۵۶۔ امام حسن نے زہر آلود کوزہ سے پانی کیوں پی لیا اور امام رضا نے زہر آلود انگور کیوں تناول فرمایا؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۵۷۔ فلسفہٴ انتظار کیا ہے؟ ۵۵۔ کیا دس سالہ بچہ کا اسلام قابل قبول ہے؟

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے ائمہ معصومین علیہم السلام خداوندعالم کی طرف سے علم غیب جانتے ہیں۔
لیکن یہ علم کیسا ہے، اور اس کی وسعت اور حدود کہاں تک ہے، یہ مسئلہ بہت پیچیدہ مسائل میں سے ہے جو اس طرح کی بحث و گفتگو میں دکھائی دیتا ہے، اس سلسلہ میں روایات بھی مختلف ہیں اور علماکے درمیان بھی اختلاف پایا جاتا ہے، درج ذیل مسئلہ انھیں بنیادی اور قابل توجہ احتمالات میں سے ہے:
ائمہ علیہم السلام تمام چیزوں کو”بالقوة“ جانتے ہیں نہ کہ ”بالفعل“ یعنی غیب کی باتوں کو جاننے کے لئے جب بھی ارادہ کریں تو خداوندعالم ان پر الہام فرمادیتا ہے، یا ان کے پاس ایسے قواعد اور اصول ہیں جن کے ذریعہ وہ ایک نیا باب کھول لیتے ہیں اور اسرار غیب سے آگاہ ہوجاتے ہیں، یا ان کے پیش نظر ایسی کتابیں ہیں کہ جب وہ ان پر نظر فرماتے ہیں تو اسرار غیب سے باخبر ہوجاتے ہیں، یا یہ کہ جب بھی خداوندعالم ارادہ فرمائے تو انھیں اسرارِ غیب سے باخبر کردیتا ہے، اور جب خداوندعالم اپنے ارادہ سے صرف نظر کرلیتا ہے تو وقتی طور پر یہ علوم مخفی ہوجاتے ہیں۔
اس بات (پہلی صورت) پر شاہد وہ روایات ہیں جن میں بیان ہوا ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام جب کسی چیز کے سلسلہ میں جاننا چاہتے تھے تو ان کو معلوم ہوجاتا تھا، شیخ کلینی علیہ الرحمہ نے اس سلسلہ میں مستقل طور پر ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ”اِن الائمة اذا شاوٴا یعلموا علموا“(1)ہے ”جب ائمہ جاننا چاہتے ہیں تو جان لیتے ہیں“۔
اس بیان سے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کے سلسلہ میں متعددمشکلوں کو بھی حل کیا جاسکتا ہے، جیسے یہ کہ امام حسن نے زہر آلود کوزہ سے پانی کیوں پی لیا اور امام رضا نے زہر آلود انگور کیوں تناول کرلیا؟ کیوں فلاں نااہل شخص کو قضاوت یا گورنری کے لئے انتخاب کیا، یا جناب یعقوب علیہ السلام اس قدر کیوں پریشان ہوئے؟ جبکہ ان کے فرزند ارجمند (جناب یوسف علیہ السلام) بلند مقامات کو طے کررہے تھے، اور آخر کار فراق کی گھڑیاں وصال میں تبدیل ہوگئیں، اور اسی طرح دوسرے سوالات حل ہوجاتے ہیں۔ ان تمام موارد میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ جاننا چاہتے تو جان سکتے تھے، لیکن یہ حضرات خود اس بات کو جانتے تھے کہ خداوندعالم کی طرف سے امتحان یا دوسرے مقاصد کے تحت ان کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ آگاہی پیدا کریں۔
ایک مثال کے ذریعہ اس مسئلہ کو واضح کیا جاسکتا ہےکہ کوئی شخص کسی دوسرے کو ایک خط دے تاکہ فلاں شخص تک پہنچادے، جس میں بہت سے افراد کا نام یا ان کا عہدہ لکھا ہوا ہے، تو یہاں بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ خط کے مضمون سے آگاہ نہیں ہے، لیکن کبھی صاحب خط کی طرف سے خط پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے اس صورت میں وہ خط کے مضمون سے آگاہ ہوسکتا ہے اور کبھی کبھی خط کے کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی تو اسے خط کا مضمون معلوم نہیں ہو تا۔(2)
 


(1) اصول کافی ، جلد اول، صفحہ ۲۵۸ ،(اس باب میں تین روایتیں اسی مضمون کی نقل ہوئی ہیں)، مرحوم علامہ مجلسی ۺنے بھی مرآة العقول ، جلد ۳، صفحہ ۱۱۸، میں ان احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے
(۲) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۲۴۹
۵۷۔ فلسفہٴ انتظار کیا ہے؟ ۵۵۔ کیا دس سالہ بچہ کا اسلام قابل قبول ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma