراد کون ہیں؟ ۴۸۔ امامت سے مراد کیا ہے؟ اور امامت اصول دین میں ہے یا فروع دین میں ؟

واضح رہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے فوراً بعد ہی آپ کی خلافت کے سلسلہ میں گفتگو شروع ہوگئی تھی ، چنا نچہ ایک گروہ کا کہنا تھا کہ آنحضرت (ص) نے اپنے بعد کے لئے کسی کو خلیفہ یا جانشین نہیں بنایا ہے، بلکہ اس چیز کو امت پر چھوڑ دیا ہے لہٰذا امت خود اپنے لئے کسی رہبر اور خلیفہ کا انتخاب کرے گی ، جو اسلامی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے اور لوگوں کی نمائندگی میں ان پر حکومت کرے، لیکن وفات رسول کے بعد نمائندگی کی صورت پیدا ہی نہیں ہوئی بلکہ چند اصحاب نے بیٹھ کر پہلے مرحلہ میں خلیفہ معین کرلیا اوردوسرے مرحلہ میں خلافت انتصابی ہو گئی، اور تیسرے مرحلہ میں انتخاب کا مسئلہ چھ لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی کے سپر د کیا گیاتاکہ وہ آئندہ خلافت کے مسئلہ کو حل کریں۔
چنانچہ اس طرز فکر رکھنے والوں کو ”اہل سنت“ کہا جاتا ہے۔
لیکن اس کے مقابل دوسرے گروہ کا کہنا تھا کہ پیغمبر (ص) کے جانشین کو خدا کی طرف سے معین ہونا چاہئے، اور وہ خود پیغمبر اکرم (ص) کی طرح ہر خطا اور گناہ سے معصوم اور غیر معمولی علم کا مالک ہونا چاہئے، تاکہ مادی اور معنوی رہبری کی ذمہ داری کو نبھاسکے، اسلامی اصول کی حفاظت کرے، احکام کی مشکلات کو برطرف کرے ، قرآن مجید کے دقیق مطالب کی تشریح فرمائے اور اسلام کو داوم بخشے۔
اس گروہ کو ”امامیہ“ یا ”شیعہ“ کہتے ہیں اور یہ لفظ پیغمبر اکرم (ص) کی مشہور و معروف حدیث سے اقتباس کیا گیا ہے۔
تفسیر الدر المنثور (جس کا شمار اہل سنت کے مشہور منابع میں ہوتا ہے) میں آیہٴ شریفہ <اٴُوْلَئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ کے ذیل میں جابر بن عبد اللہ انصاریۺ سے اس طرح نقل کیا ہے:
”ہم پیغمبر اکرم (ص) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے، اس وقت آنحضرت (ص) نے فرمایا: یہ اور ان کے شیعہ روز قیامت کامیاب ہیں، اور اس موقع پر یہ آیہٴ شریفہ نازل ہوئی:
<إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ (1) (2)
حاکم نیشاپوری (یہ چوتھی صدی کے مشہور و معروف سنی عالم ہیں)بھی اسی مضمون کو اپنی مشہور کتاب ”شواہد التنزیل“ میں پیغمبر اکرم (ص) سے مختلف طریقوں سے نقل کرتے ہیں جس کے راویوں کی تعداد ۲۰ /سے بھی زیادہ ہے۔
منجملہ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ جس وقت یہ آیہٴ شریفہ <إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ (3) نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: ”ہُوَ اَنْتَ وَ شِیْعَتُکَ“ ( اس آیت سے مراد آپ اور آپ کے شیعہ ہیں۔)(4)
ایک دوسری حدیث میں ابوبرزہ سے منقول ہے کہ جس وقت پیغمبر اکرم (ص) نے اس
آیت کی تلاوت فرمائی تو فرمایا:”ہُوَ اَنْتَ وَ شِیْعَتُکَ یَاعَلِیّ“ (وہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں)(5)
اس کے علاوہ بھی اہل سنت کے دیگرعلمااور دانشوروں نے بھی اس حدیث کو ذکر کیا ہے جیسے صواعق محرقہ میں ابن حجراور نور الابصار میں محمد شبلنجی نے۔(6)
لہٰذا ان تمام روایات کے پیش نظر خود پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے پیرووٴں کا نام ”شیعہ“ رکھا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی بعض لوگ اس نام سے خفا ہوتے ہیں اور اس کو بُرا سمجھتے ہیں نیز اس فرقہ کو رافضی کے نام سے یاد کرتے ہیں، کیا یہ تعجب کا مقام نہیں کہ پیغمبر اکرم تو حضرت علی علیہ السلام کے فرمانبرداروں کو ”شیعہ“ کہیں اور دوسرے لو گ اس فرقہ کو برے برے ناموں سے یاد کریں!!۔
بہر حال یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لفظ شیعہ کا و جود پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد نہیں ہوابلکہ خود آنحضرت (ص)کی زندگی میں ہی ہو چکا تھا، اور آپ نے حضرت علی علیہ السلام کے دوستوں اور پیرووٴں پر اس نام کا اطلاق کیا ہے، جو لوگ پیغمبر اکرم (ص) کو ”خدا کا رسول“ مانتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنی مرضی سے کلام نہیں کرتے بلکہ وہی کہتے ہیں جو وحی ہوتی ہے، <وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَویٰ#إنْ ھُوَ إلاَّ وَحیٌ یُوحیٰ(7) لہٰذا اگر آنحضرت (ص) فرمائیں کہ اے علی آپ اور آپ کے شیعہ روز قیامت ،کامیاب ہیں تو یہ ایک حقیقت ہے۔(8)


(1) سورہٴ بینہ ، آیت ۷ 
(2) الدر المنثور ، جلد ۶، صفحہ ۳۷۹ (ذیل آیہ ۷ سورہٴ بینہ)
(3)سورہ بینہ، آیت ۷
(4) شواھد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۳۵۷
(5) شواھد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۳۵۹
(6) صواعق محر قہ، صفحہ ۹۶،نور الابصار، صفحہ ۷۰ و۱۰۱، اس حدیث کے راویوں کی تعداد اور جن کتابوں میں یہ حدیث بیان ہوئی ہے، اس سلسلہ میں مزید معلوما ت کے لئے احقاق الحق ،جلد سوم، صفحہ ۲۸۷، اور جلد۱۴، صفحہ ۲۵۸ کی طرف رجوع فرمائیں
(7)سورہ نجم آیت ۶، و ۷
(8) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۲۲
50۔ اولوا الامر سے مراد کون ہیں؟ ۴۸۔ امامت سے مراد کیا ہے؟ اور امامت اصول دین میں ہے یا فروع دین میں ؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma