قبرستان کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
نبش قبر(6) شہید کے احکام

 

سوال نمبر ۱۶۶: ہمارے شہر کے جنوبی علاقہ میں ایک عمومی قبرستان تھا لیکن کچھ لوگوں نے شہر کے مغربی علاقہ میں ایک باغ کو لیکر اپنا قبرستان بنالیا ہے ۔ جو آبادی سے / ۱۰۰ / میڑ کے فاصلے پر ہے ۔ اس میں ایک میت کو بھی دفن کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پڑوس کے رہنے والے بہت برہم ہیں اس سلسلے میں میت کے ورثاء اور ان میں کافی نوک جھونک بھی ہوئی ہے ۔ جس کی وجہ سے نگر مہاپالیکا نے میت کو دفن کرنے سے اس قبرستان میں منع کردیا ہے ۔ ایسی صورت میں مردے کو دفن ، مذکورہ قبرستان میں کرنا کیسا ہے ؟ اور اس جگہ پر قبرستان کے بنانے کا حکم کیا ہے ؟

جواب : اس طرح کے علاقے میں قبرستان کا بنانا ، اگر حکومت اسلامی کے قوانین کے خلاف ہے یا لوگوں کے لیے اذیت کا باعث بن رہا ہو تو اس سے پرہیز کرنا چاہیئے ۔

سوال نمبر ۱۶۷:اپنے خاندان والوں کو دفن کرنے کے لیے ، قبرستان میں دیوار گھیر کر قبر کی جگہ مخصوص کر لینے کا کیا حکم ہے ؟

جواب : قبرستان میں دیوار گھیر کر جگہ لینا ، اس میں اشکال ہے ۔ جب کوئی مرجائے تو ضرورت کے مطابق قبرستان میں قبر کی جگہ لیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر ۱۶۸: کیا قبرستان کی زمین کا ہمیشہ مردے کو دفن کرنے کے لیے وقف رہنا ضروری ہے ؟ یا دراز مدت تک زمینوں کو کرایہ پر لے کر اس میں میت کو دفن کیا جاسکتا ہے ؟

جواب : اگر قبرستان کی اتنی مدت ہوگئی ہو کہ آخری دفن کی ہوئی میت کے آثار نابود ہوچکے ہوں ، یا کرایہ کے قبرستان کی مدت ختم ہوجانے کے بعد مالک اس کا ایسا کام نہ کرے جس سے قبر کا کھودنا لازم آتا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

سوال نمبر ۱۶۹:اگر مسلمانوں کا (بیرونی ممالک میں) قبرستان ، عیسائی قبرستان سے ایسا ملاہو کہ چاردیواری ، آمدورفت کا راستہ ، یا سہولت کی دیگر اشیاء جدا ہوں تو اس کا حکم کیا ہے ؟

جواب : اشکال نہیں ہے ۔

سوال نمبر ۱۷۰: بعض ممالک میں میت کو غسل دینے کے لیے مناسب حمام نہیں ہوتا ہے لہذا ان ممالک کے مسلمانوں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ایک حمام اور ایک ہال نماز میت پڑھنے کے لیے جدا تعمیر کرایا جائے ۔ مذکورہ امور کو غیر مسلم قبرستان کے جوار میںانجام دینا ، کیا اشکال ہے ؟

جواب : اشکال نہیں ہے ۔

سوال نمبر ۱۷۱: جب قبر کو سنگ مرمر ، یا سیمنٹ کے فرش سے پختہ کیا جاتا ہے تو اس پر کئی میٹرکپڑا اس لیے ڈالا جاتا ہے کہ وہ خراب یا پرانا نہ ہو ۔ اس سے کیا میت کو فائدہ پہونچتا ہے؟

جواب : یہ اضافی خرچ ہے جس سے میت کو کوئی فائدہ نہیں پہونچتا ہے مگر یہ کہ ایسا کرنا شعائر کی تعظیم میں شمار ہورہا ہو ۔

سوال نمبر ۱۷۲:بعض علاقوں میں مرسوم ہے کہ والدین کی قبر پر سفید، سرخ اور زرد رنگ کے سنگریزے ڈالتے ہیں۔ اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : ان امور کا شرعی لحاظ سے کوئی اعتبار نہیں ہے ۔

سوال نمبر ۱۷۳: بعض علاقوں کی رسم یہ ہے کہ شب جمعہ یا روز جمعہ اپنے رشتہ دار کے قبروں کی زیارت کو جاتے ہیںاس پر عطر اور قیمتی یا معمولی پھول چڑھاتے ہیں یہ کیا شرعی اعتبار سے صحیح ہے ؟

جواب: اگر یہ کام تھوڑی مقدار میں ہو تو اشکال نہیں ہے لیکن اگر اسراف ہورہا ہو تو جائز نہیں ہے مگر یہ کہ شعائر کی تعظیم ہورہی ہے تو اس صورت میں وہ اسراف شمار نہیں ہوگا ۔

سوال نمبر ۱۷۴: کیا سنگ قبر پر قرآن مجید کی آیتوں کے لکھنے میں اشکال ہے ؟

جواب : اگر ہتک حرمت نہ ہو تو اشکال نہیں ہے ۔

نبش قبر(6) شہید کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma