۸۹۔ کیا انسان کی سعادت اور شقاوت ذاتی ہے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۹۰۔ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟ ۸۸۔ خلقت انسان کا مقصد کیا ہے؟

قرآن مجید کے سورہ ہود میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے:
<یَوْمَ یَات لَاتُکَلَّمُ نَفْسٌ إِلاّٰبِإذْنِہِ فَمِنْھُمْ شَقِیٌّ وَ سَعِیْدٌ(1)
”اس کے بعد جب وہ دن آجا ئے گا توکو ئی شخص بھی اذن خدا کے بغیر کسی سے بات بھی نہ کر سکے گا اس دن کچھ بد بخت ہو ں گے اور کچھ نیک بخت “
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ آیت انسانی سعادت اور شقاوت کے ذاتی ہونے پر دلیل نہیں ہے؟
یہاں پر چند نکات پر توجہ کرنا چاہئے:
۱۔ بعض افراد نے مذ کورہ آیت سے انسان کی سعادت و شقاوت کے ذاتی ہونے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ مذکورہ آیت نہ صرف اس امر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ سعادت و شقاوت اکتسابی ہیں کیونکہ فرمایاگیا :”فا ما الذین شقوا“یعنی وہ شقی ہوئے اسی طرح فرمایا گیا ہے :”اٴمَّا الذِّیْنَ سَعَدُوا“ یعنی وہ لو گ جو سعادت مند ہوئے،اگر شقا وت و سعا د ت ذاتی ہو تیں تو کہنا چا ہئے تھا ”اماالا شقیا ء واما السعد اء“، یا ایسی ہی کوئی اور عبارت ہو تی ۔
اس سے واضح ہو جا تاہے کہ فخر الدین رازی کی یہ بات بالکل بے بنیاد ہے جو اس نے ان الفاظ میں بیان کی ہے:ان آیات میں خدا ابھی سے یہ حکم لگا رہا ہے کہ قیا مت میں ایک گروہ سعادت مند ہو گا اورایک شقاوت مند ہو گا اور جنہیں خدا ایسے حکم سے محکو م کرتا ہے اور جانتا ہے کہ آخر کار قیا مت میں سعید یا شقی ہوں گے، محال ہے کہ وہ تبدیل ہو جا ئیں ورنہ خدا کا جھو ٹی خبر دینا لازم آئے گااور اس کا علم، جہالت میں تبدیل ہو جائے گاجبکہ یہ محال ہے۔
یہ مسئلہ جبر و اختیار میں”علم خدا“کے حوالے سے مشہور اعتراض ہے کہ جس کا جواب ہمیشہ دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر ہم اپنے خود ساختہ افکار کو آیات پر حمل نہ کریں تو ان کے مفا ہیم روشن اور وا ضح ہیں ،یہ آیات کہتی ہیں کہ اس دن ایک گروہ اپنے کردار کے باعث شقی ہوگا اور خدا جانتا ہے کہ کون سے افراد اپنے کردار، خواہش اور اختیار سے سعادت کی راہ اپنائیں گے اور کونسے اپنے ارادہ سے راہ شقاوت پر گامزن ہوں گے، اس بنا پر اگر اس کے کہنے کے برخلاف لوگ یہ راہ منتخب کرنے پر مجبور ہوں تو علم خدا جہل ہوجائے گا کیونکہ سب کے سب اپنے ارادہ و اختیار سے اپنی راہ انتخاب کریں گے۔
ہماری گفتگو کی دلیل یہ ہے کہ مذکورہ آیات گزشتہ قوموں کے واقعات کے بعدنازل ہوئی ہیں، ان واقعات کے مطابق ان لوگو ں کی بڑی تعداد اپنے ظلم و ستم کی وجہ سے، حق و عدالت کے راستہ سے منحرف ہو نے کے باعث، شدید اخلاقی مفاسد کے سبب اور خدائی رہبروں کے خلاف جنگ کی وجہ سے اس جہان میںدرد ناک عذابوں میں مبتلاہوئی، یہ واقعات قرآن نے ہماری تربیت و رہنمائی کے لئے، راہ حق کو باطل سے جدا کرکے نمایاں کرنے کے لئے اور راہ سعادت کو راہ شقاوت سے جدا کرکے دکھانے کے لئے بیان کئے ہیں۔
اصولی طور پر جیسا کہ فخر رازی اور اس کے ہم فکر افراد خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم پر ذاتی سعادت و شقاوت کا حکم نافذ ہو اور ہم بغیر ارادہ و اختیار کے برائیوں اور نیکیوں کی طرف کھینچے جائیں تو تعلیم و تربیت لغو اور بے فائدہ ہو گی،انبیا ء کی بعثت ،کتب آسمانی کا نزول، پند و نصیحت، تشویق و توبیخ، سرزنش و ملامت مواخذہ و سوال غرض یہ سزا و جزا سب کچھ بے فائدہ یا ظالمانہ امور شمارہوں گے۔
انسان کو نیک و بد کی انجام دہی میں مجبور سمجھنے والے ،چاہے اس جبر کو جبر خدائی سمجھیں یا جبر طبیعی، چاہے جبر اقتصادی سمجھیں، یا جبر ماحول، صرف گفتگو اور کتابی دنیا تک اس مسلک کی طرفداری کرتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ خود بھی ہرگز یہ عقیدہ نہیں رکھتے، یہی وجہ ہے کہ اگر ان کے حقوق پر تجاوز ہو تو وہ زیادتی کرنے والے کو سرزنش، ملامت اور سزا کا مستحق سمجھتے ہیں اور اس بات کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوتے کہ اسے مجبور قرار دے کر اس سے صرف نظر کرلیں، یا اس کی سزا کو ظالمانہ خیال کریں یا کہیں کہ وہ یہ کام کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا چونکہ خدا نے ایسا ہی چاہا تھا یا ماحول اور طبیعت کا جبر تھا، چنانچہ یہ خود اصل اختیار کے فطری ہونے پر ایک دوسری دلیل ہے ۔
بہر حال ہمیں کوئی جبری مسلک والا ایسا نہیں ملتا جو اپنے روز مرہ کے کاموں میں اس عقیدہ کا پابند ہو بلکہ وہ تمام افراد سے ان کے آزاد، مسئول، جواب دہ اور مختار ہونے کے لحاظ سے ملتا اور پیش آتا ہے، دنیا کی تمام اقوام نے عدالتیں قائم کر رکھی ہیں، قوانین بنائے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں، عملی طور پریہ سب چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ ارادہ کی آزادی اور انسان کے مختار ہونے کو قبول کیا گیا ہے، دنیا کے تمام تربیتی ادارے ضمنی طور پر اس بنیادی نظریہ کو قبول کرتے ہیں کہ انسان اپنے میل و رغبت اور ارادہ و اختیار سے کام کرتا ہے، اور تعلیم و تربیت کے ذریعہ صرف اس کی رہنمائی کی جاسکتی ہے، اور اسے خطاؤں، غلطیوں اور کج فکریوں سے روکا جاسکتا ہے۔
۲۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ آیات میں ”شقوا“ فعل معروف اور ”سعدوا“فعل مجہول کی صورت میں آیا ہے، ہوسکتا ہے کہ تعبیر کا یہ اختلاف شاید اس لطیف نکتہ کی طرف اشارہ ہو کہ انسان راہ شقاوت کو اپنے قدموں سے طے کرتا ہے لیکن راہ سعادت پر چلنے کے لئے جب تک خدائی امداد اور تعاون نہ ہو اور اس راہ میں وہ اس کی نصرت نہ کرے اس وقت تک انسان کامیاب نہیں ہوتا، اس میں شک نہیں ہے کہ یہ امداد اور تعاون صرف ان لوگوں کے شامل حال ہوتا ہے جنھوں نے ابتدائی قدم اپنے ارادہ و اختیار سے اٹھائے ہوں اور اس طرح ایسی امداد کی اہلیت اور صلاحیت پیدا کرلی ہو۔ (غور کیجئے )(2)


(1) سورہٴ ہود ، آیت ۱۰۵
(2) تفسیر نمونہ ، جلد ۹، صفحہ ۲۳۶
۹۰۔ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟ ۸۸۔ خلقت انسان کا مقصد کیا ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma