۱۱۰۔ افسانہ آیات شیطانی یا افسانہ ”غرانیق“ کیا ہے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
110 سوال اور جواب
۱۰۹۔ تقیہ کا مقصد کیا ہے؟

اس سلسلہ میں ایک واقعہ نقل ہوا ہے جو افسانہ ”غرانیق“ کے نام سے مشہور ہے، افسانہ یہ (گڑھاگیا) ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) مشرکین کے سامنے سورہ ”نجم “کی تلاوت فرمارہے تھے،اور جس وقت اس آیت پر پہنچے: < اٴَفَرَاٴَیْتُمْ اللاَّتَ وَالْعُزَّی وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْاٴُخْرَی(1) اس موقع پر شیطان نے آنحضرت (ص) کی زبان پر یہ دو جملہ جاری کردئے: ”تِلکَ الغَرَانیقُ العُلیٰ وَاٴنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرتَجیٰ“ ”وہ بلند مقام پرندے ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے“۔(2) جیسے ہی مشرکین نے یہ دو جملے سنے تو خوشی میں پھولے نہ سمائے، اور ان لوگوں نے کہا: ”محمد“ نے اب تک ہمارے خداؤں کا نام خیر ونیکی سے نہیں لیا، اسی موقع پر رسول خدا (ص) نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، سب مشرکین قریش بہت خوش ہوگئے، اور وہاں سے متفرق ہوگئے، لیکن کچھ دیر نہ گزری تھی کہ جناب جبرئیل امین نازل ہوئے اور پیغمبر اکرم (ص) کو خبر دی کہ یہ دو جملہ میں آپ کے لئے لے کر نازل نہیں ہواتھا! بلکہ یہ شیطان کی طرف سے القا کئے گئے تھے! اور اس
وقت یہ آیت نازل ہوئی: <وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ وَلاَنَبِیٍّ إِلاَّ إِذَا تَمَنَّی اٴَلْقَی الشَّیْطَانُ فِی اٴُمْنِیَّتِہِ فَیَنْسَخُ اللهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطَانُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللهُ آیَاتِہِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ(3)” اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا رسول یا نبی نہیں بھیجا ہے کہ جب بھی اس نے کوئی نیک آرزو کی تو شیطان نے اس کی آرزو کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی تو پھر خدا نے شیطان کی ڈالی ہوئی رکاوٹ کو مٹا دیا اور پھر اپنی آیات کو مستحکم بنا دیا کہ وہ بہت زیادہ جاننے والا اور صاحب حکمت ہے“، اور پیغمبر اور دوسرے مومنین کو تاکید کی گئی ہے۔(4)
اگر اس حدیث کو قبول کرلیا جائے تو انبیاء علیہم السلام کی عصمت یہاں تک کہ وحی دریافت کرنے کے سلسلہ میں بھی مخدوش ہوجاتی ہے، اور انبیاء علیہم السلام کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔
ہم یہاں پر پہلے سورہ حج کی آیت نمبر ۵۲ کو ان جعلی روایات سے جدا کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ آیت کیا کہتی ہے، اور پھر اس طرح کی روایات کی تنقید اور تردید کریں گے: روایت کے جعلی اور جھوٹی ہونے سے قطع نظر اس آیت کے الفاظ اور مفہوم انبیاء علیہم السلام کی عصمت پر کوئی خدشہ وارد نہیں کرتے، بلکہ انبیاء علیہم السلام کی عصمت کی دلیل ہیں، کیونکہ آیت کہتی ہے کہ جس وقت انبیاء کوئی مثبت آرزو کرتے ہیں (قرآن مجید میں ”اُمنیہ “ کا لفظ آیاہے جو ہر طرح کی آروز کے لئے بولا جاتا ہے، لیکن یہاں انبیاء علیہم السلام کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لئے ایک مثبت آرزو کے معنی ہیں ، کیونکہ اگر مثبت آرزو نہیں تھی تو پھر شیطان ایسے جملے کیوں القا کرتا) ، لہٰذا جب وہ کوئی مثبت آرزو کرتے ہیں تو شیطان ان پر حملہ آور ہوتا ہے، لیکن ارادہ و عمل میں تاثیر سے پہلے خداوندعالم شیطانی الہامات کو نابود کردیتا ہے، اور اپنی آیات کو استحکام بخشتا ہے۔
(توجہ رہے کہ ”فَیَنْسَخُ اللهُ “ میں لفظ ”فا“ بلا فاصلہ ترتیب کے لئے ہے یعنی خداوندعالم سورہ اسراء کی بہترویں آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کفار و مشرکین یہ کوشش کرتے تھے کہ پیغمبر اکرم (ص) کو آسمانی وحی سے منحرف کردیں، لیکن خداوندعالم کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ یہ لوگ اپنے وسوسوں میں کامیاب ہوجائیں۔(غور کیجئے )
اسی طرح سورہ نساء میں بیان ہوتا ہے: < وَلَوْلاَفَضْلُ اللهِ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُہُ لَہَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْہُمْ اٴَنْ یُضِلُّوکَ وَمَا یُضِلُّونَ إِلاَّ اٴَنفُسَہُمْ وَمَا یَضُرُّونَکَ مِنْ شَیْءٍ(5) ”اور اگر آپ پر فضل خدا اور رحمت پروردگار کا سایہ نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا ارادہ کرلیا تھا اور یہ اپنے علاوہ کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے اور آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے“۔
یہ باتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خدا وندعالم اپنی تائیدات اور امداد کے ذریعہ پیغمبر اکرم (ص) پر جن و انس کے شیطانوں کے وسوسوں کا اثر نہیں ہونے دیتا، اور ان کو ہر طرح کے انحراف سے محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بات اس صورت میں ہے کہ جب ”اُمنیہ“ کے معنی ”آروز“ ”منصوبہ “اور ”نقشہ“ مراد لیں (کیونکہ اس لفظ کی باز گشت تقدیر ، تصویر اور فرض کی طرف ہے) لیکن اگر ”اُمنیہ“ کے تلاوت کے معنی مراد ہوں جیسا کہ بہت سے مفسرین نے احتمال دیا ہے، یہاں تک کہ بعض افراد نے ”حسان  بن ثابت“ کے اشعار کو اسی مدعا کے اثبات کے لئے شاہد قرار دیا ہے(6)اسی طرح فخر رازی نے اپنی تفسیر میں بھی کہا ہے: لغوی اعتبار سے ”تمنی“ دو معنی کے لئے آیا ہے، ایک ”منی“ قلبی آرزو کے معنی میں اور دوسرے ”تمنی“ تلاوت اور قرائت کے معنی میںہے۔(7)
اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ جس وقت خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے انبیاء ؛کفار و مشرکین کے سامنے آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہیں تو شیطان (اور شیطان صفت لوگ) ان کی باتوں کے ساتھ میں اپنی باتوں کو بھی القاء کرتے ہیں، جیسا کہ خود رسول اسلام (ص) کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے،سورہ فصلت کی آیت نمبر ۲۶ میں ارشاد ہے: <وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لاَتَسْمَعُوا لِہَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِیہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُونَ (8) ” اور کفار آپس میں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو ہر گز مت سنواور اس کی تلاوت کے وقت ہنگامہ کرو شاید اسی طرح ان پر غالب آجاؤ“۔
اس معنی کے لحاظ سے سورہ حج آیت نمبر ۵۳ کا مفہوم بھی واضح و روشن ہوجاتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے: < لِیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِ قُلُوبُہُمْ
”تاکہ وہ شیطانی القا کو ان لوگوں کے لئے آزمائش بنادے جن کے قلوب میں مرض ہےاور جن کے دل سخت ہوگئے ہیں“۔(9)
ایساتو آج کل بھی ہوتا ہے کہ جب قوم وملت کی اصلاح کرنے والے علمااور واعظین معاشرہ کے لئے مفید باتیں پیش کرتے ہیں تو کج فکر اور منحرف افراد اپنی شیطانی حرکتوں ،غلط پروپیگنڈوں اور بیہودہ نعروں کے ذریعہ ان مفید باتوں کے اثر کو ختم کردینا چا ہتے ہیں، یہ در اصل معاشرہ کے تمام لوگوں کے لئے امتحان ہے، اور اسی موقع پر سنگدل اور بیمار دل لوگ جادّہ حق سے منحرف ہوجاتے ہیں، جبکہ مومنین انبیاء علیہم السلام کی حقانیت کو بہتر طریقہ سے پہچان لیتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام کی دعوت کے سامنے تسلیم ہوجاتے ہیں: <وَلِیَعْلَمَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ اٴَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَیُؤْمِنُوا بِہِ فَتُخْبِتَ لَہُ قُلُوبُہُمْ ۔۔۔(10) ”اور اس لئے بھی کہ صاحبان علم کو معلوم ہوجائے کہ یہ وحی پروردگار کی طرف سے برحق ہے اور اس طرح وہ ایمان لے آئیں، اور پھر ان کے دل اس کی بارگاہ میں عاجزی کا اظہار کریں “۔
ہماری مذکورہ گفتگو سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ محل بحث آیت میں انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے برخلاف کوئی چیز نہیں پائی جاتی، بلکہ جیسا کہ ہم نے اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ یہ آیت عصمت پر مزید تاکید کرتی ہے، کیونکہ خداوندعالم اس آیت میں فرماتا ہے کہ جب انبیاء  وحی کو حاصل کرتے ہیں یا اپنے مقاصد کے لئے دوسرا قدم اٹھاتے ہیں تو ان کی شیطانی وسوسوں سے محافظت فرماتا ہے،(قارئین کرام!) اب ہم اس سلسلہ میں گڑھے گئے افسانہ کی طرف پلٹتے ہیں آخر کار نوبت یہ پہنچ گئی کہ بعض شیطان صفت افراد نے پیغمبر اکرم (ص) کی عظمت کو گھٹانے کے لئے کتاب ”شیطانی آیات“ لکھ ڈالی اور اس طرح کے جعلی افسانوں کا سہارا لیا ۔
افسانہ غرانیق کی رواتیوں پر تنقید اور تردید
جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ گزشتہ آیات میں نہ صرف یہ کہ عصمت انبیاء کے برخلاف کوئی چیز نہیں پائی جاتی بلکہ یہ آیات خود عصمت انبیاء پر دلیل ہیں، لیکن اہل سنت کی دوسرے درجہ کی کتابوں میں کچھ ایسی روایات ہیں جو ہر لحاظ سے عجیب ہیں،لہٰذا ان کی الگ سے بحث ہونا چاہئے، جن روایات کی طرف ہم نے آغاز کلام میں اشارہ کیا ہے یہ کبھی ابن عباس سے اور کبھی سعید بن جبیر اور کبھی بعض دیگر صحابہ و تابعین سے نقل کی جاتی ہیں۔(11)
جبکہ اس طرح کی روایات مکتب اہل بیت علیہم السلام میں موجود نہیں ہے، اور بعض اہل سنت کے علماکے بقول صحاح ستہ میں بھی اس طرح کی روایات نہیں ہیں، لیکن ”تفسیر مراغی“ میں بیان ہوا ہے: ”بے شک یہ احادیث ملحدین اور اسلامی دشمنوں کی طرف سے گڑھی گئی ہیں، کیونکہ ایسی روایات کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں ملتیں، اور دین اسلام کے اصول اور تعلیمات اسلام ان کی تکذیب اور تردید کرتی ہیں، عقل سلیم بھی ان کے باطل ہونے پر گواہی دیتی ہے، لہٰذاتمام علمائے اسلام پر ان کی تردید کرنا واجب ہے ، اور اپنے (قیمتی) وقت کو ان کی تفسیر و تاویل میں صرف نہ کریں، خصوصاً جبکہ موثق راویوں نے ان کے جعلی اور جھوٹے ہونے پر صریح الفاظ میں بیان کیاہے۔(12)

(1) لہٰذا کتاب ”تیسیر الوصول لجامع الاصول“ جس میں صحاح ستہ کی تفسیری روایات کو جمع کیا گیا ہے، اس روایت کو سورہ نجم کی آیات میں بیان نہیں کیا ہے، لہٰذا اس طرح کی احادیث کے لئے اہمیت کاقائل ہونا مناسب نہیں ہے، اور نہ ہی ان کا ذکر نا مناسب ہے، ان پر اعتراض کرنا اور جواب دینا تو دور کی بات ہے یہ احادیث جھوٹی اور جعلی ہیں“

!(۲) لامہ فخر الدین رازی ان روایات کے جعلی ہونے کے سلسلہ میں اس طرح کہتے ہیں: صحیح بخاری میں پیغمبر اکرم (ص) سے نقل ہوا کہ جس وقت سورہ نجم کی تلاوت فرمائی تو جن و انس ،مسلمان اور مشرکین نے سجدہ کیا، لیکن اس حدیث میں ”غرانیق“ کی کوئی بات نہیں ہے، اسی طرح یہ حدیث (جو صحیح بخاری سے نقل ہوئی ہے) دوسرے متعدد طریقوں سے نقل ہوئی ہے لیکن ان میں سے کسی میں بھی ”غرانیق“ کا لفظ نہیں آیا ہے۔

(۳)نہ صرف مذکورہ مفسرین بلکہ دیگر علماو مفسرین جیسے ”قرطبی“ نے اپنی تفسیر ”الجامع“ میں اور سید قطب نے ”فی ظلال“ وغیرہ میں اسی طرح تمام شیعہ بزرگ علمانے بھی اس طرح کی روایات کو خرافات قرار دیتے ہوئے جعلی مانا ہے اور ان کی نسبت دشمنان اسلام کی طرف دی ہے۔
اس کے باوجود عجیب نہیں ہے کہ اسلام دشمن خصوصاً معاند مستشرقین نے اس طرح کی روایات کا بہت زیادہ پروپیگنڈا کیا ہے، اور اس کو بہت ہی آب و تاب کے ساتھ نقل کیا ہے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ آج کے دور میں شیطان رشدی نے ”آیات شیطانی“ نامی کتاب لکھ ڈالی، خیالی
داستان میں بہت ہی نازیبا الفاظ کے ساتھ اسلامی مقدسات کی توہین کی ہے، بلکہ یہاں تک کہ بڑے بڑے انبیاء جن کو سبھی آسمانی ادیان احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، (جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام) کی شان میں بھی گستا خی، جسارت اور توہین کی ہے۔
یہ بھی عجیب بات ہے کہ اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا اور دنیا بھر میں نشر کیا گیا،اور جس وقت امام خمینی رحمة اللہ علیہ نے سلمان رشدی کے مرتد ہونے اور اس کے قتل کا تاریخ ساز فتوی صادر کیا، تو استعماری حکومتوں اور اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے ایسی حمایت ہوئی کہ آج تک دیکھنے میں نہیں آئی! چنانچہ اس رویہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کام میں صرف سلمان رشد ی ہی نہیں تھا اور نہ ہی اسلام کی مخالفت میں لکھی جانے والی کتاب کا مسئلہ تھا، در اصل مغربی ممالک اور صہیونیزم کی طرف سے اسلام کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تھی، اگرچہ ظاہر میں سلمان رشدی نے کتاب لکھی ہے لیکن اس کے پسِ پردہ اسلام دشمن طاقتیں تھیں۔
لیکن حضرت امام خمینی (علیہ الرحمہ) نے اپنے فتویٰ میں استقامت کی اور پھر ان کے جانشین (حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی) نے اسی فتویٰ کو برقرار رکھا، نیز اس تاریخی فتویٰ کو دنیا بھر کے مسلمانوں نے قبول کیا، جس سے دشمن کی سازش ناکام ہوگئی، اور سلمان رشدی آج تک (کتاب کی اس حصہ کی تالیف تک) روپوش ہے، اور اسلام دشمن طاقتیں اس کی مکمل طور پر حفاظت کررہی ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ آخری عمر تک اسی طرح چھپ کر زندگی بسر کرے گا، اور شاید خود انھیں لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوگا تاکہ اس رسوائی سے نجات پاسکے۔
اس بنا پر جو چیز بھی اس طرح کی روایات کی علت ”محدثہ“ یعنی وجود میں لانے والی علت ہے وہی چیزعلت ”مبقیہ“ یعنی باقی رکھنے والی علت بھی ہے، یعنی جو سازش اسلام دشمنوں کی طرف سے شروع ہوئی ہزاروں سال بعد بھی انھیں اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے ایک وسیع پیمانہ پر وہی سازش آج بھی ہورہی ہے۔
لہٰذا اس چیز کی ضرورت نہیں محسوس کی جاتی کہ تفسیر ”روح المعانی“ یا دوسری تفاسیر کی طرح ان روایات کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی جائے، کیونکہ ان روایات کی بنیاد ہی خراب ہے، اور بڑے بڑے علماکرام نے ان کے جعلی ہونے کی تاکید کی ہے، لہٰذا ہم ان روایات کی توجیہ کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں،صرف یہاں مزید وضاحت کے لئے چند درج ذیل نکات بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں:
۱۔ یہ بات کسی دوست اور دشمن پر مخفی نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے آغازِ دعوت سے آخرِ عمر تک بت اور بت پرستی کا شدت کے ساتھ مقابلہ کیا، اور یہی وہ مسئلہ ہے کہ جس میں کسی طرح کی مصالحت، سازش اور نرمی نہیں کی گئی، لہٰذا ان تمام چیزوں کے پیش نظر بتوں کی شان میں اس طرح کے الفاظ پیغمبر اکرم (ص) کی زبان پر کس طرح آسکتے ہیں؟
اسلامی تعلیمات کہتی ہیں کہ صرف شرک اور بت پرستی ہی ایک ایسا گناہ ہے جو قابل بخشش نہیں ہے، لہٰذا بت پرستی کے مراکز کو ہر قیمت پر نابود کرنا واجب قرار دیا ہے، اور پورا قرآن اس بات پر گواہ ہے، یہ خود حدیث”غرانیق“ کے جعلی ہونے پر دلیل ہے جن میں بتوں کی مدح و ثنا کی گئی ہے۔
۲۔ اس کے علاوہ ”غرانیق“ افسانہ لکھنے والوں نے اس بات پر توجہ نہیں دی ہے کہ خود سورہ نجم کی آیات پر ایک نظر ڈالنے سے اس خرافی حدیث کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ بتوں کی مدح و ثنا والے جملے: ”تِلکَ الغَرَانیقُ العُلیٰ وَاٴنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرتَجیٰ“ اور آیات ماقبل و مابعد میں کوئی ہم آہنگ نہیں ہے، کیونکہ اسی سورہ کے شروع میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ہرگز اپنی خواہش کے مطابق کلام ہی نہیں کرتے، اور جو کچھ عقائد اور اسلامی قوانین کے بارے میں کہتے ہیں وہ وحی الٰہی ہوتی ہے: < وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْہَوَی # إِنْ ہُوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُوحَی(13)”اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتا ہے اس کا کلام وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے“۔
اور اس بات کا صاف طور پر اعلان ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ہرگز راہ حق سے منحرف نہیں  ہوتا، اور اپنے مقصد کو کم نہیں کرتا: <مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوَی(14) ”تمہارا ساتھی نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا“۔
اس سے زیادہ گمراہی اور انحراف اور کیا ہوگا کہ پیغمبر آیات الٰہی کے درمیان شرک کی باتیں اور بتوں کی تعریفیں کریں؟ اور اپنی خواہش کے مطابق گفتگو اس سے بدتر اور کیا ہوسکتی ہے کہ کلام خدا میں شیطانی الفاظ کا اضافہ کرے اور آیات کے درمیان کہے:”تلک الغرانیق العلی“؟
مزے کی بات یہ ہے کہ محل بحث آیات کے بعد صاف طور پر بت اور بت پرستوں کی مذمت کی گئی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: <إِنْ ہِیَ إِلاَّ اٴَسْمَاءٌ سَمَّیْتُمُوہَا اٴَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَا اٴَنزَلَ اللهُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْاٴَنْفُسُ(۲) ”یہ سب وہ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے طے کر لئے ہیں خدا نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے درحقیقت یہ لوگ صرف اپنے گناہوں کا اتباع کررہے ہیں اور جو کچھ ان کا دل چاہتا ہے“۔
کون عقلمند اس بات کا یقین کرسکتا ہے کہ ایک صاحب حکمت اور باہوش نبی مقام نبوت میں پہلے جملوں میں بتوں کی مدح و ثنا کرے اوربعد والے دو جملوں میں بتوں کی مذمت اور ملامت کرے؟لہٰذا! ان دوجملوں کے تناقض اور تضاد کی کس طرح توجیہ اور تاویل کی جاسکتی ہے؟
پس ان تمام باتوں کے پیش نظر اعتراف کرنا پڑے گا کہ قرآن مجید کی آیات میں اس قدر ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ دشمنوں اور بدخواہ غرض رکھنے والوں کی طرف سے کی گئی ملاوٹ کو بالکل باہر نکال دیتی ہے، اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ایک غیر مرتبط اور جداجملہ ہے، یہ ہے سورہ نجم کی آیات کے درمیان حدیث ”غرانیق“ قرار دینے کی سرگزشت ۔
(قارئین کرام!) یہاں پر ایک یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ تو پھر اتنی بے بنیاد اور بے سرو پیر  چیزیں کیسے اتنی مشہور ہو گئیں؟ اس سوال کا جواب بھی کوئی پیچیدہ نہیں ہے کیونکہ اس حدیث کی شہرت زیادہ تر دشمنانِ اسلام اور بیمار دل لوگوں کی طرف سے ہے جو یہ سوچ رہے تھے کہ یہ حدیث خود پیغمبر اسلام کی عصمت اور قرآن کی حقانیت کو مخدوش کرنے کے لئے بہترین مدرک ہے، لہٰذا دشمنان اسلام کے درمیان اس حدیث کی شہرت کی دلیل معلوم ہے، لیکن اسلامی مورخین کے درمیان شہرت کی وجہ بعض علماکے قول کے مطابق یہ ہے کہ بعض مورخین ہمیشہ سے نئے حادثات اور نئے مطالب کی طرف دوڑتے ہیں نیز کوشش کرتے ہیں کہ اپنی کتابوں میں ہیجان آور اور استثنائی واقعات بیان کریں چا ہے وہ تاریخی حقیقت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں، کیونکہ ان کا مقصد اپنی کتاب کو مقبول بنانا اور ہنگامہ برپا کردےنا ہو تا ہے، اور چونکہ پیغمبر اسلام (ص) کی زندگی میں غرانیق جیسا افسانہ بہت زیادہ بیان ہوا ہے لہٰذا اس کے منبع اور اس کے مفہوم کے بے بنیاد ہونے پر توجہ کئے بغیر بعض تاریخی کتابوں اور بعض حدیث کی کتابوں میں نقل کردیا گیا ہے، جبکہ بعض علمانے اس پر تنقید اور تردید کے لئے بیان کیا ہے۔
نتیجہ
(قارئین کرام!) ہماری مذکورہ بحث سے یہ مسئلہ واضح اور روشن ہوجاتا ہے کہ قرآن مجید میں نہ صرف کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے کہ جو ان کے مقام عصمت کے منافی ہو ؛ بلکہ یہی آیات جن کو عصمت کے منافی سمجھ لیا گیا ہے ، عصمت انبیاء علیہم السلام پر واضح اور بہترین دلیل ہیں۔(15)
تَمتْ بِالخَیْرِ ، وَ الحَمدُ للهِ رَبِّ العَالَمِین وَ لَہُ الشُّکْرُ عَلیٰ ہَذَا التَّوْفِیقِ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إنَّکَ اٴنتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم
مترجم اقبال حیدر حیدری


(1)سورہ نجم ، آیت ۱۹، ۲۰، ” کیا تم لوگوں نے لات و عزیٰ کو دیکھا ہے اور منات جو ان کا تیسرا ہے اسے بھی دیکھا ہے“۔ (کیا وہ خدا کی بیٹیاں ہیں؟)
(۲) ”غرانیق“ ، (مزدور کے وزن پر) ”غرنوق“ کی جمع ہے ، ایک سیاہ اور سفید رنگ کا پرندہ ہے،لیکن اس کے علاوہ دوسرے معنی میں بھی آیا ہے، (نقل از قاموس اللغہ)
(3) سورہ حج ، آیت ۵۲
(4) اس حدیث کو اکثر مفسرین نے مختصر تبدیلی کے ساتھ بیان کیا ہے اور پھر اس واقعہ پر تنقید کی ہے بلافاصلہ فوری طور پر شیطانی الہامات کو ختم کردیتا ہے)، اس بات پر گواہ قرآن مجید کی دیگر آیات ہیں جو صراحت کے ساتھ کہتی ہیں: < وَلَوْلاَاٴَنْ ثَبَّتْنَاکَ لَقَدْ کِدْتَ تَرْکَنُ إِلَیْہِمْ شَیْئًا قَلِیلاً ” اور اگر ہماری توفیق خاص نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ (بشری طور پر) کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ضرور ہوجاتے“۔
(5) سورہٴ نساء ، آیت ۱۱۳
(6)شعر یہ ہے : تمنی کتاب الله اٴوّل لیلة وآخرھا لاقیٰ حمام المقادر
”تاج العروس“ شرح قاموس اور اسی طرح خود ”قاموس“ میں ”تمنی کتاب “کے معنی تلاوت کتاب کے لئے ہیں، اس کے بعد ”ازہری“ سے نقل کیاہے کہ تلاوت کو اس وجہ سے ”اُمنیہ“ کہا جاتا ہے کیونکہ تلاوت کرنے والا جب ”آیہٴ رحمت“ پر پہنچتا ہے تو رحمت کی آرزو کرتا ہے، اور جب عذاب کی آیت پر پہنچتا ہے تو عذاب سے نجات کی امید کرتا ہے، لیکن صاحب ”مقائیس اللغہ“ کا اس بات پر عقیدہ ہے کہ اس لفظ کا تلاوت پر اطلاق کرنا اس وجہ سے ہے کہ اس میں ایک طرح کی اندازہ گیری اور اس آیت سے گزرنا ہوتا ہے
(7) تفسیر فخر رازی ، جلد ۲۳، صفحہ ۵۱
(8) سورہٴ فصلت ،آیت۲۶
(9) اگرچہ آخری آیت کی تفسیر اس معنی کے لحاظ سے اعتراض سے خالی نہیں ہے، کیونکہ انبیاء پر شیطانی وسوسہ اگرچہ خدائی امداد کے ذریعہ فوراً نیست و نابود ہوجاتا ہے ، لیکن اس کے ذریعہ منافقین اور بیمار دل لوگوں کے لئے باعث امتحان نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ وسوسہ ظاہر نہیں ہوتے بلکہ انبیاء علیہم السلام پر ان وسوسوں کا اثر نہیں ہوتا کیونکہ فوراً ہی خداوندعالم ان کو ختم کردیتا ہے مگر یہ کہا جائے کہ مراد یہ ہے کہ جب انبیائے الٰہی اپنی آرزو اور اہداف کو عملی بنانا چاہتے ہیں تو اس موقع پر شیاطین تخریب اور وسوسوں کے ذریعہ حملہ آور ہوتے ہیں اور اس موقع پر امتحان کی بھٹی گرم ہوجاتی ہے، لہٰذا ان تینوں آیات (سورہ حج آیات نمبر ۵۲، ۵۳ اور ۵۴) میں ہم آہنگی اور انسجام برقرار ہوجاتا ہے
عجیب بات تو یہ ہے کہ بعض مفسرین نے پہلی آیت میں مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں، جبکہ بعد والی آیات کی ہم آہنگی اور انسجام کو باقی نہیں رکھ پائے ہیں (غور کیجئے )
(10)سورہ حج ، آیت ۵۴
(11) اس سلسلہ میں اہل سنت کی روایات سے مزید آگاہی کے لئے کتاب الدر المنثور ، جلد چہارم صفحہ ۳۶۶ تا ۳۶۸ پر سورہ حج ، آیت ۵۲ کے ذیل میں رجوع فرمائیں
12) تفسیر مراغی ، جلد ۱۷، صفحہ ۱۳۰ ، مذکورہ آیات کے ذیل میں
یہی معنی ایک دوسری طرح تفسیر ”جواہر“ (مولفہ طنطاوی) میں بیان ہوئے ہیں: ”اس طرح کی احادیث صحاح ستہ ”صحیح بخاری، صحیح مسلم، موطاٴ بن مالک، جامع ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن داؤد“ میں نہیں آئی ہیں،
(13) سورہٴ نجم ، آیت ۳و۴
14) سورہٴ نجم ، آیت ۲ (۲) سورہٴ نجم ، آیت ۲۳
(15) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۱۶۴
۱۰۹۔ تقیہ کا مقصد کیا ہے؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma