۹۱۔ جن ّ اور فرشتہ کی حقیقت کیا ہے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۹۲۔ رجعت کیا ہے اور کیا اس کا امکان پایا جاتا ہے؟ ۹۰۔ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟

”جنّ“کی حقیقت (جیسا کہ جن کے لغوی معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ) ایک ایسی دکھائی نہ دینے والی مخلوق ہے جس کے لئے قرآن مجید میں بہت سے صفات بیان ہوئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
۱۔ ایک ایسی مخلوق ہے جو آگ کے شعلوں سے پیدا کی گئی ہے، انسان کی خلقت کے برخلاف جو مٹی سے خلق ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے: <وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ(1) ”اور جنات کو آگ کے شعلوں سے پیدا کیا ہے“
۲۔ یہ مخلوق علم و ادراک، حق و باطل میں تمیز کرنے اور منطق واستدلال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے(سورہ جن کی مختلف آیات میں اس مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے)
۳۔ جنوں پر تکالیف اور ذمہ داریاں ہیں، (سورہ جن اور رحمن کی آیات کا مطالعہ کریں)
۴۔ ان میں سے بعض گروہ مومن اور صالح ہیں اور بعض گروہ کافر ہیں: <وَاٴَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِکَ(2) ”اور ہم میں سے بعض نیک کردار ہیں اور بعض اس کے علاوہ ہیں“۔
۵۔ ان کا بھی قیامت میں حشر و نشر اور حساب و کتاب ہوگا: <وَاٴَمَّا الْقَاسِطُونَ فَکَانُوا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا (3) ”اور نافرمان تو جہنم کے کندے ہوگئے ہیں “۔
۶۔ جن آسمانوں میں نفوذ کی قدرت رکھتے ہیں اور دوسروں کی باتوں کو سن لیا کرتے تھے، لیکن بعد میں ان کی یہ قدرت سلب کر لی گئی، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: < وَاٴَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ یَسْتَمِعْ الْآنَ یَجِدْ لَہُ شِہَابًا رَصَدًا(4) ”اور ہم پہلے بعض مقامات پر بیٹھ کر باتیں سن لیا کرتے تھے لیکن اب کوئی سننا چاہے گا تو اپنے لئے شعلوں کو تیار پائے گا“۔
۷۔جن ؛بعض انسانوں سے رابطہ برقرار کرلیتے ہیں اور بعض محدود اسرار سے مطلع ہونے کے بعد انسانوں کو اغوا کرلیتے ہیں: <وَاٴَنَّہُ کَانَ رِجَالٌ مِنْ الْإِنسِ یَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنْ الْجِنِّ فَزَادُوہُمْ رَہَقًا(5) اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات کے بعض لوگوں کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے تو انھوں نے گرفتاری میں اور اضافہ کر دیا“۔
۸۔ جنوں کے درمیان بہت سے بہت زیادہ طاقتور ہوتے ہیں، جیسا کہ بعض طاقتور لوگ انسانوں کے درمیان بھی ہوتے ہیں: <قَالَ عِفْریتٌ مِنْ الْجِنِّ اٴَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ اٴَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِکَ(6) ”جنات میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھیں گے “۔
۹۔ جن؛ انسانوں کے بعض ضروری کاموں کو انجام دینے کی طاقت رکھتے ہیں: <وَمِنْ الْجِنِّ مَنْ یَعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِإِذْنِ رَبِّہِ یَعْمَلُونَ لَہُ مَا یَشَاءُ مِنْ مَحَارِیبَ وَتَمَاثِیلَ وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ(7) ” اور جنات میں ایسے افراد بنا دئے جو خدا کی اجازت سے ان کے سامنے کام کرتے تھے یہ جنات سلیمان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا دیتے تھے جیسے محرابیں، تصویریں اور حوضوں کے برابر پیالے اور بڑی بڑی زمین میں گڑی ہوئی دیگیں“۔
۱۰۔ زمین پر ان کی خلقت انسانوں کی خلقت سے پہلے ہوچکی تھی: <وَالْجَانَّ خَلَقْنَاہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ(8) ”اور جنات کو اس سے پہلے زہیریلی آگ سے پیدا کیا“۔
(قارئین کرام!) ان کے علاوہ بھی جنوں کی دوسری خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔
جبکہ عوام الناس میں یہ بات مشہور ہے کہ جنات انسانوں سے بہترہیں، لیکن قرآنی آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان ، جنوں سے بہتر ہیں کیونکہ خداوندعالم نے جتنے بھی انبیاء اور مرسلین ہدایت کے لئے بھیجے ہیں وہ سب انسانوں میں سے تھے، اور انھیں میں سے پیغمبر اکرم (ص) بھی ہیں، ان پر جنوں کا ایمان تھا اور آپ کی اتباع و پیروی کی ، اسی طرح شیطان کا جناب آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنا جس کی وضاحت قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے، یہ جنوں کے سرداروں میں سے تھا، (سورہ کہف ، آیت نمبر ۵۰) یہ خود انسان کی فضیلت کی دلیل ہے۔
یہاں تک ان چیزوں کے بارے میں بیان ہوا ہے جو قرآن مجید میں اس دکھائی نہ دینے والی مخلوق کے بارے میں بیان ہوا ہے اور جو ہر طرح کے خرافاتی اور غیر علمی مسائل سے خالی ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ جاہل عوام الناس نے جنوں کے سلسلہ میں بہت سے خرافات گڑھ لئے ہیں جو عقل و منطق سے دور ہیں، اور اسی وجہ سے اس موجود کا ایک خرافاتی اور غیر منطقی چہرہ پیش کیا گیا کہ جس وقت لفظ ”جن“ زبان پر جاری کیا جاتا ہے تو اس کے سلسلہ میں چند خرافاتی چیزیں بھی ذہن میں آتی ہیں، منجملہ:عجیب و غریب اور وحشتناک شکل و صورت، دُمدار اور سُم دار موجود! آزار و اذیت پہچانے والے، حسد و کینہ رکھنے والے اور برا سلوک کرنے والے وغیرہ وغیرہ۔
حالانکہ اگر جنوں کو ان تمام خرافات اور بے بنیاد چیزوںسے الگ رکھا جائے تو اصل مطلب قابل قبول ہے ، کیونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ موجودات صرف وہی ہیں جس کو ہم دیکھ سکتے ہوں،اس سلسلہ میں علمااور دانشوروں کا کہنا ہے کہ جن موجودات کو ہم اپنے حواس کے ذریعہ درک کرسکتے ہیں وہ ان موجودات کے مقابلہ میں بہت کم ہیں جن کو ہم درک نہیں کرسکتے۔
ادھر چند سال پہلے تک کہ جب ذرہ بینی موجودات کشف نہیں ہوئی تھی، کسی کو یہ یقین نہیں ہوتا تھا کہ ایک قطرہ پانی یا ایک قطرہ خون میں ہزاروں زندہ موجودات پائے جاتے ہیں، جن کو انسان دیکھنے سے قاصر ہے۔اور اسی طرح دانشوروں کا کہنا ہے کہ ہماری آنکھیں محدود رنگوں کو دیکھ سکتی ہیں اور ہمارے کان صرف محدود آواز کو سن سکتے ہیں، جبکہ ہم جن رنگ اور آواز کو دیکھتے یا سنتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں، اور ہمارے دائرہٴ ادراک سے باہر ہیں۔
لہٰذا جب اس دنیا کی یہ حالت ہے تو کونسے تعجب کی بات ہے کہ اس جہان میں دوسری زندہ موجوات بھی ہوں جن کو ہم نہیں دیکھ سکتے، اور اپنے حواس کے ذریعہ درک نہیں کرسکتے، اور جب ایک سچی خبر دینے والے صادق پیغمبر اسلام (ص) نے خبر دی ہے تو پھر ہم اس کو کیوں نہ قبول کریں ؟
بہر حال ایک طرف قرآن کریم جنّات کے بارے میں مذکورہ خصوصیات کے ساتھ خبر دے رہا ہے اور دوسری طرف ان کے نہ ہونے پر کوئی عقلی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے، تو ہمیں قبول کرلینا چاہئے ، اور غلط تاویلات سے پرہیز کرنا چاہئے ، اسی طرح اس سلسلہ میں عوامی خرافات سے بھی اجتناب کرنا چاہئے۔
اس نکتہ پر توجہ کرنا چاہئے کہ کبھی کبھی جنّات کا اطلاق ایک وسیع مفہوم پر ہوتا ہے جن میں نظر نہ آنے والی کئی موجودات شامل ہیں، چاہے ہماری عقل ان کو درک کرے یا نہ کرے، یہاں تک کہ بعض وہ حیوانات جو آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں جو عام طور پر آشیانوں میں چھپے رہتے ہیں، اس وسیع معنی میں داخل ہیں۔اس بات پر پیغمبر اکرم (ص)سے منقول ایک حدیث شاہد ہے جس میں آنحضرت (ص) نے فرمایا: ”خداوندعالم نے جنوں کی پانچ قسم پیدا کی ہیں، ایک قسم وہ جو ہوا کی طرح دکھائی نہیں دیتے، دوسری قسم سانپ کی طرح، ایک قسم بچھووٴں کی طرح، ایک قسم زمین کے حشرات اور ایک قسم انسان کی طرح ہے جن کے لئے حساب و کتاب رکھا گیا ہے“۔(9)
اس روایت اور اس کے وسیع مفہوم کے پیش نظر جنوں کے حوالہ سے بعض روایات اور واقعات میں بیان ہونے والی مشکلات حل ہوجاتی ہیں۔
مثال کے طور پر ہم حضرت علی علیہ السلام سے منقول روایات میں پڑھتے ہیں: ”لاتَشْرِبِ المَاءَ مِن ثلمةِ الإنَاءِ وَلا مِنْ عروَتِہِ فَإنَّ الشَّیْطَانَ یَقعَدُ عَلٰی العُروةِ وَالثلْمَةِ“10) ”ٹوٹے ہوئے ظرف یا دستہ کی طرف سے پانی نہ پیو کیونکہ شیطان ٹوٹے ہوئے کنارے اور دستہ کی طرف بیٹھتا ہے۔
چونکہ ”شیطان“ بھی جنّاتمیں سے ہے، اور چونکہ ظرف کا ٹوٹا ہوا حصہ اور دستے کی طرف جراثیم ہوتے ہیں، لیکن بعید از نظر دکھائی دیتا ہے کہ ”جنّات اور شیطان“ ، ”عام معنی“ کے لحاظ اس طرح کی موجودات کو بھی شامل ہوجائے، اگرچہ خاص معنی رکھتے ہیں یعنی (جنّات) ایسی موجود کو کہا جاتا ہے جن کے یہاں فہم و شعور اور ذمہ داری و فرائض ہوتے ہیں۔
اس سلسلہ میں اور بہت سی روایات موجود ہیں۔(11)(12)
فرشتہ کی حقیقت :
جیسا کہ ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ بہت سے مقامات پر ملائکہ اور فرشتوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔
قرآن کریم کی بہت سی آیات میں ملائکہ کی صفات، خصوصیات ،ان کے کام اور ذمہ داریاں بیان ہوئی ہیں یہاں تک کہ ملائکہ پر ایمان رکھنے کو؛ خدا، انبیاء اور آسمانی کتابوں کی صف میں قرار دیا گیا ہے، جو اس مسئلہ کی اہمیت کی دلیل ہے: < آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ(13)
”رسول ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو اس پر نازل کی گئی ہیں اور سب مومنین بھی اللہ اور ملائکہ اور مرسلین پر ایمان رکھتے ہیں“۔
بے شک فرشتوں کا وجود ”غیبی“ چیزوں میں سے ہے جن کو ان صفات اور خصوصیات کے ساتھ پہچاننے کے لئے صرف قرآن و روایات ہی کو دلیل بنایا جاسکتا ہے، اور غیب پر ایمان لانے کے حکم کی وجہ سے ان کو قبول کیا جانا چاہئے۔
۱۔ فرشتے ؛ صاحب عقل و شعور اور خدا کے محترم بندے ہیں، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: <بَلْ عِبَادٌ مُکْرَمُوْنَ(14) ” بلکہ وہ سب اس کے محترم بندے ہیں“۔
ملائکہ؛ خداوندعالم کے حکم کی فوراً اطاعت کرتے ہیں اور کبھی بھی اس کی معصیت نہیں کرتے: <لاٰ یَسْبَقُوْنَہُ بِالْقُوْلِ وَھُمْ بِاٴَمْرِہِ یَعْمَلُوْنَ(15) ”جو کسی بات پر اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور اس کے احکام پر برابر عمل کرتے ہیں“۔
۳۔ ملائکہ؛ خداوندعالم کی طرف سے مختلف قسم کی بہت سی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں:
ایک گروہ ؛ عرش کو اٹھائے ہوئے ہے۔ (سورہ حاقہ ، آیت ۱۷)
ایک گروہ ؛ مدبرات امر ہے۔ (سورہ نازعات ، آیت ۵)
ایک گروہ ؛ قبض روح کرتا ہے۔ (سورہ اعراف ، آیت ۳۷)
ایک گروہ ؛ انسان کے اعمال کا نگراں ہے۔ (سورہ انفطار ، آیت ۱۰ تا ۱۳)
ایک گروہ ؛ انسان کو خطرات اور حوادث سے محفوظ رکھتا ہے۔ (سورہ انعام ، آیت ۶۱)ایک گروہ؛ سرکش اقوام پر عذاب نازل کرتا ہے۔ (سورہ ہود ، آیت ۷۷)اور ایک گروہ ؛ جنگوں میں مو منین کی امداد کرتا ہے ۔(سورہ احزاب ، آیت ۹) اور بعض گروہ انبیاء علیہم السلام پر وحی اور آسمانی کتابیں نازل کرنے والے ہیں۔ (سورہ نحل، آیت ۲)
کہ اگر ہم ان کے ایک ایک کام اور ذمہ داری کو شمار کرنا چاہیں تو بحث طولانی ہوجائے گی۔
۴۔ ملائکہ؛ ہمیشہ خداوندعالم کی تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
<وَالْمَلاَئِکَةُ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِی الْاٴَرْض(16)
”اور ملائکہ بھی اپنے پروردگار کی حمد کی تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں استغفار کر رہے ہیں“۔
۵۔ان تمام چیزوں کے باوجود انسان استعداد اور تکامل و ترقی کے لحاظ سے ان سے بلند و برتر ہے یہاں تک کہ سب فرشتوں نے جناب آدم کو سجدہ کیا اور جناب آدم علیہ السلام ان کے معلم قرار پائے۔ (سورہ بقرہ ، آیت ۳۰ تا ۳۴)
۶۔ ملائکہ؛ کبھی کبھی انسان کی صورت میں آجاتے ہیں اور انبیاء بلکہ غیر انبیاء کے سامنے ظاہر ہوجاتے ہیں، جیسا کہ سورہ مریم میں پڑھتے ہیں: <فَاٴَرْسَلْنَا إِلَیْہَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا(17) ”تو ہم نے اپنی روح(جبرا ئیل) کو بھیجا جو ان کے سامنے ایک اچھا خاصا آدمی بن کر پیش ہوا“۔
ایک دو سرے مقام پر جنا ب ابراہیم اور جناب لوط کے سامنے انسانی صورت میں آئے۔ (سورہ ہود ، آیت ۶۹و۷۷)
یہاں تک کہ درج ذیل آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قوم لوط نے ان کو انسانی شکل و صورت میں دیکھا تھا۔ (سورہ ہود ، آیت ۷۸)
کیا انسانی شکل و صورت میں ظاہر ہونا ایک حقیقت ہے؟ یا صرف خیالی اور سمجھنے کی حد تک؟ قرآن مجید کی آیات سے پہلے معنی ظاہر ہوتے ہیں، اگرچہ بعض مفسرین نے دوسرے معنی مراد لیتے ہیں۔
۷۔ اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ کسی بھی انسان سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں پڑھتے ہیں: جس وقت امام علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ فرشتوں کی تعداد زیادہ ہے یا انسانوں کی؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”قسم اس خدا کی جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے، زمین میں مٹی کے ذرات سے کہیں زیادہ آسمان میں فرشتوں کی تعداد ہے، آسمان میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں پر کسی فرشتہ نے خداوندعالم کی تسبیح و تقدیس نہ کی ہو“۔ (18)
۸۔ وہ نہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ پانی پیتے ہیں، اور نہ ہی شادی کرتے ہیں، جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بیان ہو اہے: ”فرشتے نہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ پانی پیتے ہیں اور نہ ہی شادی کرتے ہیں بلکہ نسیم عرش الٰہی کی وجہ سے زندہ ہیں“۔(19)
۹۔ وہ نہ سوتے ہیں ،نہ سستی اور غفلت کا شکار ہوتے ہیں، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ہو اہے ”ان میں سستی ہے اور نہ غفلت، اور وہ خدا کی نافرمانی نہیں کرتے ان کو نیند بھی نہیں آتی ان کی عقل کبھی سہو و نسیان کا شکار نہیں ہوتی، ان کا بدن سست نہیں ہوتا، اور وہ صلب پدر اور رحم مادر میں قرار نہیں پاتے۔(20)
۱۰۔ ان کے مختلف مقامات اور مختلف درجات ہوتے ہیں، ان میں بعض ہمیشہ رکوع میں رہتے ہیں اور بعض ہمیشہ سجدہ کی حالت میں:
<وَمَا مِنَّا إِلاَّ لَہُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ# وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّون# وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ (21)
”اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقام معین ہے اور ہم اس کی بارگاہ میں صف بستہ کھڑے ہونے والے ہیں اور ہم اس کی تسبیح کرنے والے ہیں“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: خداوندعالم نے کچھ فرشتوں کو ایسا خلق کیا ہے جو روز قیامت تک رکوع میں رہیں گے اور بعض فرشتے ایسے ہیں جوقیامت تک سجدہ کی حالت
میں رہیں گے۔22)(23)
اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ تمام فرشتے ان تمام اوصاف کے ساتھ مجرد موجود ہیںیا مادی؟! اس میں شک نہیں ہے کہ یہ تمام صفات کسی مادی عنصر کے نہیں ہوسکتے، لیکن ان کے ”لطیف اجسام “سے پیدا ہونے میں کوئی مانع بھی نہیں ہے، جو اس معمولی مادہ سے مافوق ہو۔
فرشتوں کے لئے ”مطلق طور پر مجرد“ یہاں تک کہ زمان ومکان اور اجزا سے بھی مجرد ہونے کا اثبات کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس سلسلہ میں تحقیق کرنے کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ ہم فرشتوں کو قرآن میں بیان ہوئے اوصاف کے ذریعہ پہچانیں، اور ان کو خداوندعالم کی بلند و بالا مخلوق مانیں، اور ان کے لئے صرف مقام بندگی و عبادت کے قائل ہوں،اور ان کو خداوندعالم کے ساتھ خلقت یا عبادت میں شریک نہ مانیں، اور اگر کوئی ان کو شریک مانے گا تو یہ شرک اور کفر ہوگا۔
فرشتوں کے سلسلہ میں ہم اتنی بحث و گفتگو کو کافی سمجھتے ہیں اور تفصیلی بحث کے لئے اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں کامطالعہ فرمائیں۔ توریت میں بہت سے مقامات پر فرشتوں کو ”خدا“ کہا گیا ہے جو نہ صر ف یہ کہ شرک ہے بلکہ اس وقت کی توریت میں تحریف کی دلیل ہے، لیکن قرآن مجید اس طرح کے الفاظ سے پاک و منزہ ہے، کیونکہ قرآن میں صرف ان کے لئے مقام بندگی، عبادت اور حکم خدا کی تعمیل کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانِ کامل کا درجہ فرشتوں سے بلند و بالا ہے۔(24)


(1) سورہٴ رحمن ، آیت ۱۵
(2) سورہٴ جن ، آیت ۱۱
(3) سورہٴ جن ، آیت ۱۵
(4)سورہٴ جن ، آیت ۹
(5)سورہٴ جن ، آیت ۶
(6) سورہٴ نمل ، آیت ۳۹
(7) سورہٴ سبا، آیت ۱۲۔۱۳
(8) سورہٴ حجر ، آیت ۲۷
(9) سفینة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۱۸۶(مادہ جن)
(10) کتاب ”کافی“، جلد ۶، صفحہ ۳۸۵ .کتاب الاطعمة والاشربة،باب الاوانی،حدیث۵
(11) اولین درسگاہ آخرین پیامیر ، جلد اول میں تقریبا ً۲۳ روایتیں اس سلسلہ میں بیان ہوئی ہیں
(12) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۵، صفحہ ۱۵۴
(13) سورہٴ بقرہ ، آیت ۲۸۵
(14) سورہٴ انبیاء ، آیت ۲۶
(15) سورہٴ انبیاء ، آیت ۲۷
(16) سورہٴ شوریٰ ، آیت ۵
(17) سورہٴ مریم ، آیت ۱۷
(18) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۱۷۶ (حدیث ۷) ، اس کے علاوہ اور بہت سی دوسری روایتیں اس بارے میں نقل ہوئی ہیں (19) بحار الانوار، جلد ۵۹، صفحہ ۱۷۴ (حدیث ۴)
20) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۱۷۵
21) سورہٴ صافات ، آیت ۱۶۴۔ ۱۶۶
(22) بحار الانوار ، جلد۵۹، صفحہ ۱۷۴
(23)ملائکہ کے اوصاف اور ان کی اقسام کے سلسلہ میں کتاب ”السماء و العالم“، بحار الانوار ”ابواب الملائکہ“ (جلد ۵۹ صفحہ ۱۴۴ تا ۳۲۶ پر رجوع فرمائیں، اسی طرح نہج البلاغہ خطبہ نمبر ا، ۹۱، ۱۰۹، ۱۷۱ /پر رجوع فرمائیں
(24) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۸، صفحہ ۱۷۳
۹۲۔ رجعت کیا ہے اور کیا اس کا امکان پایا جاتا ہے؟ ۹۰۔ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma