۷۵۔ فلسفہ زکوٰة کیا ہے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
76۔ فلسفہ اور اسرار حج کیا ہیں؟ ۷۴۔ خمس کا نصف حصہ سادات سے مخصوص ہونا؛ کیا طبقاتی نظام نہیں ہے؟

اسلام صرف ایک اخلاقی یا فلسفی اور اعتقادی مکتب کے عنوان سے نہیں آیا ہے بلکہ ایک ”مکمل آئین“ کے عنوان سے پیش ہوا ہے جس میں تمام مادی اور معنوی ضرورتوں کو مد نظر رکھا گیا ہے، اسلام نے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ سے ہی حکومت تشکیل دے کر غریب اور محتاج لوگوں کی حمایت اور طبقاتی نظام کا مقابلہ کیا ہے ، جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بیت المال اور زکوٰة جو بیت المال کی در آمد کا راستہ ہے ؛ اسلام کی اہم منصوبہ بندی میں سے ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر معاشرہ میں غریب، محتاج، بیمار، بے سرپرست یتیم اور اپاہج لوگ پائے جاتے ہیں، جن کی حمایت اور مدد ہونی چاہئے۔
اور اسی طرح دشمن کے مقابل اپنی حفاظت کے لئے نگہبان اور مجاہدین کی ضرورت ہوتی ہے جس کا خرچ حکومت کو ادا کرنا ہوتا ہے۔
اسی طرح حکومتی ملازمین، قاضی، دینی ادارے اور تبلیغی وسائل کے لئے بھی کچھ مصارف کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے منظم طور پر مالی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اسلامی نظام بہتر طور پر قائم ہوسکے۔
اسی وجہ سے اسلام نے زکوٰة پر ایک خاص توجہ دی ہے جو در اصل ایک طرح سے ”انکم ٹیکس“ اور ”ذخیرہ شدہ سرمایہ پر ٹیکس“ ہے ، اور زکوٰة کی اہمیت کے پیش نظر اس کو مہم ترین عبادت میں شمار کیا گیا ہے، بہت سے مقامات پر نماز کے ساتھ ذکر ہوا ہے، یہاں تک کہ قبولیتِ نماز کی شرط شمار کی گئی ہے!
بلکہ اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے کہ اگر اسلامی حکومت نے کسی شخص یا اشخاص سے زکوٰة کا مطالبہ کیا اور انھوں نے زکوٰة دینے سے انکار کیا اور حکومت سے مقابلہ کیا تو ان کو مرتد شمار کیا جائے گا، اور اگر ان پر وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہ ہو تو اس صورت میں طاقت کا سہارا لینا جا ئز ہے ،جیسا کہ واقعہٴ ”اصحاب ردّہ“ (جس گروہ نے پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد زکوٰة دینے سے انکار کیا اور خلیفہ وقت نے ان سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی یہاں تک حضرت علی علیہ السلام نے اس مقابلہ پر رضا مندی دے دی اور خود ایک پرچم دار کے عنوان سے میدان جنگ میں حاضر ہوئے) تاریخ میں مشہور ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے: ”مَنْ مَنَعَ قِیْرَاطاً مِنَ الزَّکٰاةِ فَلَیسَ ھُوَ بِمَوٴمِنٍ، وَلَا مُسْلِمٍ، وَلا کَرَامَةٍ!“(1) ”جو شخص زکوٰة کی ایک قیراط (2) ادا نہ کرے تو وہ نہ مومن ہے اور نہ مسلمان، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے“۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ زکوٰة کے سلسلہ میں بیان شدہ روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام نے زکوٰة کی ”حدود“ اور ”مقدار“ اس قدر دقیق معین کی ہے کہ اگر تمام مسلمان اپنے مال کی زکوٰة صحیح اور مکمل طریقہ سے ادا کریں تو اسلامی ممالک میں کوئی غریب اور فقیر نہیں پایا جائے گا۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک اور روایت میں بیان ہوا ہے: ”اگر تمام مسلمان اپنے مال کی زکوٰة ادا کریں تو کوئی مسلمان غریب نہیں رہ سکتا، لوگ غریب، محتاج، بھوکے اور ننگے نہیں ہوتے مگر مالداروں کے گناہوں کی بدولت“۔(3)
اسی طرح روایات سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ زکوٰة کی ادائیگی سے ملکیت کا تحفظ ہوتا ہے کہ اگر مسلمان اس اسلامی اہم اصل کو بالائے طاق رکھ دیں تو لوگوں کے درمیان (غریب او رامیر میں) اس قدر فاصلہ ہوجائے کہ مالدار لوگوں کا مال خطرہ میں پڑ جائے گا۔
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ ”حَصِّنُوا اٴمْوَالُکُمْ بِالزَّکَاةِ“(4) ”زکوٰة کے ذریعہ اپنے مال کی حفاظت کرو“۔
یہی مضمون خود پیغمبر اکرم (ص) اور امیر المومنین علی علیہ السلام سے دوسری احادیث میں نقل ہوا ہے۔(5)


(1) وسائل الشیعہ ، جلد ۶، صفحہ ۲۰، باب ۴، حدیث۹
(2) درہم کے بارہویں حصے کے برابر ایک وزن
(3) وسائل الشیعہ ، جلد ۶، صفحہ۴ (باب ۱،حدیث ۶ از ابواب زکوٰة )
(4) وسائل الشیعہ ،جلد ۶، صفحہ ۶،(باب۱، حدیث ۱۱ از ابواب زکوٰة )
(5) تفسیر نمونہ ، جلد ۸، صفحہ ۱۰
76۔ فلسفہ اور اسرار حج کیا ہیں؟ ۷۴۔ خمس کا نصف حصہ سادات سے مخصوص ہونا؛ کیا طبقاتی نظام نہیں ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma