وہ امور جن کے لیے وضو کرنا ضروری ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
وضو کے احکام وضو جبیرہ

سوال نمبر ۱۲۶: بعض جوان گردن میں ایسی لاکٹ ڈالے رہتے ہیںجن پر ” یا اباعبداللہ “ یا اس جیسی دوسری عبارتیں لکھی ہوتی ہیں اس طرح کی لاکٹ کا کیا پہننا صحیح ہے ؟

جواب: اس میں اشکال نہیں ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ خدا اور ائمہ معصومین ٪ کے اسماء کو بغیر وضو کے چھونا نہیں چاہیئے ۔

سوال نمبر ۱۲۷: لفظ ” رضوی“ جو حضرت امام علی رضا - سے منسوب ہے یا جن چیزوں پر ان جیسے الفاظ ” آستان قدس رضوی“ یا ” کیک رضوی“ لکھے ہوں ان پر پیر رکھنا یا ان کو کوڑا میں ڈالنا شرعی طور پر کیسا ہے ؟

جواب: بظاہر یہ سب الفاظ ادارے یا کمپنیوں سے مخصوص ، اور اسی سے مشہور ہوگئے ہیں لہذا ان پر پیر پڑنا یا ان کو کوڑے میں ڈالنا شرعی لحاظ سے کوئی اشکال نہیں ہے ۔ لیکن ان الفاظ کا احترام ہمیں ضرورکرنا چاہیئے ۔

سوال نمبر ۱۲۸: بعض لوگوں کے فیملی نام ” حسینی“ اور ” موسوی“ یا ”علوی“ ہوتے ہیں جو اہلبیت ٪ کے ناموں سے نسبت رکھتے ہیں ۔ یا جن کاغذ پر یہ اسماء ہوں ان پر پیر رکھنا یااس کا غذ کو جلانا شرعاً کیسا ہے ؟

جواب : اشکال نہیں ہے مگر ان اسماء کا احترام کرنا ضروری ہے ۔

سوال نمبر ۱۲۹: کیا ” امام رضا اسٹریٹ “ اور ” امام حسین اسکوائر“ یا ” موسی بن جعفر مسجد “ جیسے الفاظ جو آئمہ معصومین ٪ کے نام ہیں اس کو جلانا یا ان کو پھیکنا شرعی لحاظ سے حرام ہے ؟

جواب : جن چیزوں پر ائمہ معصومین ٪ کے نام لکھے ہوں ان کا احترام کرنا ضروری ہے ۔

سوال نمبر ۱۳۰: کیا نابینا کے لیے بھی قرآن کی آیتوں کو چھونے کے لیے وضو کرنا واجب ہے ؟

جواب: ان کے لیے بھی وضو کرنا واجب ہے ۔

سوال نمبر ۱۳۱: میں نابینا ہوں میرا ہاتھ غلطی سے خدا کے نام پر چلاجاتاہے اس سے گناہ کا تو مرتکب نہیں ہوتا ہوں ؟

جواب : غلطی سے خدا کے نام پر بغیر وضو کے ہاتھ پڑنے سے گناہ نہیں ہوتا ہے ۔

سوال نمبر ۱۳۲: میں معلول ہوں مجھے پیشاب اور پاخانہ غیر اختیاری طور پر نکل جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے میں ہمیشہ پیشاب کی تھیلی لگائے رہتا ہوں اس صورت میں کیا ہم قرآن کی تلاوت کرسکتے ہیں ، ہمارا قرآن کی آیتوں کے چھونے کا حکم کیا ہے ؟

جواب: آپ وضو کرکے قرآن پڑھیں اور اسی سے کچھ دیر تک قرآن کی آیتوں کو بھی چھو سکتے ہیں۔

سوال نمبر ۱۳۳: میں گردن سے مفلوج ہوں قرآن کی تلاوت یا اس کے صفحات کو جب بھی پلٹتا ہوں تو اپنے منھ یا ہونٹ سے سہارا لیتا ہوں کیونکہ ہمارا اس کام کے لیے دوسرے سے مدد لینا بہت مشکل ہے اور میرا وضو کرنا بھی سخت ہے اس صورت میں بغیر وضو کے ہم قرآن کی تلاوت کرسکتے ہیں ؟ یا اس قرآن کے اوراق کو اپنے ہونٹ یا منھ سے پلٹ سکتے ہیں ؟

جواب: اگر آپ کے لیے وضو کرنا واقعی مشکل ہے تو آپ بغیر وضو کے قرآن کی تلاوت کریں اور اس قرآن کے اوراق کو اپنے منھ یا ہونٹ سے پلٹ بھی سکتے ہیں ۔

سوال نمبر ۱۳۴: میں معلول ہوں مجھے پیشاب اور پاخانہ غیر اختیاری طور پر نکل آتا ہے جس سے اکثر اوقات میرا جسم نجس رہتا ہے اس صورت میں ہم کیا قرآن کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں اس قرآن کو اٹھاسکتے ہیں ؟

جواب: آپ قرآن کو اپنے ساتھ رکھ بھی سکتے ہیں اور اس کو اٹھا بھی سکتے ہیں ۔

سوال نمبر ۱۳۵: جو لوگ نابینا ہیں ان کو پڑھانے کے لیے حروف ” بریل“ پر ہاتھ رکھنا پڑتا ہے جس سے وہ لوگ حروف کی پہچان یا عبارت کو سمجھتے ہیں ، حالانکہ اس پر یل پر حروف کا پورا اطلاق ہوتا ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا نابینا افراد کا اس حروف پر قرآن پڑھنا یا اس کے مقدس اسماء پر ہاتھ رکھنے کے لیے وضو کرنا ضروری ہے ؟

جواب: وضو کرنا ضروری ہے یا پلاسٹیک کادستانہ پہن کر ان حروف کو چھوئیں ۔

سوال نمبر ۱۳۶: کیا نابینا افراد کا ہاتھ رکھنے سے پہلے مقدس ناموں کے لکھے ہونے کی تحقیق کرنا ضروری ہے ؟

جواب : ان لوگوں کے لیے تحقیق کرناضروری نہیں ہے ۔

سوال نمبر۱۳۷: بعض ٹکٹ پر قرآن کی آیتیں یا ان جیسے الفاظ ” محمد رسول اللہ “ یا ” اللہ اکبر“ چھپے ہیں ، جن کو انسان دن و رات بغیر وضو کے چھوتا ہے نیز یہ ٹکٹ بیرون ممالک میں بھی جاتے ہیں جن کو کفار ضرور چھوتے ہوں گے اس طرح کا ٹکٹ ، کیا چھاپنا صحیح ہے ؟

جواب: آپ کو ضرور معلوم ہوگا کہ پیغمبر اکرم  یا ائمہ معصومین ٪ کے زمانہ میں بھی اسی طرح کے سکے تھے جن پر ” لاالہ الا اللہ“ اور ” محمد رسول اللہ “ جیسی عبارت ہوتی تھی جس کو سبھی لوگ چھواکرتے تھے ، اس طرح کے ٹکٹ یا سکے اسلام اور قرآن کی ترویج کرنے کے لیے چھاپے جاتے ہیں ، لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ان ٹکٹ یا سکوں کو بغیر وضو کے نہ چھوئیں ۔

سوال نمبر ۱۳۸: جس مہر پر اس طرح نام ”عبدالہ “ لکھا ہو اہے ٹوائلٹ(جو استعمال بھی ہورہا ہے ) کے فلش میں گرجا ئے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب: اگر مہر کے اوپر جس طرح سے آپ نے لکھا ہے اسی طرح ” عبداللہ“ لکھا ہوا تھا تو اس ٹوائلٹ کے استعمال کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر اس طرح ” عبد اللہ “ لکھا ہوا ہے تو جب تک مہر کے اوپر یہ نام ہے اس وقت تک ٹوائلٹ کو بند کردینا چاہییے اس بات کو دوسروں سے بتانا ضروری نہیں ہے ۔ لیکن جن کو معلوم ہے ان کو ٹوائلٹ میںجانے سے ضرور پرہیز کرنا چاہیئے اگر ٹوائلٹ کا فلش گندگی دور کرنےوالے پائپ سے متصل ہو اور مطمئن ہوجائے کہ وہ مہر پائپ کے پانی کے ساتھ بہت دور چلی گئی ہے تو پھر اس کو استعمال کرنے میںکوئی بات نہیں ہے ۔

وضو کے احکام وضو جبیرہ
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma