62۔ اجل مسمیٰ (حتمی) اور اجل معلق (غیر حتمی) سے مراد کیا ہے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۶۳۔ کیا سائنس تجسم اعمال کی تائید کرتا ہے ۶۱۔ روح کیا ہے؟ اور یہ کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ روح ہی اصل ہے؟
  • اس میں شک نہیں ہے کہ انسان کے لئے دوطرح کی موت ہوتی ہے:
    ایک حتمی اور یقینی موت ہے کہ جب انسان کا جسم باقی رہنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے یا یقینی موت کے وقت آنے پر تمام چیزیں حکم الٰہی سے انتہا کو پہنچ جاتی ہیں۔
    اجل معلق یا غیر حتمی موت حالات کی تبدیلی سے بدل جاتی ہے، مثال کے طور پر انسان خود کشی کرلیتا ہے ، کہ اگر یہ گناہ کبیرہ نہ کرتا تو برسوں زندہ رہ سکتا تھا، یا انسان شراب اور دیگر منشیات کے استعمال یا بے حساب و کتاب شہوت رانی کے ذریعہ کچھ ہی دنوں میں اپنی جسمانی طاقت کھو بیٹھتا ہے، جبکہ اگر انسان ایسا نہ کرے تو بہت دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔
    چنانچہ یہ چیزیں ایسی ہیں جن کو سبھی دیکھتے رہتے ہیں اور کوئی شخص بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔
    اتفاقی حوادث بھی اسی اجل معلق سے مربو ط ہیں اس کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    اسی بنا پر احادیث میں بیان ہوا ہے کہ راہ خدا میں صدقہ دینے، انفاق کرنے اور صلہ رحم کرنے سے عمر طولانی اور بلائیں دور ہوتی ہیں، در اصل یہ چیزیں انھیں اسباب کی طرف اشارہ ہیں۔
    اور اگر ہم ان دوطرح کی موت کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کریں گے تو پھر ”قضا و قدر“ اور ”انسانوں کی زندگی میں سعی و کوشش کے اثرات“ وغیرہ جیسے مسائل کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔
    اس بحث کو ایک آسان مثال کے ذریعہ واضح کیا جاسکتاہے مثلاً کوئی شخص ایک نئی گاڑی خریدے، جس کا انجن اور باڈی میں لگایا گیا مختلف سامان بیس سال تک کام کرتا ہو، لیکن شرط یہ ہے کہ اس کی صحیح طریقہ سے دیکھ بھال کی جائے، تو اس صورت میں اس گاڑی کی عمر وہی بیس سال ہوگی۔
    لیکن اگر صحیح طور پر اس کی دیکھ بھال نہ کی جائے یا اس کو نااہل لوگوں کے حوالہ کر دیا جائے ،یا اس کی طاقت کے لحاظ سے زیادہ کام لیا جائے یا ہر روز نامناسب راستہ پر چلایا جائے ، تو اس کی عمر آدھی یا اس سے بھی کم ہوسکتی ہے، یہ وہی ”اجل معلق“ ہے۔
    ہمیں تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ بعض مفسرین نے اس قدر واضح اور روشن مسئلہ پرتوجہ نہیں کی ہے۔(1)
    وضاحت:
    بہت سی ایسی موجودات ہیں جو فطری طور پر ایک طولانی مدت تک باقی رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ، لیکن اس مدت میں موانع پیش آسکتے ہیں جن سے وہ اپنی آخری عمر تک نہیں پہنچ سکتیں، مثال کے طور پر ایک چراغ (تیل کی مقدار بھر) مثلاً ۱۰/ گھنٹے روشنی دے سکتا ہے، لیکن اگر آندھی یا بارش آجائے تو وہ ۱۰/ گھنٹے نہیں جل سکتا۔
    یہاں پر اگر چراغ جلنے میں کوئی مانع پیش نہ آئے توتیل کے آخری قطرے تک جلتا رہے گا اور تیل ختم ہونے پر ہی بجھے گا، تو گویا یہ اپنی ”حتمی اجل “ تک پہنچ گیا ہے، او راگر اس سے پہلے کوئی مانع پیش آجائے اور چراغ خاموش ہوجائے تو اس کی عمر کو ” غیر حتمی ا جل ‘ ‘کہا جا ئے گا۔
    انسان کے سلسلے میں بھی ایسا ہی ہے، اگر اس کی بقا کے لئے تمام شرائط جمع ہوجائیں اور موانع پیش نہ آئیں تو اس کی استعداد اور صلاحیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ طولانی عمر پائے (اگرچہ اس کی بھی ایک حد اور انتہا ہے) لیکن ممکن ہے کہ یہی انسان نامناسب غذاؤں، یا منشیات کے استعمال یا خود کُشی کے ذریعہ اس سے پہلے ہی مرجائے ، تو اس پہلی صورت میں اس کی موت کو ”اجل حتمی“ اور دوسری صورت میں ” غیر حتمی اجل“ کہا جاتا ہے۔
    دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ ”حتمی اجل “ اس صورت میں ہے کہ ہم تمام ”علل تامہ“ کا لحاظ کریں، اور ”غیر حتمی اجل “ اس صورت میں ہے کہ ہم صرف ”مقتضیات“ کو مد نظر رکھیں۔
    ان دو طرح کی موت کے پیش نظر بہت سی چیزیں روشن ہوجاتی ہیں، مثال کے طور پر جیسا کہ ہم روایات میں پڑھتے ہیں کہ صلہٴ رحم سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے یا قطع رحم سے عمر کم ہو جاتی ہے، (اس طرح کے موارد میں ” غیر حتمی اجل“ مراد ہوتی ہے)
    یا جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:< فَإِذَا جَاءَ اٴَجَلُہُمْ لاَیَسْتَاٴْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَیَسْتَقْدِمُونَ(2) ” ہر قوم کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو ایک گھڑی کے لئے نہ پیچھے ٹل سکتا ہے اور نہ آگے بڑھ سکتا ہے“۔
    اس آیت میں ”حتمی اجل “ مراد ہے۔
    مذ کورہ آیت صرف یہ بیا ن کر رہی ہے کہ انسان اپنی آخری عمر کو پہنچ جائے ، لیکناس میں جلد آنے والی موت بالکل شامل نہیں ہے۔
    بہر حال توجہ رکھنا چاہئے کہ موت کی دونوں قسمیں خداوندعالم کی طرف سے معین ہوتی ہیں، ایک مطلق طور پر اور دوسری مشروط یا معلق طور پر، بالکل اس طرح جیسے یہ چراغ بغیر کسی قید و شرط کے ۱۰ گھنٹے بعد خاموش ہوجائے گا، بالکل اسی طرح انسان اور قوم و ملت بھی ہے ، مثلاً خداوندعالم نے ارادہ فرمایا ہے کہ فلاں شخص یا فلاں قوم اتنی عمر کے بعد یقینی طور پر ختم ہوجائے گی، او راگر ظلم و ستم، نفاق اورسستی سے کام لیں گے تو ایک تہائی مدت میں ختم ہوجائے گی، دونوں موتیں خداوندعالم کی طرف سے ہیں ایک مطلق اور دوسری مشروط۔ مذکورہ آیت کے ذیل میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ ”ھُما اٴجلان اٴجَلٌ محتُومٌ وَاٴجلٌ مُوقُوفٌ“(3) اس میں ”حتمی اجل “ اور ” مشروط اجل “ کی طرف اشارہ ہے، اور اس سلسلہ میں ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ” غیر حتمی“ (مشروط) کو مقدم یا موٴخر کیا جاسکتا ہے، لیکن ”حتمی اجل“ کو مقدم یا موٴخر نہیں کیا جاسکتا۔ (نور الثقلین ، جلد اول صفحہ ۵۰۴)  

  •  

  • (1) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹
    (2) سورہٴ اعراف ، آیت ۳۴
    (3) تفسیر نمونہ ، جلد۵، صفحہ ۱۴۹
     
۶۳۔ کیا سائنس تجسم اعمال کی تائید کرتا ہے ۶۱۔ روح کیا ہے؟ اور یہ کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ روح ہی اصل ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma