۶۳۔ کیا سائنس تجسم اعمال کی تائید کرتا ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۶۴۔ عالمِ برزخ کیا ہے اور وہاں کی زندگی کیسی ہے؟ 62۔ اجل مسمیٰ (حتمی) اور اجل معلق (غیر حتمی) سے مراد کیا ہے؟

قرآن مجید کی آیات سے واقف افراداس بات کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں روز قیامت ”تجسم اعمال“ کے بارے میں خبر دی گئی ہے، یعنی روز قیامت ہر شخص کے اعمال چاہے اچھے ہوں یا بُرے اس کے سامنے حاضر ہوجائیں گے، اور انسان کے لئے خوشی و مسرت کا سامان بن جائیں گے یا عذاب اور شکنجہ کا باعث ہوں گے، یا اس کے لئے باعثِ افتخار ہوں گے یا ذلت و رسوائی کا سبب ہوں گے۔
کیا انسان کے اعمال کا باقی رہنا ممکن ہے جبکہ انسان کے اعمال صرف کچھ حرکات و سکنات ہوتے ہیں اور انجام پانے کے بعد ختم ہوجاتے ہیں؟ اس کے علاوہ انسان کے اعمال جو انسانی وجود کے عوارض ہیں کیا یہ مادہ اور جسم میں تبدیل ہوسکتے ہیں اور مستقل شکل و صورت میں ظاہر ہوسکتے ہیں؟
چونکہ بہت سے مفسرین کے پاس ان دونوں سوالوں کا جواب نہیں تھا لہٰذا وہ لوگ مجبوراً قرآنی آیات میں ”حذف اور تقدیر“ کے قائل ہوگئے اور کہتے ہیں کہ ”اعمال کے حاضر ہونے“ یا ”اعمال کے مشاہدہ“ سے اعمال کی جزا یا سزا مراد ہے۔
لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ دونوں سوال کا جواب موجود ہے، لہٰذا قرآن مجید کی جن آیات میں ”تجسم اعمال“ کا بیان موجود ہے اس کا انکار کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
اس سلسلہ میں متعددروایات موجود ہیں انھیں میں سے حدیث معراج بھی ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ جب پیغمبر اکرم (ص) نے جنت اور دوزخ کو دیکھا تو بدکاروں کو اپنے اعمال کی بنا پر عذاب جہنم میں مبتلا دیکھا، اور نیک لوگوں کو دیکھا کہ اپنے اعمال کی بنا پر جنت میں بہترین نعمتوں سے مالا مال ہیں۔
غیبت کے سلسلہ میں بیان ہونے والی آیت میں غیبت کرنے والے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے والا قرار دیا ہے، یہ بھی ہمارے مدعا پر ایک دوسری دلیل ہے۔
لہٰذا گزشتہ آیات و روایات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ عالم برزخ اور قیامت میں انسان کے اعمال مناسب شکل میں مجسم ہوں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: < إِنَّ الَّذِینَ یَاٴْکُلُونَ اٴَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَاٴْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا(1)” جو لوگ ظالمانہ انداز سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ در حقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں“۔
یہ آیہٴ شریفہ بیان کرتی ہے کہ انسان کا عمل دنیا ہی میں ایک طرح سے جسم رکھتا ہے، اس طرح کہ یتیم کا مال کھانا ایک جلادینے والی آگ کی طرح ہے، اگرچہ حقیقت کو نہ دیکھنے والی آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں۔
ان آیات و روایات کو مجازی اور کنائی معنی پر حمل کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے لہٰذا ان کی تاویل و توجیہ کریں، جبکہ ان کے ظاہر پر عمل کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے، اور کوئی مشکل پیش نہیں آتی، اس کی مزید تفصیل آئندہ بیان کی جائے گی۔
منطق عقل میں تجسم اعمال:
تجسم اعمال کے سلسلہ میںیہ اہم اشکال طبرسی علیہ الرحمہ نے اپنی تفسیر مجمع البیان میں بیان کیاہے کہ عمل ایک”عرض“ ہے، اور”جوہر“نہیں ہے (یعنی نہ مادہ کی خاصیت رکھتا ہے اور نہ خود مادہ ہے) اور دوسرے یہ کہ عمل انجام پانے کے بعد محو اور نابود ہوجاتا ہے، لہٰذا ہماری گفتگو اور ہمارے  گزشتہ اعمال کے آثار دکھائی نہیں دیتے، وہ اعمال جو بعض چیزوں میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں مثال کے طور پر اینٹ اور سیمنٹ کے ذریعہ مکان بناتے ہیں، یہ تو تجسم اعمال نہیں ہے، بلکہ عمل کے ذریعہ ایک تبدیلی انجام پائی ہے۔ (غور کیجئے )
لیکن دو نکتوں کے پیش نظر ان دو اعتراضات کا جواب، اور تجسم اعمال کی کیفیت بھی روشن ہوجاتی ہے۔
سب سے پہلے یہ عرض کیا جائے کہ آج کل یہ بات ثابت ہے کہ دنیا میں کوئی چیز بھی ختم نہیں ہوتی، ہمارے اعمال مختلف طاقت کی شکل میں موجود رہتے ہیں، اگر ہم بولتے ہیں تو ہماری آوازیں فضا میں مختلف امواج کی شکل میں پھیل جاتی ہیں، اور ذروں کی لہروں میں تبد یل ہو جا تی ہیں اور ممکن ہے کہ یہ طاقت بھی کئی مرتبہ تبدیل ہوجائے، لیکن کسی بھی صورت میں بالکل ختم نہیں ہوتیں، ہمارے ہاتھوں اور پیروں کی حرکات بھی ایک طرح کی طاقت ہے، اور یہ ”مکینک طاقت“ ہر گز ختم نہیں ہوتی، ممکن ہے کہ ایک حرارتی طاقت میں تبدیل ہوجائے ، خلاصہ یہ کہ صرف اس دنیا کے مواد جن کی طاقت ثابت و پا ئیدار ہے اگر چہ شکل بد لتی رہتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی دانشوروں اور آزمائشوں کے ذریعہ قطعی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ ”مادہ“ اور ”طاقت“ کے درمیان ایک قریبی تعلق ہے، یعنی مادہ اور طاقت ایک ہی حقیقت کے دو مظہر ہیں،”مادہ“ طاقت کا خلاصہ ہے اور ”طاقت“ مادہ کی تفصیل ہے، اور دونوں معین شرائط و حالات کے تحت ایک دوسرے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
ایٹمی طاقت ، مادہ کا طاقت میں تبدیل ہونے کا نام ہے، یا دوسرے الفاظ میں ایٹمی ذرہ کا پھٹنا اور اس کی طاقت کا آزاد ہونا ہے۔
آج سائنس نے یہ بات ثابت کی ہے کہ سورج کی حرارتی طاقت ایک ایٹمی طاقت ہے جو سورج کے ایٹم پھٹنے پر نکلتی ہے، اسی وجہ سے ہر روز سورج کا وزن کم سے کم تر ہوتا جارہا ہے، اگرچہ یہ وزن سورج کے وزن کے مقابلہ میں بہت ہی ناچیز ہے۔
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ جس طرح مادہ طاقت میں تبدیل ہوسکتا ہے اسی طرح طاقت بھی مادہ میں تبدیل ہوسکتی ہے، یعنی اگر پھیلی ہوئی طاقت دوبارہ جمع ہوجائے اور جسم و جرم کی حالت پیدا کرلے تو پھر ایک جسم کی شکل میں ظاہر ہوسکتی ہے۔
اس بنا پر کوئی مانع نہیں ہے کہ ہمارے اعمال اور گفتگو جو مختلف طاقت کی شکل میں موجود رہتے ہیں اور نابود نہیں ہوتے، وہ حکم خدا سے دوبارہ جمع ہوجائیں اور ایک جسم کی شکل اختیار کرلیں، اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ ہر عمل اپنے لحاظ سے جسم حاصل کرے گا ، جو طاقت اصلاح نفس، خدمت دین، تقوی اور پرہیزگاری میں خرچ کی گئی ہے وہ ایک خوبصورت جسم میں ظاہر ہوگی، اور جو طاقت ظلم و ستم، فساد اور برائیوں میں خرچ کی گئی ہے وہ بد شکل اور متنفر صورت میں ظاہر ہوگی!
اس بنا پر ”تجسم اعمال“ کو قرآن مجید کے علمی معجزات میں شمار کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اس زمانہ میں طاقت کی بقا، یا مادہ کا طاقت میں تبدیل ہونا یا اس کے برعکس طاقت کا مادہ میں تبدیل ہونا،دانشوروں اور صا حبان علم کے ذہنوں تک میں نہ تھا، لیکن قرآن مجید اور روایات میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
لہٰذا نہ تو ”عرض“ ہونے کے لحاظ سے کوئی مشکل ہے اور نہ اعمال کے نابود ہونے کے لحاظ سے، کیونکہ اعمال نابود نہیں ہوتے، اور عرض و جوہر ایک ہی حقیقت کے دو جلوے ہیں، یہ بات جوہری حرکت کے پیش نظر واضح تر ہوجاتی ہے! کیونکہ ”جوہری حرکت“ کے قائل اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ عرض و جوہر ایک دوسرے سے جدا نہیںہیں، جس کی بنا پر وہ عرض میں جوہر ی حرکت کے ذریعہ حرکت جوہری سے استدلال کرتے ہیں(غور کیجئے )
اپنی بات کو مکمل کرنے کے لئے اس نکتہ کی طرف اشارہ مناسب ہے:
مشہور و معروف فرانسوی دانشور ”لاوازی“ نے قانون ”بقا ئے مادہ“ کو بہت سعی و کوشش کے بعد کشف کیا اور یہ ثابت کیا ہے کہ اس دنیا کے تمام مادے نابود نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔اس کے کچھ مدت بعد ”پیر کوری اور اس کی زوجہ“ نے پہلی بار ”یڈیو اکٹیو“ (جن جسموں میں ناپائیدار ایٹم پائے جاتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ طاقت میں تبدیل ہوجاتے ہیں) پر مادہ اور طاقت کے تعلق سے ایک ریسرچ کرنے کے بعد کشف کیا اور” قانون بقائے مادہ “کو ”قانون بقائے مادہ اور طاقت“ میں تبدیل کردیا، اور اس لحاظ سے قانون” بقائے مادہ “متزلزل ہوگیا اور قانون ”بقائے مادہ اور طاقت“نے اس کی جگہ لے لی، اور ایٹم کو توڑنے سے مادہ، طاقت میں تبدیل ہونے کو مختلف دانشوروں نے قبول کرلیا، معلوم ہوا کہ یہ دونوں (مادہ اور طاقت) آپس میں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اور ایک دوسرے کی جگہ لے لیتے ہیں، یا دوسرے الفاظ میں یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔
سائنس میں اس چیز کے کشف ہونے کی وجہ سے دانشوروں کی ریسرچ میں ایک عظیم انقلاب برپاہو گیا ہے اور عالم ہستی کی وحدت کو پہلے سے زیادہ ثابت کردیا۔
اس قانون نے قیامت اور انسان کے تجسم اعمال کے سلسلہ میں گزشتہ لوگوں کے بہت سے اعتراضات کا حل پیش کردیا جس سے تجسم اعمال کے سلسلہ میں لاحق موانع برطرف ہوگئے۔(2)


(1) سورہ نساء ، آیت ۱۰
(2) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۱۱۵ اور ۱۳۷
۶۴۔ عالمِ برزخ کیا ہے اور وہاں کی زندگی کیسی ہے؟ 62۔ اجل مسمیٰ (حتمی) اور اجل معلق (غیر حتمی) سے مراد کیا ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma