۶۹۔ فلسفہٴ شفاعت کیا ہے؟ اور کیا شفاعت کی امید ،گناہ کی ترغیب نہیں دلاتی؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
70۔کیا ”شفاعت“ توحید کے منافی ہے؟ 68۔ پُل صراط کی حقیقت کیا ہے؟

شفاعت ، نہ تو گناہ کی ترغیب ہے ،نہ گنہگار کے لئے گرین لائٹ، نہ عقب ماندگی کا سبب اور نہ ہی آج کل کی دنیا میں رائج پارٹی بازی، بلکہ تربیت کا اہم مسئلہ ہے جو مختلف لحاظ سے مثبت اور مفید آثار لئے ہوئے ہے، منجملہ:
الف۔ امید کی کرن اور مایوسی سے مقابلہ: بعض اوقات انسان پر ہوائے نفس کا غلبہ ہوجاتا ہے اور بہت سے اہم گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے جس سے گنہگار انسان مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہوجاتا ہے، جس سے گنہگار کو مزید گناہ انجام دینے میں مدد ملتی ہے کیونکہ ایسے موقع پر یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اب تو پانی سر سے گزر گیا ہے چاہے ایک بالشت ہو یا سو بالشت؟!
لیکن شفاعت ِاولیاء اللہ ان کو بشارت دیتی ہے کہ بس یہیں رک جاؤ اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو، ممکن ہے ان کے گزشتہ گناہ شافعین کی شفاعت پر بخش دئے جائیں، لہٰذا شفاعت کی امید انسان کو مزید گناہ سے روکتی ہے اور تقویٰ واصلاح نفس میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ب۔ اولیاء اللہ سے معنوی تعلق پیدا ہونا: شفاعت کے معنی کے پیش نظر یہ نتیجہ حاصل کرنا آسان ہے کہ شفاعت اسی وقت ممکن ہے جب ”شفیع“ اور ”شفاعت ہونے والے شخص“ کے درمیان ایک قسم کا رابطہ ہو، لہٰذا شفا عت کے لئے ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ معنوی رابطہ ہونا ضروری ہے۔
اگر کوئی شخص کسی کی شفاعت کی امید رکھتا ہو تواس کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ شفاعت کرنے والے سے بہترین تعلقات قائم رکھے ، اور ایسے اعمال انجام دے جن سے وہ خوش رہے، بُرے کاموں سے اجتناب کرے، اس کی محبت و دوستی کو بالکل ختم نہ کرڈالے۔
یہ تمام چیزیں انسانی تربیت کے لئے بہترین اسباب ہیں، جن کے ذریعہ انسان آہستہ آہستہ گناہوں کی گندگی سے باہر نکل آتا ہے، یا کم از کم بعض برائیوں کے ساتھ ساتھ نیک کام بھی انجام دیتا ہے، اور شیطان کے جال میں مزید پھنسنے سے بچ جاتا ہے۔
ج۔ شفاعت کے شرائط حاصل کرنا: قرآن مجید کی متعدد آیات میں شفاعت کے لئے بہت سے شرائط ذکر ہوئے ہیں ان میں سب سے اہم خداوندعالم کی طرف سے اذن و اجازت ہے، اور یہ بات مسلم ہے کہ جو شخص شفاعت کا امیدوار ہے تو اسے خدا وندعالم کی رضایت حاصل کرنی ہوگی، یعنی اسے ایسے اعمال انجام دینے ہوں گے جن سے خداوندعالم راضی و خوشنود ہوجائے۔
بعض آیات میں بیان ہوا ہے کہ روز قیامت صرف ان ہی لوگوں کے بارے میں شفاعت قبول کی جائے گی جن کے بارے میں خدا نے اجازت دی ہو، اور اس کی باتوں سے راضی ہوگیا ہے۔ (سورہ طٰہٰ، آیت ۱۰۹)
سورہ انبیاء ، آیت نمبر ۲۸ میں بیان ہوا ہے کہ شفاعت کے ذریعہ صرف انھیں لوگوں کی بخشش ہوگی جو”مقام ارتضاء“ (یعنی خوشنودی خدا) تک پہنچ چکے ہوں گے، اور سورہ مریم ، آیت۷ ۸ کے مطابق جن لوگوں نے خدا سے عہد کرلیا ہو، اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ یہ تمام مقامات اس وقت حاصل ہوتے ہیں جب انسان خداوندعالم اور اس کی عدالت پر ایمان رکھتا ہو ، نیکیوں اور برائیوں میں حکم خداکو قبول کرتا ہو، اور خدا کی طرف سے نازل شدہ تمام قوانین کے صحیح ہونے پر گواہی دے۔
اس کے علاوہ بعض آیات میں بیان ہوا ہے کہ ظالمین کو شفاعت نصیب نہ ہوگی، لہٰذا شفاعت کی امید رکھنے والے کے لئے ظالمین کی صف سے باہر نکل آنا ضروری ہے،(چاہے وہ کسی بھی طرح کا ظلم ہو، دوسروں پر ظلم ہو یا اپنے نفس پر ظلم ہو)۔

(قارئین کرام!) یہ تمام چیزیں با عث بنتی ہیں کہ شفاعت کی امید رکھنے والا شخص اپنے گزشتہ اعمال پر تجدید نظر کرے اور آئندہ کے لئے بہتر طور پر منصوبہ بندی کرے، یہ خود انسان کی تربیت کے لئے بہترین اور مثبت پہلو ہے۔
د۔ شافعین پر توجہ: قرآن کریم میں شافعین کے سلسلہ میں بیان شدہ مطالب پر توجہ، اسی طرح احادیث معصومین علیہم السلام میں بیان شدہ وضاحت پر توجہ کرنا مسئلہ شفاعت کاایک دوسرا تربیتی پہلو ہے۔
پیغمبر اکرم (ص) نے ایک حدیث میں فرمایا:
”الشّفاءُ خَمْسَةٌ: القُرآن، وَالرّحم، والاٴمَانة، وَنبیکُم، وَاٴہلَ بَیتَ نبیکم،“(1)
”روز قیامت شفاعت کرنے والے پانچ ہیں: قرآن، صلہ رحم، امانت، تمہارے پیغمبر اور ا ہل بیت پیغمبر (علیہم السلام)“۔
ایک دوسری حدیث جو مسند احمد میں نقل ہوئی ہے، پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: ” تَعَلّمُوا القرآنَ فَاٴنَّہُ شَافِعٌ یَومَ القیامَة“(2) ”قرآن کی تعلیم حاصل کرو کیونکہ وہ روز قیامت تمہاری شفاعت کرنے والا ہے“۔
یہی معنی نہج البلاغہ میں امام المتقین حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے بیان ہوئے ہیں: ”فَإنَّہُ شَافِعٌ مُشَفِّعٌ“(3) ”قرآن کریم ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت بارگاہ الٰہی میںقبول ہے“۔
متعدد روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شفاعت کرنے والوں میں سب سے بہترین شفاعت کرنے والا”توبہ“ ہے: ”لَاشَفِیْعَ اٴنجَح مِنَ التَّوبَةِ“(4) ”توبہ سے زیادہ کا میاب کوئی شفیع نہیں ہے“۔
بعض احادیث میں انبیاء، اوصیاء، مومنین اور ملائکہ کی شفاعت کی تصریح کی گئی ، جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) کی حدیث ہے:
”الشَّفَاعةُ للِاٴنبیَاءِ وَالاٴوْصِیاءِ وَالمَوٴمِنِینَ وَالمَلائِکَةِ ،وَفِی المَوٴمنِینَ مَنْ یَشفَعُ مِثْلَ رَبیعةَ و مضر ! واٴقلَّ المَوٴمِنِیْنَ شَفَاعة مَنْ یَشْفَعُ ثَلاثِینَ إنسَاناً!“(5)
انبیاء، اوصیاء ،مومنین اور فرشتے شفاعت کرنے والے ہیں، اور مومنین کے درمیان شفاعت کرنے والے ایسے بھی ہوں گے جو قبیلہ ”ربیعہ“ اور ”مُضر“ کے برابر شفاعت کریں گے، اور سب سے کم شفاعت کرنے والے مومنین (بھی) تیس افراد کی شفاعت کریں گے“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ خداوندعالم روز قیامت ”عابد“ اور ”عالم“ کو مبعوث کرے گا، اور جس وقت یہ دونوں عدل الٰہی کے مقابل کھڑے ہوں : ”قِیلَ لِلْعَابِدِ اِنطَلِقْ إلیَ الجَنَّة، وَقِیْلَ لِلْعَالِمِ قِفْ، تَشفَع لِلنَّاسِ بِحُسْنِ تَادِیبِکَ لَھُم“(6) (عابد سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں چلے جاؤ، اور عالم کو روک لیا جائے گا، اور اس سے کہا جائے گاکہ تم ان لوگوں کی شفاعت کرو جن کی تم نے نیک تربیت کی ہے“۔
محترم قارئین ! گزشتہ روایات خصوصاً آخری روایات میں ایسے الفاظ بیان ہوئے ہیں جن سے صاف صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت کی امید رکھنے والے کے لئے نیک افراد ،مومنین اور علماسے ایک معنوی رابطہ ہونا ضروری ہے۔
شہداء ِراہ خدا کے بارے میں بھی پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”وَیَشْفَعُ الرَّجُلُ مِنھُم مِن سَبْعِینَ اٴلفَا مِن اٴہلِ بَیتِہِ وَجِیرَانِہ“(7) (شہداء میں سے ہر شہید اپنے خاندان اور پڑوسیوں میں سے ۷۰/ ہزار افراد کی شفاعت کرے گا“۔
یہاں تک بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ”شفیع انسان، خداوندعالم کی اطاعت اور عمل حق ہے“: ”شَافِعُ الخَلْقِ :العَمَلُ بِالحَقِّ وَلزومِ الصِّدْقِ“(8)
خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ اسلامی معتبر کتابوں میں بیان شدہ ان تمام روایات کے پیش نظر صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شفاعت اسلام کے اہم ترین تربیتی مسائل میں ہے، جس کی شفاعت کرنے والوں کی قسموں کے اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت ہے، اور تمام مسلمانوں کو شفاعت کی اس عظیم منزلت کی طرف اور شفاعت کرنے والوں سے معنوی رابطہ قائم کرنے کی دعوت دی گئی ہے، اور مسئلہ شفاعت کے غلط اور تحریف شدہ شفاعت کے معنی کو الگ کردیتی ہے۔9)(10)
 


(1) میزان الحکمہ، جلد ۵، صفحہ ۱۲۲
(۲) مسند احمد ، جلد ۵، صفحہ ۲۵۱، (طبع بیروت دار صادر)
(3) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶ br (4)نہج البلاغہ ،کلمات قصار ،کلمہ ۳۷۱
(5) بحار الانوار ، جلد ۸، صفحہ ۵۸،حدیث ۷۵
(6) بحار الانوار ، جلد ۸، ۵۶،حدیث۶۶
(7) مجمع البیان ، جلد ۲، صفحہ ۵۳۸، (سورہ آل عمران آیت ۱۷۱ کے ذیل میں)
(8) غررا لحکم
(9) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۵۲۳
(10) تفسیر المیزان میں علامہ طبا طبا ئی علیہ الرحمہ شفاعت کے معنی ”مسببات میں اسباب کی تاثیر“ کرتے ہو ئے شافعین کی دو قسم بیان کرتے ہیں(”عالم تکوین“ اور ”عالم تشریع“) اور تشریعی شافعین میں توبہ، ایمان، عمل صالح، قرآن، انبیاء ، ملائکہ اور مومنین کا شمار کرتے ہیں، پھراس سلسلہ میں دلالت کرنے والی ان آیات کو بیان کر تے ہیں جو گناہوں کی بخشش میں مذکورہ چیزوں یا ان حضرات کی تاثیر کو بیان کرتی ہیں، (اگرچہ ان آیات میں شفاعت کا لفظ نہیں ہے) جیسے سورہ زمر ، آیت ۵۴، سورہ حدید ، آیت ۲۸، سورہ مائدہ ، آیت ۹، اور ، آیت ۱۶، سورہ نساء ، آیت ۶۴، سورہ مومن (غافر) ، آیت ۷/ اور سورہ بقرہ ، آیت ۲۸۶
 
70۔کیا ”شفاعت“ توحید کے منافی ہے؟ 68۔ پُل صراط کی حقیقت کیا ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma