۵۹۔ معاد؛ جسمانی ہے یا روحانی؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۶۰۔ شبہ آکل و ماکول کیا ہے؟ ۵۸۔ قیامت کے عقلی دلائل کیا ہیں؟

معادِ جسمانی سے مراد یہ نہیں ہے کہ روز قیامت صرف جسم دوبارہ لوٹایا جائے گا، بلکہ مراد یہ ہے کہ روح اور جسم دونوں حاضر کئے جائیں گے، یا دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ روح کا پلٹنا تو مسلم ہے صرف جسم کے بارے میں اختلاف اور بحث ہے۔
بعض گزشتہ فلاسفہ ”معاد روحانی“ پر عقیدہ رکھتے تھے ، اور جسم کو ایسی سواری مانتے تھے جو صرف اس دنیا میں انسان کے ساتھ ہے، اور انسان مرنے کے بعد اس جسم سے بے نیاز ہوجاتا ہے، جسم کو ترک کردیتا ہے اور ”عالم ارواح“ کی طرف کوچ کرجاتا ہے۔
لیکن عظیم علمائے اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ معاد؛ روحانی اور جسمانی دونوں پہلووٴں کے ساتھ ہوگی، اگر چہ بعض حضرات اس دنیوی جسم کے قائل نہیں ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ خداوندعالم ہماری روح کو ایک جسم عطا کرے گا، کیونکہ انسان کی حقیقت اس کی روح ہوتی ہے اور یہ عطا کردہ جسم اس کا جسم شمار کیا جائے گا!
جبکہ صاحبان تحقیق کا عقیدہ یہ ہے کہ یہی جسم جو خاک میں مل کر ذرہ ذرہ ہوگیا، حکم خدا سے اس جسم کے تمام ذرات جمع ہوجائیں گے اور اس کو ایک نئی زندگی کا لباس پہنایا جائے گا، اور یہی وہ عقیدہ ہے جو قرآن مجید کی آیات سے حاصل کیا گیا ہے۔
معاد جسمانی پر قرآن مجید میں اس قدر شواہد موجود ہیں کہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے: جو افراد صرف ”معاد روحانی“ کے قائل ہوئے ہیں انھوں نے قرآن مجید کی اکثر آیات میں ذرا بھی غور و فکر نہیں کیا ہے ورنہ معاد جسمانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں اتنی زیادہ آیات موجود ہیں کہ شک و شبہ کی ذرا بھی گنجائش نہیں رہتی۔
سورہ یٰس کی آخری آیات اس حقیقت کو مکمل طور پر واضح کردیتی ہیں کیونکہ اس اعرابی شخص کو تعجب اسی بات پر تھا کہ میرے ہاتھ میں موجود اس گلی ہوئی ہڈی کو کون دوبارہ زندہ کرسکتا ہے؟
قرآن مجید نے اس کے جواب میں واضح طور یہ اعلان کیا: <قُلْ یُحْیِیہَا الَّذِی اٴَنشَاٴَہَا اٴَوَّلَ مَرَّةٍ (1)

آپ کہہ دیجئے کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی زندہ بھی کرے گا“۔
معاد کے سلسلہ میں تمام مشرکین کو اس بات پر تعجب تھا کہ جب ہم خاک ہوجائیں گے اور ہمارے ذرات بھی ادھر اُدھرخاک میں پھیل جائیں گے تو پھر ہمیں کس طرح دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے؟!! جیسا کہ انھیں کی زبانی قرآن مجید نے نقل کیا ہے: < وَقَالُوا ءِ ا ذَا ضَلَلْنَا فِی الْاٴَرْضِ ءَ اِنَّا لَفِی خَلْقٍ جَدِیدٍ(2)

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم زمین میں گم ہوگئے تو کیا نئی خلقت میں پھر ظاہر کئے جائیں گے!!“۔

یہ لوگ کہتے تھے: <اٴَیَعِدُکُمْ اٴَنَّکُمْ إِذَا مِتُّمْ وَکُنتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا اٴَنَّکُمْ مُخْرَجُونَ(3)

” کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور خاک اور ہڈی ہوجاؤگے تو پھر دوبارہ نکالے جاؤگے“۔
کفار و مشرکین روز قیامت کے سلسلہ میں اس قدر تعجب کرتے تھے کہ اس مسئلہ کے قائل (پیغمبر اکرم (ص)) کو مجنون یا خدا پر بہتان باند ھنے والا سمجھتے تھے، جیسا کہ قرآن میں انھیں لوگوں کی زبانی نقل ہواہے: < وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا ہَلْ نَدُلُّکُمْ عَلَی رَجُلٍ یُنَبِّئُکُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّکُمْ لَفِی خَلْقٍ جَدِیدٍ(4)”

ور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کا کہنا ہے کہ ہم تمہیں ایسے آدمی کا پتہ بتائیں جو یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم مرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہوجاؤ گے تو تمہیں نئے بھیس میں لایا جائے گا“، اسی دلیل کی وجہ سے ”معاد کے سلسلہ میں قرآنی دلائل“ اسی ”معاد جسمانی“ پرزور دیتے ہیں، اس کے علاوہ قرآن مجید نے بارہا اس بات کی یاد دہانی کرائی ہے کہ تم لوگ روز قیامت اپنی قبروں سے نکلو گے، (سورہ یٰس، آیت نمبر ۵، سورہ قمر ، آیت نمبر ۷)”قبریں “ اسی معاد جسمانی سے تعلق رکھتی ہیں۔
قرآن مجید میں جنت کے بہت سے معنوی اور مادی صفات بیان کئے گئے ہیں، جو سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جسم کو بھی حاضر کیا جائے اور روح کو بھی، ورنہ نعمتوں کے ساتھ ساتھ حور و غلمان ، قصر و محل، بہشتی غذائیں اور مادی لذتیں کیا معنی رکھتی ہیں؟!
بہر حال یہ بات ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی قرآن مجید کی منطق اور ثقافت سے تھوڑی بہت آشنائی رکھتا ہو اور معادِ جسمانی کا انکار کرے، یا دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ قرآنی نظریہ کے لحاظ سے معادِ جسمانی کا انکار خود اصل معاد کے انکار کے برابر ہے! اس سلسلہ میں قرآن و حدیث میں بیان شدہ دلائل کے علاوہ خود عقلی دلائل بھی موجود ہیں کہ اگر ان کو بیان کرنا چاہیں تو بحث طولانی ہوجائے گی، البتہ ہم یہاں پرمعاد جسمانی کے سلسلہ میں ہونے والے سوالات اور اعتراضات کو بیان کرتے ہیں جیسے ”شبہ آکل و ماکول “وغیرہ جن کو اسلامی محققین نے بیان کیا ہے۔(5)


(1) سورہ یٰس ، آیت ۷۹
(2)سورہٴ الم سجدہ ، آیت ۱۰
(3)سورہٴ موٴمنون ، آیت ۳۵
(4) سورہٴ سباء ، آیت ۷
(5) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۸، صفحہ ۴۸۷
۶۰۔ شبہ آکل و ماکول کیا ہے؟ ۵۸۔ قیامت کے عقلی دلائل کیا ہیں؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma