۹۸۔ کیا فال نیک اور بد شگونی حقیقت رکھتے ہیں ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۹۹۔ کیا تمام اصحاب پیغمبر (ص)نیک افرادتھے؟ 97۔ کیا نظر ِبد کی کوئی حقیقت ہے؟

شاید ہمیشہ سے مختلف قوم و ملت کے درمیان فال نیک اور بد شگونی کا رواج پایا جاتا ہے بعض چیزوں کو ”فال نیک“قرار دیتے ہیں جس کو کامیابی کی نشانی اور بعض چیزوں کو ”بد شگونی“ ناکامی اور شکست کی نشانی سمجھتے تھے، جبکہ ان چیزوں کا کامیابی اور شکست سے کوئی منطقی تعلق نہیں پایا جاتا،خصوصاً بد شگونی کے سلسلہ میں بہت سی نامعقول اور خرافات قسم کی چیزیں رائج ہیں۔
اگرچہ ان دونوں کا طبیعی اثر نہیں ہے لیکن نفسیاتی اثر ہوسکتا ہے، فالِ نیک انسان کے لئے امید اور تحریک کا باعث ہے اور بدشگونی ناامید اور سستی کا سبب بن سکتی ہے۔
شاید اسی وجہ سے اسلامی روایات میں فالِ نیک سے ممانعت نہیں کی گئی ہے لیکن فالِ بد اور بد شگونی کے لئے شدت سے ممانعت کی گئی ہے، چنانچہ ایک مشہور و معروف حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے: ”تَفَاٴلُوا بِالخَیْرِ تَجِدُوْہُ“ (اپنے کاموں میں فال نیک کرو (اور امیدوارر ہو) تاکہ اس کے انجام تک پہنچ جاؤ) اس حد یث میں اس موضوع کا اثباتی پہلو منعکس ہے، اور خود آنحضرت (ص) ،ائمہ دین علیہم السلام کے حالات میں بھی یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ یہ حضرات بعض مسائل کو فال نیک سمجھے تھے ،مثال کے طور پر جب سر زمین ”حدیبیہ“ میں مسلمان کفار کے مقابل قرارپائے اور ”سہیل بن عمرو“ کفارِ مکہ کا نمائندہ بن کر پیغمبر اکرم (ص) کے پاس آیا،جب آنحضرت (ص) اس کے نام سے با خبر ہوئے تو فرمایا: ”قدْ سہلَ علیکم اٴمرَکمْ“ (یعنی میں ”سہیل“ کے نام سے تفاٴل کرتا ہوں کہ تمہارا کام سہل اور آسان ہوگا“۔(1)
چھٹی صدی ہجری کے ”دمیری“ نامی مشہور و معروف دانشور موٴلف نے اپنی ایک تحریر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اس وجہ سے فالِ نیک کیا کرتے تھے کیونکہ جب انسان فضل پروردگار کا امیدوار ہوتا ہے تو راہ خیر میں قدم بڑھاتا ہے لیکن جب رحمت پروردگار کی امید ٹوٹ جاتی ہے تو پھر برے راستہ پر لگ جاتاہے، اور فال بد یا بد شگونی کرنے سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے اور انسان بلا اور بدبختی سے خوف زدہ رہتا ہے۔(2)فال بد یا بد شگونی کے بارے میں اسلامی روایات نے بہت شدت کے ساتھ مذمت کی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے(3) ، نیز پیغمبر اکرم (ص) کی ایک حدیث میں بیان ہوا ہے: ”الطَّیْرةُ شِرْکٌ“(4) (بد شگونی کرنا (اور انسان کی زندگی میں اس کو موثر ماننا) ایک طرح سے خدا کے ساتھ شرک ہے)
اسی طرح ایک دوسری جگہ بیان ہوا ہے کہ اگر بد شگونی کا کوئی اثر ہے تو وہی نفسیاتی اثر ہے، حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”بد شگونی کا اثر اسی مقدار میں ہے جتنا تم اس کو قبول کرتے ہو، اگر اس کو کم اہمیت مانو گے تو اس کا اثر کم ہوگا اور اگر اس سلسلہ میں تم بہت معتقد ہوگئے تو اس کا اثر بھی اتنا ہی ہوگا، اور اگر اس کی بالکل پروا نہ کرو تو اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوگا“۔(5)
اسلامی روایات میں پیغمبر اکرم (ص) سے نقل ہوا ہے کہ بد شگونی سے مقابلہ کرنے کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ اس پر توجہ نہ کی جائے، چنانچہ پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے: ”تین
چیزوں سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا، (جنّات کا وسوسہ اکثر لوگوں کے دلوں پر اثر کر جاتا ہے) فال بد یا بد شگونی، حسد اور سوء ظن، اصحاب نے سوال کیا کہ ان سے بچنے کے لئے ہم کیا کریں؟ تو آنحضرت نے فرمایا: جب کوئی تمہارے لئے بد شگونی کرے تو اس پر توجہ نہ کرو، جس وقت تمہارے دل میں حسد پیدا ہو تو اس کے مطابق عمل نہ کرو اور جب تمہارے دل میں کسی کی طرف سے سوء ظن (اوربد گمانی) پیدا ہو تو اس کو نظر انداز کردو“۔
عجیب بات تو یہ ہے کہ یہ فال نیک اور بد شگونی کا موضوع ترقی یافتہ ممالک اور روشن فکر یہاں تک کہ مشہور و معروف نابغہ افراد کے یہاں بھی پایا جاتا ہے، مثال کے طور پر مغربی ممالک میںزینہ کے نیچے سے گزرنا، یا نمکدانی کا گرنا یا تحفہ میں چاقو دینا وغیرہ کو بد شگونی کی علامت سمجھا جاتا ہے!
البتہ فالِ نیک کا مسئلہ کوئی اہم نہیں بلکہ اکثر اوقات اس کا اثر مثبت ہوتا ہے، لیکن بد شگونی سے مقابلہ کرنا چاہئے اور اپنے ذہن سے دور کرنا چاہئے، جس کا بہترین راستہ یہ ہے کہ انسان خداوندعالم پر توکل اور بھر پور بھروسہ رکھے، جیساکہ اسلامی روایات میں اس چیز کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے۔


(1) المیزان ، جلد ۱۹، صفحہ ۸۶
(2)سفینة البحار ، جلد دوم، صفحہ ۱۰۲
(3) مثلاً: سورہٴ یس ، آیت ۱۹، سورہٴ نمل ، آیت ۴۷، سورہٴ اعراف آیت۱۳۱
(5،4)المیزان ، محل بحث آیت کے ذیل میں
 
۹۹۔ کیا تمام اصحاب پیغمبر (ص)نیک افرادتھے؟ 97۔ کیا نظر ِبد کی کوئی حقیقت ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma